certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (16 Feb 2012 NewAgeIslam.Com)



Pakistan Needs an Educational Revolution پاکستان میں تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے، لیکن یہ مساجد، اسکولوں اور مدارس کے ذریعے نہیں آ سکتا ہے

پرویز ہود بھائی

8 فروری، 2012

حالیہ خبروں پر خاطر خواہ توجہہ نہیں دی گئی جس پر  کئی  ملکوں میں فوری خوف پیدا ہو گیا ہوتا۔ لیکن میمو گیٹ میں پاگل پاکستان کے کسی فوجی یا سول حکمراں، اور نہ ہی عام طور سے باتونی ٹی وی اینکر س نے ابھی تک اینوئل اسٹیٹس آف ایجو کیشن رپورٹ (ASER)  پر کسی بھی طرح کا رد عمل نہیں دیا ہے۔ ایک ہفتے قبل منظر عام پر آئی یہ رپورٹ پاکستانی اسکولوں کی مذمت کرتی ہے۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ملک بچوں کو بہت ہی بنیادی فن سکھانے میں بھی بری طرح سے ناکام ہے۔ایک ایساملک جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے اور جہاں کی آبادی میں قابو سے باہر اضافہ ہو رہا ہے، اس کے نتائج ڈراونے ہیں۔

بڑی محنت سےایک پیشہ ور ٹیم نے اس رپورٹ کو-  5،000 مقامی رضاکاروں کی مددسے  تیار کیا ہے -  ASER  رپورٹ میں  2599 دیہات / بلاکس، 49793 گھروں، اور 146874 بچوں کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ پاکستانی بچوں کو کسی بھی زبان کے پڑھنے اور یہاں تک کہ معمولی حساب حل کرنے میں بھی دشواری آتی ہے۔5-16 سال کی عمر ( پاکستان میں اسکول کے بچے) کے گروپ  کے صرف 40.1 فیصد دو عددی جوڑنے  (حاصل کے ساتھ) کے سوالات  حل کر سکتے ہیں،  جبکہ صرف 23.6 فیصد  تین عددی تقسیم کے سوال کو  حل کرنے کی حالت میں تھے۔ صرف 41.8  فیصد اردو یا اپنی مادری زبان (انگریزی تو دور کی بات ہے) میں ایک جملہ پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم کوئی کہانی پڑھ سکتے ہیں۔

  یہ رپورٹ افسردہ ضرور کرتی ہے لیکن صدمہ نہیں پہنچاتی ہے۔ تقریباً  25 سال قبل، قائد اعظم یونیورسٹی میں  میرے ساتھیوں اور میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طالب علموں کی بری تیاری پر فکر مند ہو کر ، اس کی وجوہات کو سمجھنے اور حل تجویز کرنے کی کوشش کی تھی۔ تعلیم کے اہم پہلئوں کو جائزہ لینے کے لئے  پاکستان ٹیلی ویژن نے ہمیں ایک تفصیلی 13 حصوں والی ڈاکیومنٹری سیریز بنانے کی دعوت دی۔ قومی سطح پر دیکھے جانے والے ان پروگراموں میں، طلباء اور اساتذہ نےکیمرے پر ہم سے بات کی، اور ہم لوگوں نے نصاب، درسی کتابوں، تاریخ اور سائنس کی تعلیم، اساتذہ کی تعلیم، امتحانات وغیرہ کی تصاویری جانچ پڑتال کی، آج ہم ASER رپورٹ کےاعداد و شمار سے یہ پاتے ہیں کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی زیادہ کے بعد صورت حال اور بھی زیادہ خراب ہے، بہتر نہیں ہوئی ہے۔ سوال آخر اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

کرپشن اور ایک خاص حکومت پر الزام عائد کرنا آسان ہے لیکن یہ غلط ہوگا۔ بہت سی حکومتیں آئیں اور  بغیر خاطر خواہ تبدیلی کئے ہی چلی گئیں۔ تاہم، کرپشن بڑے پیمانے پر  ہے لیکن یہ اصل وجہ نہیں ہے۔ اس نے معقول اور اچھے اسپتالوں، ایک قومی ایئر لائن ہے جو کہ اب بھی کسی طرح پرواز کا نظم بنائے ہوئے ہے، اور سڑکوں کے بہتر نیٹ ورک کو بنانےسے پاکستان کو کبھی کسی نے نہیں روکا ہے۔  دنیا کے کسی خاص نقطہ نظر ( نظریہ پڑھیں)  کی ضرورت سڑکوں کی تعمیر کے لئے نہیں ہے۔ لیکن تعلیم، اور اس کے اداروں کی تعمیر کا معاملہ مختلف ہے۔

