New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:54 PM

Urdu Section ( 1 Jun 2016, NewAgeIslam.Com)

Daesh Video Has No Effect on Indian Muslims داعش کی ویڈیو کا ہندوستانی مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں

 

 

 

 

عبدالمعید ازہری ، نیو ایج اسلام کےلئے

2 جون، 2016

پوری دنیا میں دہشت و وحشت کا ماحول پیدا کر کے سیاسی گلیاروں میں اتھل پتھل کرنے والی تنظیم داعش یوں تو ابتدائی دنوں ہی میں وطن عزیز ہندوستان پر اپنی بری نظر ڈال چکی ہے ۔حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعہ داعش کی جانب سے پہلی بار ہندی زبان میں ہندوستانی نوجوانوں کی زبانی ریلیز 22 منٹ کی ویڈیوآج کل موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔اس ویڈیو کو لیکر الگ الگ میدان کے ماہرین اپنی اپنی آراء اخبار اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ ظاہر کر رہے ہیں۔حکومتی ذمہ داروں سے لیکر مسلم رہنماؤ تک کا اس ویڈیو کو لیکر ایک ہی بیان ہے کہ اس طرح کی ویڈیو کے ذریعہ داعش کے پروپیگنڈا سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہندوستانی مسلمان اس طرح کی کسی بھی اشتعال انگیز ویڈیو کے ذریعہ بہکنے والا نہیں ۔ہندوستان کا مسلمان ہندوستان کو بہت عزیز رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ مذہب کے نام پر بنے ملک پاکستان کی بجائے ہندوستان میں ہی جینا مرنا پسند کیا ۔ ملک کے وزیر اعظم سے لیکر صدر جمہوریہ تک اپنے بیان میں ہندوستانی مسلمانوں کی وطن دوستی کی تائید اور توثیق کر چکے ہیں۔

قرآنی آیا ت کا غلط مفہوم اور حدیث پاک کی بے بنیاد تفسیر و توضیح پیش کرنے کی بد دیانت کوشش پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے ۔بین الاقوامی سیاست کے زیر اثر ہر مذہبی تعلیم کے ساتھ بے جا چھیڑ چھاڑ کرنے کی روایت زور پکڑتی جا رہی ہے ۔عام آدمی اس طرح کی اشتعال انگیزیوں سے واقف ہو چکا ہے ۔

حالیہ ویڈیو میں بھی بڑی شدت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام تلوار اور جہاد کا نام ہے ۔ جو لوگ اسے امن کا مذہب تصور کرتے ہیں وہ غلط ہیں ۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا کا مسلمان قرآنی آیات ، احادیث مبارکہ ،اقوال ائمہ،اعمال بزرگان دین اور کردار صوفیا سے اس بات کو نہ صرف واضح اور ثابت کیا ہے کہ اسلام دین فطرت اور امن و محبت کا مذہب ہے بلکہ ایسے سرپھرے دین فروش افراد کو دندان شکن جواب دے چکے ہیں۔

اس ویڈیو میں چند خاص باتیں قابل توجہ ہیں:

پانچ نوجوانوں کی ہندی زبان میں دھمکی آمیز گفتگو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ویڈیو خصوصی طور پر ہندوستان ہی کے لئے ہے ۔اس ویڈیو میں جن نوجوانوں کو دکھایا گیا ہے وہ مہاراشٹر کے کلیان اور یو پی کے اعظم گڑھ کے ہیں۔ اس ویڈیومیں پانچ حوالوں کا خصوصی ذکر ہے : بابری مسجد ، گجرات فسادات، مظفر نگر ، کشمیر اور بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو جذباتی بنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ ایسے واقعات ہیں جن کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں میں ایک طرح کی ناراضگی اور خوف وہراس پایا جاتا ہے ۔اس لئے داعش کولگا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے زخموں کو کرید کر ان میں اپنے لئے حمایت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کئے جاسکتے ہیں۔یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہندوستانی مسلمان جتنی محبت اپنے مذہب سے کر تا ہے اتنی ہی اپنے ملک سے بھی کرتا ہے ۔اپنے زخموں پر تلوار کی نوک اور بندوق کی گولیوں سے مرہم لگانے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ہا ں کچھ شر پسند عناصر نے اس کے سماجی اور مذہنی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے لیکن ابھی بھی اسے اپنی ملک کے قانون ، عدلیہ اور جمہور یت پر پورا بھروسہ اور یقین ہے ۔

