New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:16 PM

Urdu Section ( 7 Jul 2019, NewAgeIslam.Com)

Wolves in Human Face: Mob Lynching is not Bravery انسان نما بھیڑئیے: کسی تنہا کو بھیڑ نے مارا تو کیا مارا


اے رحمٰن

5جولائی،2019

علم الحیوانات کے ماہرین نے طویل مطالعے اور مشاہد ے کے بعد جانوروں کے فطری عادات و خصائل کا اسی طرح تعین کیا ہے جیسے انسانی نفسیات کے ماہرین نے انسانوں کے داخلی اور معاشرتی رویوں کا۔ بھیڑیا کتّے کی نسل کا شکاری جانور ہے لیکن خانگی نہیں ہے یعنی اسے کتّے کی مانند پالتو نہیں بنایا جاسکتا۔ حیرت کی بات ہے کہ نسلی ارتقا اور جسمانی اوصاف میں کتّے سے اعلیٰ تر ہوتے ہوئے بھی بھیڑیا کتّے کی طرح بہادر نہیں ہوتا۔جہاں پالتو کتّا اپنے مالک کی جان و مال کی محافظت کیلئے بڑی سے بڑی آفت کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا ہے وہاں بھیڑیا اپنی شکم پری کے واسطے شکار بھی جھنڈ میں رہ کر کرتا ہے۔تنہا بھیڑ یا شاذ و نادر ہی کسی ایسے جانور پر حملہ آور ہوتا ہے جس کی جانب سے مخالفانہ ردّ عمل کا خدشہ ہو۔ لیکن بھیڑیئے عموماً جھنڈ بنا کر رہتے ہیں (’تنہا بھیڑیا‘ ایک سائنسی اور ادبی موضوع ہے) او رجھنڈ کی صورت میں ان کی خصلت اور نفسیات یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔ بھیڑیوں کا جھنڈ، جس میں پانچ سے گیارہ تک نر ومادہ بھیڑئیے ہوتے ہیں، اکثر بلا سبب ہی شیر اور ہاتھی جیسے بڑے جانوروں پر بھی حملہ کر بیٹھتا ہے، اور اپنی اسی خصلت کی بدولت ’بڑے‘ او راہم ترین شکار ی جانوروں (alpha predators) میں شمار ہوتے ہوئے بھی بھیڑئیے کو بزدل قرار دیا گیا ہے۔ عام کتّے او ربھیڑئے کے درمیان ایک نسل ہے جسے ’جنگلی کتّا‘ کہا جاتا ہے اور وہ بھی اپنی حیوانی جبلّت میں بھیڑئیے کی مانند خوں آشام لیکن بزدل ہوتاہے۔ آٹھ دس جنگلی کتّے اکٹھے ہوکر یعنی جھنڈ کی صورت میں جنگل کے کسی بھی جانور بشمول شیر پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ یہیں سے مشتق ہے انگریزی محاورہ ’جھنڈ کی ذہنیت‘ (pack mentality) جو ’اکثریت میں ہونے کا زعم او راس سے پیدا شدہ وحشیانہ رویہ‘ کے معنی میں مستعل ہے۔ اب ایک دلچسپ، حیران کن لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ دس بڑے شکاری جانوروں کے فہرست میں انسان کو پہلا نمبر دیا گیا ہے لہٰذا ’جھنڈ کی ذہنیت‘ کا اطلاق بھی حضرت انسان پر اسی طرح کیا جاسکتاہے جیسے بھیڑ یوں پر۔اور اس ذہنیت کا عملی اظہار سب سے زیادہ جس وحشیانہ جرم کے ذریعے ہوتا ہے اسے ’لنچنگ‘ کے معنی بیا ن  کئے گئے ہیں،“ کسی گروہ یا بھیڑ کے ذریعے محض الزام کے تحت الزام کی تصدیق یا ملزم کو دفاع کاموقع دیئے بغیر سزا کے طور پر اسے موت کے گھاٹ اتار دینا“۔(لنچنگ کے ساتھ لفظ ماب یعنی بھیڑ کا استعمال قطعی غیر ضروری ہے لیکن اب یہ غلط العام ہوچکا ہے) کولن ولسن نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب ”انسانی کی اس متشدّد سرشت کا تاریخی تناظر میں ذکر کیا ہے جس سے مغلوب ہوکر انسان نے انفرادی یا گروہی حیثیت میں بلا جواز انسانوں کو قتل کیا۔

