New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 11:18 AM

Urdu Section ( 2 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Life of This World Is a Transient Shade یہ دنیاوی زندگی ایک عارضی سایہ ہے

 

عبدالمالک القاسم

20،جون 2008

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

" اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی بس (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے،" [قرآن 40:39]

 " ۔ " [قرآن 8:28]

 "اور آپ دنیوی زندگی میں زیب و آرائش کی ان چیزوں کی طرف حیرت و تعجب کی نگاہ نہ فرمائیں جو ہم نے (کافر دنیاداروں کے) بعض طبقات کو (عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان (ہی چیزوں) میں ان کے لئے فتنہ پیدا کر دیں، اور آپ کے رب کی (اخروی) عطا بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے،" [قرآن 20:131]

 "اور ان کو اس دنیا کی زندگی کی مثال پیش: یہ پانی کی طرح ہم نے آسمان سے نازل جس [بارش]، اور اس کے ساتھ زمین mingles کے پودوں ہے، اور تازہ اور سبز ہو جاتا ہے۔ لیکن [بعد میں] یہ خشک اور ٹکڑے، جو ہواؤں تیتر بتر ہو جاتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ "[قرآن 18:45]

 "میری اور اس دنیا کی زندگی کی مشابہت اس  مسافر کی ہے جس نے ایک درخت کے سایہ کے نیچے دوپہر میں آرام کیا اور پھر اس کو چھوڑ دیا ۔" [احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور امام حاکم]

 " اس دنیا میں ایک اجنبی، یا ایک مسافر کی طرح رہو۔" [بخاری]

"جب اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کسی کو اس کی نافرمانی کے باوجود دنیاوی فوائد سے وہ چیز اس شخص کو دیتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے، تو وہ بتدریج ایک بہکاوا ہے۔" [احمد اور بیھقی]

 " قیامت قریب ہے جبکہ لوگ دنیا کی زندگی کے لئے زیادہ لالچی ہو گئے ہیں اور اللہ سے زیادہ دوری اختیار کر چکے ہیں ۔" [امام حاکم]

یحیی بن معاذ، رضی اللہ تعالی عنہما  فرماتے  ہیں"میں تمہیں زندگی کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیتا ہوں بلکہ گناہوں کو ترک کرنے کا حکم دیتا  ہوں ۔ زندگی چھوڑنا ایک فضیلت ہے اور گناہوں کو ترک کرنا فرض ہے، لہٰذاتمہاری اس  مؤخر الذکر کی ضرورت سابق الذکر کی ضرورت سے زیادہ ہے ۔ "

 پیارے بھائی / بہن،

یہ زندگی فوائد اور قسمت سے بھری ہوئی ہے: جس زمین پر انسان اپنے مکان کی تعمیر کرتے ہیں، اور اپنی غذا، مشروبات، لباس اگاتے ہیں ۔۔۔ وغیرہ، یہ سب انسان کے جسم کے لئے غذائیت کی نمائندگی کرتی ہیں ، اور روح اللہ کی طرف بڑھتی ہے ۔

یقیناً انسان ان اہم ضروریات کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لیکن صرف وہ شخص جو اس کی حقیقی ضرورت کے مطابق ان لوازمات  کا استعمال کرتا ہے  جیسا کہ  اللہ ذریعہ حکم دیا گیاہے ، وہ محفوظ ہے اور اس کی تعریف کی گئی ہے۔ لیکن جو ضرورت سے زیادہ ان  لوازمات کا استعمال کرتا ہےوہ لالچ میں پڑ جاتا ہے خود کو فائدے کے  بجائے نقصان پہنچاتا ہے، اور نتیجتاً وہ اللہ اور آخرت کی طرف صحیح راستے سے بھٹک جاتا ہے ۔

اسی طرح دنیاوی فوائد کو ضرورت سے کم لینا نقصان دہ ہے، کیونکہ انسانی جسم کی بعض بنیادی ضروریات کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ مکمل طور پر اللہ کی عبادت کے لئے اپنی صلاحیت میں اضافہ کرے گا ۔

