New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:07 AM

Urdu Section ( 18 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 40 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 40


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر  نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی  روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی  اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

پس دو چار دفعہ کے ٹلانے سے ہمارا کچھ حرج نہ ہوگا بلکہ ہماری عزت بڑھے اور انہیں ہماری چنداں پروا نہیں ہے منظوری کا خط لکھو تو دو چار جگہ کے جھوٹے سچے رشتوں کا بھی ذکر کردینا کہ فلاں فلاں جگہ سے پیغام آئے ہیں۔’’ فقط۔

اس خط میں بھاری بھرکم کے اصول کو خوب تصریح کے ساتھ  بیان کیا ہے۔ بجائے ایسے خطوط نہایت پر لطف اور دل خوش کرنے والے ہونے چاہئیں ۔ اس تحقیق و تفتیش کے جو ابتدا بیشک ضروری ہے اور جس کے اثنا میں بیشک عیب و صواب سب کچھ دیکھنا پڑتا ہے پھر ہر دوفریق کی نظر میں دوسرا فریق اس رشتہ کے باب میں دنیا میں سب سے بہتر قرار پانا چاہئے ۔

ہمارے پاس دوطرح کے اور دوخط ہیں جو نمونہ کے لئے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

ایک خسر کا خط اپنے داماد کو :۔

لخت جگر نور بصر۔مودت نامہ مورخہ یکم ستمبر مجھے پرسوں ملا۔ جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا میں نے کئی بارشوق سے پڑھا اور ہر لطف قند مکر رکا پایا ۔ اللہ تعالیٰ کے انعام کا کہاں تک شکر کروں کہ حق تعالیٰ نے باجابت دعائے سحری ونیم شبی فقیر بلا کسی تدبیر ظاہر ی کے میری بضعہ عفیفہ کو ایسا شخص بامحبت واخلاق صادق الودا عطا فرمایا ۔ اللھم لک حمد ا  الحمد ایوافی نعمک ویکانی مزید کرمک احمدک بجمیع محامدک ما علمت منہا ومالم اعلم وعلیٰ کل حال۔ آپ کو وہ مبارک ہو اورآپ اس کو مبارک اور فقیروں کودونوں مبارک۔ جب ارادہ ازدواج ہو کم از کم ایک مہینہ پیشتر اطلاع ہونی چاہئے کہ میں رخصت لے کر آؤ اور خود انصرام کار کردوں ۔افسوس ہے کہ آپ کے مودت نامہ کے جواب میں بوجہ کثرت کار سرکاری دو روز کی دیر ہوگئی ۔ اس وقت کہ وقت شب ہے چراغ کے روبرو آپ کو خط لکھ رہا ہوں ۔ پروانے کثرت سے چراغ پر جان فدا کررہے ہیں ۔صد باپروانے میرے جسم پر لپٹے ہیں۔ لیکن میں اپنے چراغ پر پروانہ ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ ہمیشہ ا س چراغ کو روشن اور تاباں رکھے۔ آمین یارب العالمین ۔مورخہ 11ستمبر

ایک اور خط :۔

عزیز من۔ بعد دعا آنکہ ۔گذشتہ مہینے میں تمہارا مفصل خط 12۔13صفحہ کا میری نظر سے گذرا تھا۔ میں تمہارے باب میں برے خیالات نہیں رکھتا ۔نہ تمہاری درخواست کو نامناسب سمجھتا ہوں۔ میں مجملاً پہلے ظاہر کرچکا ہوں کہ میری دانست میں تمہاری تجویز کی مخالفت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔تمہاری علالت کا افسوس ہوا۔ میں خیرت سے ہوں۔ والدعا

رسوم تقریب نکاح

تقریب نکاح کے رسوم میں بھی دو تین اصلاحتیں بہت ضروری معلوم ہوتی ہیں:۔ اول یہ کہ بارات میں چند عزیز ،اقربا یادو چار دوستان مخلص کا جانا کافی ہے۔ کل کنبہ یا برادری کا تشکر جمع کرکے تھیں اور بہلیاں اور گھوڑے لے جاناعجب بیہودگی ہے۔

دوم:۔ بارات کے ساتھ لڑکے کا گھوڑے پر سوار ہونا اور باقی لوگوں کا اس کے پیچھے پیچھے پیدل چلنا بھی لغودستور ہے۔ ضرور ہے کہ سب ایک قسم کی سواری پر سوار یا سب کے سب پیدل ہوں۔دولہا کا کسی قدر زیادہ زینت دار لباس اور پھولوں کے باروں سے متمیز ہونا کافی ہے۔ مگر اس کو سپیروں کی طرح پشواز پہنائی جس کو جامہ کہتے ہیں ،سنت نبوی کو بدنما اور مکروہ صورت بنانا اور اس کی عزت کو کھونا ہے۔

سوم:۔ ضرور ہے کہ بارات کے آنے سے پہلے لڑکی والے اپنے گھر کو اپنے مقدور کے موافق آراستہ کریں ۔ اس کی آراستگی عمدہ روشنی اور شاداب پھول پتوں سے ہونی مناسب ہے جو سرسبزی اور تروتازگی اور شاد کامی کی عمدہ علامات ہیں۔

چہارم: ۔ دولہن کو ایسے پردہ کے لباس میں جو اس کے اقربا مناسب سمجھیں عقد نکاح کے لئے مجلس نکاح میں شامل ہونا اور قاضی کے روبرو اس عقد کی رضامندی کا اپنی زبان سے اظہار کرنا سمجھا جائے۔ مناسب ہے کہ بعد عقد نکاح دولہا اور دولہن پر پھول برسائے جائیں۔

پنجم:۔ رخصت کے وقت دولہن کے ہمراہ اس سے عزیزوں میں سے کسی مرد اور کسی قدرعورتوں کا جانا موجب ا سکے آرام وسہولت و اطمینان کا ہے۔ سسرال میں پہنچ کر دولہن کا کمال حیا وشرمگیں نگاہ کے ساتھ اتر نا اور معتدل رفتار کے ساتھ چلنا اور سب سے ملنا اور مودبانہ پیش آنا ۔ہر سوال کا معقول مختصر جواب دینا آدمیت کی باتیں ہیں ، نہ اندھا بھینسا بن جانا۔ دوسروں کے چلائے چلنا اور دوسروں کے اٹھائے اٹھنا ۔دولہن کے پاس ہر وقت بھیر کا رہنا بھی خوب نہیں بلکہ بیبیوں سے ملا نے کا ایک وقت خاص چاہئے ۔چوتھی رسم صرف اس غرض سے ہے کہ دولہن نئے گھر میں جانے کی وجہ سے اور فاقوں سے گھبرا نہ جائے پس اگر اس کے ایک دوعزیز اس کے پاس ہوں اور اس کوبے تکلفانہ رکھا جائے اور آدمیت کے طریق برتے جائیں تو  ضرور نہ ہوگا  کہ دوسرے روز ہی دولہن کے لوگ اس کو لینے کو چڑھ آئیں۔ بلکہ ہفتہ عشرہ میں جب مناسب ہو دولہن کو بھیج دیاجائے۔۔(جاری)

بشکریہ : روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-40--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-40/d/2243


Loading..

Loading..