New Age Islam
Mon Apr 19 2021, 05:49 PM

Urdu Section ( 26 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Killing of Ulema in Pakistan پاکستان میں علما کا قتل

 

جب اللہ سبحان تعالیٰ نے آدم کی پیدائش  کا ارادہ فرمایا تو ملائک نے کہا وہ تو زمین پر فساد پھیلا ئے گا اور خون بہائے گا ۔ غالباً ملائک نے ہمارے بارے میں کہا ہوگا کیونکہ  ہمارے ہاں کوئی  دن فساد  اور خون  ریزی سے خالی نہیں  جاتا۔یوں لگتا ہے جیسے ہم نے قسم کھائی  ہو کہ فرشتوں  کا خدشہ  غلط ثابت  نہ ہو ۔ شہر پشاور  میں تبلیغی مرکز میں  دھماکہ ہوا 8 نمازی جان سے ہاتھ  دھو بیٹھے اور 60 زخمی ہوئے اس کے علاوہ  بھی دو  بم نا کارہ بنادیئے گئے ۔ دھماکہ  شب جمعہ  کے اجتماع  میں  نماز مغرب  کے دوران  ہوا نماز  ی رکوع  میں تھے ۔ دوسرے دن  ضلع نو شہرہ کے تبلیغی مرکز  سے بم برآمد ہوا۔

ہمارے ہاں  کئی قسم  کے عقیدے والے لوگ  موجود ہیں ۔ ایک وہ جو نماز روزہ وغیرہ کو فرسودہ رسومات  کا نام دیتے ہیں ۔ دوسرے وہ جو نماز کو ایرانی  عبادت سمجھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ اس نماز کا عربوں  کی صلوٰۃ  سے کوئی واسطہ نہیں ۔ پہلے  کو تو  دین سے سروکار  ہی نہیں، دوسرا گروہ تحفظات رکھتا ہے مگر  وہ تو کھل کر اپنے عقیدے  کا اظہار بھی نہیں کرتا چہ جائیکہ  خون خرابہ  کرے ۔ تیسرے  طبقہ وہ ہے جو روائتی  مسلمان  ہے جو کچھ اسے  باپ دادا  سے ورثے  میں ملا ہے اسے سینے  سے لگائے لگائے  پھرتا ہے ۔ اور ان  ہی  کی تعداد  زیادہ  ہے ۔ یہ کبھی  فساد  اور خون  خرابے  کا تصور  بھی نہیں  کر سکتے ۔ مجھے ابھی  تک یاد ہے کہ ہمارے اسکول کے راستے میں ایک  مسجد پڑی تھی ہم سب بچے  اس مسجد کی دیوار کے پتھروں  کو چومتے ہوئے  جاتے تھے اور آتے ہوئے بھی  ہماری یہی کیفیت  تھی ۔

تو یہ بھی ممکن  نہیں کہ ہمارے دلوں سے مسجدوں  کا احترام  اٹھ گیا ہو، پھر یہ کون ہے کہ جو مسجدوں  میں دھما کے کر کے نقصان پہنچاتا ہے بلکہ وہاں  کھڑے نمازیوں  کو ہلاک کرتاہے جن میں بچے بوڑھے  سیدھے سادے غیر سیاسی لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں ۔ بندے  اللہ کے، گھر بھی اللہ کا، برانچ کعبے بیت اللہ کی، انہیں ضرر پہنچا نا اللہ سے دشمنی اور جنگ  ہے تو کیا ان  کے دل میں  اللہ کا خوف نہیں رہا؟ اگر یہ تخریب  کاری یہی پاکستانی مسلمان باشندے  کررہے ہیں تو  کیا انہیں قرآن  کریم میں ایسا  کوئی اشارہ  ملا  ہے کہ جو حکومت ‘‘ تمہارے  نزدیک’’ اسلامی نہ ہو اس کے درو دیوار  ہلادو، اس کا جو باشندہ نظر آئے مسلم ہو یا غیر مسلم، فوجی ہو، رینجر ہو یا پولیس والا، نمازی ہو،  تبلیغی ہو یا عام آدمی ہو، ڈاکٹر ہو، انجینئر ہو یا حجام  کی دکان   میں بیٹھا  ہوا حجامت کروارہا  ہو۔ یا کوئی مرد عورت گھر سے سودا لینے  نکلا ہو اسے  ہلاک کرنا ثواب  کا کام ہے؟

