New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 09:10 AM

Urdu Section ( 27 Jun 2010, NewAgeIslam.Com)

Let us also be Alive – Part 1 ہمیں بھی جینے دو۔ حصہ اوّل

BY Pirbhu Lal Satyani

 

In this Urdu book titled Hamey bhi Jeene do, Published by Asar Publications, Lahore, 2005, Prabhu Lal Satyani, has documented the plight of dalit Hindus in Pakistan. He says that a large number of dalit Hindus live in Sindh and South Punjab. To retain their supremacy, the pandits and the leaders divided the society and pushed dalits to the bottom of the social heirarchy. Not only has religious extremism affected them but also the state has neglected them. Interestingly he says that during the freedom movement, Bhim Rao Ambedkar's slogan of 'Achhutsthan' was replaced by Mahatma Gandhi's "Harijan"( Son of Bhagwan, son of Hari). It was the political opportunism of Mahatma Gandhi that got in the way of the establishment of Achhutsthan and therefore  saved India from another division.

Pirbhu Lal Satyani is a Pakistani Hindu social activist based in Lahore.

 

ہمیں بھی جینے دو۔ حصہ اوّل

پاکستان میں اچھوت ہندؤوں کی صورتحال

پربھولال ستیانی

پاکستان میں صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں اچھوت (Scheduled Caste)کافی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ اچھوت بھی اس دھرتی کے حقیقی اور قدیمی باشندے ہیں۔ لیکن چند مفاد پرست حکما اور پنڈتوں نے اپنی برتری (Supriority) قائم کرنے کی خاطر انسانیت کو بانٹ کر بیچ میں ایک ایسی نفرت اور حقارت کی لکیر کھینچ دی جو بڑھتے بڑھتے اس قدر لوگوں اذہان میں بیٹھ گئی ہے کہ ان (اچھوت) مظلوموں نے اس ظلم کو بھی اپنا مقدر مان لیا ہے۔

اس تحریر کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کب اور کن لوگوں کو وجہ سے انسانیت کی یہ درجہ بندی وجود میں آئی جس کی وجہ سے پاکستان میں بسنے والے اچھوت  (Scheduled Caste) کس قدر مثاثر ہورہے ہیں ۔ نہ صرف مذہبی غنڈہ گردی نے اچھوت کو معاشرے میں ذلیل ورسوا کیا بلکہ معاشرے اور حکومتی اداروں نے بھی ہمیشہ انہیں نظر انداز کیا ہے۔

پاکستان میں بہت ساری سماجی اور سیاسی تنظیمیں معاشرتی مسائل اور برائیوں سے نجات حاصل کرنے کےلئے سرگرم عمل ہیں لیکن افسوس کسی نے بھی یہ ا ونچ نیچ اور نفرتیں ختم کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ان کے حقوق کی پاسداری کی۔ بدقسمتی سے اچھوتوں سے بھی کوئی ایسی مضبوط قیادت نہیں آئی ہے جو اپنی بات منواسکے۔

یقین ہے کہ ان کتابچے کو پڑھنے کے بعد آپ بھی ان اچھوت لوگوں کے حق میں دکھ درد کی ایک جھلک محسو س کریں گے جو وہ زندگی کے ہر موڑ پر محسوس کرتے ہیں جن کے ہر احساس اور جذبات کا مذاق اڑایاجاتا ہے۔

ہندو ازم میں ذات پات کی تقسیم صدیوں سے چلی آرہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہندو مذہب کی نقصان پہنچا ہے بلکہ دنیا کی ہر منصوبہ بندی وہ پیچھے رہ گئے ہیں کیونک اکثریت نچلے طبقے کی ہے جو بہت پسماندہ ہے۔

