New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 10:23 PM

Urdu Section ( 9 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Murder in the light of Quran قتل: خالص قرآن کریم کے آئینے میں

 

 

 

عبداللہ ثانی ، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ

ابتداء میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جب ان اعمال  افعال کے متعلق  ہم کوئی فیصلہ  کریں یا تشریح کریں تو ہمارے پیش نظر قرآن کریم کے وہ ابدی اُصول ہونے چاہیں  جن کا وجود تا قیامت  قائم و دائم  رہے گا ۔ حالانکہ  دور جانے کی ضرورت  نہیں خود اپنے ملک کے وضع کردہ قوانین  میں آئے دن رد و بدل  ہوتا رہتا ہے  جس کی وجہ سے کسی فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے عام  طور پر قانون وضع ہوتا ہے نتیجہ اس کی نا کامی ۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن  کریم کے قوانین غیر متبدل ہیں ہماری مشکل یہ ہے کہ انسانی وضع کردہ قوانین  کو ہم نے الہٰی  قوانین کا درجہ دے رکھا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں فرقے وجود  میں آگئے ہیں ۔ اسی لیے قرآن کریم نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ  كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ( 23:53) ہر گروہ اپنے طور پر اس گمان  میں خوش ہے کہ وہی درست ہے ۔ اور ہر فرقے کی اپنی فقہ  ہے ۔ بالکل  اس کی مثال یہ سمجھیں  کہ آپ کسی بھی رنگ کا چشمہ لگالیں  تو لوگ اور ہر چیز آپ کو اسی رنگ میں رنگی  ہوئی نظر آئے گی ۔ یعنی  زرد چشمے سے ہر شے یرقان کی مریض نظر آئے گی ۔ جب تک قرآن کریم کو خود قرآن  کریم کی آیات سے نہ سمجھا جائے اس وقت تک بات سمجھ  میں نہیں آتی ۔اس کو تصریف آیات کہتے ہیں ۔ ہمارے ہاں  ایک عجیب  رویہ روا رکھا گیا ہے کہ جس کا مفاد جس فقہ میں ہو وہی فقہ نہ صرف زبانی بلکہ تحریری  طور پر بھی اختیار  کرلیا جاتا ہے ۔ یہ تجربہ کھل کر اُس وقت سامنے  آیا جب بینکوں  میں زکوٰۃ  کی کٹوتی  لازم قرار دی گئی ۔ یہی حالت دیگر  مفادات کی بھی ہے ۔

سچ تو یہ ہے کہ آج اسلام  ایک ایسے نظریہ کے طور پر سامنے آیا ہے  جو صرف مسلمانوں ( بطور فرقہ) کے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے ۔ بھلا  ! کسی ایسے اسلام  میں دیگر  اقوام  کے لیے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ۔ اسلام کے اس فرقہ وارانہ  ایڈیشن میں جسے قومی مسلمانوں  نے گذشتہ چند صدیوں میں تشکیل دیا ہے ۔دیگر اقوام کے لیے نہ صرف یہ کوئی  کشش نہیں رہتی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ اسلام کو ایک ایسے نظریے کے طور پر دیکھتی ہیں جسے اگر کامیابی  مل گئی تو ان کا مستقبل تار تار ہو جائے گا ۔اقوام عالم پر مغربی اقوام کی موجودہ سبقت یکسر ختم ہوجائے گی ۔ حالیہ برسوں  میں مغرب کی طرف سے دہشت گردی  کے خلاف جو مہم  جاری ہے اس کے پیچھے دراصل اسلام سے متعلق  یہی وہ اندیشے ہیں جس نے مغربی دانشوروں کو تہذیبوں کے مابین جنگ کا بگل بجانے پر آمادہ کیا ہے ۔

خلیل جبران نے کیا خوب کہا ‘‘ قابل رحم ہے وہ قوم جو جناز وں کے ہجوم کے سوا کہیں  اور اپنی  آواز بلند نہیں کرتی اور ماضی کی یادوں  سے سوا اس کے پاس فخر کرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا ’’۔ عربی زبان کے فعل (قتل) کو قرآن کریم میں دیکھا جائے اور وہ تمام آیات پیش نظر ہوں جہاں جہاں قتل کے قتل  کا اظہار کیا گیا ہے تو بات سمجھ میں آجائے گی ۔ عربی کے مشہور و معروف اسکالرز ‘‘ تاج ’’ ، ‘‘ راغب ’’ اور ‘‘ محیط ’’ نے مختلف معنی میں قتل  کے فعل کی وضاحت کی ہے ۔ جن میں ابن  فارس بھی شامل ہے ۔

(قتل)  ہتھیار یا پتھر لاٹھی کی ضرب  سے یا زہر وغیرہ سے کسی کو مار ڈالنا ۔ جان نکال دینا ۔ ‘‘مقابلہ’’۔ جنگ میں ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہا ( تاج) راغب  نے کہا ہے کہ اس کے معنی ذلیل اور حقیر کرنے او رجھکا دینے  کے بھی ہیں ۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ قتل کے بنیادی  معنی ذلیل  کرنے او رمار ڈالنے کے ہیں ۔ قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ( 80:17) میں قوانین  خداوندی  سے انکار کرنے  والوں کی ذلت  و حقارت  اور تباہی و بربادی  ہی کا بیان  ہے ۔ اسی طرح   قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ( 9:30) کے معنی  ہیں خدا انہیں ذلیل اور حقیر کرے ۔ خدا انہیں تباہ و برباد کرے ۔ خدا انہیں مغلوب  کرے ۔قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ( 51:10) کےبھی یہی  معنی ہیں ۔ اسی طرح راغب  نے لکھا ہے کہ  وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ( 17:31) قتل اولاد سے مراد بچوں کو سچ مچ قتل کرنا  نہیں ۔ بلکہ انہیں علم و تربیت سے محروم رکھنا بھی ہے ۔ ( آج کا دور آپ کے سامنے  ہے ) اور اس کے مقابلہ  میں ان کا ( زندہ رکھنا ) یعنی علم و بصیرت  عطا ء کرنا  ہے ۔ یعنی اس خیال سے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا  کہ اس کے اخراجات  سے ہم غریب ہوجائیں گے ۔

تذلیل و تحقیر  کے مفہوم کی رو سے قرآن کریم کی ان آیات کا مطلب بھی صاف  ہوجاتا ہے جہاں بنی اسرائیل  کے بچوں  کے قتل کا ذکر ہے ۔ اس اعتبار  سے قتل  کے معنی  ہیں کسی کو ایسا  کردینا کہ اس کی بات پرکوئی دھیان  نہ دے ۔ اس کی کوئی  پروانہ کرے ۔ اس کا کچھ اثر باقی  نہ رہے وہ ( Ineffective) ہوجائے ۔ اسے ایسا  کردو گویا وہ مرُدوں میں شامل ہوچکا ہے ۔ یعنی اس کی موجودگی  اور عدم موجودگی برابر ہو جائے ۔ قتل شراب  کے معنی ہیں شراب  میں پانی ملا کر اُس کی تندی  اور کیف آوری  کو کم اورہلکا  کردینا ۔ اس نے اس چیز کا پورا پورا  علم حاصل کر لیا ۔ وہ شرکو اچھی طرح جانتا ہے ۔ اس نہج سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق  جو آیا ہے ۔ تو اس کے معنی یہ ہے کہ انہیں حقیقت  کا یقینی  علم بالکل نہیں ۔

