New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 09:26 AM

Urdu Section ( 22 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Al-Andalus: A sad story of the downfall – Part – 2 (المیہ اُندلس کا ایک ورق: پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں ( آخری قسط

 

عبداللہ عثمانی، دیوبند

16 اکتوبر، 2014

نصاری الفانسوششم نے اس بکھراؤ کافائدہ اٹھایا اس نے الجوریا  ، لیون اور قشتالیہ کی سلطنتوں  کوباہم ملا کر اپنے  تحت  کرلیا اور اپنے اقتدار کو آگے بڑھانے لگا تب اشبیلہ  کے بادشاہ ‘‘ معتمد ’’ نے شمالی افریقہ  کے بڑے بڑے حاکم کو امداد  کے لیے طلب کیا یہ مردانی بادشاہ یوسف بن تاشقین تھا اس نے پہلے الجسرہ پر قبضہ کیا پھر زلافہ  پہنچا اور 479 ھ کو الفانسو حکومت کا خاتمہ کردیا ۔ یوسف بن تاشقین بانی خاندان المرابطہ حکمرانِ  مراکش  449ھ میں حسب وعدہ  مراکش لوٹ گیا اور کچھ فوج یہا ں حفاظت کے لیے چھوڑ گیا  501 ھ میں یوسف نے انتقال کیا اس کے بعد اس کا بیٹا علی جانشین ہوا غرض  یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں چلتا رہا ۔ جب اندلس کے بڑے بڑے صوبے اور شہر عیسائیوں کے تسلط  کا شکار ہوگئے اور صرف غرناطہ مسلمانوں کے پاس باقی  رہ گیا تو اس وقت بھی مالقہ غرناطہ حکومت کے ماتحت تھا مگر آخری دور میں جب  سلطان ابوالحسن غرناطہ کا تخت نشیں ہوا تو اس نے اس اپنے اختیار میں آئی ہوئی  مالقہ  کی حکومت اپنے بھائی الزغل کے حوالے کردی اور اسے ایک خود مختار ریاست قرار دے دیا دونوں  بھائیوں   نےمل کر عیسائی کے سیلاب کو روکے رکھا او ران کے خلاف متعدد بار کامیابی بھی حاصل کیں۔

 ممکن تھا کہ پھر سے پورا اندلس عیسائی حکومت سے آزاد ہوجاتا مگر اسی دوران ابوالحسن  کے بیٹے ابو عبداللہ نے محلاتی سازشوں کے ذریعہ اپنے باپ کے خلاف بغاوت کر کے اسے بے دخل کردیا ۔ اور  غرناطہ پر قبضہ کر لیا ابوالحسن  نے جان کی امان کے لیے اپنے بھائی  الزغل کے پاس آگیا  اس واقعہ  سے غرناطہ  اور مالقہ کے درمیان  آپسی  تعلقات کا خاتمہ کردیا،  جس کا فائدہ عیسائیوں  نے اٹھایا ، ابوالحسن اور الزغل  دونوں بھائی 888ھ سے 891 ھ تک عیسائیوں سے لڑتے رہے بالآخر 891 ھ میں دونوں بھائی نصاریٰ سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے یہ شہادتیں  گوکہ اندلس  میں مسلم حکومت و سطوت کا خاتمہ تھا، قتشتالہ  کے عیسائی حاکم فرڈی ننڈ  او رملکہ ازبیلا  نے اس شہر پر قبضہ کر لیا مالقہ پر تسلط کے بعد غرناطہ میں ابوعبداللہ کی سرکار بھی ساتھ سال سے زائد نہ ٹک سکی اور 898ھ میں  ابو عبداللہ نے غرناطہ بھی فرڈی ننڈ اور ازبیلا  کے حوالہ کردیا اندلس  میں مسلمان 92ھ۔721ء میں جس شان و تزک سے داخل ہوئے اسی لاچاری اور بے کسی  سے ان کو یہاں سےنکال دیا گیا اس آٹھ سو سال دورِ حکومت  کی بے دخلی کی متعدد وجوہات ہیں جن میں نفاق  سب پربھاری ہے اسی لیے قرآن و حدیث  نے سب سے زیادہ زور مسلمانوں کے اتحاد پر دیا، دوسرے  ان  میں عیش پرستی اور بے عملی  بھی عود کر آگئی تھی جس نے ان کے دلوں پر مہر بے حسی لگادی تھی ، مسلمانوں  کے ان آٹھ سو سالہ دورِ اقتدار میں انہوں نے اس سرزمین پر علم و دانش اور تہذیب و تمدن کے وہ چراغ روشن کئے کہ اس کی روشنی سے اب تک یورپ  مستفید  ہورہا ہے اور پوری دنیا میں اس خطہ کو سب سے زیادہ ترقی یافتہ  بنایا تھا اسپین کے المناک اور عبرت ناک مختصر حالات کے بعد  ہم یہاں   کی علمی ادبی  ، سائنسی  تہذیبی  اور تصنیفی  خدمت پر ایک اجمالی نظر ڈالیں گے ۔

