New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:24 PM

Urdu Section ( 8 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Allama Iqbal's Poetry for Children Demonstrates That He Was Acutely Aware Of Their Psychology اقبال نے بچوں کو بہت کچھ نہیں دیا ،مگر۔۔۔

عبدالقوی دسنوی

7 نومبر،2021

علامہ اقبال اردو کے ان خوش نصیب شاعروں میں ہیں جنہوں نے ادھر شاعری کی ابتداء کی ، ادھر شہرت او رمقبولیت ان کے قدم چومنے لگی اور وہ رفتہ رفتہ عزت، احترام او رہر دلعزیزی کی اس منزل پر جا پہنچے جہاں اب تک اردو کے کسی دوسرے شاعری کی رسائی نہیں ہوسکی ہے ۔ وہ خدا شناس تھے ،کائنات کی حقیقت سے آگاہ تھے، آدم کے رازداں تھے ، انسان دوست تھے ، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اسی لئے پیغمبر انہ شان سے شاعری کی اور آدم خاکی کو اس کی عظمتوں سے آگاہ کرکے اسے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ پوری شاعری کا مطالعہ کیجئے تو محسوس ہوگاکہ وہ ایسا انسان کامل وجود میں لاناچاہتے تھے جس کے کردار ، گفتار، عزائم اور حوصلہ کی وجہ سے اسے مرد مومن کا درجہ عطا ہو، او رجو دنیا کو بنانے ، سنوارنے اور نکھارنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکے، ان کی شاعری پیچھے ان کے احساسات تھرتھراتے ہیں جذبات مچلتے ہیں ، افکار جھلکتے ہیں اور وہ سب اس بات کی تخلیق کے خواہشمند تھے جو جنت نظیر ہو اور اس کے باشندے دلفریب ادا، دلنواز نگاہ اور قلیل امیدوں کے ساتھ عظیم مقاصد کے حاصل کرنے میں منہک ہوں۔ اقبال کی شاعری کا بڑا حصہ ایسے ہی انسان کی تلاش میں نغمہ سراہے ۔

اقبال کی شاعری کی انہی خصوصیات نے اردو دنیا کے اہل دل ،اہل نظر اور صاحب فکر حضرات کو اپنی طرف متوجہ کیا جنہوں نے ان کی شاعری سے اپنے قلب کو گرمایا ، روح کو تڑپایا ، نظر کو چمکایا اور ذہن کو صیقل کیا۔ اقبال کی اسی مقبولیت نے ہزاروں صاحبان قلم کو ان کا گرویدہ بنالیا، چنانچہ انہوں نے ان کی شاعری کی مختلف خصوصیات ، مختلف پہلوؤں نیز مختلف امکانات کو جاننے کی اور مختلف سمتوں کو پہچاننے کی طرح طرح سے کوششیں کیں جن سے اقبال شناسی میں اقبالیئن کو بڑی مدد ملی۔ بے شک آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بہت حد تک اقبال کو ڈھونڈلیاہے، جان لیا ہے، پہچان لیا ہے او ران کی عظمتوں کو پالیا ہے ، اس سلسلہ میں سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں، ہزاروں مقالات سپرد قلم کئے گئے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ اور زیادہ زور و شور اور تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے، لیکن اب بھی ایسا محسوس ہوتاہے کہ بہت سے پہلوؤں پر بہت زیادہ کام نہیں ہوا ہے ، خاص طور سے اقبال کی ابتدائی شاعری کا پوری طرح سے جائزہ لینا ابھی باقی ہے ۔انہیں میں اقبال کی وہ شاعری بھی ہے جو انہوں نے محض بچوں کے لئے کی تھی۔ اس طرح کی نظمیں اقبال نے بہت زیادہ نہیں کہی ہیں۔ بانگ درا کے پہلے حصے میں کل نو نظمیں ہیں جن میں ایک مکڑ ا او رمکھی ، ایک پہاڑ اور گلہری ،ایک گائے او ربکری، ہمدردی ، ماں کا خواب ، پرندے کی فریاد، بچے کی دعا ، بچوں کے لئے ہیں۔’ ایک پرندہ او رجگنو‘ اگر چہ اس پر ’ بچوں کے لئے‘ لکھا ہوا نہیں ہے بچوں کے لئے ہے او راسی لئے بچوں کی درسی کتابوں میں اسے شامل کیا جاتارہا ہے ۔’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘ بھی بچوں کے لئے ہی ہے۔ بچوں کے حصے میں اقبال سے بس یہی کچھ ملا ہے۔

ان کے علاوہ عہد طفلی ، بچہ اور شمع اور طفل شیر خوار کے مطالعہ سے ان کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اقبال کوبچوں سے یا بچپن سے کس قدرگہرا لگاؤ تھا او ربچپن کا زمانہ کس قدر عزیز تھا۔ ان تمام نظموں کا تعلق اقبال کی شاعری کے پہلے دور سے ہے یعنی یہ 1901 سے 1905 ء کے دوران لکھی گئی ہیں، اس کے بعد اقبال نے بچوں کی طرف پھر کبھی توجہ نہیں کی البتہ نوجوانوں کی رہنمائی کرتے رہے او رانسان کا مل کا جستجو میں کھو گئے۔