لفظ لنچنگ ماخوذ ہے امریکی انقلاب کے دوران وضع شدہ اصطلاح ”لنچ قانون“ (Lynch Law) سے جو ’سزا بغیر مقدمہ‘ کے مفہوم میں استعمال ہوا اور اٹھارویں صدی کے دو بھائیوں ولیم لنچ اور چارلس لنچ سے منسوب ہے جو امریکی ریاست ورجینیا کے باشندے تھے۔ چارلس لنچ نے برطانوی تسلّط کے خلاف بغاوت کے دوران ایک خود ساختہ عدالت کا جج بن کر انگریزوں کے حامیوں کو سیدھا ایک سال کے لئے جیل بھیجنا شروع کردیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کس قانون کے تحت ایسا کررہا ہے تو اس کا جواب تھا ”آپ اسے لنچ قانون کہہ سکتے ہیں“ اس کے بھائی ولیم لنچ نے بھی اپنے بعض معاملات میں لنچ قانون کا حوالہ دیا۔ بعد کو چارلس نے امریکی کنفیڈر یشن کی کانگریس (قانون ساز اسمبلی) میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے ایک قانون پاس کروالیا جس کی رو سے وہ ’جنگی مصلحت اور ضرورت‘ کے جواز کے تحت اپنی غیر قانونی ’منصفانہ‘ کاروائیوں سے بری الذمہّ قرار دے دیا گیا۔ آج بھی امریکی ریاست ورجینیا میں ”لنچ برگ“ نام کا شہر پایا جاتا ہے جو دونوں لنچ بھائیوں سے منسوب ہے۔واضح ہوکہ ’لنچ قانون‘ کے تحت لوگوں کو جیل بھیجا جاتا تھا موت کی سزا کسی کونہیں دی گئی لہٰذا اس اصطلاح کا استعمال ’غیر قانونی قید‘ یا بغیر مقدمہ سزا کے معنی میں ہوتا تھا، مگر امریکی خانہ جنگی شروع ہوتے ہی سفید فارم امریکیوں نے (غلامی کا خاتمہ ہوجانے کے باوجود) نسل منافرت کے جذبے سے مغلوب ہوکر سیاہ فام لوگوں کو بر سر عام پھانسی کی صورت میں سزا ئے موت دینا شروع کردی۔ اس لنچنگ کا آغاز یوں تو انیسویں صدی کے اوائل میں ہوگیا تھا لیکن 1898تک سیاہ فاموں پر بھیڑ کے یہ حملے انتہائی شدّت اختیار کر کئے۔ اس وقت امریکہ میں نیگرو یعنی سیاہ فارم لوگوں کی تعداد تقریباً پچاس لاکھ تھی جب کہ سفید فام تین کروڑ سے زائدتھے۔ 1909میں ”قومی تنظیم برئے ترقی سیہ فامان“ نام سے ایک تنظیم وجود میں آئی جس نے ہر سطح پر لنچنگ کے خلاف احتجاج او راس قسم کے معاملات کی تفتیش کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔پھر 1918میں ایک ایسا واقعہ ہوا جسے انسانی حیوانیت کی بدترین مثال کہا جاسکتا ہے۔18مئی 1918کو جارجیا میں ایک نہایت بدخو، بدزبان اور شقی القلب قسم کے سفید فام زمیں دار کو کسی نے گولی ما ر کر ہلاک کردیا۔ شبہ اس کے فارم پر کام کرنے والے سیہ فام مزدور کسانوں پر گیا او راس شبیہے کے تحت ہیزٹرنر نام کے ایک سیہ فام شخص کو گرفتار کر کے حوالات میں ڈال دیا گیا۔ لیکن اگلے ہی دن عدالت میں لے جانے کا بہانہ کر کے اسے حوالات سے نکالا گیا اور اس کے باہر آتے ہی سفید فام لوگوں کے ایک انبوہِ کثیر نے اسے بڑی بے دردی سے مار مار کر ہلاک کردیا۔اس کی بیوی میری ٹرنر جسے آٹھ ماہ کا حمل تھا گھر سے نکلی اور اس نے سرعام نہ صرف اپنے خاوند کے وحشیانہ قتل کی مذّمت کی بلکہ چیخ چیخ کر دھمکی دی کہ وہ اس بھیڑ کے تمام لو گوں کو گرفتار کرا کے ہی دم لے گی۔تمام بھیڑ اس کی جانب امڈ پڑی۔ اس کے دونوں ٹخنے باندھ کر اسے الٹا لٹکا یا گیا اور اسے پٹرول سے تر کر کے آگ لگادی گئی۔ ابھی وہ زندہ ہی تھی کہ بھیڑ میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر چاقو سے اس کا پیٹ چاک کردیا اور اس کا نازائید بچہ پیٹ سے نکل کر زمین پر گر پڑا۔ بچے نے گر کردو نحیف سی چیخیں ماریں جس پر بھیڑ کے ایک فرد نے جوتے کی ایڑی سے اس کا سر کچل دیا۔ پھر چاروں طرف سے میر ٹرنر کے مردہ جسم میں سینکڑوں گولیا پیوست کردی گئیں۔ لیکن اس درد ناک سانحے نے لنچنگ کے سلسلے کو ایک نیا موڑ دیا اور نیوٹن کے عمل اورردّ عمل والے قانون کے مطابق سیاہ فام لوگوں نے سفید فاموں کی لنچنگ شروع کردی۔ اعداد و شمار کے مطابق 1951تک 1293سفید فام امریکی سیہ فام لوگوں کے ہاتھوں لنچ کردیئے گئے۔ لیکن 1918میں ہی لیونڈس ڈائر نے امریکی کانگریس میں لنچنگ مخالف بل پیش کر دیا تھا جو بعض سفید فام ارکان ِ کانگریس میں لنچنگ مخالف بل پیش کردیا تھا جو بعض سفید فام ارکان کانگریس کی مخالفت کے باوجود 1922میں پاس ہوگیا۔

