New Age Islam
Sat Oct 16 2021, 10:52 PM

Urdu Section ( 20 Jan 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Fake News Game and Islamic Guidance فیک نیوز کا کھیل اور اسلام کی رہنمائی

عبد الواحد رحمانی ، نیو ایج اسلام

فیک نیوز اور جھوٹی خبروں کاکھیل نیا نہیں ہے ،یہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔انفارمیشن کے جدید انقلاب نے اسے مزید آسان بنا دیا ہے، گودی میڈیا جس طرح سے فیک نیوز کوپھیلا رہا اور کچے ذہنوں کو نفرت کے اسلحہ سے لیس کر رہا ہے ،وہ سب کے سامنے ہے ۔اس کا استعمال ہتھیار کے طور پر کیا جا رہاہے۔یہاں ایسی بے بنیاد خبروں پر صرف اس لئے آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا جا تا ہےکہ وہ کسی کے جذبات کو تسکین فراہم کرتا ہے ،یاپھر وہ روایتی عقائد اور آئیڈیا لوجی کے مطابق ہو تا ہے۔ہٹلر کے پروپیگنڈہ وزیر جوزف گوئبلز بار بار کہتا تھا کہ ’ اتنی بار جھوٹ بولو کہ وہ سچ ہو جائے اور سب اس پر یقین کرنے لگیں‘۔ ہندوستان میں ان دنوں کچھ ایسی ہی صورتحال ہےاقتدار کی بلندیوں پر بیٹھے رہنمائوں سے لے کر عام آدمی تک نہایت صاف ستھرے انداز میں جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ کی دنیا میں جیتے ہیں۔ وہ اپنے جھوٹ کو اتنی مضبوطی اور اعتمادکے ساتھ رکھتے ہیں کہ معاملہ سچ لگنے لگتا ہے۔ان دنوں ہمارا ملک جھوٹ اور سچ کی گتھیوں میں الجھ کر سلگ رہا ہے ،اندھ بھکت جھوٹ کا پلڑا جھکانے میں لگے ہیں اور سچ کی دیوی حاشیے پر کھڑی بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔اترپردیش میں لوجہاد کی من گھڑت کہانی میں پریشان عوام ہوں یا دہلی سرحد پر بیٹھے کسان سبھی سچ کا پلڑا جھکانے میں اپنی طاقت صرف کر رہےہیں ۔

فیک نیوز قبول کرتے وقت ، نہ تو اس کےپس منظر پر غورکیا جاتاہے اور نہ ہی دعوئوں کی صداقت جانچنے کی زحمت کی جاتی ہے۔ایسے وقت جب فرضی خبریں بنانے اور نشر کرنے کا کاروبار عروج پرہے ، اور اسے بے قصوروں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، امن پسند خاص طور پر مسلمانوں کو نہایت دانشمندی کا ثبوت دینا چاہیے،کسی بھی خبر کے بارے میں نہ صرف محتاط رہنی چاہئے، بلکہ تحقیق کے بغیر اسے آگے بھی نہ بڑھانی چاہیے۔اسلام کے ماننے والوں کو تو صاف طور پر متنبہ کیاگیاہے،قرآن کہتا ہے :

’اے ایمان والو!  اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ،پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے‘۔(6:49)۔روایتوں میں آتا ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے گھر بار چھوڑ کر حبشہ ہجرت کی اورپناہ لے کر رہنے لگے تو ،کسی نے فرضی خبر پھیلادی کہ مکہ مکرمہ میں کفار قریش مسلمان ہو گئے ہیں ، اس خبر پر کچھ صحابہ مکہ مکرمہ واپس لوٹ گئے ،جہاں انہیں پتا چلاکہ یہ خبرجھوٹی تھی ،پھر کیا تھاواپس لوٹنے والوں کوکفار قریش نےبہت ستایا،تکلیفیں دیں اور یہ سب افواہوں کی وجہ سے ہوا ۔اس پس منظر میں قرآن پاک کی مذکورہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانو ں کو آگاہ کیا گیا کہ خبردار! کوئی بھی خبر ہو پہلے اس کی تفتیش کر لیا کرو۔

