New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 10:50 PM

Urdu Section ( 12 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Sir Syed Ahmad Khan and His Contemporary Values سرسید احمد خان کی عصری معنویت

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبداللہ عثمانی

27 مارچ، 2013

اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ (1707ء ) کی موت کے بعد نہ صرف مغلیہ حکومت کا سیاسی خاتمہ ہوگیا تھا بلکہ اہل ہند پر بھی  علمی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی  زوال آگیا تھا، جو انقلاب 1857 کے سیلاب میں بہہ کر بالکل  پارہ پارہ ہوگیا تھا مسلمانان ہند پر ان تغیرات کا سب سے زیادہ اثر ہوا، وہ اس لئے کہ ان کی تہذیبی ، علمی، ادبی اور معاشرتی  تمام تر سرگرمیاں  یہاں کے پورے سماج پر اثر انداز تھیں، نیز یہی طبقہ برطانوی اقتدار کاتختہ الٹنے  میں پیش پیش تھا، اب مغربی طرز حکومت میں ایک نیا تمدن ابھر رہا تھا اور جدید فکر و تہذیب اپنے بال و پرنکال رہی تھی ، اگر چہ  اہل ہند  کی اکثریت اس نئی تعلیم و ثقافت کے خلاف تھی، ان نا گفتہ بہ حالات میں تحریک ولی اللّٰہی  سےمتعلق بعض علماء و مفکرین موجودہ قباحتوں  اور انتشار  کا مقابلہ کررہے تھے اور مسلمانوں کے تشخص کی بحالی کیلئے جد وجہد  کررہے تھے، اسی سلسلے کی ایک زریں کڑی کا نام ‘‘ سر سید  احمد خان ’’ ہے ، جنہوں نے مسلمانوں  کے عروج کی تاریخ کا گہرائی سےمطالعہ کیا تھا اور اب ان کے انحطاط کو بھی بہت قریب  سے دیکھ رہے تھے ، سر سید احمد خان کی زندگی  کا مقصد  قومی فلاح اور ان کی  سماجی و معاشرتی اقدار کا استحکام تھا، 1857 کی ناکامی کے بعد مسلمانوں  کی حالت زار پر ان کی آنکھوں  سے جو اشک چھلکے  وہ بار گاہ ایزدی میں شرفِ قبولیت سے نواز ے گئے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

‘‘ میں اس وقت ہر گز نہیں سمجھا تھا کہ قوم پھر پنپے گی اور کچھ عزت پائے گی اور جو حال اس وقت قوم کا تھا و ہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا تھا چند روز اسی خیال اور اسی غم میں رہا یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بڈھا کردیا اور میرے بال سفید کردیے’’