پچھلے پانچ سال سے ہندوستان میں مذہبی عصبیت او رمسلم دشمنی کے تحت جس طرح مختلف بہانوں سے نہتے مسلمانوں کی لنچنگ کی جارہی ہے اس کا اب بین الاقوامی سطح پر نوٹس لے لیا گیا ہے۔ تعجب یہ ہے کہ بہانہ اکثرگؤ کشی کا بنایا جاتا ہے جب کہ دنیا جانتی ہے کہ گوشت کی بر آمد کے لئے گایوں کا ذبیحہ کرنے والی تمام کمپنیوں کے مالک ہندو اور جین حضرات ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں گائے کا گوشت کھانے پر پابندی نہیں ہے او رکھانے والوں میں اکثریت غیر مسلم لوگوں کی ہے ملک کے بعض علاقوں میں اس حیوانی قتال کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج نے ایسی نوعیت اختیار کر لی ہے کہ اگر ارباب حل و عقد نے عقل کے ناخن لیتے ہوئے اس کے تدارک کی فوراً کاروائی نہ کی اور لنچنگ کے خلاف سخت قانون نہیں بنایا گیا تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اعلیٰ پیمانے پر فسادات بھڑک سکتے ہیں او راس کے بعد ملک کو خانہ جنگی کی طرف جانے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

5جولائی،2019  بشکریہ: روزنامہ ہمارا سماج، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/a-rahman/wolves-in-human-face--mob-lynching-is-not-bravery--انسان-نما-بھیڑئیے--کسی-تنہا-کو-بھیڑ-نے-مارا-تو-کیا-مارا/d/119108

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..