New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 04:23 PM

Urdu Section ( 21 May 2010, NewAgeIslam.Com)

Shared Tradition of Civilization and Reality Part-1 مشترکہ تہذیب روایت اور حقیقت حصہ ۔اوّل

Professor Ali Ahmad Fatmi sings hosanna to the great composite culture of the wonderful land called India. In this artcle titled "Mushtarka tehzeeb: rewayat aur haqeeqat" (Composite culture: tradition and reality) he renders a critical appreciation of India's composite culture with special reference to Urdu language and literature. He believes that Urdu and composite culture are the two sides of a coin and one is incomplete without the other. The verses of the classical poets like Sauda, Insha, Nazeer Akbarabadi, Hatim etc. reflect the Indian culture and civilisation in its full glory. He quotes from the beautiful poetry of Firaq Gorakhpuri, Iqbal, Nazeer, Mohsin Kakorvi and Jaafar Zatalli to drive home his point. Mr Fatmi quotes a stanza from a poem by Nazeer Akbarabadi in which Kans, Vasudeo, Devki and Yashoda's character and their sweet quarrels become alive. It shows not only Nazeer's knowledge of the Hindu religion and culture but also his deep reverence for it. The full text is presented in Urdu below. – Editor

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shared-tradition-of-civilization-and-reality-part-1--مشترکہ-تہذیب-روایت-اور-حقیقت-حصہ-۔اوّل/d/2881

 

پروفیسرعلی احمد فاطمی

ہندوستان کے مشترکہ تہذیب کی عوامی مقبولیت کے شاعر نذیر بنارسی پر لکھتے ہوئے مشترکہ تہذیب کے بے مثال شاعر فراق گورکھپوری نے کہا تھا ‘‘ ہندوستان محض ایک جغرافیائی لفظ یا لغت نہیں ہے بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جسے جاننے اورسمجھنے کی ضرورت ہے۔’’حقیقتیں زندہ ہوتی ہیں اپنی معاشیات سے اور اپنی تہذیب سے میں نے معاشیات کا لفظ پہلے اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں مارکس کے ان جملوں پر یقین رکھتا ہوں کہ معاشی خوشحالی تہذیب کے ارتقا میں معاون ہوتی ہے اور بدحالی اسے زوال کی طرف لے جاتی ہے۔ ہندوستانی عوامی کے لئے محض اتنا جاننا کافی نہیں ہے کہ  وہ ہندوستان کے اندر رہتے ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہندوستان بھی ان کے اندر رہے یعنی ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب ۔ یہاں میرا موضوع تہذیب زیادہ ہے اور اس سے زیادہ مشترکہ تہذیب، اس لئے میں فراق کے ہی ایک شعر سے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتا ہوں:

سرزمین ہند پر اقوام عالم کے فراق

قافلے آتے گئے ہندوستان بنتا گیا

صدیوں میں ہندوستان بننے کا عمل ، قدیم وجدید تہذیب کے ہم آہنگ ہونے کا عمل، ہند آریائی تہذیب کے شیر وشکر ہونے کی داستاں خاصی قدیم ہے جسے دہرا ئے جانے کا وقت یہاں نہیں ہے۔ بس ! میں اردو شعر و ادب کی جانب چند جھلکیاں پیش کرو ں گا جو نئی تو نہیں ہیں لیکن جن کا دہرا یا جانا بہت ضروری ہے ایک ایسے وقت اور ایسی جگہ پر جہاں کچھ لوگ وحدتِ انسانی اور وحدت ہندوستانی کو الگ الگ دیکھنے پر مصر ہیں جو بے حد مضر ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ:

چمن میں اختلاف رنگ وبو سے بات بنتی ہے

تمہیں تم ہوتو کیا ہو، ہمیں ہم ہیں تو کی ہم ہیں

اردو زبان وادب کے حوالے سے ،مشترکہ تہذیب کے حوالے سے گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے شیرینی میں شکر کو تلاش کرنا ، اس لئے کہ اردو او رمشترکہ تہذیب لازم وملزوم ہیں۔ ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اردو کے ابتدائی شعرا کاکلا م ملاحظہ کیجئے ! ان میں بیشتر کا کلام دو ہے کی شکل میں ملتا ہے۔ سودا، حاتم ، انشا ، نظیر وغیرہ کے یہاں دوہے ملتے ہیں اور بالکل ہندوستانی وزمینی تہذیب میں رچے ہوئے ۔ ولی دکنی سے قبل اردو کے بیشتر شاعری میں چھند اور دوہے ہی نظر آتے ہیں۔ ولی کے آنے کے بعد اس میں ایرانی کلچر کے اثرات نظر آنے لگے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس میں مقامی اور مشترکہ نہیں رہ گیا ، ایسا ممکن ہی نہ تھا کہ ہیئت کچھ بھی ہو شعر واداب مقامیت سے کبھی الگ نہیں ہوپاتے ۔ یہ فطری طور پر ممکن ہی نہیں اور نہ ہی فکری طور پر کہ مقامیت سے ہی آفاقیت کا سفر طے ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو جہاں کا ہے اگر وہیں کا نہیں ہے تو پھر کہیں کا نہیں ہے۔

