New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 12:10 AM

Urdu Section ( 5 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Why Religious Tolerance and Compassion Make So Much Sense مذہبی رواداری اور درد مندی اتنا شعور کیوں بخشتی ہے

 

اے لن نیومن

31 اگست، 2012

(انگریزی سے ترجمہ  : نیو ایج اسلام)

 ہم میں سے اکثر  لوگ ،موقع بموقع قبر کی طرف ٹک ٹکی باندھ کر دیکتے ہیں اوریہ سوچ کر متعجب ہوتے ہیں  کہ،آخر کا ہمیں مرنا ہی ہے  تو ہم کیوں پیدا ہوئے تھے ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں،  صرف  انسان ہی ایک ایسا  حیوان ہے ، جواس پر طاری ہونے والی موت کے علم کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے،اور اسی لئے مذہب  کو --تقریبا کسی بھی مذہب کو -- انسانوں کو کچھ سکون پیش کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کے لئے اپنی نوع کو ناامیدی کا شکار ہونے سے بچانے  کے لئے ایک بنیادی راستہ اختیار کرنا آسان اور ممکن  ہے۔

مذہبی رواداری اور درد مندی  اتنا شعور  کیوں بخشتی ہے۔ ایسی کوئی صورت نہیں ہے کہ مختلف مذاہب کے ذریعہ کئے گئے متضاد  دعووے کسی کو  منطقی طور  پر مطمئن کر سکیں ۔ کیا مسلمان جنت میں جائیں گے ، جبکہ عیسائی نہیں ؟ کیا خدا بدھ مت، ہندو اور یہودیوں  کو  ان کے  معتقدات کی بنا پر  علیحدہ کرتا  ہے، اور کیا  کچھ کو باقی رکھنا چاہتا ہے،  جبکہ کچھ کو ختم کرنا؟ کون جانتا ہے؟ اور ابھی تک تاریخ ان لوگوں کی لاشوں کے ساتھ منتشر ہے، جنہیں  ہجوم کے ذریعہ  قبل از وقت موت دے دی گئی ، اس بات کا قائل کرتے ہوئے کہ  مذہبی حقیقت کی کچھ شکلیں قتل کے قابل ہیں ۔

یقیناً،جدید دور میں، ہم ایسا عقیدہ رکھنا پسند کرتے ہیں کہ، ہم ایک پوشیدہ خدا کے نام پر اس بے معنی قتل و قتال کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں، یا اس سے بھی برا، جس بات پر یقین کرنے کی ہدایت ماورائے بصر خدا نے دی ہے اس کی  انسانی تشریحات کے نام پر ۔

لیکن جیسا کہ  ہم نے  گزشتہ ہفتے دیکھا کہ  مقدس خون خرابے کا آسیب  انڈونیشیا میں کی سطح سے دور نہیں ہے۔ مدرا میں شیعوں کے ایک گروپ پر سنیوں کے ایک خنجر لہراتے ہوئے  ہجوم  کے حملےنے، ان میں سے بہت سے بچے تھے ، اتوار کے دن دو افراد ہلاک کر دیا ۔ آٹھ افراد گرفتار کئے گئے تھے ، جن میں سے  سات رہا کر دئے گئے ۔

اس کروپ کا مبینہ سرغنہ ، ایک مقامی ندوۃ العلماء کا لیڈر جس کا نام رئیس الحکماءہے ، ابھی تک حراست میں ہے ۔ پورا معاملہ ایک خاندان تنازعہ ہو سکتا ہے ۔ اس لئے  کہ رئیسل  کا بھائی سمپنگ  ضلع میں مقامی شیعہ کمیونٹی کا لیڈر ہے ، جہاں قتل ہوا تھا ، اس کا بھائی تاج الملوک ، ایک بورڈنگ سکول چلاتا ہے ، جو رئیسل کے اپنے سکول کے ساتھ تنازعہ میں ہے،اس کے بھائی کے ذریعہ  پولیس کے ذریعہ وارنٹ جاری کروائے جانے کے بعد توہین کے لئے گزشتہ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

خاندانی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے، مرکزی وزیر خارجہ گماون فوزی نے ہجوم کی اس  کارروائی کو "خالصتا ایک مجرما نہ مقدمہ۔"قرار دیا ۔