عمرو بن عبداللہ نے کہا: " ایک شخص کے دل میں، اس دنیا اور آخرت کی زندگی، ایک توازن کے دو ترازو کی طرح ہے، جب  ایک بھاری ہو جاتا ہے تو  دوسرا ہلکا ہو جاتا ہے ۔"

حسن بصری رحمہ اللہ تعالی سے پوچھا گیا: قیامت کے دن کون دوسروں سے زیادہ رونے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، وہ شخص جس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے  اپنا فضل وکرم کیا  اور وہ اس کا استعمال اللہ کی نافرمانی کے لئے کرتا ہے ۔ "

 عمر بن خطاب نے کہا: "دنیاوی خوشیوں کو ترک کرنے میں  انسان کے دل اور جسم دونوں کے لئے تسکین ہے۔"

یحیی بن معاذ نے کہا: "میں کس طرح اس کی زندگی سے محبت کر سکتا ہوں؟ میرے لئے اس میں ایک رزق تجویز کر دی گئی ہے جو مجھ کو زندہ رکھتی ہے اور اطاعت کے اعمال انجام دینے میں، میری مدد کرتی ہے جو میرے لئے جنت کا باعث ہوں گے ۔ "

 'عبداللہ بن عمر، رضی اللہ عنہ نے کہا: "اس دنیا کی زندگی ایک مومن کے لئے ایک جیل ہے اور ایک کافر کے لئے جنت ۔ جب کوئی مومن فوت ہو جاتا ہے  اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو وہ خود کو ایک قیدی کی طرح محسوس کرتا ہے، جسے  کشادہ زمین پر آزادانہ طور پر جانے کے لئے رہا کر دیا گیا ہو  ۔ "

 عمر بن عبدالعزیز نے کہا: " اس دنیا کی زندگی آپ کی مستقل رہائش گاہ نہیں ہے کیونکہ اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہے، کہ اسے تباہ کر دیا جائے گا  اور اس کے تمام باشندے اسے چھوڑ دیں گے  ۔ آبادی والے کتنے علاقے جلد کھنڈرات میں تبدیل ہو جائں گے ، اور کس طرح جلد ہی بہت سارے مقیم اپنی رہائش گاہ چھوڑ دیں گے ۔ اس وجہ سے تمہیں اس دنیا کو  جتنا ممکن ہو سکے بہتر طریقے سے چھوڑ دینا چاہئے، اور سب سے بہترین متاع تقوی ہے۔

" چونکہ اس دنیا کی زندگی مومن کے لئے نہ تو ایک گھر ہے اور نہ ہی ایک ٹھکانا، اسے اس میں ،یا تو  ایک اجنبی کی طرح رہنا چاہئے جس کا مقصد مطلوبہ متاع لینا ہے اور گھر واپس ہونا ہے ، یا ایک مسافر کی طرح رہنا چاہئے کو کہیں بھی رہائش پذیر نہیں ہوتا  اور جو رات و دن ایک ایسے ملک تک پہنچنے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے  جہاں  رہائش گاہ ہے  ۔ "

 ایک شاعر نے کہا: " کم از کم ممکنہ دنیاوی خوشیاں حاصل کرنی  چاہئے، کیونکہ وہ ایک مقررہ عہد کے لئے جا رہا ہے، اس زندگی اور اس کے زیورات سے اپنی آنکھیں پھیر رہا ہے، اس کی شہوات سے دور رہنے کی تمام کوششیں کرو کیونکہ یہ  عارضی خوشیوں اور آزمائش کی جگہ ہے ، اور اس کے  تمام لوگ مٹ جائیں گے۔ "

 ماخذ: 

Gulf-times.com

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/the-life-of-this-world-is-a-transient-shade/d/152

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/abdul-malik-al-qasim,-tr-new-age-islam/the-life-of-this-world-is-a-transient-shade--یہ-دنیاوی-زندگی-ایک-عارضی-سایہ-ہے/d/12879

 

Loading..

Loading..