New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 08:09 PM

Urdu Section ( 26 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

False Authority of Men over Women: Part 47-B عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط ‘‘بی’’47


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

اے نا خدا ترس تجھ کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ اس مسافر سےآخر ی ساعت میں اپنی تفصیر یں معاف کراتا اور ا س وداعی وقت میں ہی اس کی دلداری کرتا۔ اور اپنا مغرور سر اس کے ناتواں قدموں پر رکھ دیتا۔ اے ظالم یہ خون بے گناہ رائیگا ں نہ جائے گا ۔ہوشیار رہ اور جلد تلافی کر۔ اس کی قبر پر جا۔ اور جس کو عمر بھر پیار نہ کیا اب اس کی خاک کو چوم اور آنسوؤں سے تر کر اور بقیہ عمر رونے اور توبہ کرنے میں بسر کر مگر یا تو یہ قبول ہوگی بغیر اس کے کہ اپنی خود بین آنکھوں میں انگلیاں ڈال کر ڈیلے نکال ڈالے اور اپنے بے درد دل میں خنجر مار کر خودکشی کرلے۔ میں اپنی کیا کہوں رنج وغم سے میری حالت خراب اور بیتاب ہے۔ اس حالت میں میں نے اگر کچھ سخت کہا تو معاف کرنا۔ والسلام فقط

تمہارا دل افگار بھائی۔ممتاز علی

کیا مظلوم مخلوق پر یہ ظلم و بیدا د ہوگی او ر ادنیٰ ادنیٰ نالائق پاجیوں کی تنگ مزاجیاں سیکڑوں بے گناہ لڑکیوں کا خون کریں گی اور چار دیواری کے پردہ میں عاجز بیکس بے وارث عورتوں کے سروں پرجوتیاں ماری جائیں گی اور تمام تعلیم یا فتہ خلقت خاموش رہے گی؟ کیا ان ستم رسیدوں کی صدائے الم واضعان قانون کے کانوں تک نہ پہنچے گی؟ کیا قانون انصاف عورتوں کے ستی ہونے کو جو گھنٹہ آدھ گھنٹہ کے جلنے کا عذاب تھاموقوف کرکے عورتوں کے عمر بھر کے جلاپے کو قائم رکھےگا؟ ہم صاف کہتے ہیں کےرحم دلی اور انسانیت اور عقل اور انصاف اور سب سے زیادہ شریعت سب کا اتفاق ہے کہ ایسے پاجیوں کی پردہ گاہوں کوحکما ً توڑ ا جائے۔

گورنمنٹ کو اس امور میں دخل دینے کے وہ ہی وجوہات ہیں۔ جن کے رو سے رسم ستی موقوف کی گئی اور قانون رضا مندی منظور کیا گیا۔ باقی رہا یہ کہ وہ مداخلت کس طرح کی جائے ۔ ان کی نسبت ہماری یہ درخواست ہے کہ مجلس واضعان قوانین ایک قانون بمراد انسداد ان خرابیوں کے جو نامواقفت زوجین کی وجہ سے ظہور میں آتی ہیں منظور کرے اور ا س ایکٹ کا نام خلع عورت اہل اسلام ہند رکھا جائے ۔ اس ایکٹ کی رو سے اس امر کے ثبوت پر کہ شوہر زوجہ کے ساتھ نامعقول سلوک کرتاہے یا اس امر کے ثبوت پر کہ بروقت نکاح عورت کی آزادانہ رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ برطبق درخواست زوجہ ا سکے حق میں ڈگری خلع باد اے حق مہر جو شوہر نے ادا کیا ہو صادر کی جائے۔ ضلع کا حکم اہل اسلام کی جملہ کتب فقہ میں موجود ہے اور ملک عرب میں برابر اس پر عمل ہوتا ہے۔ پس مسلمانوں کی عورتوں کو ایسے فقہی حکم کی حفاظت سے محروم کردینا ایسا ظلم نہیں ہے جو لوگوں کا ظلم شمار ہو بلکہ گورنمنٹ کا ظلم سمجھا جاتا ہے۔ مذہب اسلام کی رو سے خلع کا معاملہ بذریعہ قاضی عمل میں آتا ہے ۔ چونکہ کل اختیارات فوجداری جو اہل اسلام کی حکومت میں بذریعہ قاضی عمل میں آئے تھے وہ اب گورنمنٹ کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ ا سلئے گورنمنٹ کو اختیار خلع بھی جس سے ہزار ہا بدسلوکیوں کا انسداد ہوجائے گا۔ اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے ۔ہمیں امید ہے کہ گورنمنٹ جو عورت ہند کی درستی حالت کے لئے بہت کوشش کررہی ہے، اس امر پر غور فرمائے گی اور وہ ان حقوق کو زندہ کرنا شریعت اسلام نے عورت کو عطا کئے ہیں سب سے عمدہ ذریعہ ان کی اصلاح کا سمجھے گی۔

قبل ا سکے کہ ہم معاشرت زوجین کی فصل ختم کریں چند امور ایسے بیان کرنے چاہتے ہیں جن کی نگہداشت سے شوہر وزوجہ میں محبت بڑھنے اور رنجشیں پیدا نہ ہونے کی بہت توقع ہے۔شوہر اگر امور ذیل کالحاظ رکھے گا تو غالب قیاس یہ ہے کہ بیوی ہمیشہ خوش رہے گی اور ان کا گھر رنجشوں سے محفوظ رہے گا۔

1۔ اپنی حیثیت کے موافق پوشاک اور زیور میں کوتاہی نہ کرے۔ عموماً مستورات مردوں کی نسب زیادہ کفایت شعار ہوتی ہیں۔ وہ کبھی اپنے شوہروں کا قرض دار ہونا یا ان کے مال میں اسراف پسند نہیں کرتیں ۔ ان کی درخواست زیور وغیرہ کی نسبت ایسی صورتوں میں ہوتی ہے جب شوہر بدرویہ ہوتا ہے اور بیجا اسراف کرتا رہتا ہے اور خاص بیوی کے اخراجات میں کفایت شعار بن جاتا ہے۔

2۔ جو روپیہ پیسہ خرچ کے لئے بیوی کو دیا جاتا ہے ۔ اس کے حساب طلب کرنے میں تشدد ہر گز نہیں چاہے ۔خصوصاً ایسے شبہات سے کہ میری بیوی اپنے بھائی بندوں کو کچھ دیتی ہے، بہت احتراز کرے یہ شبہے بہت بے لطفی پیدا کرتے ہیں۔

3۔ عورت کے چال چلن کی نسبت ہمیشہ بدظن رہنا بہت ہی بری عادت ہے جس سے شوہر کا دل  بھی جلتا رہتا ہے او ربیوی کا بھی ۔ ذرا ذرا سی بات پر شبہ کرنا تو بہت بڑی بات ہے جناب رسول خدا کا یہ دستور تھا اور اوروں کو بھی یہ ہی فہمائش تھی کہ جب تم سفر سے آؤ تو یکایک گھر میں مت آؤ ۔بلکہ اپنے پہنچنے کی اطلاع کر کے آؤ اور نیز فرمایا کرتے تھے کہ عورتوں کی جاسوسی مت کرتے رہو۔ میاں بیوی کی رنجشوں کا بہت سا حصہ اس بدظنی سے پیدا ہوتا ہے۔

4۔ محبت ووفاداری کا امتحان نہ کرے۔ بعض مرد اپنی بیویوں کا طرح طرح سے امتحان کرتے ہیں۔۔۔ (جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-47-b--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-‘‘بی’’47/d/2286



 

Loading..

Loading..