منوسمر تی بنیادی طور پرکس مقصد کےلیے لکھی گئی اس کا اصل جواب تونہیں ملتا لیکن کچھ حقیقتیں یا ان کے اثرات سے یہ انداز لگایا جاسکتا ہے کہ منو کے ضابطہ ،اخلاق Code of Conduct ) کے آدار پر اس وقت کے حاکم اور اثر ورسوخ والے مفاد پرست لوگوں نے انسانت کی درجہ بندی کردی تھی۔

بانٹے ہوئے چار طبقوں میں برہمن ، کشتری، ویش اور شودر شامل ہیں۔شودر وہ طبقہ ہے جس کو پنچ درجہ بھی کہا جاتا ہے اس طبقے میں آنے والے سارے لوگ محنت اور مزدوری کرتے تھے ۔ آہستہ آہستہ ایک بڑی بنی بنائی سازش کے تحت ہر نیچ کام ان کے لئے مخصوص کیا گیا مثلاً شہروں اور دیہاتوں کی صفائی کرنا، مردہ جانوروں کو اٹھانا ، گندگی اور غلاظت پھینکنا وغیرہ ۔وقت کے ساتھ ساتھ درجہ بندی اس حد تک پہنچ گئی کہ صبح سے شام تک کام کرنے والا یہ شخص ان چھین سے پہچانا جانے لگا ۔ ایسے ہی لفظ اچھوت وجود میں آیا ۔بقول کسی شاعر کے

اہم اچھوت ہیں سر اٹھا کے چل نہ سکے

تاریخ کے کچھ مورخین کے مطابق لفظ اچھوت کا ٹھپہ (Label) ان لوگوں پر لگایا گیا جو اس دھرتی کے حقیقی اور قدیمی قبیلے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان کی حالت تو تبدیل نہیں ہوئی لیکن صرف نام تبدیل ہوتے رہے۔ کبھی اچھوت کبھی شودر تو کبھی دلت کے نام سے پکارے گئے۔ بدقسمتی سے ان بدلتے ہوئےناموں کا خاتمہ نہیں ہوا ۔انگریز دور میں یہ لوگ شیڈ یول کاسٹ (Scheduled Caste)کے نام سے جاننے لگے۔ ابھی تک وہی نام چل رہا ہے۔

آزادی کے دوران ہم رائے امبیدکر کے اچھوستان کے نعرے کے بدلے میں ایک اور نیا نام ملا وہ ہے ‘‘ہریجن’’ یعنی ‘‘بھگوان کا بیٹا’’ ‘‘ہری کا بیٹا’’ ۔ یہ مہاتما گاندھی کی سیاسی مفاد پرستی تھی جس نے اچھوستان کو بننے سے روک کر ہندوستان کو ٹوٹنے سے بچالیا۔

تاریخی پس منظر میں :

قدیم ترین ہندوستان میں مذہبی روایات کو برہمن مت یا برہمنیت کا نام دیا جاتا ہے۔ قدیم ہندی مذہبی روایات جس میں برہمن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ویدک مت بھی کہلاتا ہے۔اس زمانے میں جتنا ادب تخلیق ہوا ویدک ادب میں شمار ہوتا ہے۔ ویدوں کی اہمیت ہندو دھرم میں سب سے زیادہ ہے کیونکہ ہندو عقیدے کے مطابق ان میں شامل تمام مذہبی مواد انسانی کی بجائے مادرائی ہے۔ لیکن اکثر مورخ ہندوستان میں ذات پات کی تاریخ لکھتے ہوئے اس کی ابتدا 1400ق۔م میں آریاؤں کی آمد سے بتاتے ہیں۔ آریاؤں کی فتح نے مفتوح قوم ، دراوڑ کے لوگوں کو نچلی ذاتوں میں بدل دیا۔

ڈاکٹر امبیدکر نے کہا کہ تامل لوگوں میں اچھوت ذات کے تامل اونچی ذات کے تاملوں کی طرح ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب کے اچھوت ذات اونچی ذات والوں سے مختلف ہے۔ اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ذات پاس کی تقسیم ایک نظریاتی مسئلہ ہے، نسلی مسئلہ نہیں ۔