لہٰذا قرآن کریم میں جہاں قتل کا لفظ آئے گا ہر جگہ اس کے معنی  مار ڈالنے کے نہیں ہوں گے۔ سیاق و سباق کے اعتبار سے اس کے معنی  متعین کیے جائیں گے۔ کہیں مار ڈالنا ۔ کہیں ذلیل و حقیر کرنا ۔ غیر موثر بنا دینا ۔ تباہ و برباد کر دینا ۔ کہیں علم و تربیت  سے بے بہرہ رکھنا ۔ اور کہیں  پورا پورا  علم حاصل کرنا وغیرہ ۔ حتیٰ کہ انتہائی  کوشش کرنابھی  ۔ چنانچہ  استقتل فی الامر  کے معنی ہیں  اس نے اس معاملہ میں جان کی بازی  لگا کر کوشش کی ۔ سورہ بقرہ میں یہودیوں کے متعلق  ہے  وَیَقْتَلْوْنَ النَّبِیّنَ بِغَیْرِ الْحَقِ  تو اس کے یہ معنی  بھی ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تحقیر و تذلیل کرتے تھے او ریہ بھی  کہ وہ اُن  کے درپے  قتل ہوتے تھے ۔ حضرت عیسیٰ کےمتعلق  دوسری جگہ ہے کہ انہیں یہودیوں  نے قتل نہیں کیا تھا ۔ نہ ہی آپ کو صلیب  دی گئی تھی ( 4:157)

سورہ النساء میں ہے کہ ایک دوسرے  کا مال نا حق نہ کھاؤ ۔ اس کے بعد ہے ۔ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ( 4:29) یعنی اس طرح اپنے آپ کو تباہ نہ کرو ۔ یا ایک دوسرے کو تباہ و برباد نہ کرو۔ یا اپنی ذات کو ہلاک نہ کرو۔ جس معاشرہ  میں لوگ ایک دوسرے کےمال کو ناجائز  طریقوں  سے کھانے لگیں  ۔ اس  میں سب کچھ تباہ ہو جاتاہے ۔ ( آج آپ کے سامنے ہے)

اگر قتل سے یہ مفہوم  لیا جائے  کہ ‘‘ ان کےلیے قتل  ہوجانا مقدر ہوچکا ہے ’’ تو یہ تصور قرآن کریم کی ساری تعلیمات کے خلاف جاتا ہے جس کی رو سے انسان  اپنے اعمال  میں صاحب  اختیار  ہے مجبور نہیں ۔

قتل عمد :۔عمد عربی زبان کا لفظ ہے۔ قتل عمد ایک ایسا  عمل فعل ہے جس کا تعلق  قاتل  کے ارادے  سے ہے ۔ اب یہ  ارادہ کبھی اچانک پیدا ہو جاتا ہے او رکبھی اس کے لیے منصو بہ بندی کرنا پڑتی ہے ۔ جس کا آسان ترجمہ  ‘‘ جان بوجھ کر’’ کیا جاسکتا ہے ۔ عمداً بن فارس نے کہا  ہے کہ اس مادے کے بنیادی معنی استقا مت و استواری ( سیدھا کھڑے ہو جانا ) ہیں ۔ خواہ وہ محسوس  چیزوں میں ہو یا رائے اور ارادے میں  العمود اس لکڑی ( بلی) کو کہتے ہیں جو خیمہ  کے وسط میں ہوتی ہے اور جس  کے سہارے خیمہ کھڑا کیا جاتا ہے اس کی جمعہ   اعمدۃً ۔ عمدً عمد آتی ہے ۔ العمد ۔ سنگ مرمر کے ستونوں کو بھی کہتے ہیں ۔ قرآن کریم میں ہے ۔  رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ( 13:2) اللہ نے فضائی کروں کو غیر مرئی ( UnVisible) اور غیر محسوس ستونوں سے کھڑا کر رکھا ہے ۔ ان کے ستون وہ باہمی  کشش و جزب ہے جو آنکھوں  سے نہیں دیکھی جاسکتی ۔ اس میں عمد جمع ہے عمود کی یا عماد کی  العمود وہ سردار جس پرمعاملات میں بھروسہ کیا جائے ۔ رئیس لشکر  طویل العماد اس کے معنوں میں مختلف  اقوال ہیں ۔ العماد بلند عمارتوں کو کہتے ہیں ۔ اس کا واحد عمادہ  ہے  ۔ العمد، التعمد ۔وہ کام جو مقصد ونیت  سےکیا جائے ۔کونسلر کو معتمد کہتے ہیں  اور کونسلیٹ کو دارالا عتماد  کہتے ہیں ۔ قرآن کریم کی کسی  بھی عنوان  پر متعلقہ  آیات  کو یکجا کیا جائے  تو اس پر غور فکر کرنے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح قتل  سے متعلق  جتنی بھی آیات  ہم اپنے سامنے  رکھیں تو اتنا پیچیدہ مسئلہ نہیں  جتنا بنادیا گیا ہے ۔ ہمیں مشکل  اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم قتل کے متعلق  الیکٹرانک  میڈیا پر یا پرنٹ میڈیا میں بات  کرتے ہیں تو قصاص  کے لیے  قرآن کریم کی آیات پیش کرتے ہیں پھر جب قتل عمد کے معنی  کی بات آتی ہے تو شریعت  کی اصطلاح  استعمال کرتے ہیں ۔ یا کسی فرقے کی شریعت  کا سہارا لیتے ہیں او رمسئلہ گنجلک  ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ اندھیرے میں ٹامک  ٹوئیاں  مارنے والی بات  ہوتی ہے ۔

قصاص : قصاص کسے کہتے ہیں ۔ اس کے بنیادی معنی  کیا ہیں ۔ اس کا مادہ کیا ہے ۔ جب تک  اس کی تفصیل  معلوم نہ ہو اس وقت تک  ہم قتل کے انجام  تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ‘‘ قص اثرہ، یقُص ، قصاًو قصصاً ۔ کسی کے پیچھے پیچھے اس کے نقش قدم پر چلنا ۔ ابن فارس  نے کہا ہے کہ اس مادہ  کے بنیادی  معنی  کسی چیز کا پیچھا  کرے اور جستجو کے ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم  میں دیکھیں ( 18:64) ( 28:11) اس کو وہ خبر  بتادی ۔ اسے اس پر مطلع  کردیا ۔ قرآن کریم میں ہے کہ  (18:64،28:11) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ (12:3)ہم تمہیں  بہترین  انداز سے واقعات بتاتے ہیں ۔ القاص ۔ قصہ گو ۔ ایک حدیث میں ہے۔ بنی اسرائیل جب قصہ گو ئی میں  پڑ گئے  تو ہلاک ہوگئے ۔ ( یہ ہماری  ہی تصویر ہے ) یا جب انہوں نے ( خدا کی سند کو چھوڑ کر) اسلاف کے پیچھے پیچھے چلنا شروع  کردیا تو ہلاک  ہوگئے ( یہی  مسلمان کے ساتھ ہو رہا ہے ) ۔ القصہ ۔ مماملہ ۔ خبر ۔ واقعہ ۔اس نے بال کاٹے ۔ المقص ۔ قینچی کو کہتے ہیں ۔ القصاص ۔  مجرم کا اس طرح پیچھا کرنا  کہ اسے اس کے جرم کی سزا مل کر رہے ۔ مجرم کی سزا دے دینا ۔ قانون عدل  کا مجرم  کے پیچھے پیچھے  چلنا ۔ راغب  نے اس کے معنی خون کے پیچھے  خون بہا ( بدلہ) کا آنا قرآن کریم نے اس لفظ کو جرم قتل  کی سزا کے سلسلے میں  استعمال کیاہے ۔ چونکہ  یہ ایک اہم موضوع ہے اس لیے اس کے متعلق  ہم ذرا تفصیل سے گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

قرآن کریم کی  روسے انسانی زندگی  کو اس قدر اہمیت  حاصل ہے کہ فرمایا ۔ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ( 5:32) جس نے کسی ایک متنفس کو مار ڈالا بجز اس کے کہ اسے کسی جان کے بدلے ( جرم قتل کی سزا میں ) مارا گیا ہو یا ملک میں فساد برپا کرنے کی سزا کے طور پر ، تو یوں سمجھو گویا اس نے تمام نوع انسان کو قتل کر ڈالا ۔ ( 5:32) اور جس نے کسی ایک آدمی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانیت کو زندگی بخش دی ۔

(1) قتل بہت بڑا سنگین جرم ہے ۔

(2) جو شخص کسی دوسرے کو قتل کردے ، یا ملک میں فساد بر پا کردے ، اسے قتل کیا جاسکتا ہے ۔ فساد فی الارض ( بغاوت)کے متعلق  فرمایا ۔ جرم قتل کے متعلق  پہلی آیت سورہ بقرہ میں ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ :

تم پر مقتولین کے بارے میں قصاص فرض قرار دیا گیا ہے ۔ اس آیت میں لفظ قصاص  سے مراد  عام طور پر سزائے موت لی جاتی ہے ۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے ، قصاص  کے معنی کسی  کا پیچھا  کرنے کے ہیں ۔ لہٰذا قصاص  کا مطلب  ہوا مجرم کا پیچھا کرنا ۔ اس کا تعاقب  کرنا ۔ اسے ایسے ہی  نہ چھور دینا کہ وہ اپنے کیے  کی سزا نہ پاسکے ۔ اس آیت میں خطاب  ‘ جماعت المومنین ’ سے ہے ۔ جس معاشرہ  میں اجتماعی  قوانین  رائج نہ ہوں، اس میں جرائم اور اس کے بدلے کو افراد  پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ مثلاً  کسی شخص نے ایک آدمی کو قتل کردیا ۔ ہمارے ہاں یہ چیز مقتول  کے وارثوں کے لیے ہے کہ وہ مجرم کا پیچھا  کریں ۔ اگر ان میں ہمت  ہو تو اسے  پکڑ کر اس سے بدلہ  لے لیں ۔ اور اگر مجرم  ان سے  بالا دست ہو پھر صبر شکر  کر کےبیٹھ رہیں ۔ لیکن قرآن کریم ایک اجتماعی نظام پیش کرتا ہے اس لیے اس میں جرم کابدلہ لینا  افراد پر نہیں چھوڑ تا ۔ وہ معاشرہ سے کہتا ہے کہ جرم کا ارتکاب  خود معاشرہ  کے خلاف ہوا ہے ۔( کسی  فرد کے خلاف نہیں ہوا ) اس لیے یہ معاشرہ  کا فرض ہے ( نہ کہ مقتول  کے وارثین  کا انفرادی کام ) کہ وہ مجرم کو کیفر کردار تک  پہنچائے ۔  معاشرہ  پر فرض  قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مقتول  کا بدلہ لینے کا انتظام کریں ۔ دور حاضر کی اصطلاح  میں کہا جائے گا کہ قرآن کریم نے جرم  قتل کو  ‘‘ قابل  دست انداز ی پولیس ’’ قرار دیا ہے جس میں  مستغیت  خود حکومت  ہوتی ہے ۔ (  State VS……) ۔ لہٰذا آیت کے اتنے ٹکڑے کے معنی  یہ ہوئے  کہ یہ اسلامی  حکومت کی ذمہ داری  ہے کہ وہ جرم  قتل  کے مر تکب  کا پیچھا  کر کے اُس  سے بدلہ لے ۔

اس سے آگے اس حصہ کا تعلق بھی سزا  سے نہیں بلکہ  اس میں اس اہم اصول  کو بیان کیا گیا ہے کہ اس باب میں مجرم  اور مقتول کی پوزیشن  کا کوئی لحاظ  نہ رکھا جائے ۔ مجرم سوسائٹی  میں خواہ کتنا ہی بڑا اور مقتول کتنا ہی  چھوٹا کیوں  نہ ہو، بدلے  کے معاملہ  میں دونوں کو یکساں  سمجھا جائے ۔ اس لیے  کہ ہر انسانی زندگی ( وہ مرد آزاد  کی ہو یا غلام کی ۔ عورت کی ہو یا مرد کی ) یکساں قیمتی ہے ۔

اسے پھر دُھرا دینا ضروری ہے کہ اس آیت کے اس حصے میں اسلام کا اصول مساوات بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی  اس سے یہ مطلب نہیں کہ اگر  کوئی مرد آزاد ( حُر) قتل کر دیا گیا ہے تو اس کے بدلے کسی مرد آزاد ( حُر) کو قتل کیا جائے ، خواہ قاتل  کوئی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔ اور اگر مقتول غلام  ہے تو کسی غلام کو پھانسی  چڑھا یا جائے، خواہ قاتل، مرد آزاد ہی کیو ں نہ ہو ۔ یہ مفہوم  با لبداھت غلط ہے ۔ قرآن کریم نے یہاں عام اُصول مساوات پر زور دیا ہے اور اس کے لئے اصولی  انداز بیان  اختیار کیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ سزا کہ معاملہ  میں قاتل اور مقتول کی پوزیشن  کا کوئی خیال نہ کیا جائے ۔

اس کے بعد ہے جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو اسے چاہئے کہ قاعدے  کے مطابق اس کی پیروی کرے اور حسن کا رانہ انداز سے اس کی ادائیگی  کرے ۔ یہ تمہارے نشو و نما دینے والے کی طرف تخفیف  اور رحمت ہے ۔ ظاہر ہے کہ سزا کا اس میں بھی ذکر نہیں ۔ سزا میں سے کچھ معاف کردینے  کاذکر ہے ۔ ‘‘ کچھ معاف کر دینا ’’ ۔ (شی) اس کی دلالت کرتا ہے کہ اس کا تعلق سزا ئے موت  سے نہیں ۔ اس لیے کہ سزائے موت میں سے ‘‘ کچھ معاف کر دینے ’’ ( او رکچھ باقی  رہنے دینے ) کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ‘‘ کچھ معاف کر دینے ’’ کی شکل اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ سزا، مال ( جرمانہ) کی ہو ۔ اسے دیت یا خون بہا کہا جاتاہے ۔

جرم قتل کی سزا  کا ذکر سورۃ النسا ء میں ہے جہاں  جرم کی مختلف  نوعتیوں اور ان کے مطابق سزا کا بیان  ہے ۔ ارشاد  ہے کہ مومن کے یہ شایان  ہی نہیں کہ کسی دوسرے مومن کو قتل کر ڈالے ۔ ہاں غلطی  سے ایسا ہوسکتا ہے ۔ ‘‘ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک مومن غلام آزاد کر ے اور خون بہا ادا کرے جسے اس کے وارثوں  کے سپرد کیا جائے گا ۔ بجز اس کے کہ وہ معاف کردیں ۔ یہاں سے بات صاف ہوگئی کہ قتل خطاء ( غیر ارادی طور پر ، بھولے قتل ) کی سزا  موت نہیں ، بلکہ خون بہا ہے جو اس کے وارثوں  کو دیا جائے گا ۔ خون بہا  کی جو رقم عدالت  مقرر کر کے ، مقتول  کے وارثوں کو اس کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس میں سے کچھ ( یا سب کا سب ) معاف کردیں ۔ لہٰذا  سورۃ البقرہ کی  ( آیت 178) میں جو فرمایا گیا ہے ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۔کہا گیا ہے تو وہ قتل خطاء کی صورت میں ہے جس کی سزا خون  بہا ادا کرنا ہے ۔  سورۃ النسا ء کی آیت 92 کے آخری حصہ میں بتایا گیا ہے کہ اگر مقتول اس قوم  سے متعلق  ہو جو تمہاری  دشمن ہو یا اس سے جس سے تمہارا  معاہدہ  ہو تو اس صورت میں کیا سزا ہوگی ۔ ( سزا اس صورت میں  بھی خون بہا  ہی مقرر کی گئی ہے) اس سے اگلی  آیت میں ہے ۔