بابائے اردو عبدالحق نے ایک جگہ صاف طور پرکہا ہے کہ اردو خالص ہندی زبان ہے تو اس کی گرامر بھی ہندوستانی ہونی چاہئے اور اس کا کلچر بھی۔ گرامر کا معاملہ بحث طلب ہوسکتا ہے لیکن کلچر کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہے کہ اردو ادب کا خمیر ہی مشترکہ کلچر سے اٹھاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تہذیب کا معاملہ اکثر دوسطحوں پر چلتا ہے ، ایک اوپر ی سطح پر جلدی سے نظر آنے والا اور دوسرا اندرونی سطح پر جذب وپیوست جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ اردو شعر وادب میں ابتدا سے ہی یہ دونوں سطح کے کلچر متوازی طور پر ساتھ ساتھ رہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ معیار پرست طبقہ نے نچلے طبقہ کے کلچر کو منھ نہیں لگایا ۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے دوست نواب مصطفیٰ علی خاں شیفتہ نے جب ‘‘گلشن بے خار’’ تذکرہ لکھا تو عوامی شاعر نظیر اکبر آبادی کا ذکر تک نہ کیا کہ وہ نچلے درجے کا عوامی شاعر ہے حالانکہ اس سے قبل استاد سخن میر تقی میر کہہ گئے تھے:

شعر میرے ہیں گو خواص پسند

پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

تہذیب کی طرح ادب کا وسیع او رہمہ گیر تصور دونوں طبقوں کی نمائندگی کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ تاریخی او رکلاسیکی ادب خواص اور عوام دونوں میں اپنی جگہ بناتا ہے اور غیر طبقاتی ہوکر لازوال ہوجاتا ہے جس میں صرف فکر وخیال ،نظریہ وفلسفہ ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرت ،ثفاقت ،رہن سہن ،رسم ورواج ،تیج تیوہار سبھی کچھ آجاتے ہیں اس نقطہ نظر سے اگر  ہم صرف نظیر اکبر آبادی اور جعفر ز ٹلی کو ہی لے لیں تو اردو کی ہندوستانیت یا ہندوستان کی زمینی معاشرت او ر مشترکہ ثقافت کی بھرپور تصویر نظر آتی ہے۔ ایک مسلمان شاعر ہوتے ہوئے بھی نظیر نے ہولی پر گیارہ نظمیں ، دیوالی پر دونظمیں ، راکھی پر ایک نظم ، کنھیاجی کے جنم ، شادی بیاہ تک پر نظمیں لکھیں ۔ ایک نظم تو کنھیا جی کی بانسری پر بھی ہے۔ اس کے علاوہ ہر کی تعریف ، بھیروں کی تعریف ،مہادیو کا بیان ، جوگی جوگن وغیرہ ۔ اسی طرح میلے ٹھیلے میں بلدیوجی کا میلہ ،تیرا کی کا میلہ ، وغیرہ بھی جن میں ہندو مذہب اور رسم ورواج کو نہایت باریکی سے پیش کیا گیا ہے۔ کرشن جی کی پیدائش کے بارے میں ان کی معلومات دیکھئے اور ساتھ ہی ان کا لہجہ بھی۔ جنم اشٹمی کاتیوہار پورے برج میں منایا جانا فطری ہے۔ بچے کے پیدائش ہوتے ہی والدین کے گھر میں اندھیرا دور ہوتا ہے اور اجالا پاس آتا ہے او رکہاوت بھی ہے‘‘ سن بالک، بھوت کا ڈیرا’’ اب اس کی روشنی میں ان کی نظم ‘‘کنھیا جی’’ کے یہ بند دیکھئے :

ہے ریت جنم کی یوں ہوتی جس گھر میں بلا ہوتا ہے

 اس منڈل میں ہر من بھیتر سکھ چین دوبلا ہوتا ہے

 سب بات تبھا کی بھولے ہیں جب بھولا بھالا ہوتا ہے

آنند مند یلے باجت ہیں نت بھون اجالا ہوتا ہے

یوں نیک نچھتر لیتے ہیں اس دنیا میں سنسار جنم

پر ان کے اور ہی الجھن ہیں جب لیتے ہیں اوتار جنم

32بند کی اس طویل نظم میں جس طرح کنس ، واسودیو، دیوکی اور یشودا کے کردار، گفتار اور تکرار ملتی ہے اور پوری کرشن بھومی سے لے کررن بھومی کی سچی داستان سمٹ آتی ہے وہ نظیر کی ہندو مذہب اور تہذیب کی واقفیت کا تو پتہ دیتی ہی ہے نیز ان کی عقیدت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ایک اور نظم کا ایک بند ملا حظہ کیجئے:

یارو سنو! یہ دودھ کے لٹیاں کا بالپن

 اور بدھ پوری نگر کے بسیا کا بالپن

 موہن سروپ نرت کریا کا بالپن

 بن بن کے گوال گویں چریا کا بالپن

ایسا تھا بانسری کے بجیاں کا بالپن

فراق گورکھپوری نے اپنی کتا ب ‘‘نظیر بانی ’’ میں لکھا ہے:

‘‘ وہ مقامی تہذیب وثقافت میں رنگ گئے تھے۔ ہندو تیوہاروں ،میلوں ٹھیلوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ ہندو ومسلمانوں میں کوئی بیگانگی نہ تھی۔’’

کچھ ہندو ادیبوں کا خیال ہے کہ نظیر ہندو مذہب کے بارے میں کم جانتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ خیال درست ہو کہ کسی پنڈت اور گیانی کے مقابلے ان کی معلومات کا کم ہونا حیرت کی بات نہیں لیکن جس نوع کی وہ عوامی تہذیب اور ذہن ثقافت میں رچے بسے ہوئے تھے وہاں اس طرح کی خارجی تفریق عموماً مٹ جایا کرتی ہے پھر مذہب کی عوامی تہذیب وثقافت ،ایمان و عرفان اپنا ایک الگ دائرہ بنا لیتا  ہے۔ ہندی کے بعض شاعروں نے پھر بھی کرشن کی عاشق ،چھیڑ چھاڑ کرنے والے نوجوان یا بھگوان کی تصویر پیش کی ہے لیکن نظیر کے یہاں عقیدت و احترام تو ہے اور اسلوب بیان اور لفظیات میں ہندو تہذیب کا غیر معمولی فنکار انہ اظہار ،جس میں اگر ایک طرف اسلام کا صوفیانہ وجدان ہے تو دوسری طرف بھگتی کا گیان اور آتم سمان بھی۔ اس ملے جلے صوفیانہ تصور کا رس لینا ہے تو نظیر کی ان نظموں کا مطالعہ بھی ضرور ی  ہے جو محض موضوع کے اعتبار سے براہِ راست ہندو دھرم کے دائرے میں نہیں آتیں لیکن ہندوستانی عوامی تہذیب ،زندگی اور رسم ورواج کے دائرے میں براہِ راست آتی ہیں مثلاً ان کی نظمیں روٹی نامہ، آدمی نامہ، بنجا رہ نامہ، فقیروں کی صدا، کلجگ ، مفلسی وغیرہ ایسی ہیں جو مذہبی نظموں کے مزاج ومذاق اور ہندو وہندوستانی عوامی تہذیب اور نظیر کے اپنے مزاج ،تجربات ، زندگی کی صداقت  ،متوسط طبقہ کی سماجی بصیرت اور لوگ گیتوں کی حرکت وحرارت سب اس قدر گھل مل گئے ہیں اور اس روایت کو زندہ کرتے ہیں جو امیر خسرو کے بعد کسی وجہ سے بکھر گئی تھی۔

جعفر ز ٹلی بنیادی طور پر مزاحمت اور احتجاج کے شاعر تھے لیکن یہاں میں ان کی ایک غزل کے صرف تین اشعار پیش کروں گا:

گیا اخلاص عالم سے عجب یہ دور آیا ہے

ڈر ے سب خلق ظالم سے عجب یہ دور آیا ہے

نہ یاروں میں رہی یاری، نہ بھیوں میں وفاداری

محبت اٹھ گئی ساری عجب یہ دور آیا ہے

نہ بوئی راستی کوئی ، عمر سب جھوٹ میں کھوئی

اتاری شرم کی لوئی، عجب یہ دور آیا ہے

یہ مصر عہ دیکھئے ‘‘ نہ یاروں میں رہی یاری، نہ بھیوں میں وفاداری’’ خالص اودھی لہجہ اور محاورہ ہے۔ اسی طرح سے ‘‘اتاری شرم کی لوئی’’ کو بھی ملاحظہ کیجئے ۔ اسی طرح سے قدم قدم پر ان کے یہاں عوامی محاورات استعمال ہوئے ہیں ‘‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ’’، ‘‘دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا ’’، ‘‘بھرے سمندر ، کھوکھا ہاتھ’’ وغیرہ ان سب کا غزل کے پیرائے میں استعمال کرنا مشکل اور غیر معمولی بات ہے۔

اب میں قصیدے کے ایک شاعر محسن کاکوری کے ایک مذہبی قصیدے جو رسول کی شان میں لکھا گیاہے، اس کے چند اشعار پیش کرتا ہوں:

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل

 برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل

گھر میں اشنان کریں سرو قدان گوکل

جاکے جمنا پہ نہانا بھی ہے ایک طول عمل

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/shared-tradition-of-civilization-and-reality-part-1--مشترکہ-تہذیب-روایت-اور-حقیقت-حصہ-۔اوّل/d/2881



Loading..

Loading..