New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:16 AM

Urdu Section ( 30 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Contentment Is the Key to Conquering Uncontrollable Impulses قناعت: بے لگام خواہشات پر قابو پانے کا نسخہ

عبدالکریم عابد

28 جنوری،2022

ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ حرص وہوس کی دنیا ہے۔گھر گھر پراس کا قبضہ ہے۔ قناعت نام کی چیز دنیا سے رخصت ہوگئی ہے۔ جو غریب ہے وہ بھی بے چینی کی آگ میں جل رہا ہے، او رجو دولت مند ہے وہ بھی حرص و ہوس کی اس دوزخ کا عذاب سہہ رہا ہے ۔ غریب کی غریبی بڑھتی جارہی ہے لیکن نظام ایسا ہے جو اسے اپنی ضروریات مختصر کرنے کے بجائے خواہشات کا سلسلہ دراز کرنا سکھاتا ہے۔ہزاروں خواہشیں سانپ بن کر غریبوں کو ڈس رہی ہیں اور ہر خواہش ایسی ہے کہ اس پر دم نکلا جاتاہے۔ جب کہ امیر طبقہ اپنے زر کے پھیلاؤ کی آفت میں خود ہی آگیا ہے، اس کے بازاروں میں مندی ہے،اس کے کارخانوں میں مشینوں کی رفتار مدھم پڑتی جارہی ہے ، راشی افسر پہلے سے کہیں زیادہ رشوت لے رہے ہیں لیکن ان کے اندر کا شیطان ’’ہل من مزید‘‘پکار تا ہے۔ متوسط طبقے کی حالت سب سے دردناک ہے،محدودآمدنی میں آرائش و زیبائش کے تقاضے الگ ہیں اور رسومات و رواجات کا بوجھ بھی جان لیوا ہے۔

غالب نے کہا تھا کہ ان کی تنخواہ کی تباہی میں ساہوکار شریک ہوگیا ہے۔ اب بھی صورت حال یہی ہے کہ متوسط طبقے کی آمدنی کا بڑا حصہ مصنوعی اور نمائشی ضروریات پیدا کرنے والے لے جاتے ہیں ۔ یہ حرص اور ہوس کی دنیا اب تک کچھ سہولتوں کے ساتھ او رکچھ مشکلات کے ساتھ چل رہی تھی ،آبادتھی ، مگر اب قوموں اور ملکوں پر جو معاشی عذاب نازل ہوچکا ہے اس کی وجہ سے بے روزگار وں کے ہجوم پیدا ہوگئے ہیں ۔ چھوٹے کاروبار کرنے والے ملٹی نیشنل کی یورش کے آگے دم توڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نظام سرمایہ داری نے ہر شعبہ میں حرص و ہوس کی جو بھٹی سلگادی ہے اس آگ کو کیسے بجھایا جاسکے گا!

لازماً نئی نسل او ربھی زیادہ جرائم پر مائل ہے، دفتر وں میں رشوت کے نرخوں میں اضافہ ہورہا ہے ، تاجر جعلی اور ملاوٹی مال کی تجارت کررہے ہیں، فیشن کے تقاضوں کی تکمیل میں ہر حد کو پار کرنا بھی معیوب نہیں رہا اورناآسودہ لوگ منشیات میں پناہ تلاش کررہے ہیں ۔غرض حرص و ہوس کی دنیا میں معصیت عام ہوگئی ہے۔ یہ وہ کلچر ہے جس کی طرف زر پرستی کا نظام ہمیں لے جارہا ہے ۔ اس کلچر کی تباہ کاریوں سے صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو سادگی اور قناعت کے راستے کو اپنائیں ، جھوٹی نمود ونمائش کے چکر میں نہ پڑیں ،ناک اونچی رکھنے کی حماقت عام آدمی اتناطاقتور نہیں ہوسکتا کہ سارے معاشرے سے جھگڑا کرسکے۔چند با ایمان لوگ مضبوط ایمان کے ہوسکتے ہیں جو زمانے کی تیز و تند ہوا کے خلاف کھڑے ہوجائیں ، لیکن عام آدمی اپنے ایمان کے باوجود تنکوں کی طرح ہوا کے رخ پر اڑتا رہے گا۔ اس کے لئے اسے الزام بھی نہیں دیا جاسکتا ، آخر وہ ایک آدمی ہی تو ہے جس کی خلقت میں کمزوری ہے۔ اس کمزورآدمی کے کے لئے وقت کے نظام کے ساتھ تنہا ہوکر لڑنا ممکن نہیں ،البتہ سب مل جل کر نیا نظام بنانے کی کوشش کریں تو نئی دنیا پیدا ہوسکتی ہے جو حرص و ہوس کی نہ ہو، سادگی اور قناعت کی ہو، اور جو ایسی تہذیب پیدا کرے جس میں انسانوں کو نفس پروری کی تعلیم نہ دی جائے ، اور اسلامی اقدار کو غالب کرکے اس نفسانیت کے فساد سے بچا جاسکتا ہے جو حرص وہوس کی بنیاد پر انسانوں کے دل و دماغ پرقابض ہوجاتی ہے۔

اسلام نفس کشی کا بھی حامی نہیں، نفس کشی اورنفس پروری دونوں سے زیادہ مشکل یہ کام ہے کہ نفس کی خواہشات کو انسان لگام دیئے رکھے ۔آج کے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ خواہشات بے لگام ہورہی ہیں، اور خواہشات کے اس جہنم کو بھڑکانے میں رسائل ، ٹی وی،فیشن شو او رکلچرل شو اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کے راستے سے شیطان ہر جگہ حملہ آور ہے۔ ابتداء معصوم خواہشات سے ہوتی ہے،پھر یہ اپنے پیر پھیلانے لگتی ہیں اور انسان کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں ، اور معاشرے کی نوعیت ایسی ہوجاتی ہے کہ ضرورت گندم کی ہوتی ہے لیکن پیداوار کی بہتات نئے نئے ڈیزائن کے جوتوں اور رنگ برنگے کپڑوں کی ہوجاتی ہے۔پیاز مہنگی ہے اور چیونگم سستی۔ کھانا پکانے کے تیل کی قلت ہے مگر خوشبو دار شیمپو اور تیلوں سے دکانیں بھری پڑی ہیں۔ یہ سرمایہ داروں کی معیشت ہے کہ پیدا وار لوگوں کی حقیقی ضروریات کے لحاظ سے نہ ہو، مصنوعی ضروریات کی بنا پر نفع خوری کے لئے ہو۔ یہ نظام مصنوعی ضروریات کی طلب و رسد میں اضافہ کرتا رہتا ہے ، اس کانتیجہ آخر کار حقیقی ضروریات کی اشیا کی قلت اور مہنگائی کی شکل میں نکلتا ہے ۔ سرمایہ داروں کی یہ تہذیب حرص و ہوس سے پیدا ہوتی ہے اور حرص و ہوس کے سبب ہی قائم رہتی اور فروغ پاتی ہے،مگر یہ انسانوں کی زندگی سے ان کا سکون چھین لیتی ہے اور آخرمیں ان کے اخلاق بھی ۔

اس تہذیب سے بچنا ہے تو ذاتی اور اجتماعی حیثیت میں نئی عادات اختیار کیجئے جن میں حرص و ہوس کا غلبہ نہ ہو، اور ایک نئے نظام کے لئے جد وجہد کیجئے جو نفس پرستی کی حوصلہ شکنی کرے۔

28 جنوری،2022 ، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/contentment-key-conquering-uncontrollable-impulses/d/126269

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..