چند بے نظیر تاریخی عماتیں :

مسجد  قرطبہ : عالم اسلام کی ممتاز ترین جامع قرطبہ اپنی وسعت اور حسن کے لحاظ سے یگانہ ہے تمام مسجد صف در صف بنے ہوئے خوبصورت دالا نوں پر مشتمل ہے جس کی چھتیس گنبدیں اور دونوں طرف سنگ مرمر کے خوبصورت  ستونوں  کی قطاریں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں مسلمانوں کے عہد  حکومت  میں اس مسجد کے کل ستونوں کی تعداد چودہ سو سترہ تھی مسجد کا کل رقبہ  تینتیس  ہزار ایک سو پچاس مربع ذراغ ( ہاتھ) تھا علامہ اقبال نے اپنی  طویل نظم مسجد قرطبہ لکھا تھا :

رنگ ہو یا خشت وسنگ، جنگ  ہو یا حرف و صوت

معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود

مدینۃ الزھرا کا قصر شاہی  اپنے  حسن و جمال شان و شوکت اور شکوہ و جلال کے اعتبار سے دنیابھر میں اپنی مثال آپ تھا اس محل کا ایک ایون قصر الخلفاء  کہلاتا تھا، اس کی چھت اور دیوار یں  سونے اور شفاف مرمری تھیں عرض  فن تعمیر کا بے نظیر  نمونہ ہے۔ وادی الکبیر کا پل بھی  اپنی مثال آپ تھا، یہ مسلمانوں کے عہد میں جنوب کی سمت  سے شہر میں داخل ہونے کے لیے استعمال ہوتا تھا،  اس وقت خاص انجینئر وں نے اس کی تعمیر کرائی تھی  اس وقت دنیا بھر میں  اتناپختہ  وسیع اور لمبا پل  کہیں نہیں  بناتھا  اس لیے دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتاتھا ، 101 ھ میں ماہر تعمیرات عبدالرحمٰن  بن عبیداللہ الغافقی کی نگرانی میں یہ عالی شان پل تعمیر کیا گیا، اس کاطول آٹھ  سو ہاتھ  اور چوڑائی چالیس سے زیادہ تھی اور دریا کی سطح سے ساٹھ ہاتھ بلند تھا ۔ ‘‘ قصر الحمراء’’  یہ ممتاز ترین تاریخی قلعہ چوتھی صدی  ہجری کی یادگار ہے اس کے بعد غرناطہ کے مختلف حکمران اس میں جدت کرتے رہے 630 ء میں محمد بن الا حمرالنصری نے اس میں جدید اضافے کر کے مرکز سلطنت  کی شکل دی تھی ، اس قلعہ نما  عمارت میں شاہی محل  اور باغات وغیرہ سب داخل  ہیں طول  736 میٹر اور عرض قریب دو سو میٹر ہے، یہ قصر الحمراء شاہانِ غرناطہ  نے بصرفِ کثیر شہر  کے قریب نہایت بلند  ٹیلہ پر جبل  شہر کی برف سے چھپی ہوئی چوٹیوں کے سائے میں تیار کرایا ، اس محل کی ہر ایک چیز قابل دید اور اس قدر حیرت انگیز ہے کہ جس کو دنیا کے نامور ضاع او رمہندس دیکھ کر دنگ  رہ جاتے ہیں ۔ فن تعمیر  میں سلاطین غرناطہ  او ریہاں کے کاریگروں کا یہ سب سے بڑا شاہکار ہے اس کے باغ جو جنت العارف کے نام سے مشہور ہے یہ اندلسی  مسلمانوں کی فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے جو حیثیت ہندوستان میں تاج محل حاصل ہے اس سے کہیں زیادہ آج بھی اندلس میں الحمراء کو حاصل ہے اس کو دیکھنے کے لیے  اب دنیا بھر کے سیاح غرناطہ آتے ہیں اور اس معمار     وں ، فن کاروں  کے کمال پر حیرت  زدہ  رہ جاتے ہیں مسلمانوں  نے اس آرٹ میں جس جدت طرازی اور حسنِ  ہنر کا مظاہرہ کیا وہ دنیا بھر کے لیے مثال  بن گیا علاوہ  ازیں سیکڑوں قلعے ، عجائب گھر اور عبادت گاہیں  وہ بھی ہیں جن کےآثار اب مٹ چکے ہیں۔