اس ویڈیوکو دیکھنے کے بعد ایک سوال من کو بڑا بے چین کر رہا تھا کہ آخرداعش کو ہندوستان سے کیا دلچسپی ہے ؟ بہت غور کرنے کے بعد اس معمہ کا ایک حصہ یہ سمجھ میں آیا کہ اگر داعش ہندوستان میں پانچ سوبھی خود کش حملہ آور تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کیلئے پاکستان ، بنگلہ دیش اور مضافات کے علاقوں تک رسائی آسان ہو جائے گی ۔اپنی فوج میں بھرتی کرنے کیلئے طریقہ بھی بڑا کارگر اختیار کیا ہے ۔ جذبات کو کرید کر انہیں باغی بنانے کو کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ پچھلی ایک دو دہائیوں سے فرقہ وارانہ فسادات کے سبب مسلمانوں میں جس طرح کا خوف پیدا ہو گیا ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج ہندوستانی نوجوان جس بے روز گاری کا شکار ہے وہ بھی بلا تفریق مذہب و ملت اس طرح کے راستے ہموارکر نے میں مددگار ہو سکتی ہے۔جس طرح سے پانچ ہندوستانی مسلمانوں کی داعش میں شمولیت پریشان کن ہے اسی طرح غیر مسلم لڑکے لڑکیوں کی شمولیت حیرت انگیز ہے ۔اس سے واضح ہو جاتا ہے پروپیگنڈا صرف مذہبی نہیں بلکہ ضرورتوں کو بھی سامنے رکھ کر کیا گیا ہے ۔

پچھلی کچھ دہائیوں سے ہندوستان جہادی گروہوں کی توجہ کا مرکز بناہواہے ۔القاعدہ ، طالبان، انڈین مجاہدین اور حالیہ داعش جیسی تنظیمیں ہندوستان کا رخ کر رہی ہیں۔ابھی تقریبا ایک سال قبل عبد الرحمن ندوی کی قیادت میں انصار التوحید نامی تنظیم نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا جب عاصم عمر قاسمی کی قیادت میں القاعدہ کی جنوبی ایشیاء کی شاخ کھولنے کی بات کی گئی تھی ۔ ہندوستان ہی کے ایک مکتبہ فکر کے عالم دین کے ابو بکر البغدادی کے نام اپنے کھلے خط میں امیر المؤمنین کہہ کر مخاطب کرنے سے ہندوستانی مسلمانوں میں شدید ناراضگی دیکھنے کو ملی ۔اس کے بعد چند ہندستانی نوجوانوں کے ہندوستان چھوڑکر داعش کی صفوں میں شامل جانے سے ضرور ہندوستانی مسلمانوں کو تشویس ہوئی ہے ۔کئی مسلک اور مکتب فکر میں بٹے ہندوستانی مسلمانوں کے اکثریتی طبقے نے علی الاعلان اس طرح کی حرکتوں کی شدید مذمت کی لیکن مسلسل فرقہ وارانہ فسادات سے متاثر لوگوں کے ساتھ اب تک نہ ہونے والے انصاف نے ان کے سامنے بھی ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ۔

یہ بھی معمہ پریشان کن ہے کہ جس طرح دہشت گردوں کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اسی طرح فرقہ وارانہ فسادات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کون کس کے رد عمل میں انسانی خون کو پانی کر رہا ہے ۔یہ ضرور سچ ہے کہ مرنے والوں میں اکثر تعداد بے گناہ انسانوں کی ہوتی ہے ۔یہ بھی ایک سچ ہے کہ قانون کی مجبوری یا کمزوری اور سیاسی نا اہلی کی وجہ سے جیل خانوں کو مسلمانوں ہی سے آباد کیا جا رہا ہے ۔

کٹرپن اور انتہا پسندی کی تاریخ ہندوستان میں تو نہیں ملتی ۔ مسلم بادشاہوں کے دور میں اس طرح کی بربریت اور فرقہ پرستی کے واقعات نہیں ملتے ۔ایسے ہی راجوں،رجواڑوں کے دور میں اس طرح کی کٹرتا اور فرقہ پرستی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ آئنہ کی طرح یہ بات صاف ہے کہ ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب میں نفرت کا یہ زہر بیرونی ممالک کے اثر سے آیا ۔یہ ہماری سیاسی مجبوری ، بے بسی اور نااہلی ثابت کرتا ہے ۔

اس ویڈیو کے بعد صرف یہ بیان دینا کافی نہیں کہ ہندوستانی مسلمان اس طرح کی ویڈیو سے متاثر نہیں ہوگا ۔ ان ذرائع کو مسدود کرنا ہوگا جنہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جار ہا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی منافرت کے لئے اشتعال انگیزی پر حکومت کو نہ صرف اپنا موقف واضح کرنا ہوگا بلکہ اس کے سد باب کیلئے سخت کاروائی کرنی ہوگی ۔غریبی اور بے روزگاری سے نمٹنے کے لئے مضبوط لائحہ عمل تیا ر کرنا ہو گا۔ہندوستان کو کبھی ہندوستانی مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔۶۸ سال قبل ہی ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی موقف ظاہر کر دیا تھا ۔آج بھی عرب ممالک خصوصی طور پر سعودی عرب اور قطر اپنے سیاسی فائدے کیلئے ہندوستانی مسلمانوں کو تیل اور گیس کے ذریعہ خریدنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں لیکن ہندوستانی مسلمانوں کا ملک ہندوستان ہے ۔ چند نوجوانوں کی گمراہی اسی کا نتیجہ ہے ۔ہمارا حب وطن کل بھی ثابت تھا آج بھی سالم ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/abdul-moid-azhari,-for-new-age-islam/daesh-video-has-no-effect-on-indian-muslims--داعش-کی-ویڈیو-کا-ہندوستانی-مسلمانوں-پر-کوئی-اثر-نہیں/d/107498

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..