New Age Islam
Thu Oct 29 2020, 09:51 PM

Urdu Section ( 14 Jun 2010, NewAgeIslam.Com)

No Constitutional Problem in the establishment of a Branch of Muslim University مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے قیام میں کوئی آئینی قباحت نہیں

Muslim University in five towns of India said that there was no legal hurdle in the establishment of the campuses and asked everyone to extend his support to complete this gigantic task. The meeting was attended by the Bihar MLA Akhtarul Iman, the President of the AMU Old Boys Association, Khwaja Md Shahid, the Supreme Court Lawyer Feroz Ghazi and the editor of the Afkar-e-Milli, Qasim Rasool Ilyas.

Mr Akhtarul Iman said that the founder of AMU Sir Syed Ahmad Khan and his companions had faced many hurdles and hardships in establishing the University. Referring to the opposition of a section of people in the Muslim community as well as the communal outfits to the AMU campuses, Mr Akhtarul Iman said that the university was facing many obstacles in the opening of campuses but hoped that all the obstacles would be overcome. He further said that the Vice-Chancellor of the university as well as the university administration  had given their consent. The President of India had also given her written approval.

It should be noted that The University Action Committee represented by an Old Boy has filed a PIL in the Allahabad High Court challenging the decision of opening AMU campuses in distant towns, citing the University Act which says that a university can not open campuses beyond 25 km radius.

 

اس مرکزوں کو قائم کرنے میں ہر شخص کوبھرپور مدد کرنا چاہئے

نئی دہلی ۔ سیاسی رہنماؤں ،دانشوروں ،صحافیوں اور ماہرین قانون نے کہا ہےکہ ملک کے کسی بھی حصے میں علی گڑھ یونیورسٹی کی شاخ کے قیام میں کوئی قانونی یا آئینی قباحت نہیں ہے اور ان سینٹروں کے قیام میں  ہرشخص کو بھرپور مدد کرنی چاہئے۔ان خیالات کا اظہار یہاں ایک نمائندہ اجلاس میں کیا گیا جس میں بہار اسمبلی کے رکن اختر الایمان نے ، اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوایشن کے صدر خواجہ محمد شاہد، سپریم کورٹ کے وکیل فیروز غازی ،افکار ملی کے ایڈیٹر قاسم رسول الیاسی وغیرہ نے خطاب کیا ۔مسٹر اختر الایمان نے کہا کہ جس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی جدوجہد میں سرسید علیہ الرحمہ اور ان کے رفقا کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اسی طرح آج مسلم یونیورسٹیوں کی شاخوں خاص طور پر کشن گنج کی مجوزہ شاخ کی راہ میں رکاوٹیں آرہی ہیں لیکن علم دوست برادران وطن اور ملت کے فرزند سے اپیل کروں گا کہ وہ ہر رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے تیار رہیں ۔ انشا اللہ کشن گنج سینٹر قائم ہوکے رہے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسلم یونیورسٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی سینٹر کے قیام کے خواہش مند ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی اعتراض نہیں ہے ۔صدر جمہوریہ نے بھی اپنی تحریری اجازت دے دی ہے اور بہار کے وزیر اعلیٰ نےبھی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن اب جب کہ ریاستی اسمبلی انتخابات کو چند مہینے رہ گئے ہیں اب تک حکومت نے مطلوبہ زمین فراہم نہیں  کی ہے اس لئے مجھے اور ملت کے بہی خواہوں کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں سیاسی مفادات کی مقابلہ آرائی اور ودیارتھی پریشد کی ہنگامہ آرائی کے سبب یہ منصو بہ سردبستہ میں نہ چلا جائے اس لئے میں تمام فکر مندان قوم سے گزارش کروں گا کہ اس اہم مسئلہ پر چوکنا رہے اور حکومت بہار کواس بات کے اصرار کیجئے کہ وہ زمین الاٹ کاکام جلد از جلد کرے۔ اس موقعہ پر اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوایشن کے صدر خواجہ شاہد نے نہایت درد مندانہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کی شاخوں کے قیام کی راہ میں نہ کوئی قانونی رکاوٹ ہے اور نہ اس علی گڑھ کے کریکٹر پر کوئی اثر پڑے گا بلکہ علی گڑھ کے بانیوں نے جو خواب دیکھا تھا اس کی حقیقی تعبیر یونیورسٹی کی توسیع میں پنہا ں ہے۔ جو لوگ اس کو بہانہ بنارہے ہیں وہ ملک کے اس عظیم کاز(cause)کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی کاکشن گنج سنٹر قائم ہوکر رہے گا اور جہاں جہاں مجھے اس کی حمایت کرنی ہوگی میں اس کےلئے کبھی پیچھے نہیں رہوں گا۔ اجلاس کے دوران کئی لوگوں نے سوالات کئے جن کے جواب رکن اسمبلی اختر الایمان اور خواجہ شاہد نے دیے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی شاخوں کے قیام کے سلسلے میں قانونی گفتگو کرتے ہوئے فیروز غازی ایڈوکیٹ نے نہات قیمتی گفتگو کی اور کہا کہ جد وجہد اور عزم مصمم کے سامنے بڑی بڑی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اس لئے جد وجہد جاری رکھی جائے ۔ صدارتی خطاب کے دوران ماہنامہ افکار ملی کے چیف ایڈیٹر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ڈاکٹر قاسم رسول الیاسی نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ اب مسلمان اتنے بیدار ہوچکے ہیں کہ کوئی بھی حکومت انہیں نظر انداز نہیں کرپارہی ہے ۔ یہی صورتحال بہار میں بھی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوری ملک میں ہمیں مضبوط پریشر گروپ بنانا ہوگا تبھی ہمارے جائز مطالبات پر غور کیا جائے گا۔

(بشکریہ صحافت ،لکھنؤ)


Source: Sahafat, Lucknow

 

URL:

 

 https://newageislam.com/urdu-section/no-constitutional-problem-in-the-establishment-of-a-branch-of-muslim-university--مسلم-یونیورسٹی-کی-شاخ-کے-قیام-میں-کوئی-آئینی-قباحت-نہیں/d/2998



Loading..

Loading..