آیت ( 4:53) میں قرآن  کریم نے قتل عمد کے لیے انتہائی  سزا بتائی ہے ۔ اس میں دیت ( خون بہا) نہیں ہے ۔ البتہ قتل  عمد میں  بھی جرم کی نوعیتیں  مختلف ہوسکتی ہیں ۔ مثلاً ایک شخص نہایت  ٹھنڈے دل سے سوچتا ہے کہ اگر فلاں آدمی  کو قتل کردیا جائے  تو اس کی تمام جائیدا د مجھے مل جائے گی۔ وہ اس کے لیے اسکیم  بناتا ہے اور سوچی سمجھی  تدبیر  کے مطابق اسے قتل  کر دیتا ہے ۔ اس قسم کے ( Cold Blooded Murder) کی سزا سخت ترین ہو نی چاہیے ۔ اس کے برعکس ایک شخص دیکھتا ہےکہ کسی نے اس کی بیوی کی عصمت پر حملہ کیا ہے ۔ وہ غیرت  میں آکر اسے فوراً قتل  کر دیتا ہے ۔ قتل عمد  یہ بھی ہے لیکن اس میں اور اول الذ کر میں  بڑا فرق ہے ۔ اس لیے ہر قتل  عمد کی سزا  ایک جیسی نہیں  ہوگی ۔ جرم  کی نوعیت  اور احوال  و ظروف ( Circumstances) کے اختلاف سے سزا میں اختلاف ہوگا ۔ اس سے قیاس  کا رُخ اس طرف جاتا ہے کہ قرآن کریم نے قتل عمد  کی سزا  میں لعنت ۔ اور سخت سزا کا جو ذکر کیا ہے تو یہ سزاؤں کی مختلف نوعیتیں  ہیں ۔ مثلاً عبور دریا  شور ( انگریزوں کے زمانے میں رائج تھی ) ، قید تنہائی، قید بامشقت۔ معاشرہ کے حقوق سے محروم ( Disqualify) کردینا ( لعنت کے یہ معنی ہیں ) وغیرہ وغیرہ ۔

ممکن ہے کہہ دیا جائے کہ یہاں سزا ئے جہنم  کا ذکر ہے ( جس کا تعلق آخرت سے ہے اس دنیا سے نہیں ) ۔ لیکن دوسری جگہ  قرآن کریم نے اس کی صراحت  کردی ہے کہ قتل عمد کی سزا بالعموم   ،موت ( قتل ہے) ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں ہے جس کا جان کا مارنا  اللہ نے حرام  قرار دیا ہے ( یعنی بے گناہ کا قتل ) اسے قتل مت کرو۔ بجز اس کے کہ انصاف کا تقاضہ ایسا  ہو ۔ جو ظلم سے قتل کیا جائے تو قاتل یہ نہ سمجھے کہ مقتول کے وارثوں کا کوئی حمائتی او ر مددگار  نہیں، اور وہ اب جس طرح جی چاہے دندنا تا پھرے گا مجھے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ۔ اسے اس زعم باطل میں نہیں  رہنا چاہئے ۔ مقتول کے ورثاء کے لیے ہم نے معاشرہ کو ‘‘ سلطان بنایا ہے’’ ۔ معاشرہ (نظام حکومت ) کا غلبہ و اقتدار ( سلطان ) مقتول  کے وارثوں کا پشت پناہ ہوگا ۔ ( 17:33) اس طرح یہ معاشرہ خود مقتول کی ( اور اس کے وارث کی ) مدد کرے گا اور قاتل  سے بدلہ لے کر چھوڑ ے گا ۔ لیکن معاشرہ  کو اس کی بھی تاکید  کردی گئی ہے کہ قاتل کی سزائے موت دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے ۔ مثلاً ایک شخص نے جان بوجھ کر کسی شخص کے خاندان کے چار پانچ افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اثبات  جرم کے بعد عدالت  کو قاتل کے خلاف  سخت غصہ ہوگا ۔ لیکن عدالت  کو اس کی اجازت  نہیں کہ وہ قاتل کے خاندان کے چار پانچ  افراد کو اسی طرح قتل کردے ۔ یہ ‘‘ اسراف فالقتل ’’ ہوگا ۔

نہ ہی آیت کے اس ٹکڑے کے یہ معنی ہیں کہ مقتول کے وارث کو اس کا اختیار  ہے کہ وہ جاکر قاتل  کو خود قتل  کردے ۔ بالکل  نہیں ۔ قصاص کا حکم معاشرہ  کے لیے ہے ۔ افراد متعلقہ  کے لیے نہیں ۔ قتل کا جرم ، معاشرہ (نظام حکومت ) کے خلاف جرم ہے ۔ انفرادی  جرم نہیں ۔ مقتول کے وارثوں کی حیثیت  ( زیادہ سے زیادہ) استغاثہ کے گواہوں کی  ہوگی ۔ مستغیث  کی نہیں ہوگی ۔ مستغیث  خود حکومت ہوگی ۔ لہٰذا اس کا حکم بھی معاشرہ ( عدالت کے  لیے ہے ) اس آیت  سے دو باتیں  واضح ہوگئیں ۔

(1) کہ یہاں قتل عمد کا ذکر ہے ۔ اس لیے کہ قتل خطا ء میں قاتل  کو ظالم  او رمقتول کو مظلوم  نہیں کہا جائے گا ۔ جس شخص  سے محض  سہواً ، نادانستہ ، بھول چوک میں غلطی  سے کسی  کاقتل ہو جائے وہ ظالم نہیں  ہوتا ۔ وہ تو اپنے  کئے پر خواد نادم  ہوتا ہے ۔ لہٰذا  مقتول  اسی صورت  میں مظلوم  کہلائے گا جب اسے  کسی نے عمداً قتل  کیا ہو ۔

(2)  معاشرہ  کے طاقتور  لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اپنی قوت  کے بل بوتے پر جسے  چاہیں قتل کر ڈالیں ۔ انہیں کوئی پوچھنے والا  نہیں ۔ معاشرہ  کا پورا غلبہ و اقتدار ( سلطان) مقتول کے وارث کا پشت  پناہ ہوگا ، وہ اس طرح  قاتل  سے بدلہ لینے میں اس کا حامی و مددگار بنے گا ۔

(3) قتل عمد کی سزا قتل (موت) ہے ۔ لیکن  اس میں حد سے نہیں بڑھا جائے گا۔

اس آیت کو جب سورۃ النسا ء  کی آیت  سے ملا کر پڑھا جائے  تو بات واضح  ہوجاتی ہے کہ وہاں جہنم  کی سزا سے مراد سزائے موت ہے ۔ اور ‘‘ اللہ کا غضب و لعنت  اور عذاب عظیم ’’ وغیرہ  اس کے ساتھ  ، یا اس سے الگ،  یا سے نچلے درجہ  پر، دوسری سزائیں  ہیں جن کی نوعیت معاشرہ  خود متعین  کرے گا۔ تصریحات  بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم کی روسے

(i)  قتل کا جرم انسانیت  کے خلاف سنگین جرم ہے ۔

(i i) جرم قتل، افراد کے خلاف جرم نہیں خود معاشرہ کے خلاف جرم ہے لہٰذا ، مجرم  کا پیچھا  کر کے اسے  سزا دینا، مقتول کے وارثوں  کا کام نہیں  بلکہ نظام حکومت  کا فریضہ ہے۔

(i i i) اس بات کا فیصلہ عدالت  کریکی کہ قتل بلا ارادہ  ( خطاء) تھا یا قتل عمد ۔

( iv) قتل خطا ء کی صورت  میں سزا  خون بہا ( دیت) ہوگی ۔ اس کے لیے مقتول کے وارثوں  کو اختیار ہوگا کہ وہ مجرم کوبالکل معاف کریں  یا خون بہا کی رقم میں سے کچھ کم کردیں ۔

(v)قتل عمد کی سزا دیت نہیں اس  لیے اس میں مقتول کے وارثوں کا کوئی اختیار  نہیں رہتا ۔ اس کی سزا عدالت  کی طرف مقرر ہوگی  جو سزائے موت ( یا جرم کی نوعیت  اور حالات  کے پیش نظر)  اس سے کم درجہ  کی سزا ( قید وغیرہ) ہوگی ۔