اندلس میں مسلمانوں کے علمی، سائنسی اور ادبی کارنامے : شاہان اندلس انواع  علوم،  عقلیہ  و نقلیہ  سائنس  اور فلسفہ میں دنیا بھر میں ممتاز  و مختار تھے یہاں  علم و تکنیک کے سیکڑوں ادارے اور یونیورسٹیاں تھیں جن میں دور  دراز ممالک کے طلبا بھی  تحصیل علم حاصل  کرتے تھے  ، قرطبہ کی یونیورسٹی نے بڑے بڑے صاحب کمال پیدا کئے ، ابن خطیب یہیں  کا فاضل تھا اس نے علم ما بعد الطبیعیہ  ، تاریخ، طب وغیرہ موضوعات پر گیارہ سو کتابیں لکھیں،  ابن حسن نے فلسفہ  اور فقہ  پر چار سو کتابیں یادگار چھوڑی ہیں ان جیسے علماء و فضلا ء نے اس دارالعلوم سے فراغت  پائی تھی ، عبدالرحمٰن  الد احل ، علم نجوم کا ماہر  اور بلند پایہ شاعر تھا، ہشام  اور الحکم جید عالم نقاد تھے ریاضی اور ہیئت میں بھی  وہ دور ترقی یافتہ تھا ، تاریخ ، فقہ،  اب وغیرہ پر لاتعداد کتابیں لکھی گئیں ، اشبیلہ  ، قرطبہ  ، غرباطہ ، سرسید طلیطہ میں عظیم الشان کتب خانے اور مدرسے تھے ان میں اسلامی تعلیمات  کے علاوہ  فنون  وریاضیہ کی تعلیم بھی ہوتی تھی، سیتہ، طنجہ میں بھی مدرسے موجود تھے لڑکیوں کی تعلیم کا بھی نظم تھا ان میں بڑی تعداد میں خواتین پڑھتی تھیں  اور علمی  ، ادبی  کاموں میں حصہ لیتی تھیں ان میں شہزادہ احمد کی بیٹی عائشہ نہایت فصیح  و بلیغ خطبہ اور شہزادی و لیدہ شعر و ادب علم و بیان میں معروف تھیں ۔اندولس کا معروف فاضل و ریاضی داں ابوالحسن  نے مختلف شہروں، اندلس اور شمالی افریقہ  کے بڑے حصہ کا سفر کیا علم جغرافیہ پر ‘‘ البدایات و النہایات’’،  تالیف کی اس کے علاوہ شہر ستیہ میں  بھی اس کے علوم   جدیدہ  کا خوب شہرہ تھا، حکما ئے اندلس نے نباتات  کے خواص پر بھی تحقیقات کیں عبدالرحمٰن  الدخل نے قصر خلافت کے قریب نباتات کی ریسرچ کے لیے ایک باغ لگایا تھا شام اور مشرق  ممالک کے محققین کو یہاں جمع کیا اور نادر الوجود درجنوں  پیڑ پودوں کے تخم تیار کئے اور باغ میں کاشت  کی علم حیوانات  پر بھی  ان کی ریسرچ نے دنیا کو چونکا دیا تھا، اسپین کے دارالعلوم  میں سرجری کا نامی طبیب  ابوالقاسم ابن عباس موجود تھا ‘‘ التصریف لمن عجز عن التکالیف ’’ ا س کے مجر بات و علم کی  شاہد  ہے، حکیم ابو مردان نے مفرودداؤں پر نئے تجربات کر نئی ادویات تیار کیں رقاص سے چلنے والی گھڑی او رمیزان کا اختراع بھی یہیں ہوتا تھا،  دھوپ  گھڑی، علم ہئیت میں بڑی ایجادات ارضی  و سماوی کردہ تانبے  کے بنائے ، علم فلکیات کے نامور عالم مسلمہ مخبر یطی نےتیس سال کے عرصہ  میں کئی  مشہور اور صحیح  ایجاد کئے، الزرقال نے بلندی آفتاب کی حد مقرر کرنے کےلیے چار سو دو صدئیں لکھیں اور حقیقی تقویم  مبادرت  اعتدالیں کی حرکت  معلوم کرنے کے لیے آلات ایجاد کیے اس کی ایجاد  کردہ گھڑیاں  یوروپ میں بہت پسند کی جاتی تھیں  ، ہوائی جہاز تخلیق کی سب سے پہلی کوشش بھی اسی سرزمین پر مسلمانوں نے کی تھی علاوہ ازیں ، قطب نما، کاغذ سازی توپ و باردو ، بری و بحری قوت ، ڈاک خانہ ، عہدہ ٔ قضا ۃ ، صناع ، اصول سیاست ، جہاز رانی ، جنگی فنون  ، مذہبیت  وغیرہ ایسے عنوانات و شعبے ہیں جن کو مسلمانوں  نے معراج کمال تک پہنچایا اہل اندلس  کے علم دوست ہونے کا یہ حال تھا کہ ہر  گھر میں  لائبریری  ہوتی تھی  اور ان  میں کتابیں  جمع کرنے کاذوق تھا چنانچہ  اس سلسلے میں احمد بن  محمد مقلب  بہ المقری التلمسانی کی اندلس  پر مشہور و مقبول  تصنیف  ‘‘ نفح الطیب ’’ میں مقری  نے ایک باذوق شخص حضرمی کا دلچسپ واقعہ لکھا ہے وہ لکھتے ہیں :