 مانا کہ ان مسلمانوں میں بہت سے ریاکار، بدکار، راشی، گنہگار اور  خطا کار  بھی ہوں گے ۔ مگر کیا اللہ  کا ان کے بارے میں کوئی ارشاد ہے کہ انہیں  موت کی نیند سلا دے؟ ۔ طالبان  جب اپنی  واردات  کا اعتراف  بذریعہ  فون وغیرہ کرتے ہیں تو اس بارے میں بھی وضاحت  فرمائیں  کہ فلاں سورۃ  کی فلاں آیت میں ایسا حکم ہوا ہے ۔ تو بہت سارے لوگ مطمئن  ہوجائیں گے ۔ علاوہ اس کے خود کش دھماکہ کیا ہمارے دین  میں جائز ہے ؟ ۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (61:4)

ترجمہ : بلاشبہ اللہ ان  لوگوں کو پسند کرتاہے جو اللہ کی راہ میں صف باندھ کر ایسے لڑتےہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو۔ اگر اللہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی  طرح صف باندھ  کر لڑنے والوں کو پسند کرتا ہے تو لا محالہ  ان کو نا پسند  کرتاہے جو چپکے سے بغیر اعلان بے خبری  میں قتل عام  کرتے ہیں ۔ یہ تو کوئی  طریقہ  نہیں کہ بے خبری  میں وار کیا یا ٹائم بم  رکھا ریموٹ کنٹرول بم رکھا اور بے گناہوں  کو موت کی نیند سلادیا۔

اگر غیر اسلامی ، گنہگاروں ، خطا کاروں کے قتل عام  کا کوئی  حکم الہٰی  بتایا  جائے ، اگر خود کش یا دھوکے  سے قتل کرنے کا جواز  قرآن کریم  سے مل جائے تو بھی بہت سوں کی بے چینی  دور ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ ہم جیسے  بہت سے لوگ ان کی صف  میں شامل ہوجائیں ۔ اگر ایسا  کوئی حکم  ، اشارہ  قرآن کریم  میں نہیں ہے  تو پھر تو کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت  کاقتل ہے ۔

مولانا شموزئی  سے لے کر آج  تک علماء کا قتل رکنے  میں نہیں  آتا ۔ آج جب میں یہ سطور  لکھ رہا ہوں تو مفتی  عثمان  یار خان اور ان کے ساتھی محمد رفیق  کا جنازہ  پرھا جارہا ہے ۔ آخر کب تک یہ مناظر  دیکھنے پڑیں گے ؟ ۔ اگر کوئی غلط  کار ہے اس  کے عمل سے معاشرے  یا دین کو نقصان پہنچ رہاہے تو اسے اس کی غلطی سے آگاہ کر کے اسے انداز ( Warning) دی جائے ۔ قتل تو انتہائی اقدام ہے ۔

اللہ کا فرمان ہے ۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ( 5:9،10)

اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور صلاحیت بخش کام کئے ، ان کی خطاؤں  سے در گزر کیا جائے گا اور ان کے لئے بقا  اجر ہے ۔ رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ  کی آیات  کو جھٹلائیں تو دوزخ  کا مال ہیں ۔

فرمایا ۔ وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ ( 7:8،9)

ترجمہ : اعمال کا وزن اس روز بر حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے ۔ اور جن کے پلڑے  ہلکے ہوں گے وہی  اپنے آپ  کو خسارے  میں پائیں گے ۔ کیونکہ  وہ ہمارے  احکامات  کے ساتھ  ظالمانہ  برتاؤ  کرتے رہے تھے ۔

ملاحظہ فرمایا ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اچھے اعمال  کرنے والوں کو خوش خبری  دی اور برے  اعمال  والو ں کو جہنم  کی وعید۔ دوسری آیت  میں رب  نے نیک اعمال  والوں کو فلاح  کی نویددی ہے اور جن  کے برے اعمال  کا ترازو  جھکا ہوگا ان کو نقصان  کی خبر دی  ہے کہیں بھی ہمیں  یہ حکم نہیں دیا کہ ان کو قتل  کیا جائے ۔ لہٰذا اگر کوئی مسلمان بھی کفار کا  معاون  لگتا  ہے ۔ وہ ان آیات  پر غور کرے  اور اپنے آپ کو قتل کا ارتکا ب کرکے گنہگار  نہ بنائے ۔ قتل  ایک عظیم گناہ ہے۔

مارچ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/a-letter-to-editor-of-monthly-sautul-haq/killing-of-ulema-in-pakistan--پاکستان-میں-علما-کا-قتل/d/97765

 

Loading..

Loading..