(vi) یہ کہ کہا گیا ہے کہ ‘‘ کسی مومن کے شایان شان نہیں  کہ وہ کسی مومن  کو قتل کردے ۔ مگر غلطی  سے ‘‘ تو اس کے یہ معنی نہیں  کہ مومن غیر مومنوں  کو یو نہی  قتل کرتا  پھرے ۔ اس کی اسے کھلی چھٹی ہے ۔ قطعاً  نہیں ۔ مومن وغیرہ مومن ، کے باشد ، ہر ایک کی زندگی قرآن کریم کے رو سے یکساں  قیمتی ہے ( 5:32) ۔ اس آیت میں مومنین  کی اس خصوصیت کا ذکر ہے کہ وہ آپس  میں بھائی بھائی  ہیں ۔ ایک  بھائی کو یہ زیب ہی نہیں دیتا کہ و ہ دوسرے بھائی کو قتل کر دے ۔ ہاں ایسا غلطی  سے ہوسکتا ہے ۔ اس صورت میں اسے خون بہا ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ ایسی غلطی  سے محتاط رہے ۔ لیکن اگر  کوئی مومن  کسی دوسرے مومن کا عمداً  قتل کردے تو اس کی سزا سخت ہوگی ۔

( vii) قرآن کریم نے انسانی زندگی  کی اس قدر وقیمت  او راہمیت  بتانے کے باوجود اسے تسلیم  کیا ہے کہ بالحق زندگی  لی جاسکتی ہے ۔ یعنی  جہا ں حق و انصاف  کا تقاضہ  ہو، یعنی  بے گناہ  کے قتل  عمد کی سزا  کے طور پر ، یا دشمن سے جنگ  میں ، یا نظام اسلامی کے خلاف بغاوت  کرنے والوں  کو فساد سے روکنے  کے لیے ، وغیرہ  ۔ لیکن اس کا فیصلہ  بھی معاشرہ  کرے گا ( نہ کہ افراد از خود) کہ بالحق  کے قتل  کیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا  مقتول  مظلوم  کے وارثوں کو بھی اس کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ از خود قاتل  کو قتل کردیں ۔ یہ ہے وہ قصاص  جس کے متعلق  قرآن کریم نے کہا ہے کہ اس میں تمہاری  اجتماعی  زندگی  کا راز پوشیدہ ہے ( 2:179)

اب غور کرنے کی بات ہے کہ آیت محولہ  میں غضب  او رلعنت  دونوں  کا تعلق ماضی استمراری سے ہے یعنی جب  تک قاتل  زندہ ہے اللہ کی طرف سے اس پر غضب  اور لعنت  جاری ہے ۔ سورۃ النساء کی آیت نمبر 93 ترجمہ ہے ۔ رہا وہ شخص  جو کسی مومن  کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ  رہے گا ۔ دنیا کا یہ مسلمہ  قانون  ہے کہ ایسا  کوئی بھی  جرم نہیں  جس کی سزا  دو بار ہو لیکن قتل ایک  ایسا جرم ہے جس کی سزا اللہ تعالیٰ  نے دو بار مقرر کی ہے بشرطیکہ  یہ ہمارا ایمان ہو کہ یہ اللہ  کا حکم ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قتل  عمد میں ورثاء کو یہ اجازت  کیوں نہیں دی گئی  کہ وہ دیت  وصول کریں بلکہ اس کے لیے  قصاص کا ذکر ہے ۔ آپ  نے غور فرمایا  کہ سورۃ بنی اسرائیل  کی آیت 33 کے الفاظ  ہیں جو واضح  ہیں کہ اس  سے مراد غلبہ   اور طاقت ہے ۔ یہ انفرادی طور پر کسی  کے پاس نہیں  ہوسکتا ۔ لہٰذا  اس سے مراد ریاست  ہے جو صاحب غلبہ  اور طاقت ہے ۔ آج کے دور میں اس سے مراد نظام عدل ہے۔

عدل کبھی کبھی  ہوجاتاہے لیکن عدل  کے لیے بھی  ایک قوت نافذہ ہونی چاہیے ، اگر عدل صرف اور صرف  کاغذی  کارروائی یا عدالتی  پھوں پھاں پر مشتمل ہو تو وہ عدل  ہر گز نہیں ۔ عدل کی پشت  پر ایسی  طاقت ہونی چاہیے جو سلطان کا فریضہ ادا کرے ۔ قتل عمد سے متعلق  جو وضاحتیں ضروری ہیں پہلی  وضاحت  یہ کہ کیا مقتول  کے ورثاء کو قتل عمد  کے معاف  کرنے کااختیار  ہے؟ اس سے پہلے کہ ہم  اس کا جواب نفی میں  اور صاف الفاظ میں کہیں  کہ ہر گز نہیں تو کیوں؟

ہر انسان دو چیزوں کا مالک ہوتا ہے ۔ عورت ہو یا مرد ۔ ملکیت  کا بنیادی  نقطہ  یہ ہے کہ وہ چیز اس کے تصرف  میں تو ہو لیکن وہ کسی کو دے نہ سکے ۔ مثلاً میں نے جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں میں اس کامالک ہوں ان کپڑوں کو میں کسی کو بھی دے سکتا ہوں ۔ پھاڑ بھی سکتا ہوں ۔ جلا بھی سکتاہوں وغیرہ وغیرہ ۔ ایک چیز  جس کا میں مالک  ہوں لیکن کسی کو نہ دے  سکتا ہوں ۔ نہ تقسیم  کر سکتا ہوں ۔ نہ کسی کے  حوالہ  کر سکتا ہوں ۔ وہ ہے  میرانام ۔ میرا نام عبداللہ ثانی ہے ۔ جو میرا ہی  ہے ۔ یہ کبھی نہیں  ہوسکتا کہ میں اپنا یہ  نام کسی کو دے دوں اور بقیہ  زندگی بے نام گزاروں۔

دوسری چیز میری  جان ہے یا نفس ۔ یہ میرا ہے اور قبر تک  میرا رہے گا ۔ جو نہی جان نکلی لوگوں نے اٹھا کر قبر میں جسم کو دفن کر دیا ۔ اب جان کے ساتھ لگےہوئے اعضائے جسم  بھی میرے ہیں ۔ چنانچہ  جس آیت  کا ذکر  اوپر  آیا  ہے یعنی  سورۃ مائدہ کی آیت نمبر  45 یا دوہانی کے لیے عرض  ہے ۔وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (5:45)

رب نے فرمایا ۔ تورات  میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ  ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ دے تو وہ اس کے لیے کفارہ  ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون  کےمطابق  فیصلہ نہ کریں  وہ ہی ظالم ہیں ۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ جو بھی ضرب کاری  کاشکار ہوا ہے وہی معاف کرسکتا ہے کیونکہ  وہ اپنے  اعضا ء کامالک ہے ۔ کوئی بھی  وارث  اسے معاف  نہیں کرسکتا ۔ پھر اس معافی کو اللہ  تعالیٰ  نے اس کے لیے  کفارہ  گردانہ ہے ۔ نیز  فرمایا کہ جو اس پر عمل  نہیں کرے گا  وہ ظالم ہے ۔ اب رہی بات جان کی۔ تو جان یا نفس  کامالک مقتول ہے ۔ اگر  وہ معاف  کرے تو ہو سکتاہے لیکن  وہ تو قتل  ہوچکا ہے ۔ اس لیے  اس کی ملکیت  کا اختیار ورثاء  کو ہر گز نہیں ۔ یہاں ایک  اور نئی بات عرض کرناچاہتا ہوں ۔ ہمارے مروجہ  قانون کے مطابق  اگر کسی شخص کے حق میں ڈگری  ہوجائے اور وہ فوت  ہوجائے تو ورثاء  کو زر ڈگری یا جو بھی  نوعیت ہو ، کی وصولی کا قانون  اختیار  دیتا ہے ۔ اسی طرح اگر اس کے خلاف ہوجائے تو ورثاء سے وصول  کی جاتی ہے ۔ اس لیے زرڈگری  قابل  تقسیم  ہے ۔ اب  اگر ورثاء کسی مقتول  کا خوب بہا ء وصول کرتے ہیں ( جو یقیناً  قتل عمد  کے حوالے  سے خلاف قرآن کریم ہے)  تو پھر اگر کوئی  شخص خود کشی کا  مرتکب ہوتو ورثا کو سزا بھی دینی چاہیے  ۔ اس صورت میں ہم خاموش ہو جاتےہیں ۔