 ‘‘  مجھے ایک نادر  کتاب کی ضرورت تھی اس کی تلاش میں قرطبہ  گیا او رکتابوں کے سارے  بازار چھان لیے بالآخر ایک جگہ کتابوں کا نیلام ہورہا  تھا وہاں مجھے وہ کتاب مل گئی جس کی مجھے ضرورت تھی میں اسے دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑا اور اسے حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ بولی لگانے لگا،  لیکن جوں ہی کوئی بولی لگاتا  اس پر دوسرا خریدار اس سے بڑھ کر بولی لگادیتا ہوتے ہوتے اس شخص نے اتنی قیمت کی بولی لگادی کہ وہ حد سے زیادہ تھی میں نیلام کرنے والے کہا  ذرا مجھے  اس شخص سے ملا دیجئے جو یہ حد سے زیادہ بولی لگا رہا ہے اس نے اس شخص کی طرف اشارہ کیا جو اپنے لباس سے کوئی رئیس  معلوم ہوتا تھا  میں نے اس سے کہا کہ آپ کوئی بڑے فقیہ معلوم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی عزت میں اضافہ کرے کیا واقعتاً آپ کو اس کتاب کی ضرورت ہے تو میں آپ کے حق میں دستبردار ہوجاتا ہوں، اس شخص نے جواب دیا میں کوئی فقیہ نہیں ہوں بلکہ مجھے  یہ بھی پتہ نہیں  کہ اس کتاب میں کیا ہے؟  لیکن میں نے بڑی محنت سے اپنے گھر میں ایک کتب خانہ  بنایا ہے جو شہر کے شرفاء کوئی مقام پاسکے  ایک الماری میں کچھ جگہ خالی ہے جس میں یہ کتاب سما سکتی ہے اس کتاب کی جلد بھی بہت خوبصورت ہے اور تحریر بھی بہت حسین ہے، اس لیے میں اس جگہ کو پرُ کرنے کے لیے یہ کتاب خرید نا چاہتا ہوں اس پر میں نے ان سے کہا بادام  اس شخص  کومل رہا ہے جس کے منہ میں دانت نہیں ’’۔ ایک بار قرطبہ کے مشہور  عالم علامہ  ابن رشدرحمۃ اللہ علیہ  اور اشبیلہ کے رئیس  ابوبکر بن زہر کے درمیان یہ بحث چھڑ گئی کہ قرطبہ  بہتر ہے یا اشبیلہ ، ابوبکر ابن ازہر نے اشبیلہ کی بہت سے خوبیاں بیان کیں تو علامہ ابن رشد نے جواب دیا : ‘‘ آپ جو خوبیاں  بتارہے ہیں ان کا  تو مجھے علم نہیں  ، البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ جب اشبیلہ  میں کسی عالم کا انتقال ہوتاہے تو اس کا کتب خانہ بکنے کے لیے قرطبہ آتاہے اور جب قرطبہ میں کسی  گوئیے کا انتقال  ہوتاہے تو اس کا ساز و سامان بکنے کے لیے اشبیلہ  جاتا ہے ’’۔  بالآخر علم و آگہی  کی فضاؤں  میں اندلس نے آٹھ سو سالہ سفر طے کیا جن میں اس قدر کتابیں مختلف  علوم و فنون  پر لکھی گئی  کہ جن  کی اب نہ نظیر ہے اور نہ اکثر کا وجود، اب ہم یہاں  کے چند معروف علماء،حکماء، کی مخصوص کتابوں پر اجمالی نظر ڈالیں گے۔

