New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 11:54 PM

Urdu Section ( 25 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Today’s Women and the Al-Muminat Movement آج کی عو رت اور المؤمنات مہم

مدثر جمال تونسوی

کوئی بھی انسانی معاشرہ اس وقت تک مثالی اور قابل تقلید کردار پیش نہیں کرسکتا جب تک اس معاشرے کے دونوں پہیے یعنی مردوعورت اعلیٰ اخلاقی اور اقدار اور قابل تقلید کردار سے آراستہ نہ ہوں۔ چونکہ اسلام سے بڑھ کر کامل ومکمل دین اور کوئی نہیں اس لئے دین اسلام کی تعلیمات اور داعیان اسلام کی دعوتی واصلاحی کوششوں میں عورت کو بھی نمایاں مقام دیا گیا ہے بلکہ اس کی فلاح وبہبود او رکامیابی وکامرانی کیلئے جو امور ضروری تھے ان سے مکمل آگا ہی دی گئی ہے اور ان کی اصلاح وتربیت کا ایک جامع وجاندار نصاب بھی تجویز کیا گیا ہے۔ سرورکائنات ،فخر موجودات ،محسن انسانی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی برکت سے انسان کو ایسا درست عقیدہ او رصحیح شعور نصیب ہوا جو سراسر مکارم اخلاق اور فضائل ومحاسن کا حسین مجموعہ ہے اور ان  کی لائی ہوئی تعلیمات کی بدولت معاشرے کی ایک اہم رکن عورت جو انسانی معاشرے میں انتہائی پستی کے مقام پر گر چکی تھی، اسے ایمان وعمل ،عزت و تکریم اور حیا ووقار کے اعلیٰ مراتب نصیب ہوئے۔ اسلامی تعلیمات بتائی ہیں کہ مرد وعورت کا باہمی تعاون اور صحیح بنیادوں پر قائم اشتراک عمل ہی ایسا نسخہ ہے جو ایک شاندار ماحول و معاشرہ قائم کرسکتا ہے اس لیے انسانی مساوات کے اس  مفہوم میں مرد وعورت دونوں کو برابر شریک رکھا گیا ہے۔

قرآن کریم نے یہ واضح کردی ہے کہ حقوق وفرائض کے حوالے سے مرد وعورت میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا فرمایا:‘‘ اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پرحق ہے دستور کے مطابق اور مردوں کے لیے عورتوں پر ایک گونہ فضیلت ہے’’۔(البقرہ:228) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں جن کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح مردوں پر عورتوں کے حقوق ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے ، ہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ ( دنیا میں بعض جہتوں سے) مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے ، اور یہ بڑھا ہوا درجہ یہ ہے کہ مردان کے نگران اور ذمہ دار ہیں، دنیا میں نظام عالم اورانسانی فطرت اور خود عورتوں کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ مردوں کو عورتوں پر ایک قسم کی حاکمیت اور نگرانی کا نہ صرف حق دیا جائے بلکہ ان پر لازم کردیا جائے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آخرت میں بھی مردوں کو یہ فضیلت حاصل رہے گی، کیونکہ اُخروی فضیلت کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہے، وہاں درجات کی ترقی وتنزلی ایمان وعمل کے درجات کے مطابق ہوگی ،اس لیے امور آخرت میں یہ ضروری نہیں ہے کہ مردوں ہی کا درجہ عورتوں سے بلند رہے، یہ بھی ہوسکتا ہے اور حسب تصریح آیات وروایات ایسا ہوگا کہ بعض عورتیں اپنی طاعت وعبادت کے ذریعے بہت سے مردوں پر فائق ہوجائیں گی، ان کا درجہ بہت سے مردوں سے بڑھ جائے گا۔