خود کشی ایک ایسا فعل ہے جو مکمل ہونے کے بعد قابل سزا  نہیں لیکن اگر وہ شخص  بچ جائے تو اسے قانون  نے سزا دینی ہے ۔ چونکہ جان اس کی تھی لہٰذا روز حشر وہ ذمہ دار ہے ۔ اور جہنم کی آگ  میں جلا یا جائے گا کہ باوجود  مالک ہونے  کے بعد اللہ تعالیٰ  کے دیئے  ہوئے انعام  کو اس نے ضائع  کیا ۔ یہ ہے وہ بنیادی  نقطہ  جس میں کسی  بھی مقتول  کے ورثاء کو معاف  کرنے یا خون  بہا وصول  کرنے کا اختیار  ہر گز نہیں ( قتل  عمد کی صورت میں)

اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خالق کائنات  نے ایک انسان کے قتل  کو پوری انسانیت کاقتل کیوں  قرار دیا ہے ۔ اگر کوئی جوان مرد یا عورت جن میں اولاد  پیدا کرنے  کی صلاحیت  ہو اور وہ قتل  ہوجائے تو آپ سوچئے کہ اس کی آنے والی نسل کاخاتمہ  ہوگیا اور اس طرح  وہ جانیں جو دنیا میں آنے والی تھیں کاسلسلہ رک  گیا ۔ قرآن کریم نے فرمایا تم قرآن  کریم پر غور  و فکر کیوں نہیں کرتے ۔ کیا  تمہارے  دلوں کوتالے لگے ہوئے ہیں ۔

اب ہم قتل خطا ء کی طرف آتے ہیں ۔

ہمیں تھوڑی دیر کے لیے ماضی کی طرف  جانا پڑے گا ۔ دور نبوت  میں جو اسلحہ  استعمال  ہوتاتھا  وہ زیادہ سے زیادہ تلوار، ڈھال، اور تیر ہوا کرتے تھے ۔ اونٹ ، گھوڑے اور خچر  کی سوار ی تھی ۔ میں انتہا ئی ادب  سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں  ۔ وہ یہ کہ کیا تیر اور تلوار  سے قتل خطا کے زیادہ امکانات تھے؟ صاف گوئی سے اگر کام لیا جائے تو ان اسلحوں سےقتل خطا ء  کے امکانات  بہت کم تھے ۔ وہ بھی صرف اس صورت  میں کہ کوئی شکاری  کسی پرندے یا جانور  کو نشانہ  بنا رہا  ہوتا تھا اور تیر سیدھا جاکر کسی  راہ روکو لگ جاتا ۔ سامنے سے اگر تیر آتا تو خود بچانے  کی کوشش  کر سکتاتھا ۔ البتہ پشت سے مشکل  تھا ۔ تو پھر اس آیت کی ضرورت کیا تھی جب  فرمایا کہ ۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (4:92)

کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل  کردیے الایہ  کہ اس سے  چوک ہو جائے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن  سے آزاد  کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا  دے ۔ الایہ  کہ وہ خون بہا معاف  کردیں ۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم  سے تھا ۔ جس سے تمہاری  دشمنی ہو تو اس کا کفارہ  ایک مومن  غلام آزاد  کرنا ہے ۔ اور اگروہ کسی ایسی غیر  مسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ  ہو تو اس  کے وارثوں  کو خون بہا دیا جائے گا ۔ اور ایک مومن  غلام کو آزاد کرنا ہوگا ۔  پھر جو غلام نہ پائے وہ پے در پے  دو مہینے  کے روزے رکھے ۔ یہ اس گناہ  پر اللہ سے توبہ کرنے  کا طریقہ  ہے او راللہ علیم  و دانا ہے ۔

اس آیت سے صاف واضح ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ غلطی سے کسی جرم  کو بھی معاف نہیں کرتا ۔ اللہ کی نظر  میں جرم جرم ہے عمداً کیا جائے یا غلطی سے کیا جائے ۔ ( جرم کہتے کسے ہیں دراصل جرم عربی لفظ ہے اور رات کے اندھیرے میں کسی بھیڑیا بکری  کی اون کو کاٹ  کر لیجانے کو جرم کہتےہیں۔ یعنی اس جانور  کو اپنے لباس  سے محروم  کرنے کا نام جرم ہے ) یا کسی کے پھل چوری کرنے کو ۔ اب غور طلب  بات یہ ہے کہ اس آیت میں غلامی  کو ختم کرنے کا ذکر  بھی آگیا ہے ۔ قرآن کریم کا اسلوب ہے کہ جاتے جاتے دو چار احکامات  بیان کر دیتا ہے ۔ جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں کہ اس دور میں غلطی  سے قتل  کے امکانات  بہت کم تھے ۔ اللہ تعالیٰ  کے علم میں مستقبل  اور آنے والے زمانے کے حالات یقیناً تھے ۔ کہ ایسا دور آئے گا جس میں غلطی سے قتل ہوجانے کے امکانات  بہت ہوں گے ۔ پستول، ریوالور، بندوق یا کسی  بھی قسم  کا آتشیں اسلحہ  اور اس قسم  کے ضرر رساں  آلات  ایجاد ہونگے ۔ لہٰذا  قتل خطاء کے امکانات  بہت زیادہ  ہوں گے ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ آئے روز لوگ غلطی سے قتل ہوتے ہیں ۔ اس کے لیے خون بہا معاف  کرنا ۔ دو ماہ کے مسلسل روزے  رکھنا جیسی  سزائیں مقرر کردی ہیں ۔ ( یادر ہے سزا فارسی زبان کا لفظ ہے) پھر قاتل کو کسی نہ کسی  طرح سزا دینے کا حکم بھی دے دیا ۔ دوسری  غور طلب  بات یہ ہے کہ علیم و حکیم  کو یہ بھی  علم تھا  کہ ایک دور ایسا آئے گا جس میں غلامی  ختم ہوجاچکی ہوگی ۔ فرمایا اگر غلام نہ پائے تو اس صورت میں پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے ۔ جرم کو خالی چھوڑ نا قرآن  کریم کا مطمع  نظر نہیں ہے ۔ وہ کسی  نہ کسی شکل میں جرم کی سزا ضرور دیتا ہے۔ لہذا اس پر بات کرنا قتل عمد میں  خون بہا   دیکر بات ختم کردی جائے احکامات قرآن کریم کے خلاف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ اب بالکل قتل کے معاملے میں اپنی انتہا ء کو پہنچ گیا ہے ۔  آج قرآنی احکامات سیاست  کی نظر ہو چکے  ہیں کرسی کے جانے  کے خوف سے پھانسیوں  پر پابندی  عائد کردی گئی ہے۔ سینکڑوں  پھانسی  کے انتظار  میں کال کوٹھریوں میں پڑے ہیں ۔ کوئی ذرا مقتولین کے ورثاء کےدلوں سے پوچھے  کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ۔ ان  کے سامنے  قاتل زندہ ہیں اور ورثاء ہر روزمرتے ہیں ۔ مجرم کسی رعایت  کا مستحق  نہیں ہونا چاہیے ۔ مجرم سے رعایت دراصل معاشرہ  میں بگاڑ  پیدا کرنے کی بڑی وجہ ہے ۔ ملزم کی رعایت او رمجرم کی رعایت میں فرق ہونا چاہیے ۔

دہشت گردی :۔

( یہ فارسی  کی اصطلاح ہے) قرآن کریم اس کے لیے ‘‘ فساد فی الارض ’’ کی اصطلاح  استعمال کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ (2:216) انسانوں میں کوئی  ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں  بہت بھلی معلوم ہوتی ہے ۔

دوسرے مقام پر فرمایا  کہ فسادفی الارض  کی سزا  کیا ہے ۔ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( 5:33) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں ۔ کہ فساد برپا کریں ۔ ان کی سزایہ ہے کہ قتل کیے جائیں ، یا سولی پر چڑھا ئے جائیں  یا ان کے ہاتھ  اور  پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا وہ جلا وطن کردیئے جائیں  ۔ یہ ذلت اور رسوائی  تو ان کے لیے دنیا  میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے اس سے بڑا سزا ہے ۔