سر سید احمد خان (17 اکتوبر 1817 ء تا 27 مارچ 1898ء ) دلی میں پیدا ہوئے اور یہیں تعلیم و تربیت حاصل کی، دلی صدیوں  سے ہندوستان کا سیاسی، علمی اور ادبی  مرکز رہی ہے، سرسید مرحوم  کاگھرانہ مغل  دور سے ملک کی سیاست سے وابستہ چلا آرہا تھا ، مغلیہ حکومت  کی تحلیل  سے ان کو بھی اقتدار  سے ہاتھ دھونا پڑا، سر سید مرحوم کی دور بین نظر  دیکھ رہی تھی کہ اب ملک میں مسلمانوں  کی کامیابی اور ترقی جدید تعلیم کے بنا ممکن  نہیں، انہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اہل وطن  سے جدید تعلیم حاصل کرنے کی اپیل کی ابتداء میں انہیں سخت مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ آہنی  حوصلہ اور فولادی عزم کے ساتھ میدان میں اترے تھے لہٰذا  الزامات اور مخاصمتوں کے طوفان ان کے پیر نہ اکھاڑ سکے،بالآخر فتح نے سید مرحوم کے قدم چومے ، انہوں نے پہلی کوشش یہ کی علمی و فنی کتابوں کا انگریزی سے اُردو زبان میں ترجمہ کیلئے ‘‘سائنٹی فک سوسائٹی’’کا اجرا ء غازی پور میں  کیا، جس میں ماہرین زبان و فن کی خدمات لی گئیں ، بعض وجوہات کی بنا پر مذکورہ سوسائٹی کو غازی پور سے علی گڑھ منتقل کرنا پڑا، 1866ء میں سوسائٹی کے زیر انتظام ایک اخبار ‘‘علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ’’ نکالا، یہ اخبار پہلے ہفتہ وار تھا، پھر سہ روزہ ہوگیا ، اس جریدے میں اکثر سماجی اخلاقی، سیاسی  مضامین شائع ہوتےتھے، اس اخبار کی ایک خصوصیت  یہ بھی تھی کہ اس کا ایک کالم انگریزی اور دوسرا اُردو میں ہوتا تھا، نیز برطانوی  ارباب اقتدار تک ان ہی کی زبان میں اپنے مسائل او رشکایات کو پہنچانے کا اس سے کام لیا گیا، سائنٹی فک سوسائٹی کے ذریعہ نئے نئے سائنسی مقالات کی اشاعت ہوئی اور آلات جدیدہ کی معرفت  تجربات کئے جاتے سوسائٹی کے توسط  سےاہلِ ہند کو جدید علوم بالخصوص سائنس و تکنیک  سے جوڑنا تھا ، سوسائٹی میں قریب دو درجن کتابوں  کا  ترجمہ کرایا گیا ، جو اکثر ریاضی اور فلسفہ کے متعلق تھیں، سر سید احمد خان یورپین تعلیم و تکنیک کو عصری ضروریات مانتے تھے اور اسی کو ملک کی ترقی کی ضمانت تصور کرتے تھے، انہوں نے انگلستان جاکر نہ صرف یہاں  کی درسگاہوں کا مشاہدہ کیا، بلکہ یہاں کے طرز تعلیم کا باریکی سے معائنہ  کیا، مرحوم کا ایک دیرنہ خواب یہی تھا کہ اہل وطن  بالخصوص مسلمان اعلیٰ تعلیم سے جڑ کر سر بلند ی حاصل کریں، 1870ء میں لندن  سے واپسی  کے بعد سرسید نے اپنے سپنوں کی تعبیر کو حقیقت  کا روپ دینے کی جہد شروع کردی تھی، یہ خیال  و خواہش عصری  علوم  کے ایک کالج کے قیام کا تھا، اس کے قیام کیلئے انہوں نے جو محنت اور صعوبتیں اٹھائیں  ، وہ صرف انہیں  کے نفس کشی کا نتیجہ  تھا، ان کے ایک طرف قومی درد ، و تڑپ تھی تو دوسری جانب انگریزی  ملازمت و وفاداری  در پیش تھی، دریں اثناء مسلمانوں کے مذہبی  افکار و خیالات کی اصلاح  اور ان میں خود اعتمادی و بر تری پیدا کرنے کیلئے  ‘‘ تہذیب الاخلاق’’ رسالہ  جاری کیا، جس کے مضامین نے ملک  بھر میں بہت جلد ایک مقام بنالیا، اس اخبار کے ساتھ  ساتھ سرسید نے ایک دیگر کام یہ کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی کیفیت  کا جائزہ لینے اور اس پر غور کرنے کیلئے کمیٹی  ‘‘خواستگار ترقی تعلیم مسلمانان ہندوستان ’’ بنارس میں بنائی، جس کے تحت  انہوں نے نہایت جانفشانی سے ایک ‘‘تعلیمی جائزہ رپورٹ’’ اُردو اور انگریزی  میں مرتب  کی، جس میں مسلمانوں کے تعلیمی پچھڑے پن کے اسباب کی تفصیل  کے علاوہ  گورنمنٹ سےاپنے بعض (Rights to education) حقوق تعلیم بھی طلب کئے گئے  تھے، بالآخر حکومت کو سر سید احمد خان کی کمیٹی  کی تیار شدہ سفارشات کو پاس کرنا پڑا بقول شمس العلما ء مولوی محمد ذکاء اللہ:

‘‘ایجوکیشن کمیشن نے بھی 1883ء میں تمام ہندوستان کے معتبر گواہوں کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی تعلیم کے وہی مواقع تسلیم کئے ، جو سرسید نے 1872 ء میں اپنی رپورٹ میں درج کئے تھے’’

