New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 02:13 PM

Urdu Section ( 24 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 20 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 20


حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

علی اور ابن عباس کے قول کے سوا اور کسی قول سے وہ مطلب حاصل نہیں ہوتا جس کا ثابت کرنا یہاں مطلوب ہے لیکن ان کا قول بھی استدلال مطلوبہ کے لئے غیر واضح ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ سرمہ کی جگہ آنکھ ہے نہ کہ کل چہرہ اور اسی طرح انگشتری کی جگہ انگلیاں ہیں نہ کہ کل ہاتھ۔ اور جو ا مر ثابت کرنا ہے وہ ہے کہ اجنبی عورت کے کل چہرہ اور کل ہتھیلی کی طرف نظرکرنا جائز ہے۔ لیکن صاحب فتح القدیر کا اس نکتہ چینی کرنے سے یہ منشا نہیں کہ اجنبی عورت کے کل چہرہ اور ہتھیلی کا دیکھنا جائز ثابت کیا جائے بلکہ صرف یہ ہے کہ اس باب میں علی اور ابن عباس کے قول سے استدلال کرنا خوب نہیں ہے ۔چنانچہ انہوں نے خود آگے چل کر تین احادیث سے استدلال کرکے اجنبی عورت کے کل چہرہ اور ہتھیلی کے دیکھنے کا جواز ثابت کیا ہے۔ پہلی حدیث میں جو انہوں نے لکھی ہے بیان کیا گیا ہے کہ ایک عورت نےاپنے تئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ۔ پس آپ نے اس کے چہرہ پر نظر کی اور اس کی طرف اپنی رغبت نہ پائی۔

دوسری حدیث یہ ہے کہ اسمابنت ابوبکر باریک کپڑے پہنے ہوئے تھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیا اور کہا کہ اے اسما جب لڑکی بالغ ہوجائے تو مناسب نہیں کہ اس کا بدن سوائے اس کے اور اس کے منہ اور ہاتھ کی طرف اشارل کر کے نظر آوے۔

3۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنا کوئی سا بیٹا بلال یا انس کو دیتیں تو بلال یا انس کو کو دیتیں تو بلال یا انس کہا کرتے تھے کہ ہمیں حضرت فاطمہ کا ہاتھ چاند کا ٹکڑا سامعلوم ہوا کرتاتھا۔ پس ثابت ہوا کہ عورت کے منہ اور ہاتھ کی طرف نظر کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ یہ روایت تو عام طور پر منہ او رہاتھ کے کھلے رہنے کے جواز میں ہیں۔ان کے علاوہ وہ روایات ہیں جن سے نکاح کے ارادہ سے عورت کو دیکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ثابت ہوتا ہے۔ ایسی روایات کثرت سے ہیں ہم اس جگہ صرف تین چار احادیث کا ذکر کرتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ یارسول اللہ میں اس لئے آئی ہوں کہ اپنے تئیں آپ کے سپرد کرو ں۔ آپ نے اس کو خوب دیکھا بھالا ۔بخاری

ایک شخص نے کسی عورت سے خواستگاری کی آنحضرت نے فرمایا کہ اسکو پہلے دیکھ لے کیو نکہ انصار مدینہ کی آنکھوں میں کچھ عارضہ ہوتا ہے ۔مسلم ونسائی ۔

مغیر ہ بن شعبہ نے کسی عورت سے خواستگاری کی آپ نے فرمایا کہ اس کو دیکھ بھی لیا ہے اس نےکہا نہیں ۔ کہا پہلے دیکھ لے تاکہ تم میں الفت زیادہ ہو۔ (نسانی وترمذی) جابر کہتے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تم کسی عورت سے خواسگا ری کرو تو حتی الامکان جس وصف کے طالب ہو اس کو دیکھ لو۔ چنانچہ میں نے جب ایک عورت سے خواستگاری کی تو اس کو دیکھا کرتا تھا یہاں تک کہ میں نے اس میں وہ صف پالیا جو مجھے مطلوب تھا۔ ظاہر احادیث سے یہ نکلتا ہے کہ عورت کو دیکھنا جائز ہے۔ خواہ اس دیکھنے کا علم عورت کو ہو یا نہ ہو ۔نیل الاوطار

اس امر میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے خواستگار ی کرنی ہو اس کے جسم کا کس قدر حصہ دیکھنا جائز ہے۔ زیادہ ترمیلان رائے کا اس طرف ہے کہ صرف منہ اور دونوں ہاتھ دیکھنا جائز ہیں۔مگر داؤد نے کہا ہے کہ اس کے تمام جسم کو دیکھنا جائز ہے۔ نیل الاوطار

جس قدر آیات قرآنی اور روایات فقہی اور احادیث اوپر مذکور ہوئیں ان سے احکام ذیل حاصل ہوئے عورت اجنبیہ کا پردہ جو متفقا از روئے شریعت ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ۔

1۔ چہرہ او رہاتھ کے سوا تمام جسم چھپایا جائے امام ابوحنیفہ کے نزدیک پاؤں کا پردہ ضروری نہیں ۔ اور امام یوسف کے نزدیک جن کی رائے پرتمام حنفی لوگ فتویٰ دیتے ہیں عورت اجنبیہ کی باہیں بھی پردہ میں داخل نہیں۔

2۔ اگر کوئی شخص مغلوب الشہوت ہوتو وہ عورت اجنبیہ پر نظر نہ کرے۔

3۔ اس باب میں عورت اہل اسلام وکفار کا یکساں حکم ہے۔

4۔ نکاح کی غرض سے مرد کا عورت کو دیکھنا نہ دیکھنے کی نسبت جناب پیغمبر علیہ السلام کے ارشاد کے موافق زیادہ پسندیدہ ہے۔

پہلے حکم کے روسے ہندوستان کی عورت اہل اسلام کا وہ لباس بالکل خلاف شرع ٹھہرتا ہے جس کا دستور دہلی اور لکھنؤ کی شریف زادیوں میں ہورہا ہے کہ اس میں کرتی اس قدر اونچی ہوتی ہے کہ پائجامہ کے نیفہ اور کرتی کے کنارہ کے درمیا ن نہایت بے حیائی سے شکم نظر آتا رہتا ہے اور جن کی آستین اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ امام ابو یوسف کے فتوے سے بھی جس سے صرف کہنیوں سے نیچے تک کے حصہ کو برہنہ ہونے کا جواز نکلتا ہے اس بے شرمی کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔علاوہ اس بے شرمی کے جو بازوں او رپیٹ کی برہنگی کھلنے سے متصور ہے سب سے بڑی آفت جو دہلی ولکھنو کی عورت پر آئی ہے یہ ہے کہ وہ ایسی باریک مکمل اور تن زیب اور سینگ کالباس پہنتی ہیں کہ اس سے درحقیقت شکم و سینہ وپشت کا جس کا چھپانا قرآن مجید سے صریحا ظاہر ہے تقریباً بالکل برہنہ رہتی ہیں۔(جاری)

بشکریہ :۔ روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-20--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-20/d/2141


 

Loading..

Loading..