خواتین کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات اتنی واضح ، صاف او ربے غبار ہیں کہ کوئی کور چشم ہی ان سے چشم پوشی کرسکتا ہے۔ آپ کچھ دیر کیلئے ماضی میں جاکر تصور کیجئے اس معاشرے کا جس میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی یا سن بلوغ تک پہنچنے سے پہلے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا اس معاشرے او ران حالات میں اسلام نے بچیوں کی پیدائش ،اور ان کی اعلیٰ دینی ودینوی تعلیم وتربیت کو ایک عظیم شرف اور ایک بڑی نیکی قرار دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دوبیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ جو ان ہوگئیں قیامت کے روز میں  اور وہ شخص ان دوانگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتی ہیں کہ ایک عورت اپنی دوبچیوں کے ساتھ میرے پاس آئی اور کچھ مانگنے لگی ،اس وقت میرے پاس صرف ایک کھجور تھی جو میں  نے اس کو دے دی ،اس عورت نے اس کھجور کے دوٹکڑے کئے اور اپنی دونوں بیٹیوں کو د ے دیئے ،خود کچھ نہیں کھایا، پھر اٹھی اور چلی گئی، جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو میں نے یہ  قصہ آپ کو سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ان لڑکیوں کی تربیت کے دوران مشقت برداشت کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو یہ لڑکیاں اس کے لے دوزخ سے آڑ اور رکاوٹ ثابت ہوں گی۔(بخاری)

اسلام نے عبادات او رمعاملات سے تعلق رکھنے والے تمام احکام میں صرف مردوں ہی کو مخاطب اور مکلّف نہیں بنایا بلکہ جس طرح نماز ، روزہ، زکوٰۃ ،حج وغیرہ مردوں پرفرض ہیں اسی طرح عورتوں پر بھی فرض ہیں، قرآن کریم میں دونوں کو مخاطب بنایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی اچھی صفات کا ذکر ہے وہاں صرف مردوں ہی کو ان صفات کا مستحق قرار نہیں دیا گیا بلکہ عورتوں کو بھی ان صفات میں شریک کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ ارشاد فرمایا: مسلمان مرد، مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ،فرماں بردار مرد، فرماں بردار عورتیں ،صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ،تقوے والے مرد اور تقوے والی عورتیں ، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں ،اپنی شرم گا ہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں ،اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ،اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بڑا ثواب مہپا کر رکھا ہے’’(الاحزاب :53)۔اسی طرح علم دین جو انسانی شرف وکمال کا مدار ہے اس کے حصول کا مکلّف بھی صرف مردوں کو قرار نہیں دیا گیا بلکہ زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا :‘‘ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے’’اس میں کسی صنف کی تخصیص نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام میں صرف اہل علم مردوں ہی کا ذکر نہیں ملتا بلکہ ہردور میں ایسی عورتوں کا بھی بکثرت ذکر ملتا ہے جنہوں نے علم کی بے مثال خدمت انجام دی اور شہرت دوام حاصل کی، بہت سی خواتین حصول علم کے لئے سفر کی مشقتیں اور تکالیف بھی جھیلا کرتی تھیں۔ مشہور مورخ قاضی اطہر مبارک پوری نے اپنی کتاب ‘‘خواتین اسلام کی دینی وعلمی خدمات’’ میں ایسی بہت سی خواتین کے حالات او رکارنامے لکھے ہیں جنہوں نے فقہ وحدیث کی بڑی خدمت کی ہے، شیخ علاوالدین سمر قندی کی بیٹی فاطمہ بڑی زبردست فقیہہ تھیں ، ان کے شوہر شیخ علاو الدین کا سانی جس وقت اپنے خسر کی کتاب تحفۃ الفقہا کی شرح البدائع و الصنائع لکھنے میں مشغول تھے تو جناب فاطمہ کے ساتھ تعاون کرتی تھیں، اگر شوہر سے کوئی غلطی ہوجاتی تو وہ اس کی تصحیح بھی کردیتی تھیں، والد او رشوہر دونوں کو ان کی فقاہت پر بڑا اعتماد تھا، یہی وجہ ہے کہ فتاویٰ میں ان تینوں کے دستخط ہوا کر تے تھے، علوم قرآن ہوں، یا علوم حدیث او رعلوم  فقہ، ادب کا میدان ہو یا طب کا، مقام ولایت ہو یامیدان جہاد ہر جگہ مسلمان خواتین نمایاں نظر آتی ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام نے نصف انسانیت کو اس کے پورے پورے حقوق عطا کئے ہیں۔