ملک کے سلگتے ماحول میں جب کچھ نادان لوگ مسلمانوں کو جال میں پھنسانے اور جھانسہ دینے کیلئے اپنی پوری توانائی صرف کرنے میں لگے ہیں۔ایسے میں مسلمانوںکوکسی بھی شخص کی لائی ہوئی خبر کی ہمیشہ توثیق کرنی چاہیے ۔ جعلی اور فرضی خبروں کا پھیلانامعمولی نہیں بلکہ یہ ہمیشہ ہی سنگین ہو تا ہے،خواہ وہ تفریح کے لئے ہی کیوں نہ ہو ۔ اس کے مضر اور منفی اثرات بہت دور تک پہنچتے ہیں،ایک فرد اس کی زد میں نہیں آتا پوری کمیونٹی کو اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ اسلام ایسی خبروںسے سخت نفرت کرتا ہے، اس لئے بدظنی اور افواہ پھیلانے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ خبر سنتے اور دیکھتے ہیچاہیے کہ پہلے اس کی تصدیق کی جائے ۔ بحیثیت مسلمان حق کی توثیق ، تفتیشی طریقہ کار اورصحیح جانکاری کا حصول اسلام کے لازمی اجزا ہیں۔آپ کو پتہ ہو نا چاہیے کہ علماء اور محدثین نےنبی کریم ﷺ کے واقعات اور احادیث کی تصدیق کیلئےسلسلہ اسناد پر بہت باریکی سے کام کیا ،راوی کی تفتیشکیں ،اس کے لئے مستقل کتابیں تصانیف کیں۔ امام مسلم اور امام بخاری نے ان ہی احادیث کو اپنی صحیحین میں جگہ دیں جن کےسلسلہ اسناد میں صرف ثقہ ذرائع اور مستند راوی تھے۔ انہوں نے اس اصول پر عمل کرتے ہوئے راوی کی تفتیش ،ان کے اقوال وافعال کو دیکھا اور پر کھا ۔ان کا ماننا تھا کہ قلم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے،اس لئے اس کے استعمال میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

 اسلام نے اپنے ابتدائی دنوں سے ہی فرضی خبروں کے پھیلانے پرروک لگائی ہے۔ رسول ﷺنے فرمایا :انسان کےجھوٹا ہونے کیلئے یہ کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے (بغیر تحقیق کے)اسے پھیلادے (مسلم 4482)۔خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ بار بار راست گوئی کی تلقین کرتے اور فرماتے فتنہ سے بچ کر رہو ۔کسی بھی معاشرےکیلئے امن اور سلامتی بہت بڑی دولت ہے ،اس لئےسماجی امن تباہ کرنے والی کسی بھی خبر کو فوری طور پر ختم کر دینی چاہیے۔ہر فرد کو افواہو ں کو پھیلنے سے روکنا چاہیے ،کیونکہ یہ افواہیں امن وسلامتی کو متاثر کرتی ہیں ،اور خوف کو فروغ دیتی ہیں ۔

انفارمیشن کا انقلاب،پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے پھیلاؤ اور سوشل میڈیا جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے متعارف ہونے کے بعد معلومات کے بہت سارے در وازے کھل گئے ہیں۔ پہلے معلومات پیدل اور بیل گاڑیوں پر آتی تھیں،رفتار سست تھی، ایک متعین عمل کے ذریعے لوگوں تک خبریں پہنچتی تھیں،لوگ ترسیل کاروںتک محدود تھے، لیکن جدید تکنیک اور انٹر نیٹ کے جال نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ ہر فرد ابھی پبلشراور اپنے آپ میں میڈیا ہے۔الہ دین کا نیا چراغ موبائل نے مٹھی میں دنیا کو بند کردیا ہے۔ معلومات کے ذرائع  بڑھتے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ، اب ہر ایک اپنا راستہ چلنا اور اپنی بات بولنا چاہتا ہے۔ اس سے عام آدمی الجھ کر رہ گیا ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔ زیادہ تر لوگ میڈیا پر دستیاب ہر چیز پرآنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں اور اس کی جانچ پڑتال کرنے کی فکر نہیں کرتے ۔میڈیا کی وسیع پہنچ کا نتیجہ ہےکہ پل بھر میں غلط معلومات یا آدھی سچائیوں کاپھیلائو ہو جا تا ہے جو انتشار کا سبب  اورپرتشدد فتنہ کا باعث بن جاتا ہے۔ مفاد پرست لوگ منافرت پھیلانےاور سیاسی لیڈران اپنی دکان چمکانے کیلئےاس کا استعمال کرلیتے ہیں۔ لوگ ان خبروں پر یقین بھی کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ کافی بھیانک ہو تا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں لوگ تعلیم یافتہ ہیں ،وہ اکثر اپنی صوابدید پر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ لیکن ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ، جہاں تعلیم اور آگہی کی سطح ایک جیسی نہیں ہے ، لوگ خبروں اور معلومات کے انتخاب میں الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ کئی بار وہ حقائق کی چھان بین کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور غلط کو درست سمجھ بیٹھتے ہیں۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جھوٹی خبروں نے ہندوستانی عوام کو بہت سی مصیبتوں میں مبتلا کیا ہے ، سچائی سامنے آنے تک سماج بہت زیادہ اور ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہو چکا ہو تا ہے۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے ہر خبر کی تحقیق کریں ،اطمینان ہو نے کے بعد آگے بڑھائیں اورافواہوں سے دور رہیں ،یہ ہماری سماجی ذمہ داری ہے اور مذہبی فریضہ بھی ۔کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہو تے ، وہ زیادہ دور تک نہیں جاسکتی اور سچ میں طاقت ہو تی ہے اور سچائی بالآخر جیت جاتی ہے۔

(ایڈیٹر : عوامی نیوز پٹنہ 9430294035)

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/fake-news-game-islamic-guidance/d/124110


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..