مشہور ماہر طبیعیات مرے گیل مان، نے تعلیم کو  ‘ ثقافتی ڈی این اے (DNA)’ کہا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔  مثلاً، تعلیم بھی مستقبل کے معاشرے  کی تشکیل کے لئے دماغ بناناہے۔ ایسے معاشرے میں ظاہر ہے کہ مطلوبہ معیاری اقدار کا ہونا ضروری ہوگا۔ لہذا، دشواری یہاں پر ہے: جدید دور کے لئے ضروری عصری تعلیم ترقی کے نظریہ کے بغیر  ممکن نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک قابل عمل تعلیمی نظام کے قیام میں پاکستان کی ناکامی بنیادی طور پر بد انتظامی یا  بد عنوانی کی وجہ سے نہیں ہے، لیکن ایک خیالی نظام جدیدیت کے لئے غیر موضوع ہے۔اس لئے  عمران خان اور تحریک انصاف نے جب اعلان کیا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی تعلیم میں انقلاب لانے جا رہے ہیں ، ایسے میں ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ ‘تعلیم’  سے ان کی مراد کیا ہے۔

عمران خان کی بصارت کا علم مجھے 1996 میں تب ہوا تھا جب انہوں نے لاہور کی اپنی رہائش گاہ پر ایک نجی اجلاس طلب کیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی انقلاب پیدا کرنے کے لئے ہماری مدد کی ضرورت ہے۔  ان کے بلائے گئے چھ مہمانوں میں  سے تین داڑھی والے مولانا تھے۔ یہ لوگ انقلاب لانے پر متفق تھے لیکن  اعلان کیا کہ یہ صرف مسجد کے اسکولوں اور مدارس کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ ہماری  تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران، وہ موجودہ تعلیمی نظام کو  پاکستان کو سیکولر بنانے کی مغربی سازش کی رٹ لگاتے رہے۔ ایک مولانا نے اصرار کیا کہ خواندگی کی تعلیم الف سے اللہ، ‘ ب’ سے بندوق، ‘ ج’ سے جہاد کے بغیر بیکار تھی۔

میٹنگ نا خوشگوار رہی۔ مجھے صدمہ لگا کہ عمران خان نے اس طرح کے آدم زمانےکے خیالات  کو قابل بحث سمجھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ بہتر نتائج کے لئے ہمیں ان لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔ کئی سالوں کے بعد، ان کے مہمانوں میں سے ایک، شدید فرقہ وارانہ نظریات کے لئے جانے جانے والے  مولانا غلام مرتضی ملک، کی لینڈ کروزر گاڑی جب ایک ٹریفک لائٹ پر رکی تھی تب ان کو ، ان کے مسلح گارڈس سمیت ان کے مخالفین نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

امید کی جا سکتی ہے کہ چیئرمین خان ان دنوں کے مقابلے میں آگے بڑھ گئے ہوں گے لیکن علامت اس کی یقین دہانی نہیں کرتی ہے۔  ان کی حال ہی میں آئی سوانح عمری ہمیں ان کی ایوینجلیکل پیدائش کو بتاتی ہے اور جو  ‘ پکا بھورا صاحب ’ کی  ایچی سن کالج اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے خلاف غصے میں بو ل رہا ہے۔  زیادہ تر  توبہ کرنے والے گنہگار وں کی طرح، وہ بھی اکثر  متضاد ہیں۔  مثال کے طور پر جب بھی خان نے زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی پر زور  دینے کی بات کی   تو  سختی سے سائنس اور سائنسی طریقہ کار کی بنیادوں پر حملے کرتے ہیں۔  لیکن دوسری جگہوں پر  عملیت کا بول بالا رہتا ہے:   کسی نہ کسی طرح ' روشنی دیکھ کر ' وہ اپنے بچوں کو ان اعلیٰ اسکولوں میں بھیجنے سے روک نہیں سکتے ہیں جنہیں وہ اب حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

