New Age Islam
Tue Oct 27 2020, 02:18 PM

Urdu Section ( 30 Jun 2010, NewAgeIslam.Com)

Let us also be Alive – Part 4 ہمں بھی جینے دو۔ حصہ چوتھا


BY Pirbhu Lal Satyani

 

In this Urdu book titled Hamey bhi Jeene do, Published by Asar Publications, Lahore, 2005, Pirbhu Lal Satyani, a Hindu human rights activist in Lahore, has documented the plight of dalit Hindus in Pakistan. He says that a large number of dalit Hindus live in Sindh and South Punjab. To retain their supremacy, the pandits and the leaders divided the society and pushed dalits to the bottom of the social heirarchy. Not only has religious extremism affected them but also the state has neglected them.

In the second section of this book, the author describes how the number of Pakistani Dalits (whom he still calls “untouchable”) is declining. But, he says, the reason for this is not so much their migration to India, as is the case with upper caste Hindus, but forcible conversion to Islam. Some Dalits, he says, also convert out of greed, for the sake of better jobs and perks.

In the third section Pirbhu Lal Satyani focusses on the plight of the Dalit women and the atrocities meted out against them not only in their society but also by the majority Muslim community. Mr Satyani says that forcible conversions and rape of their women by the majority community are commonplace and the administration generally turns a blind eye to them. Most of the time the police does not register and FIR because of the influence of the majority community and even if they do, they do not take action.

The women have to wrap themselves up in typical coarse cloth so as to make them distinguishable in society. They suffer at every step thanks to their poverty, illiteracy and ignorance. They do not send their girls to school due to the fear that they might be kidnapped for forcible conversion or sexual assault. The author narrates a number of incidents where their women were kidnapped and sexually assaulted or made to convert to Islam.

In the fourth and final section, Mr Satyani makes a number of recommendations to the Pakistan government for the upliftment and development of the ‘untouchables’ in the country.

 

ہمیں بھی جینے دو۔ حصہ چوتھا

پاکستان میں اچھوت ہندؤوں کی صورتحال

پربھولال ستیانی

15نومبر 2004کو داور (سندھ ) میں سماجی ترقی کی تنظیم ‘‘سنگیت’’ کی صدر ہندو لڑکی ونتا بانو کو آٹھ مسلح افراد (جن کا تعلق ہندو، اسلام اور مسیحیت سے تھا)نے اغوا کرلیا۔ 25نومبر 2004کو وہ ملزمان کی حراست سے بھاگ کر مقامی تھانے میں پہنچ گئی ۔ اس کو مبینہ طورپر سماجی ترقی کے کام کرنے کی بنا پر اغوا کر کے تشدد کانشانہ بنایا گیا۔ مقامی سماجی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ڈی پی او جاوید انجم نے ونتا کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر پولس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔

) اثر رپورٹ (

 گھوٹکی کے قریب کے ایک گاؤں میں کئی ہندو عورتوں کو اغوا کیا گیا جن میں ایک 12سالہ بچی ماروش بھی شامل تھی۔ جسے اغوا کاروں نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس واقع کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی جبکہ اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی ملوث تھے۔ اس طرح منشیات کے سمنگلر وں کے قبضے سے برآمد ہونے و الی دو بہنوں کو گواہ بنانے کی بجائے ان کے خلاف بدکاری کے مقدمات بنادئیے گئے۔(پاکستان اور اقلیت صفحہ 228)