اسی طرح میدان جہاد میں مردوں کا کردار ہر شک سے بالا تر ہے، وہیں مسلم خواتین کا نمایاں اور یادگار کردار بھی ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی بھی باشعور انسان نہیں جھٹلا سکتا ۔ امام بخاری نے خواتین کے جہاد میں حصہ لینے اور قتال کرنے کے موضوع پراپنی مشہور کتاب  صحیح بخاری شریف میں کئی باب قائم کیے ہیں۔ حضرت مولانا محمد زکریا کاند ھلوی رحمۃ علیہ نے حکایات صحابہ کے دسویں باب میں عورتوں کا دینی جذبہ کے تحت نوع کے کئی واقعات ذکر کیے ہیں ۔ مثلاً حضرت ام زیاد رضی اللہ عنہ کا چند دیگر عورتوں کے ہمراہ مل کر غزوہ خیبر میں شریک ہونا، حضرت ام احرام رضی اللہ عنہ بنت ملحان کی غزوۃ البحر یعنی  سمندر ی جہاد میں شرکت کی تمنا اور پھر اسی جہاد میں شہادت پانا، حضرت خنسا رضی اللہ عنہ کی اپنے چار بیٹیوں سمیت جہاد میں  شرکت ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا غزوہ احد میں شریک ہونا پھر غزوہ خندق میں تن تنہا ایک بدنیت یہودی کو قتل کرنا، حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہ کا اکثر غزوات مثلاً  غزوہ احد ، غزوہ حدیبیہ ،غزوہ خیبر ، عمر ۃ القضا ، غزوہ حنین ،غزوہ یما مہ جو مر تدین کے خلاف ایک معر کۃ الآرا جنگ تھی اس میں شرکت کرنا اور غزوہ احد میں تو ایسی بہادری دکھائی جسے دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی داد دینے لگے اور فرمایا : اے ام عمارہ! اتنی ہمت کون رکھتا ہوگا جتنی تو رکھتی ہے ؟ چونکہ قرآن اول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابیات مکرمات نے ایسے شاندار جہادی نقوش قائم کئے تھے اس لئے ہر دور میں اسلام کی تاریخ میں ایمان والی نیک بخت عورتوں کا یہ کردار کسی نہ کسی طور زندہ رہا۔

یہ ہے وہ مساوات جو اسلام نے مردوعورت کے درمیان نہ صرف نظریاتی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی قائم کی ہے، مگر اس مساوات کو بلاقید آزادی کا پروانہ سمجھنا غلط ہے، اسلام نے عورتوں کی آزادی کے لیے ایک حد مقرر کی ہے، اس حد میں رہ کر وہ دنیا کی تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتی ہے اور ہر میدان میں اپنا فعال کردار ادا کرسکتی ہے ، یورپ نے عورت کو کھلی آزادی دے کر جو غلطی کی ہے پوری دنیا کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ کررہی ہے، فواحش او ربے حیائی عام ہوچکی ہے، دنیا شروفساد کا گھر بن گئی ہے ،قتل وخوں ریزی اس قدر بڑھ گئی  ہے کہ دور جاہلیت میں اس قدر خوں ریزی نہ تھی ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمتہ اللہ علیہ نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ‘‘آج حکومتیں دنیا میں قیام امن کے لیے روزنئے قانون بناتی ہیں، اس کے لیے نئے نئے ادارے قائم کرتی ہیں، کروڑوں روپیہ ان پر صرف ہوتا ہے، لیکن فتنے جس چشمے سے پھوٹ رہے ہیں اس کی طرف دھیان نہیں دیتیں ،اگر آج کوئی کمیشن اس تحقیق کے لیے بٹھایا جائے کہ فساد وخوں ریزی اور باہمی جنگ وجدل کے اسباب کی تحقیق کرے تو خیال یہ ہے کہ پچاس فیصد سے زیادہ ایسے جرائم کا سبب دین سے محروم عورت اور اس کی بے مہا آزادی نکلے گی، ابنائے زمانہ یا عورت کو انسان کہنے اور سمجھنے کے لیے بھی تیار نہ تھے اور آگے بڑھے تو یہاں تک پہنچے کہ مردوں کی سیادت اور نگرانی جو مردوں عورتوں اور پوری دنیا کے لیے عین حکمت و مصلحت ہے اس کا جو ابھی گردن سے اتارا جارہا ہے۔( معارف القرآن :1/055)

