New Age Islam
Thu Apr 15 2021, 08:11 PM

Urdu Section ( 6 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam, Muslims and Terrorism اسلام ، مسلمان اور دہشت گردی

  

عبد المعید ازہری، نیو ایج اسلام

7 مئی 2015

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ، جو پڑوسی کو بھوکا نہ سونے دے ، جو وعدہ کو وفا کرے خواہ اس کے لئے جان و مال کی قربانی دینی پڑے۔، مسلمان وہ ہے جس کی امان میں سب محفوظ رہیں ،جو تیر و تلوار کی جگہ اخلاق و کردار سے فیصلہ کرے ۔جو تلوار تبھی اٹھائے جب دشمن حملہ آور ہو۔ حملہ میں عورتوں، بچوں ، ضعیفوں ، غیر مصلح، زخمی، ہتھیار ڈال چکے فوجیوں پر تلوار نہ اٹھا ئے ۔ کسی بھی مذہبی رہنما اور بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہ کرے ، کسی بھی مذہبی عبادت گاہ کو منہدم نہ کرے۔ کھیتوں ، درختوں اور جانوروں کو نقصان نہ پہنچائے ۔ پیغمبر اسلام نے احادیث میں مسلمانوں کی یہی شناخت اور پہچان بتائی ہے ۔ قرآن نے بھی اسلام کا یہی مطلب اور مقصد بتا یا ہے ۔ تاریخ نے بھی مسلمانوں کے تعلق سے انہیں اوصاف کو اپنے سینے میں جگہ دی ہے ۔

جیسے جیسے ہم رسول ، آل رسو ل اور اصحاب رسول کے زمانہ سے دور ہوتے گئے ۔ قرآنی آیات پر عمل ہم پر دشوار ہوتا گیا ۔ اسلامی تعلیمات کتابوں میں بند ہو گئی ، کتابیں لائبریریوں میں اور ان کی چابی جاہلوں کے ہاتھوں میں آ گئی ۔ قرآن کی تعلیم اور اسلام کی تربیت آج بھی وہی ہے جو پیغمبر اعظم کے دور عرب میں تھی ۔فرق اتنا ہے کہ ہم نے اس پر عمل کرنا ترک کر دیا جس کی وجہ سے ایک ترقی یافتہ امام قوم آج تنزلی کا ایسا شکار ہوئی کہ دور جاہلیت سے بھی برا حال ہو گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام اور مسلمانوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے ۔ اور مسلمان پسماندگی ،ذلت و خوارگی میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے ۔

مسلمانوں کے زوال پذیر ہو نے کے کئی اسباب ہیں :

مسلمانوں نے اپنی تاریخ بھلادی ، مسلمانوں نے جب سے اپنے اسلاف اور ان سے منسوب آثار کی تاریخوں کو فراموش کرنا شروع کر دیا تبھی سے زوال کی آمد آمد ہو نے لگی ، انہیں باقیات کو دیکھ کر ہمارے اسلاف کے کارنامے ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ و تازہ رہتے تھے۔ ان کی مجاہدانہ زندگی ایثار و قربانی سے پر واقعات ہمارے حوصلے بلند کر تے تھے اور ہماری زندگی کی مکمل رہنمائی بھی کر تے تھے ۔ ہم اپنی زندگیوں میں انہیں کے نقوش اور اثرات تلاش کر تے ہو ئے کامیابی کے منازل طے کر تے تھے ۔جب سے اسلاف اور اکابرین اسلام کا تذکرہ ہمارے گھروں سے ختم ہو گیا ، ہمارے بچوں کی تربیت میں دوسری غیر ضروری اور مادہ پرست کہانیاں داخل ہو گئی ہیں۔ ہم اپنی زندگی کا رخ انہیں عریانیت زدہ غیر معتبر تہذیب کو دیکھ کر طے کر نے لگے ۔ہمارے بچے تاریخ اسلام اور اسلاف کی حیات و خدمات سے نا واقف ہو گئے ، ان کی تربیت بنیادی اور ضروری تعلیم سے خالی ہو گئی ۔ اسلاف نے جن اخلاق اور کردار کا مظاہرہ کیا ، قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر جو زندگی گزاری اور ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کر نے کے لئے جو نمونہ دیا ، ہم نے اپنی زندگی سے اور تربیت سے اس نمونے کوخارج کر دیا ۔ صحیح تربیت نہ ہونے کی بنیاد پر اعمال کے ساتھ ساتھ ایمان اور یقین بھی کمزور ہو نے لگا ۔

دعوت و تبلیغ کا جزبہ ختم ہوگیا ۔تبلیغ آج کے دور میں ایک پیشہ بن گیا ۔ اپنے اپنے اغراض ومقا صد کے حصول کے تئیں دعوت وتبلیغ کا استعمال شروع ہوگیا ۔ علماء کی تقریر ، واعظین کے خطبات بے اثر بلکہ بے معنیٰ ہو تے جا رہے ہیں ۔ خود ان کی زبان و عمل میں تغایر نظر آ تا ہے ۔ اخلاص دلوں سے نکل چکا ہے ۔تقریریں سیاسی جماعتوں کی بد عنوان سیاست کا شکار ہوگئیں۔ ایک دوسرے کی حمایت و مخالفت نے مذہبی رنگ اختیار کر لیا ۔ علماء کرام ، جن کا کام حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا تھا، سیاسی حمایت و مخالفت میں گرفتار ہو گئے ۔ حمایت میں محاسن اور مخالفت میں کمیاں نکالنا ان کا پیشہ بن گیا ۔ انہوں نے اس کام کو بھی بڑی بے دردی سے مذہب کا نام دے دیا۔