ابتدا میں جو ذاتیں بنی ان میں کھتری ، برہمن اور ویش تھے کیونکہ اس وقت حفاظت کے لئے فوجیوں اور جنگجوؤں کی ضرورت تھی اس لیے معاشرہ میں ان کی اہمیت زیادہ تھی اور بہادری او رشجاعت کو علم پرفوقیت تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب معاشرہ میں امن وامان قائم ہوا تو اس دوران میں برہمنوں کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ مذہبی رسومات کی تعداد کو بڑھائیں اور انہیں اس قدر پیچیدہ کردیں کہ ان رسومات کوان کے علاوہ اور کوئی ادانہ کرسکے ۔ اس طرح انہوں نے کشتریوں کو دوسرا درجہ دے کر خود اعلیٰ حیثیت حاصل کرلی۔ ابتدا میں ان تینوں ذاتوں کے اندر کوئی گہرا فرق نہیں تھا اور اس کے مواقع تھے کہ کوئی شخص اپنے علم یا بہادری کی بنا پر حکمران کی مرضی سے ایک ذات سے دوسری ذات میں شامل ہوجائے لیکن بعد میں ان ذاتوں کو خصوصیت سے برہمنوں او ر کشتریوں کو دولت واقتدار ملا، طاقت وقوت ملی اور ریاستی اداروں پر قابض ہوئے تو ان کی سماجی اور معاشی حالت بھی دوسروں سے بہتر ہوئی۔ اس لیے انہوں نے یہ کوشش کی کہ وہ اپنی مراعات کو باقی رکھ سکیں اور دوسری ذاتوں کو خود میں شامل نہ ہونے دیں۔ انہوں نے ایسا ماحول پیداکیا کہ اچھوت ذات کے لوگ ان سے دور رہیں او رکسی بھی صورت میں نہ تو ان سے مقابلہ کرسکیں اور نہ ہی ان سے مشابہ ہوسکیں۔

ابتدا میں شود ذات کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلی خالص اور دوسری خارج شدہ۔ خالص شودر کے لیے ضروری تھا کہ وہ تینوں ذاتوں کی خدمت کرے۔ اور ان کا بچا ہوا کھائے اور ان کے پہنے ہوئے کپڑے پہنے۔ اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ چاہے غریب ہو یا مالدار ہر حالت میں وہ اپنی ذات کی عادات کو برقرار رکھیں۔ خارج شدہ شودر آریہ سماج سے باہر تھے۔ اور ان میں سے اکثر کا تعلق غیر آریائی قبیلوں سے تھا۔ جیسے چنڈال جو ایک قبیلہ کا نام ہے اور اب یہ اچھوتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان کے ذمہ جو کام لگائے گئے ان میں ‘مردوں کو لے جانا’ انہیں جلانا او رمجرموں کو قتل کرنا تھا۔ گپت دور تک وہ سماجی طور پر اتنے ادنیٰ ہوگئے تھے کہ جب وہ شہر میں آتے تو کھڑتال بجا کر اپنی آمد کا اعلان کرتے تاکہ لوگ ان سے دور ہوجائیں۔

ہندو مذہب میں اچھوت لوگوں کے لیے مذہبی جواز یہ تھا کہ یہ پچھلے گناہوں کی سزا میں اچھوت پیدا ہوئے ہیں اس لیے منطقی طور پر ان کا پورا وجود ناپاک ہے اور اگر وہ کسی دوسری ذات والے کو چھولیں تو محض ان کے چھونے سے وہ ناپاک ہوجائے گا۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف اتنے گھٹیا قوانین بنائے گئے تھے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا ۔