میری شکایت

پرانے رسم ورواج کے خلاف ہے

 جنہوں نے ہمیں بند کمروں میں قید کر رکھا ہے

 جنہوں نے ہمیں ٹھکر ا کر زندگی کی خیرات دی ہے

جہاں کی فضا ئیں ہمیں اجنبی سمجھتی ہیں

جہاں برساتیں ہمارے لیے صرف قحط لاتی ہیں

جہاں پانی سراب دکھا کر

بے رحمی سے ہمارا مذاق اڑاتا ہے

ہم ٹھکراتے ہیں

 اس غلیظ اور زہریلی زندگی کو

اور ان مصبتوں سے نجات پانا چاہتے ہیں

کیا تم مجھے

ایک چمکتا ہوا ۔ مہربان چاند دوگے

میرے ہم وطنو! تمہاری عدالت میں

میں ایک شکایت لے آئی ہوں

 کیا تم مجھے انصاف دوگے

سفارشات

 1۔ انسانی حقوق کے سلسلے میں سارک کے رکن کا ممالک کا عزم کتنا پختہ ہے اور بحیثیت قوم وہ  کس عالم شہرت کے حامل ہیں اس کا اندازہ لگانے کے لئے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ سارک تنظیم کے ایجنڈے میں دلتوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر شامل کرنے کی کوشش کریں۔

2۔ایک نیشنل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جو شیڈولڈ کاسٹ ہندو کی شکایات سے سنے اور موثر اقدامات کرے

3۔ آبادی کے کے مطابق شیڈ ولڈ کاسٹ ہندو کی وفاق اور صو بوں میں نشستیں ہونی چاہیں۔

4۔تمام سرکاری اداروں او رمحکموں میں مناسب نمائندگی دی  جائے۔

5۔ اقلتیوں کی فلاح اور بہبود کے لیے ایک بیت المال مقرر کیا جائے ۔

6۔ اقلیتوں کے خلاف بنے ہوئے سارے کالے قوانین ختم کئے جائیں ۔

7۔ انکوائری کمیشن برائے خواتین کی رپورٹ پر فوری عملدار آمد کیا جائے۔

8۔ تعلیمی اداروں میں داخلہ کے وقت ذات اور مذہب کے بارے میں سوالات نہیں پوچھنے چاہیں۔

9۔ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نصاب پر نظر ثانی کی جائے اور نصاب میں دوسرے مذہب کے بارے میں اشتعال انگریز مواد نکالا جائے۔

10۔ اونچ نیچ یا شیڈ ولڈ کاسٹ کے ساتھ کھانے پینے کے حوالے سے نفرتیں ختم کی جائیں۔

11۔ بے زمین ہاریوں کا شتکارو کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔

12جہاں شیڈولڈ کاسٹ کے لوگوں کی زیادہ تعداد ہو   وہاں ایک یونین کونسل میں ایک خاص آفس ہو جو ان کے لیے کام کرے اور ان کے مسائل سنے۔

13۔ ہندوؤں کے مذہبی تہواروں یعنی دیوالی ہولی کے موقع پرسرکاری ،نیم سرکاری، وپرائیویٹ اداروں کے ہندو ملازمین کے لیے چھٹی کا اعلان کیا جائے۔

14۔ شمشان گھاٹ کے لیے ان اقوام کے پاس کوئی جگہ نہیں ہے اس لیے ان کو قبرستان کی جگہ مہیا کی جائے۔

15۔ہندو اقلیت کی جتنی عبادت گاہیں محکمہ اوقات کے پاس ہیں وہ انہیں واپس دی جائیں۔

16۔ جن اسکولوں میں ہندو طلبا کی تعداد زیادہ ہے وہاں اسلامیات کی جگہ بھگوت گیتا کی یا رمائن کی تعلیم دی جائے۔

17۔ اچھوت لوگوں کو دوسرے سب لوگوں کی طرح پبلک نلوں اور کنوؤں سے پانی حاصل کرنے کا حق دیا جائے۔

18۔ اچھوت لوگوں کو یہ حق ملنا چاہئے کہ وہ گاؤں میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر رہیں انہیں پہلے کی طرح گاؤں سے باہر رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/let-us-also-be-alive-–-part-4--ہمں--بھی-جینے-دو۔-حصہ-چوتھا/d/3080


Loading..

Loading..