عوامی کچھ ذاتی تضاد، حالانکہ یہ زیادہ نہ ہوں ، کے باوجود رہنماؤں کے ساتھ جینا سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن خان کے سب سے اہم دعوہ کہ وہ تمام پاکستانی اسکولوں کے لئے ایک معیاری نصاب اور زبان کو متعارف کرائے گں، سے آدمی سمجھے کیا؟ یقینی طور پر یہ تمام مساوات پسند احساسات، اور ایک تعلیمی عصبیت میں تقسیم ملک کو اپیل ضرور کرے گا۔

لیکنیہ ایک معجزہ سے تھوڑا کم ہے، یہ ناممکن ہے کیونکہ پاکستانی اپنی خیالی اورمتوازی دنیاوءں میں رہتے ہیں۔  کس طرح  چیئرمین عمران خان ڈنکے کی چوٹ پر نظریاتی ریاست میں جو  مذہبی جھگڑوں میں ڈوبا ہوا ہے، میں ایک مذہبی نصاب  پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کررہے ہیں؟ مختلف طبقوں میں تدریس کی ایک زبان کو طے کر دینے سے یہ انہیں  نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کر دیگا؟  یا کراچی میں بیکن ہائوس اسکول کے طالب علموں کو  وہی نصاب پڑھانے کا نظم کریں جو  قبائلی وزیرستان اور دیہی سندھ کے طالب علم پڑھتے ہیں؟ اب یہی اعلیٰ قسم کے بیکن ہائوس اسکول بھی مسٹر خورشیدقصوری کے ذریعہ پی ٹی آئی میں نمائندگی کر رہے ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا۔

بہت زیادہ امید کے بجائے، چیئرمین خان پاکستان کے حقیقی مفادات کا خیال رکھ سکتے ہیں، جہاں وہ اپنے اسکول کے نظام سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی نفرتوں کو پھیلانا بند کریں، دوسرےممالک کے لوگوں کو اپنے دشمن کے طور پر دیکھنا بند کریں،  ہماری تاریخ کے بارے میں جھوٹ بولنا بند کریں، سائنس اور حساب کی  مقامی طور پر لکھی گئی بری کتابوں کو استعمال کرنا بند کریں، امتحانات میں طوطے کی طرح یاد کرنے والوں کو نوازنا بند کریں،  اور بڑے پیمانے پر اساتذہ کی غیر حاضری کو برداشت کرنا بند کریں۔

پاکستان تحریک انصاف کی خود ساختہ 'تعلیمی سونامی' صرف ایک پیٹ کی گڑ گڑاہٹ کی مانند ہے۔ یہ گزر جائے گا، لیکن  ایک بری بدبو چھوڑنے کے بعد۔ اس کے نوجوان حامیان،  مثالی لیکن معصوم  لوگوں کو تباہی کی جانب لے جانے والوں کی قیادت میں وہم کے ازالے اور مایوسی کی جانب لے جا رہے ہیں۔

پاکستان کو شدت سے تعلیم کی ضرورت ہے جو سماجی طور پر ذمہ دار،  متفکر،  اور اچھی طرح باخبر افراد پیدا کرے اور وہ ایسی ذہنیت کے مالک ہوں جو  ملک کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کے تنوع کو آسانی سے قبول کر سکتے ہوں۔  مقصد میں ضروری مہارت اور علم کی ایسی سطح شامل ہونا لازمی ہے جو روزگار اور  جدید معاشرے میں  شراکت کے قابل بنا سکے۔ عمران خان کی جزباتی خطابت اس سےنجات نہیں دلائے گی۔

ماخذ: ایکسپریس ٹربیون، لاہور

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-culture/education-in-pakistan-does-need-a-revolution,-but-it-cannot-come-through-mosque-schools-and-madrasas/d/6585

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/pakistan-needs-an-educational-revolution--پاکستان-میں-تعلیمی-انقلاب-کی-ضرورت-ہے،-لیکن-یہ-مساجد،-اسکولوں-اور-مدارس-کے-ذریعے-نہیں-آ-سکتا-ہے/d/6657

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content