آج دیگر بہت سے معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی ہمارا معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہوچکا ہے ایک طرف کے طبقے کا پورا زور اس بات پر صرف ہورہا ہے کہ مسلم خواتین کو مغربی عریانی تہذیب وثقافت میں رنگ دیا جائے اور اسے حقوق نسواں کے نام پر فریب دے کر شرم وحیا ، ایمان واعمال صالحہ سے یکسر محروم کردیا جائے تو دوسری طرف بعض کم علم طبقوں کا حال یہ ہے کہ  وہ عورتوں کو دینوی تربیت اور بنیادی وضروری دینی  تعلیمات سے روشناش کرانے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں اس لئے آج کی عورت ان دوانتہاؤں کے درمیان بہت بری طرح سے پس رہی ہے۔ ان حالات میں ایک داعی برحق کے دل میں یہ کڑھن پیدا ہونا کہ مسلم معاشرے کی عورت کو صحیح اسلامی کردار سے روشناس کرایا جائے عین تقاضائے وقت ہے اور الحمد للہ اسی تقاضائے وقت کو سامنے رکھتے ہوئے امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظ اللہ تعالیٰ نے ‘آٹھ روزہ ‘ المومنات مہم’’ کے ذریعے ایمان والی خواتین کو ان کی اصل پہچان یاد کرائی ، ان تک دین کو اصل مطالبہ پہنچایا او ران پر عائد ہونے والی دینی ذمہ داریوں سے انہیں آگاہ کیا۔(1) ان میں ایمان کی پرزوردعوت چلائی گئی، (2)نماز قائم کرنے پر زور دیا گیا، (3) شرم وحیا او رپردے کی پابندی کا عہدلیا گیا، (4) معاونت جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت سمجھائی گئی اور اس کے متعدد ممکنہ وجائز طریقے بتائے گئے ۔ علاوہ ازیں تمام اعمال صالحہ کی طرف راغب کیا گیا، دینی تربیت او رمزاج کی ایسی تشکیل کی گئی کہ وہ نہ صرف اپنے گھریلوں معاملات میں اپنے مردوں اور بچوں کی دینی معاون بن جائیں بلکہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی دیگر مسلم بہنوں کو بھی پاکیز ہ روحانی ماحول میں لانے والی  بن جائیں اور یہ سب کچھ مسلم خواتین کو گھر کی چار دیواری میں مہیا کیا گیا تاکہ  اسلام کی قائم کردہ حدود کی پامالی کی ہر ممکنہ راہ مسد ود ہوجائے۔ اس وقت اگر چہ یہ آٹھ روزہ مہم اختتام پذیر ہوچکی ہے  مگر اس کا پیغام آگے پھیلانا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا یہ ایک کٹھن کام اور اصل مقصود ہے جس پر استقامت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور آج مسلم خواتین کو ‘‘المؤمنات مہم’’ کا یہی پیغام ہے۔

بشکریہ :القلم ، پاکستان

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/today’s-women-and-the-al-muminat-movement--آج-کی-عو-رت-اور-المؤمنات-مہم/d/7154

 

Loading..

Loading..