New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 08:41 PM

Urdu Section ( 17 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 39 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 39


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر  نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی  روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی  اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

 

ہم نے انتخاب شوہر وزوجہ کے ساتھ ہی تعین مہر کا ذکر کیاہے۔ اس کی یہ وجہ ہےکہ ہماری دانست میں مہر کا تعین اسی مرحلہ پر طے ہونا چاہئے ۔ورنہ بسا اوقات تعین مہر کے جھگڑے میں بنی بنائی بگڑ جاتی ہے ۔ دوخاندانوں میں سخت رنج پیدا ہوجاتا ہے ۔ تمام بارات بھوکی اور قاضی منتظر نکاح پڑھنے کا رہتا ہے۔ رات کے دو دو بج جاتےہیں اور مہر کا جھگڑا طے نہیں ہوتا۔ ان نزاعات کے رفع کرنے کےلئے ضرور ہے کہ خواستگاری کے وقت اس امر کا فیصلہ ہو جایا کرے جب انتخاب شوہر وزوجہ عمل میں آجائے ۔مہر معین ہوچکے  تب اگر ضرورت معلوم ہوتو منگنی کی رسم ادا کی جائے ورنہ فوراً نکاح عمل میں آئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ منگنی کی نسبت بھی ہم کچھ لکھیں۔

منگنی:

 ہمارے ہاں منگنی ایک ایسی رسم ہے کہ اگر اس سے فائدہ اٹھایا جائےتو بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔ اس کے مفید ہونے کے لئے یہ امر ضرور ہے کہ بعد منگنی کے خاطب ومخطوبہ کواجازت باہمی خط وکتابت کی دی جائے باوجود اجازت کے لڑکی کو ایسے خطوط بہت لحاظ اور حیا اور کسی قدر پردہ کے ساتھ لینے ہوں گے۔ گو اس امر کا علم سب خاندان کو ہو اس خط وکتابت سے فریقین کو ایک دوسرے کی مزاج شناسی کا موقع ملے گا۔ اور شادی سے پہلے دو کے مزاج بہت قریب الاتحاد ہوجائیں گے ۔ اور گویا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی تیاری کرلیں گے۔ معمولی حالتوں میں دو بالکل غیر متجا نسوں کو بلا تمہید یک سخت ملا دیا جاتا ہے ۔ اوّل تو مزاج سے محض ناواقف دوسرے لڑکی پر شرم کا ایسا بے حد حملہ ہوتا ہے کہ نکاح جس کا نام شادی یعنی خوشی تھا ایسی تقریب ہوجاتا ہے جس میں خصوصاً لڑکی کو بے آرامی اور تکلیف اور تشویش کے سوا کوئی راحت نہیں ملتی اور یہ بے آرامیاں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ اگر چوتھی کی رسم نہ ہوتی جس  سے لڑکی کو جلد ایک ذریعہ نجات کامل جاتا ہے تو وہ سخت عذاب میں گرفتار رہا کرتی۔

منگنی کے ایام میں لڑکی اور لڑکے کے اقربا میں جو خط وکتابت ہووہ ضرور ہے کہ سچے اخلاص او رمحبت سے پر اور یگانگت  کے رنگ سے رنگین ہو ہمارے ہاں منگنی کے ایام میں جس قسم کی خط وکتابت ہوتی ہے ہم اس کو سخت ناشائستہ تصور کرتے ہیں یہ صحیح ہے کہ منگنی سے پہلے دونوں خاندان ایک دوسرے کے حال کی تفتیش بہت چھان بین کے ساتھ کرتے ہیں لیکن جب وہ مرحلہ طے ہوچکے اور یگا نگت قائم ہوجائےتو ایک دوسرے کی عیب جوئی ۔ یا چھوٹائی بڑائی کا فرق تو بڑی بات ہے کوئی امر ایسا بھی نہیں ہوناچاہئے جو مغائرت پر دال ہو  ہمارے ہاں یہ بہت معیوب بات ہے کہ ہر خاندان اپنی عزت کو دوسرے سے برتر ثابت کرنا چاہتا ہے خصوصاً لڑکی والے ہر تقریر اور ہر تحریر سے یہ جتلا نا چاہتے ہیں  کہ ہم اس رشتہ کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ اور گو حقیقتاً لڑکی کی شادی کی ان کو جلدی بھی ہو لیکن دوسرے فریق پروہ اس ضرورت کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ بظاہر ٹالنا چاہتے ہیں ۔ اور بار بار یہ بھی جتلاتے ہیں کہ رشتہ تو اچھی اچھی جگہ سے آئے تھے مگر تمہاری تقدیر تیز نکلی۔