چند علماء و حکماء اندلس  اور ان کی معروف کتب : ابن عبدربہ ( م 328 ھ) عقد الفرید، المحصات عربی شعر و ادب میں لا جواب تصنیف ، یحییٰ بن یحییٰ کثیر اللیثی ( م 236ھ) امام مالک کے فیض یا فتہ تھے امام صاحب نے ان کو دانش مند اندلس کالقب دیا تھا ، احمد بن خالد کا قول ہے کہ جب اس کا قد اندلس میں آیا یحییٰ بن کثیر کے برابر کوئی جلیل  قدر عالم پیدا نہیں ہوا  ابن  دراج القسطلی ( م 421ھ) اندلس  کے نامور عالم مگر شعر و ادب میں زیادہ  شہرت پائی مورخین نے لکھا ہے کہ فن شاعری جو شہرت شام میں  متنبیّ کو حاصل تھی وہ اندلس میں ان کو حاصل تھی ۔ ابن الفرضی ( 403 ھ) علم فقہ میں بے نظیر او رنامور محدث تھا المختلف و المؤتلف  ، مشتبہ النسبۃ کتابیں یادگار ہیں ابن  زیدون ( م 463ھ) قرطبہ شہر کے بہترین ادیب و نثر نگار  تھا ، ابو عمر یوسف ابن عبدالبر ( م 463ھ) میں فن حدیث میں یگانۂ عصر شہر قرطبہ کو ان سے خاص شہرت ملی، کتاب التمہید   لمعانی الموطامن المعانی والا سانید ، کتاب  الاستعیاب وغیرہ ضخیم کتابیں یادگار ہیں، ابن حیّان ( م 469ھ ) میں قرطبہ  کے بنی اُمیہ گھرانے سے تھے  کتاب المقتبس فی تاریخ  الاندلس   دس جلد یں ، کتاب المبین  ساٹھ ضخیم  جلدیں  آپ کے علمی آثار ہیں ۔ ابن  حزم الظاہری  ( م 456 ھ) قرطبہ میں پیدا ہوئے کتاب الفصل فی الملل والاہواء  والنحل ، نقطہ العروس الاجماع  ، وغیرہ تصانیف  بہت مشہور ہیں ابن شہید الا سجعی ( م 426 ھ) ابن جلجل ( م 400 ھ) ابو غالب الشیبانی ( م 436 ھ) ابو ولید الباجی ، ابو علی الغسالی الجیانی ( م 498 ھ) ابن بطلیوسی ( م 520 ھ) ابن باجّہ ( م 533 ھ) امیہ ابن ابی القلت ( م 529 ھ) الرشاطی ( م 544 ھ) ابن العریف ( م 526ھ ) ابوبکر محمد بن یحییٰ المعروف بہ ابن الصائغ ، ابن باجہ عربی زبان و ادب کا ماہر حافظ قرآن اور حاذق  الطبائے زمانہ  تھا، فن موسیقی میں بھی قدرت رکھتا تھا اس فن میں و ہ کمال حاصل تھا کہ نے نوازی میں بے مثل  سمجھا جاتا تھا، شرح کتاب السماع الطبعی  لارسطا طالیس ، قول علی بعض  کتاب الآثار ، الکون  والفساد، کتاب الحیوان ، وغیرہ  متعدد کتابیں ان کی یاد گار ہیں  فلسفۂ و حکمت کے استاذ ارسطو کی کتابوں کی تشریح و تسہیل  ان کا اصل موضوع ہے، ابوبکر ابن زہر ( 596 ھ)  نامور طبیب  اور وزیر وقت تھا حافظ القرآن  و الحدیث ہونے کے ساتھ عربی ادب  اور فن شاعری میں لاثانی  تھا، ابن  رشد ( م 595 ھ) عرب