صدر Susilo Bambang Yudhoyono  نے اسے انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ  اگر  پولیس اس پر خاص  توجہ دیتی تو  اسے روکا جا سکتا تھا ۔

وزیر  اور صدر کچھ اعتبار سے ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ پولیس نے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا ، اور جس نے بھی  اس حملے میں ہجوم کی قیادت کی اس نے ایک مجرمانہ فعل کا  ارتکاب کیا۔ لیکن یہ مذہب کے نام پر کیا گیا تھا۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں، سمپنگ  کے سڑکوں پر نعرہ بازی کرتے ہوئے کسی نے بھی رئیسل  کے خاندان کی طرف سے جلوس نہیں نکالا، اس کی بجائے وہ خون  خرابے کی سطح تک ابھر گئے تھے یہ کہتے ہوئے کہ  جو بھی ہو، شیعہ جو انڈونیشیا میں کئی ملین کی تعداد میں ہیں ، اور اسلام میں دوسرے سب سے بڑے گروہ ہیں ، وہ کافر اور زندیق ہیں ۔

خوش قسمتی سے، NU کے چیئرمین عاقل سراج نے یہ کہتے ہوئے اپنے گروپ کو  تشدد سے دور رکھا کہ"شیعہ ایک منحرف فرقہ نہیں ہے، بلکہ وہ  ہم سے صرف مختلف فرقہ ہے"  شیعہ اور سنی کے درمیان جو کچھ بھی تنازعات موجود ہے وہ تشریح و توضیح کا معاملہ ہے ۔

لیکن اب بھی انڈونیشیا میں مذہب کے نام پر متعدد مجرمانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہے،اور اس میں قطعی شک نہیں ہے کہ  ان میں سے بہت سارے اقتدار کی جدوجہد، سیاست اور زمین کے تنازعات اور رقابت  سے متأثر ہیں ۔ افسوس کی بات ہے، ہجوم پاگل پن میں  حقیقی ضرر کے ساتھ بھڑک سکتا ہے ،کیونکہ مذہب کا دم بھرا جا رہا ہے ، اور سیاست دان جرات مندی کے ساتھ  "اسلام مخالف" ظاہر ہونے  کے خوف کی وجہ سے کھل کر بات کرنے میں  خوف کھا رہے ہیں  ۔

لہٰذا سمپنگ  ایک رنجیدگی اور  شدت کی مثال  ہے۔ احمدیوں کو ان کے   اسلام کی وجہ سے ہلاک کیا اور انہیں  تکلیف پہنچائی  جا رہی ہے ۔

جکارتہ میں اور دوسری جگہوں پر بہت سے عیسائی گرجا گھروں کو  عبادت گاہ بنانے  سے روکاجا رہا ہے اور خدمات انجام دینے  کی کوشش کرنے پر ان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کسی ملحد پیڈنگ  میں ایمان رکھنے  کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ ،  آپ گرم جوشي  کے ساتھ کس چیز میں یقین رکھتے ہیں، کوئی بھی نہیں جانتا کہ جب آپ اس دنیا کو چھوڑیں گے تو  پردہ کے دوسرے  طرف کیا واقع ہے ۔ صرف یہی حقیقت  ہمارے لیڈروں کی حوصلہ افزائی کرے گی – کسی بھی ملک میں-- معاشرے کے مختلف عقائد کے ساتھ معاملہ کرتے وقت  رواداری اور رحم دلی کی خاطر بولیں  ۔

اے لن نیومن“Insight Indonesia کے میزبان ہیں جو  BeritaSatu ٹی وی پر ایک  ٹاک شو ہے ، اور جکارتہ گلوب کے فاؤنڈنگ ایڈیٹر ہیں  ۔

ماخذ:  http://www.thejakartaglobe.com/opinion/abusing-religion/541339

URL for English article:

 http://newageislam.com/islam-and-tolerance/a.-lin-neumann/why-religious-tolerance-and-compassion-make-so-much-sense--intolerance-is-abuse-of-religion/d/8499

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/a-lin-neumann-اے-لن-نیومن/why-religious-tolerance-and-compassion-make-so-much-sense-مذہبی-رواداری-اور-درد-مندی--اتنا-شعور--کیوں-بخشتی-ہے/d/12916

 

Loading..

Loading..