شروع میں ایک یہ بھی قانون تھا کہ وہ اپنے ساتھ ایک مٹی کا پیالہ رکھیں تاکہ اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آئے تو اس میں تھوکیں اور اس طرح تھوکیں کہ زمین کو گندہ نہ کریں کیونکہ اس طرح کسی پاک اور اونچی ذات والے اس پر پاؤں پڑسکتا ہے۔ اس کے پاس ایک کانٹوں کی جھاڑوں ہو تاکہ جب وہ چلے تو اپنے پاؤں کے نشانات مٹاتا ہوا چلے۔

اگر کسی برہمن کو آتا ہوا دیکھ لے تو فوراً زمین پر منہ کے بل گرجائے تاکہ اس کا سایہ اس پر نہ پڑے اور وہ اس کی شکل نہ دیکھ سکے۔

مشہور برہمن شاعر ارجن ڈانگلے کی ایک طنزیہ نظم ‘‘انقلاب کی فتح کا نعرہ’’ ملاحظہ ہو۔

انقلاب

ہم اس وقت بھی اس کے دوست تھے

جب مٹی کے برتن ہماری گردنوں سے لٹکے ہوئے ہوتے تھے

ہمارے پہلو میں جھاڑ و بندھی ہوتی تھی

ہم اونچے محلوں میں کام کرنے جاتے تھے

اور سب کو ‘‘جے ہومائی باپ’’ کہتے جاتے تھے

ہم کوؤں سے لڑتے تھے

اور اپنی ناک کی غلاظت تک انہیں نہیں دیتے تھے

لیکن جب اونچے محلوں سے ہم مردہ جانور گھسیٹتے

بڑی احتیاط سے ان کی کھال اتارتے

اور گوشت آپس میں بانٹ لیتے

تو وہ ہم سے مانوس ہوجاتے

 ہم گیدڑوں ،کتوں، گدھوں اور چپلوں سے لڑتے

کیونکہ ہم ان کا حصہ کھاجاتے تھے

اب ہمیں نیچے سے اوپر تک ایک تبدیلی نظر آتی ہے

 کوئے ،گیدڑ، کتے، گدھ اور چپلیں

ہمارے بہترین دوست ہیں

اونچے محلوں کے دروازے ہم پر بند ہوگئے ہیں

انقلاب کی فتح کے نعرہ لگاؤ

جلادو ۔ ان کو جلادو جو روایات کو توڑتے ہیں

ان تمام پابندیوں کے باوجود اونچی ذات والوں کو اس خطرہ کا احساس تھا کہ نیچی ذات والے کبھی بھی ان قوانین کے خلاف احتجاج کرسکتے ہیں اور ان میں بغاوت اور مزاحمت کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں اس لیے برہمنوں نے اس کا سدباب کرنے کےلئے جو نظریہ تشکیل دیا وہ ایسا تھا کہ جس نے احتجاج اور بغاوت کے جذبات کو ابھرنے ہی نہیں دیا۔ اور نچلے طبقے کے لوگوں نے بھی ان قوانین اور روایات کی پابندی کرتے ہوئے اپنے مقدر کو دھرم بنالیا۔

اس لیے ہندو مذہب میں ذات پاس کی تقسیم نہ صرف گہری ہوتی گئی بلکہ اس نے مستقل اور دائمی شکل اختیا رکرلی۔ ایک طرف مذہبی انتہا پسند یا اونچی ذات والے اپنی سازش میں کامیاب ہو گئے ،اپنی مراعات کا تحفظ کرنے اپنے اقتدار کو محفوظ تو کرلیا مگر دوسری طرف اس عمل سے معاشرہ ان نچلی ذات والوں کی توانائی ،تخلیق او رذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوگیا۔

اس ساری تاریخ میں اور اب تک جہاں ایک اچھوت پر اتنے سارے ظلم ڈھائے گئے ہوں،

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/let-us-also-be-alive-–-part-1--ہمیں-بھی-جینے-دو۔-حصہ-اوّل/d/3058


 

Loading..

Loading..