سیرت رسول کا مطالعہ بند کر دیا ۔ مسلمانوں کے زوال پذیر ہو نے کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے ۔قرآن نے صاف لفظوں میں بیان کیا ہے کہ پیغمبر اعظم کی زندگی ہمارے لئے نمونۂ حیات ہے ۔ ہر شعبۂ زند گی میں ہماری رہنمائی اور نمائندگی کر تی ہے ۔ یہ سچ ہے اگر ہم سیرت رسول کا مطالعہ کر تے تو تعلیم و تربیت ، دعوت و تبلیغ کبھی پیشہ نہ بنتے ۔ وعظ ونصیحت کا کاروبار نہ ہوتا ۔ مدارس و مساجد ، رزق و معیشت کے لئے استعمال نہ ہوتے ۔ آج صرف ہندوستان میں ہزاروں سے زیادہ جماعتیں ، تنظیمیں ،ادارے اور جمیعتیں ہیں جو دعوت و تبلیغ کے نام پر وجود میں آئیں لیکن افسوس سب اپنا اپنا کاروبار کرنے میں لگی ہیں ۔ ملت کی فکر کسی کے عملی منصوبے میں شامل نظر نہیں آ تی۔ یہاں تک کہ سجدوں کی سودے بازی اور تدبیر کے کاروبار سے بھی گریز نہیں ہے ۔

اسلام دشمن عناصر شروع ہی سے اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف عمل رہے ہیں ۔ جہاں بھی جب بھی موقعہ ملا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ اسلام کی سب سے بڑی طاقت اتحاد کو توڑنے کی سینکڑوں تجاویز کیں ۔مسلمانوں کے صبر وتحمل کابارہا امتحان لیا ۔ مسلمانوں کو اتنا منتشر کر دیا کہ وہ اپنے داخلی مسائل کو حل کر نے میں ساری طاقت لگا ئے ہو ئے ہیں ۔مسلمان کے آپسی انتشار کی سب سے بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ اس نے اسلام کو بطور نام تو لیا لیکن اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ترک کر دیا اور پیغمبر اعظم کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرنا بھی بند کر دیا ۔

مسلمان نہ تو سیرت رسول کا مطالعہ کرتا ہے اور نہ ہی اسے اپنی زندگی میں اپنا تا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپسی رنجیشیں اور اختلافات نے قتل و غارت گیری کا ماحول بنا دیا ۔ جس خونریزی کو اسلام نے منع کیا ۔ آج مسلمان اسی میں تر بتر نظر آ تا ہے ۔ بلند اخلاق اور نرم گفتاری سے بالکل عاری و خالی ہو گیا ہے ۔ سخت کلامی اور بد کرداری نے اسے گھیر لیا ہے ۔اسلام تو مکمل امن و سلامتی کا مذہب ہے لیکن مسلمان انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ۔

جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ۔ موجودہ دور میں جنگ کا کلچر عام ہوتا جا رہا ہے ۔ ہتھیاروں کا کاروبار زور وں پر ہے ۔انسانیت کا خون ضائع ہو رہا ہے ۔ عجیب سا ماحول بن گیا ہے جس میں ہر مسئلے کا حل بندوقیں کرتی ہیں ۔ ہتھیاروں کا استعمال مذہبی ہو تا جا رہا ہے ۔جو مذہب ،اخلاق، کردار ،اخوت اور بھائی چارگی کی تعلیمات کے لئے آیا ۔ اب اس کا فروغ اصلحوں کے زور پر کرنے کی شرمناک کوشش کی جا رہی ہے ۔

آج مسلمانوں پر دوہری ذمہ داری آن پڑی ہے ۔ جہاں ایک طرف اسلام کی صحیح ترجمانی دنیا کے سامنے پیش کر نے کی ضرورت ہے وہیں دوسری طرف یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ اسلام کے نام پر ہو رہی اس انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سختی سے مذمت کی جا ئے ۔ اپنے گھر، پاس پڑوس کے افکار کو ٹٹولا جا ئے ۔ ہر اسلامی تعلیم گاہوں پر خود سے نظررکھی جا ئے ۔ کہیں ان انتہا پسند تحریکوں کا ہمارے نوجوانوں پر اثر تو نہیں ہو رہا ہے ۔ اس فکر میں ملوث ہر جماعت اور ادارے کا مکمل بائیکاٹ کیا جا ئے ۔ اپنوں کے ساتھ دوسروں کو بھی اسلام کی صحیح تعلیمات سے واقف کرایا جا ئے ۔ اسلام میں ظلم کا بدلہ ظلم نہیں ہے ۔ اس تعلیم کو بھی عام کیا جا ئے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آٹھ سو سال سے زیادہ پرانی تاریخ ہے ۔ یہاں بزرگوں اور صوفیوں کے ذریعے اسلام کی تعلیم دی گئی ۔ ہم پر ضروری ہے کہ ان صوفیوں کی زندگیوں کو سب کے سامنے رکھیں اور خود بھی نظر ثانی کریں۔ چونکہ ہم ہندوستان میں رہتے ہیں ۔ ہر ہندوستانی مسلمان پر یہ لازم ہو تا ہے کہ وہ ایسی فکر کی مذمت کرے اور خود سے یہ ذمہ داری محسوس کرے کہ وہ اس انتہا پسند فکر پر مکمل نظر رکھے ۔ کہیں یہ ہمارے دامن میں تو نہیں پرورش پا رہا ۔ یا ہماری آستین میں چھپ کر تو نہیں پنپ رہا ہو ۔ غور کریں ! کیا پتہ کل وقت ملے نہ ملے ۔

URL: https://newageislam.com/urdu-section/abdul-moid-azhari,-new-age-islam/islam,-muslims-and-terrorism--اسلام-،-مسلمان-اور-دہشت-گردی/d/102850

 

Loading..

Loading..