کے معروف گھرانے کا چشم  و چراغ اپنے علم و فن میں قرطبہ  کی صف اوّل میں شامل تھا  اس کی عالمانہ  تصنیف  جو ارسطو و جالنیوس کے قائم کردہ اصولوں  پر لکھی گئیں ہیں ان کو نہ صرف یورپ نے اہتمام سے شائع کیا بلکہ  بے حد فائدہ بھی اٹھایا ہے اسپین  کے عیسائیوں کی غارت گری ک بعد ابن رشد کی جو قابل  یادگار  تصانیف بچ گئی ہیں ان میں انتیس جلدیں ہیں ان میں کتاب التحصیل ، کتاب الکلیات،  تلخیص  کتاب المزاج لجا لینوس  ، تلخیص کتاب البرہان لارسطا طالیس ، سلطنت جمہوری مصنف ،افلاطون کی ترتیب و تشریح  نے بھی ابن رشد کو خاص شہرت دی ابن  خلدون  ( م 809 ھ) پورا نام ابوزید محمد ابن خلدون ہے علم و فضل میں یگانۂ  روز گار فن تاریخ کا بانی، اس کی تحقیق علم نے اس کو منفرد پہچان دی، کتاب العبر ، جس کا مکمل نام ‘‘ کتاب العبر و دیوان المبتداء والخبر فی ایام  العرب  البربر ’’  ہے اس میں اہل عرب و قوم بربر کے حالات تفصیل  سے لکھے ہیں اس کتاب  کو تاریخ ابن خلدون بھی کہتے ہیں ، یہ تاریخ نویسی  میں نئے اصولوں کا موجد ہے عرب و عجم میں اس سے پہلے اس انداز پر کسی نے تاریخ نویسی  نہیں کی، المقری  التلمسانی (  م 1041ھ ) اندلس کا نامور تاریخ نگار، ممتاز عالم اس نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ اندلس میں عربوں کی آٹھ سو سالہ حکمرانی کے حالات اپنی مشہور عربی کتاب ‘‘ نفح الطیب ’’ میں قلم بند کئے ہیں جو اندلس  کی تاریخ کا سب سے بڑا ماخذ  مانا گیا ہے البداۃ و النشاۃ وغیرہ  بارہ کتابیں اس نابعۂ عالم کی یادگار ہیں۔ اندلس میں مسلمانوں کے طویل  عہد حکومت میں علوم  و فنون  کا زبردست  عروج ہوا جہاں یہ تاریخ  قابل رشک ہے تو وہیں  ان علوم کا خاتمہ او رمسلمانوں  کا وہا ں سے چن چن کر خروج  و قتل بھی قابل اشک ہے یہ تاریخ ایک عبرت بھی ہے اور حسرت بھی، یہاں ان کی فتوحات کے آثار بھی ظاہر  ہیں اور شکست کے اسباب بھی اس سلسلے  میں اقبال نے خوب کہا ہے :

پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کےنشاں ہیں

خاموش  اذانیں ہیں تری باد سحر میں

16 اکتوبر، 2014  بشکریہ: روز نامہ عزیز الہند ، نئی دہلی 

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/abdullah-usmani/al-andalus--a-sad-story-of-the-downfall-–-part-–-2---(المیہ-اُندلس-کا-ایک-ورق--پوشیدہ-تری-خاک-میں-سجدوں-کے-نشاں-ہیں-(-آخری-قسط/d/99679

 

Loading..

Loading..