اردو میں بچوں کا ادب توجہ طلب ہے، خاص طور سے شعر اء نے اس طرف بہت کم توجہ کی ہے۔ اقبال سے پہلے نظیر اکبر آبادی ، مرزا غالب ، الطاف حسین حالی، محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد وغیرہ نے اس طرف توجہ کی تھی۔ پھر اسمٰعیل میرٹھی نے بچوں کے ادب کے سلسلہ میں بڑا نام پیدا کیا۔ اکبرالہٰ آبادی نے بھی بچوں کو یادرکھا ۔ اقبال کے ہم عصروں میں مولانا محوی صدیقی ، مولانا شفیع الدین نیر او رحامد اللہ افسر وغیرہ نے بھی بچوں کے ادب میں کافی اضافہ کیا اس لئے بچوں کے ادب کے سلسلہ میں ان حضرات کا نام برابر لیا جائے گا۔ یہ صحیح ہے کہ اقبال نے بچوں کو بہت کچھ نہیں دیا، لیکن جتنا کچھ دیا ہے اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔

ایسا محسو س ہوتا ہے کہ اقبال کو اگرچہ بچپن کا زمانہ بہت عزیز رہا ہے لیکن حالات نے اس کی طرف توجہ کرنے کا موقع بالکل نہیں دیا۔ ان کی دو تین نظمیں ایسی ملتی ہیں جن میں بچپن کاذکر نہایت دلچسپی کے ساتھ کیا گیاہے جن کامطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ اقبال کی بچوں او ران کی نفسیات پرکتنی گہری نظرتھی۔ اس سلسلہ کی پہلی نظم ’ عہد طفلی‘ ہے جو پہلی بار جولائی  1901 ء میں مخزن لاہور میں شائع ہوئی تھی اور جسے مولوی عبدالرزاق نے اپنی مرتّبہ کلیات میں شامل کرلیا تھا۔ اس میں کل پانچ بند یعنی پندرہ شعر تھے۔ بانگ درا میں شائع کرتے وقت علامہ اقبال نے اس کا کل دو بند (تیسرا اور چوتھا) یعنی چھ شعر انتخاب کئے تھے اور اس کے بھی بعض مصرعوں کو بدل دیا تھا۔

دوسری نظم ’طفل شیر‘ خوار ہے جو ستمبر 1905 ء میں مخزن میں شائع ہوئی تھی۔ کلیات اقبال میں یہ 19 شعروں پر مشتمل ہے۔ بانگ درا میں آٹھ شعر حذف کردیئے گئے ہیں اور گیارہ شعر کا انتخاب کیا گیا ہے جب کہ دو اشعار میں اصلاح ہے۔

اقبال کی ایک اورنظم ’ بچہ اور شاعر‘مخزن لاہور، ستمبر 1905 ء میں شائع ہوئی تھی جو تین بند پر مشتمل ہے۔ اشعار کی تعداد پندرہ ہے۔ بانگ درا میں ایک شعر کی اصلاح کردی گئی ہے۔

ان نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ کو بچپن کی زندگی سے کتنا تعلق رہا ہے، وہ بچپن کو کن کن زاویوں سے دیکھتے ہیں اوران سے کیا کیا نتائج اخذ کرتے ہیں۔

بچوں کے لئے ایک مکڑا او رمکھی، ایک پہاڑ او رگلہری ، ایک گائے او ربکری، ہمدردی ، ماں کا خواب، ایک پرندہ او رجگنو ، اور، پرندے کی فریاد، سات نظمیں ہیں جن میں پہلی چھ نظمیں ماخوذ ہیں۔ ان کے علاوہ دو نظمیں ماخوذ ہیں۔ ان کے علاوہ دو نظمیں او رہیں ، بچے کی دعا اور ہندوستانی بچوں کا قومی گیت ۔ دونوں نظمیں بڑی اہم ہیں او رمشہور و مقبول رہی ہیں۔ ایک زمانہ میں ہر اردو خاندان کے بچوں کی زبان پر یہ نظمیں ہوتی تھیں۔ مدرسوں میں بچے اسے پڑھائی سے پہلے یا بعد میں گایا کرتے تھے اوردلوں میں ایک عجیب کیفیت پیدا کردیا کرتے تھے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کو بچپن او ربچوں سے گہری دلچسپی تھی۔ اسی لئے انہوں نے بچوں کے لئے شاعری کی، ان کی شاعری کا یہ حصہ اگر چہ محدود ہے اور ان کی کسی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے ، وہ محض نصیحت دینے کے لئے کہی گئی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر کھیل کو د اور ہنسنے ہنسانے کی باتوں کو موضوع نہیں بنایا گیا ہے۔لیکن پھر بھی ان کی بڑی اہمیت ہے، اس لئے کہ ان نظموں کے مطالعہ سے ہمیں اقبال کے انسان کامل کی تلاش میں آسانی ہوتی ہے۔ وہ بچے کے ذہن کی تعمیر اس طر ح کرنا چاہتے تھے جس سے وہ ایک ایسا انسان بن سکے جو خدا آگاہ ہو، صداقت شعار ہو، حریت پسند ہو، ہمدردمجسم ہو، غرور وتکبر کی لعنت سے پاک ہو، محسن شناس ہو، خدمت گزار ہو، غریبوںکا مددگار ہو، کمزور وں کا حامی ہو، وطن پرست ہو، انسان دوست ہو، برائیوں سے پاک ہو او رپیکر عمل ہو۔ ظاہر عمل ہے کہ ان صفات کا حامل بچہ جو ان ہوکر ویسا ہی انسان بنے گا جس کے اقبال خواہشمند تھے۔ اس لئے اردو میں بچوں کے ادب میں اقبال کی شاعری کے اس حصہ کو ہمیشہ اہم مقام دیا جاتارہے گا۔

7 نومبر،2021، بشکریہ : انقلاب، ممبئی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/allama-iqbal-poetry-children/d/125736

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..