البتہ اس کے آگے فرمایا ۔ جو لوگ توبہ  کرلیں قبل  اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ ۔ تمہیں  معلوم  ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ کرہ ارض پر یا کسی  ملک میں فساد پھیلانے  والے کے لیے اللہ تعالیٰ  نے ایک ایسی خوف ناک ، دردناک، اذیت  ناک اور عبرت ناک سزا کا حکم دیا ہے ۔ یہ اس موقع کی بات ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج مطہرات کے متعلق  افواہیں  پھیلائی جارہی تھیں  فساد سے متعلق  آیات  کو یکجا ء کرنے سے یہ نتیجہ  نکلتا ہے کہ اگر یہاں  عذاب سے بچ گئے  تو قیامت میں ضرور پائیں گے شہر میں 9 جتھے دار تھے جو ملک  میں فساد پھیلاتے  اور کوئی اصلاح  کا کام نہیں کرتے تھے ۔

آئیے ذرا انگریزی دور کا جائزہ لیں ۔

انگریزی  قانون  میں قتل نا قابل  راضی نامہ  جرم تھا ۔ اور قتل عمد میں کسی قسم کے خون بہا ء کا کوئی  تصور نہیں تھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان ہوتے ہوئے ہم احکامات  خداوندی  کا دفاع  نہیں کر رہے ہیں ۔ اور قرآن  کریم کے واضح  احکامات  سے گریز کی راہیں تلاش  کرتے ہیں ۔ عدالتی  کارروائی  کے علاوہ انگریزی  دور میں جرگہ سسٹم بھی رائج تھا ۔ علاقہ  کا ڈپٹی کمشنر معتبر  شخصیات پر مبنی  پانچ چھ افراد پر مشتمل  ایک جرگہ  مقرر کرتا تھا ( ایک بات یہ بھی مدنظر رکھنی چاہئے  کہ انگریزی  دور میں بہت  کم قتل ہوا کرتے تھے ۔ ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے ) جرگہ  کے وہ لوگ اس گاؤں  میں جاتے جہاں  قتل ہوتا ۔ بھیس بدل کر قاتل  کو تلاش کرتے ۔ پھر جرگہ ممبران  اپنے اپنے عمل  اور کردار بتاتے تھے ۔ سب متفق ہوتے تو قاتل معلوم ہوجاتا ۔ اور اس طرح  قاتل  کو سزادے دی جاتی بڑا چھا طریقہ  تھا ۔ انگریز  نے جتنے قوانین  بنائے ہمارے  مزاج، ماحول،  جغرافیائی حالات،  علاقائی رواج، مذہبی دانست کو سامنے  رکھ کر قوانین کو ترتیب  دیئے تھے ۔

دور جاہلیت ایسا دور گزرا ہے جس میں لڑکیوں  کو زندہ  در گور کردیا جاتا تھا ۔ ہم اسے دور جاہلیت  کے نام سے تاریخ  میں یاد کرتے ہیں ۔ سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے کہ تاریخ  اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ اس کا مشاہدہ نہیں ہوا تھا ، اب وہی دور جاہلیت  آپ کے سامنے ہے ۔ لڑکیوں  کو سر بازار چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ فروخت  کیا جاتا ہے ۔ پانچ پانچ  سال کی بچیاں تشدد اور جنسی  زیادتی  کا نشانہ بن رہی ہیں ۔ کھیتوں میں بچیوں  کی لاشیں مل رہی ہیں ۔ خواتین  اور مردوں  کی بوری بند لاشیں عام مل رہی ہیں ۔ ذرا ذرا سی بات پر قتل و غارت  معمول بن گیا ہے ۔ ڈاکہ زنی عام ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ صرف اور صرف اس لیے کہ قانون بالادست  نہیں ۔ قانون مکڑی کا جالا بن چکا ہے، جس میں مچھر  تو پھنس جاتا ہے لیکن سُرخ بھڑ جالے کو اپنے ساتھ اُڑالے جاتاہے ۔ جو لوگ تاریخ  سے سبق نہیں سیکھتے تاریخ انہیں  صفحہ ہستی  سے مٹا دیتی ہے ۔ روز حشر  کا تصور ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ جب روز قیامت ان نا کردہ گناہوں کی بھینٹ چڑھنے والی بچیاں  اور خواتین  سے خود خدا پوچھے گا ۔ کس جرم کی پاداش میں تمہیں  قتل کیا گیا ہے ۔ سورۃ تکویر آیت نمبر 19۔ یعنی  ان لڑکیوں  کے متعلق  جنہیں  معاشرہ زندہ در گور  کردیتا ہے اور ان بیچاریوں  کا پر سان حال  کوئی نہیں ہوتا ۔پوچھا جائے گا کہ انہیں کس جرم کی پاداش میں قتل کیا جاتا رہا ہے ۔

ایک او رجرم جس کی یاد دہانی  بھی ضروری ہے جو نہ تو قتل عمد میں آتاہے او رنہ ہی قتل  خطا ء میں ۔ آج کی اصطلاح  میں اسے  اندھی گولی  یا  Stray Bullet کہا جاتاہے ۔ اوپر سے گولی آتی ہے اور چلتا پھرتا انسان موت  کی وادی میں چلا جاتا ہے ۔ تھوڑا عرصہ قبل MBBS کی طالبہ بازار میں اندھی  گولی  کانشانہ  بنی اور دنیا سے کوچ کر گئی ۔ اسی طرح  سینکڑوں  لوگ  ان اندھی گولیوں  سے آج تک  مر چکے ہیں ۔ یہاں یہ آیت  بڑی درست ثابت ہوتی ہے  تمہیں کس  جرم کی پاداش میں قتل کیا گیاتھا ۔

غرض یہ تمام تر ذمہ داری حکومت  ، ریاست  اور عدلیہ پر آتی ہے ۔ ہر شخص سےاس کی ذمہ داری  کی حد تک باز پرُس ہوگی ۔ کسی سے دوسروں کے اعمال کی باز پرس نہیں ہوگی ۔ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (2:141) ہم تم سے دوسروں کے اعمال کی باز پُرس نہیں کرینگے ۔ کاش ! مسلمان دوبارہ  زندہ  ہونے پر یقین رکھتے ۔مسلمانوں  کی موجودگی  روش سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رواں صدی  میں مسلمان شاید ختم ہو جائیں لیکن اسلام  زندہ جاوید  تا قیامت  رہے گا ۔

یہاں ایک سوال بھی  مد نظر رکھنا چاہئے کہ کیا ‘‘ کیا صدر مملکت  ’’ ( صاحب طاقت و قوت) کو قتل عمد کے مجرم  کی سزا میں  معافی یا کمی کا اختیا ر ہے؟ اگر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ اختیار  نہیں تو دوسرا کون ہوگا  جو یہ اختیار استعمال کرے گا ۔ اس نسبت سے ایک تاریخی  حوالہ  دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ہوایوں کہ (معراج  انسانیت صفحہ 354،355)

‘‘ امیر مملکت  کی زندگی  میں ایک مقام ایسا  بھی آتا ہے جہاں اپنے ذاتی  جذبات  اور فرائض امارت میں فرق کرنابہت مشکل ہوتاہے، بالخصوص جب معاملہ ذاتی انتقام کا ہو ۔لیکن اس بابت  میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عظیم  مثالیں قائم کی ہیں جو ہر آنے والے کے لیے چراغ راہ بنتی ہیں ۔ مثلاً اہل مکہ  کی تمام اذیت  رسانیوں کا جواب  فتح مکہ  کے دن یہ تھا ۔ کہ جاؤ ، تم سب  آزاد ہو۔ طائف والوں کی سختیوں کاجواب ان  کے تمام قیدیوں کو بلا معاوضہ  چھوڑ دینا تھا ۔ ہبّار بن اسود وہ  شخص تھا ۔ جس نے ہجرت  کے زمانہ  میں حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی  حضرت زینب  کو برچھی سے زخمی  کیا تھا جس سے انکا حمل ساقط  ہو گیا تھا ۔ اس صدمہ  کا داغ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے سینہ  پر تھا ۔ فتح مکہ  کے بعد ہبّار ادھر ادھر  چھپتا رہا ۔ صحابہ  اس کی تلاش  میں تھے ۔ بالآخر  تنگ آکر اس  نے ایک  جائے پناہ  ڈھونڈ لی ۔ اور وہ جائے پناہ معلوم ہے کونسی تھی؟ خود ذات  رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو کریمانہ خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا  کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں گناہ گار تھا، قصوروار تھا۔ اللہ نے مجھے  ہدایت  دی او رمیں مسلمان ہوگیا ہوں ۔ آپ کے خلاف  مجھ سےبڑی  زیادتیاں  ہوئیں۔ شرمندہ  ہوں، معذرت خواہ ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو سلوک  کرناچاہیں اس کا ادار ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا  کہ جاؤ میں نے معاف کردیا ۔