‘‘ سائنٹی فک سوسائٹی ’’ اور‘‘ تہذیب الاخلاق’’ کی اشاعت نے سر سید احمد خان کے مشن کو نمایاں  کامیابی دی، اس کے توسل سے ان کو اصحاب فکر  و علم مسلمانوں کی ایک جماعت مل گئی، ان میں نواب محسن الملک   ، نواب وقار  الملک ، نواب اعظم یار جنگ ، مولانا حالی، شبلی نعمانی  ، ڈپٹی نذیر احمد، مولوی  ذکاء اللہ ،مولوی سمیع اللہ کے نام قابل ذکر ہیں، بہر کیف ملّت  کے اس سچے مخلص  اور ہمدرد کی دسیوں برس کی محنت و قربانیاں رنگ لائیں ، 1877 ء میں مدرسۃ العلوم (اے ،ایم او کالج) کا افتتاح ہوگیا، یہی وہ عظیم الشان  کار نامہ  ہے، جس نے مسلمانانِ ہند کی روشن تاریخ رقم کی علم و دانش کا یہی وہ آبشار ہے، جس نے لاکھوں  تشنگان علم و ہنر کی سیرابی کی، بلاشبہ آج ہندوستان کی ترویج  و ترقی میں اس ادارے کا نام سنہری لفظوں میں درج ہے، سید مرحوم کی قومی خدمات کا اعتراف نہ صرف ہم وطنوں  نے کیا بلکہ غیروں نے بھی کیا پروفیسر اڑنلڈ لکھتے ہیں :

‘‘ حقیقی  عظمت کا اگر کوئی انسان مستحق  ہوسکتا ہے تو یقیناً سر سید احمد خان اس کے مستحق  تھے، تاریخ سےمعلوم ہوگا کہ دنیا میں  بڑے آدمی گذرے ہیں،  لیکن ان میں بہت کم ایسے نکلیں  گے جن میں سے حیرت  انگیز لیاقتیں  اور اوصاف مجتمع  ہوں، وہ ایک ہی وقت  میں اسلام  کا محقق  ، علم کا حامی  ، قوم کا سوشل  ریفار مر، پولیٹیشین ، مصنف  اور  مضمون  نگار تھا ، اس کا اثر اس عالم کانہ تھا  جو گوشۂ تنہائی  میں بیٹھ کر اپنی تحریروں  سے لوگوں کے دل اکسائے، بلکہ وہ  علانیہ  دنیا کے  سامنے لوگوں میں لوگوں کا رہبر بن کر اس لئے آیا کہ جس بات کو سچ اور صحیح  سمجھے ، اگر اس کی دنیا مخالف ہوتو ساری دنیا سے لڑنے کیلئے ہر وقت تیار  اور آمادہ  رہے، ہندوستان میں ہم  کو ایسے شخص کی مثال جیسا کہ  وہ تھا کہاں مل سکتی ہے؟ نہ جاہ و مرتبہ تھا، ذلت  تھی باوجود  اس کے کہ ہندوستان میں مسلمانوں  کی قوم کا سردار بن کر ظاہر ہوا، یہ وہ رتبہ ہے جو اس سے پہلے کسی شخص کو تلوار کے زور سے حاصل نہیں ہوا’’۔

سید مرحوم نےجس نیک نیتی اور جذبہ سے اہل ہند کی عصر ی تعلیم کا سامان کیا ، وہ کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا  ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج دنیا کی ممتاز ترین درس گاہوں میں سے ایک ہے، اس کے فارغین نے دنیا کے گوشے میں  علم وفن کی شمعیں روشن کی ہیں اور مسلمانوں کے وقار و اعزاز میں اہم رول ادا کیا، بلاشبہ  مرحوم کے اس گلشنِ علم و دانش  میں وہ بہار آئی اور ایسی گلکاری ہوئی جس سے نہ صرف ہندوستان ، بلکہ غیر ممالک بھی عطر بیز ہوتے گئے ، یہ یونیورسٹی قوم کی امانت  ہے، مسلمانوں کی آبرو ہے ان کا نشا ن قدر ومنزلت  ہے، اس کی ترقی  و بقا  و فاع پوری قوم پر فرص ہے۔

27 مارچ ، 2013 بشکریہ : روز نامہ ہمارا سماج، نئی دہلی 

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/abdullah-usmani--عبداللہ-عثمانی/sir-syed-ahmad-khan-and-his-contemporary-values--سرسید-احمد-خان-کی-عصری-معنویت/d/11119

 

Loading..

Loading..