جس اصول پر یہ کارروائی ہوتی ہے اس کا نام ہماری دانست میں بھاری بھرکم کا اصول ہے اس اصول کے رو سے لڑکی والے باوجود اس کے کہ لڑکی کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور اس کے لئے بیا ہے جانے کی شدیدضرورت ہے اسی لاپرواہی سے رشتہ کا ذکر کرتے ہیں کہ گویا لڑکی ابھی قابل ازدواج ہی نہیں ہوئی اور گویا پچاس جگہ سے رشتہ آیا ہوا ہے ایک لڑکی کا کسی خاندان میں رشتہ ہوا۔ لڑکی نہایت لائق اور لڑکا لیاقت کا نہایت قدرداں ۔دونوں میں ازحد دلی محبت ہوگئی۔ ممکن نہ تھا کہ اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو یہ لڑکا لڑکی اپنا رشتہ کسی اور جگہ ہونا پسند کریں ۔تاہم ذرا  ذرا سی بات پر لڑکی کی بہن لڑکے والوں کو ہمیشہ یہی کہا کرتی تھی کہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا ۔جہاں گل ہے وہاں بلبل کا کال نہیں ۔ ہمیں ایک اور تعلیم یافتہ عورت کا خط ہاتھ لگا ہے جو اپنے کسی عزیز کے رشتہ کے بارے میں اپنے خاندان کے بزرگ کو لکھتی ہے۔

قبلہ وکعبہ بعد آداب کے عرض ہے کہ ننھی کے رشتہ کے لئے میں تین دفعہ پہلے لکھ چکی ہوں یہ چوتھا خط ہے ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ منظوری کا خط جلدی بھیج دو۔ کہیں رشتہ ہاتھ سے نہ نکل جائے لڑکی خیر سے اٹھارا ہواں سال شروع ہے۔ اتفاق سے رشتہ ایسی جگہ سے آیا ہے کہ گھر خاصہ آسودہ ۔لڑکا لائق ۔بیوی کا قدر دان رتبہ شناس ۔نیک چلن اور سب سے اچھی یہ بات کو خود انہوں نے آرزو سے یہ رشتہ چاہا ہے ہم نے گر کریہ رشتہ نہیں دیا بلکہ ہم اپنے گھر بھاری بھر کم رہے۔اماں تو چاہتی  ہیں کہ  ایک آدھ دفعہ انکار کردو۔ لیکن وہ لوگ کچھ انگریزی خواں سے ہیں ان تحقیقات کو نہیں جانتے کیس وہ ہمارے اس  انکار کو سچا انکار ہی نہ سمجھ لیں اور چپ ہوبیٹھیں ۔ پھر ہم نے منہ سے کہیں گے کہ لوبیٹی لے لو اس لئے بہتر یہ ہے کہ رشتہ تو کچھ دبی ہوئی زبان سے منظور ہی کر لو ۔مگر ہاں شادی میں ذرا دیر لگانا ۔اگر چہ لڑکی کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور دیر کا موقع نہیں لیکن ہم نے سنا ہے کہ لڑکے والوں کو بھی بہت جلدی ہورہی ہے۔(جاری)

بشکریہ : روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-39--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-39/d/2237


 

Loading..

Loading..