حضور کے چچا حضرت حمزہ  کا قاتل  وحشی  خدمت  اقدس میں  آکر مسلمان ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے چھوڑ دیا ۔ یہ عفو تھا ان  جرائم کی پاداش  کے متعلق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات  کے خلاف سرز د ہوئے تھے اس کے مقابلہ  میں دینی  جرائم  کی سزا میں پورے  عدل  سے کام لیا جاتا تھا ۔ اور ذرا  نرمی  نہیں برتی  جاتی تھی ۔ بنی مخزوم  کے ایک نہایت  معزز خاندان  کی ایک عورت  نے چوری کی ۔ آپ نے حکم دیا  کہ اسے سزا دی  جائے ۔ اس سے بڑا اضطراب  پیدا ہوا  سب نے حضرت اُسامہ بن زید  کو آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کردیں کہ اسے سز ا نہ دی جائے ۔ جب حضرت اُسامہ نے اس باب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے لال  ہوگیا اور  فرمایا کہ  اے  اسامہ ! تو حدود اللہ کے خلاف سفارش کرتاہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتی ، تو ہم اسے بھی سزا دیتے ۔ یہ اس لیے کہ قرآن میں ہے کہ ترجمہ : ( اور اے رسول) مجرمین کے معاملہ میں قانون خداوندی کے  مطابق سزا دہی میں شمّہ برابر نرمی نہ  برتی جائے ۔ اور یہ سخت  گیری  کی تاکید  اس ذات گرامی سے کی جاتی ہے جس کی طبعاً نرم خوئی  کا ذکر  خود قرآن  میں موجود ہے۔ ترجمہ ( اے رسول ) یہ خدا  کی بڑی ہی  رحمت  ہے کہ تم  ان لوگوں  کے لیے اس قدر نرم مزاج واقعی  ہوئے ہو ۔ اگر سخت  مزاج اور سنگدل ہوتے ، تو لوگ تمہارے  پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔

طبعاً رقیق  القلب  او رنرم خو لیکن  جب عدل و انصاف کامعاملہ سامنے آئے ، تو نہایت  سخت گیر ۔ غور کیجئے  کس قدر متنا قص  جذبات کو یکجاء کیا گیا ہے۔ اس ضمن  میں علامہ اقبال  نے اپنے ایک مکتوب  ( بنام گرامی مرحوم) میں بھی  ایک واقعہ  کاذکر کیا ہے ۔ ایک شخص  کو کسی جرم میں قتل کیا گیا ۔اس کی بیٹی نے جب باپ  کے قتل کی خبر سنی تو نوحہ  اور فریاد  کرتی اور باپ کی جدائی میں درد انگیز اشعار  پڑھتی ہوئی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر  ہوئی ۔ اشعار  سنے تو حضور صلی  اللہ علہ وسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ  اس لڑکی کے ساتھ مل کر رونے لگے ، اور جوش ہمدردی نے ، اس، سب سے زیادہ ضبط کرنے والے انسان  کے سینے  سے بھی ایک آہ سر د نکلوائی ۔ پھر تڑپتی ہوئی لاش کی طرف اشارہ  کرکے فرمایا ، یہ فعل محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور اپنی  روتی ہوئی  آنکھ  پر انگلی  رکھ کر کہا ، یہ فعل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابن عبداللہ کا ہے ۔

‘‘محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابن عبداللہ ’’ میں فرق ملحوظ  رکھنا  ہر شخص کاکام نہیں ۔ اس کے لیے  بڑی پختہ سیرت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور یہی  وہ فرق  ہے جس سے با وصف  اطاعت و انقیاد متبعین  کے جوہر  خودی  کی پرورش  اور جذبات  حریت  کی تربیت  ہوتی ہے۔ ‘‘ ہمارا یہ ایمان ہے اور ہونابھی چاہیے کہ روز حشر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے اعمال  کے حوالہ  سےکوئی باز پرس  نہیں ہوگی ۔ جس ہستی کے متعلق خود ذات باری تعالیٰ  نے سند  جاری فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاقیات  کی اعلیٰ  معراج  پر فائز تھے ۔ لیکن دوسری  طرف خود انہوں نے اللہ کا پیغام سنا کر قانون کی بالا دستی  کو قائم دائم کردیا کہ  ترجمہ : ۔ کہو اگر میں  اپنے رب  کی نا فرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے ( خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی  پڑے گی ۔ ترجمہ :۔  اس دن سزا سےبچ گیا اس پر اللہ  نے بڑا ہی  رحم کیا  اور یہی نمایاں  کامیابی ہے ۔ بالکل یہی  مفہوم ( 10:15) میں ہے ۔ ذرا سی  تبدیلی  کے ساتھ( 11:3)  میں یوم کبیر فرمایا ہے ۔ ترجمہ :۔ ( نوح علیہ السلام ) کو اس قوم کی طرف بھیجا گیا تھا ۔ ( اس نے کہا ) میں تم لوگوں کو صاف صاف  خبردار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا  کسی کی بندگی  نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا  ( پھر وہی ہوا)

بدکاری کے جرم کی سزا کے لیے فرمایا ہے کہ مجرمین کو نشان عبرت بنانے کے لیے مومنین  کا ایک گروہ کھڑا ہو کر سزا کے عذاب کو دیکھ رہا ہوگا ( 24:2) ۔ اگر قتل عمد کے لیے بھی  ایسا کیا گیا تو یقیناً  معاشرہ  میں اصلاح کاپہلو  بڑی تیزی سے پیدا ہوگا ۔ قرآن کریم  کا بنیادی  مقصد  معاشرہ  کی اصلاح  کرناہے  نہ  کہ معاشرہ  کو جرائم  کی کھلی چھٹی دینا ہے ۔ اس کی سب سے  بڑی ذمہ داری معاشرہ  کے آج کے دور  کے حوالے  سے چاروں  ستونوں پر عائد  ہوتی ہے ۔

1۔ فتنہ .......... 2۔ حکومت ( ریاست) ......... 3۔ عدلیہ .............. 4۔ میڈیا ۔ (الیکٹرانک اور پرنٹ دونوں)

آخر میں سال PLD 1960  صفحہ 1142 تا 1179 لاہور کا حوالہ دینا ضروری سمجھتاہوں جس میں عزت مآب جسٹس محمد شفیع مرحوم نے ایک فیصلے میں  کئی حوالے دیکر مسلمانوں  کو صرف قرآن کریم  کے احکامات پر عمل در آمد کی تلقین  کی ہے ۔ 1960 میں آپ نے فرمایا کہ اب وقت ہے کہ دور حاضر  کی روشنی میں اجتہاد  کا آغاز کیا جائے  لیکن نصف  صدی سے زائد گزر جانے کے باوجود  اجتہاد تو دور کی بات ہے ۔ جمود نے ایسے پنجے  گاڑ لیے ہیں کہ الآمان والحفیظ ۔

فروری ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/abdullah-sani/murder-in-the-light-of-quran---قتل--خالص-قرآن-کریم-کے--آئینے-میں/d/87436

 

Loading..

Loading..