New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:18 PM

Urdu Section ( 7 March 2010, NewAgeIslam.Com)

Islam And Global Peace اسلام اور عالمی امن


محمد الیاس ندوی رامپوری

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کلام میں متعدد مرتبہ اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ اگر وہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی دین پر استوا رکھتا ،سب کو ایک ہی امت بنا کر برپا کرتا اور لوگ قیامت تک ایک ایک ہی امت بن کر رہتے لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا۔ اس کے برخلاف اس کی منشا یہ رہی کہ اس دنیا میں رنگا رنگی رہے ،تمام طرح کے ادیان رہیں اور تمام طرح کے لوگ بھی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح رنگ اور نسل کا فرق ہے اور جس طرح زبان اور لہجوں کا فرق ہے،موسموں کا فرق ہے اور علاقوں کا فرق ہے۔ اسی طرح انسانوں کے درمیان دین اور عقیدے کا فرق بھی اللہ کو فطری اور تکوینی تقاضوں کے تحت مطلوب ہے اور یہ سب اس لیے ہےکہ تاکہ اختیار اور پھر آزمالش کا مقصد پر سب کو ایک ہی امت بنا دیتا اور سب کے لیے ایک ہی دین کو منتخب فرمالیتا تو آزمائش و امتحان کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔پھر تو کوئی ایک ہی چیز ہوسکتی تھی ۔اسلام یا کفر اور جنت یا جہنم ۔پھر تو دونوں چیزوں کے بیک وقت وجود کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا ۔قرآن نے اختلاف امم کی جو وجہ بتلائی ہے وہ آزمائش بتلائی ہے۔ سورۂ فائدہ میں ہے:

 

وَلَوْ شَآ ئَ اللہُ لَجَعَلَکٰمْ اُمٔۃّ وَّ احِدَۃ ؤ لٰکِنْ لِّیَبُلُوَ کُمْ فِیْ مَآ اتکُمْ فَا ستَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اِلَی اللہِ مَرْجِعْکُمْ جَمِیُعًا (المائدہ :48)

‘‘ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا ۔( لیکن اس نے نہیں کیا اور اس کی حکمت یہ ہے کہ ) وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے ان تمام شرعی احکام وقوانی میں جو اس نے تمہیں دیئے ہیں۔ تو تم نیکیوں کی طرف سبقت کرو ۔ اور یاد رکھو کہ تم سب کو آخر کار اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے’’۔

 

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ا نسانی دنیا کی تخلیق کا ایک مقصد ؛ ایک ایسی مخلوق میں اپنا تعارف بھی بتایا ہے جو اللہ کی خلاقیت وربوبیت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے لیے خود محتار ہو۔ گرچہ قرآن کی آیت کریمہ؛

وَمَا خَلَقُتُ الْجِنً وَاْلِأ نْسَ اِل لأ لِیَعُبُدُ ؤنِ (الذاریات :56)

‘‘میں نے جنات اور انسان کو اپنی بندگی کے واسطے پیدا کیا ہے’’

سے بظاہر تخلیق انس وجن کا مقصد بندگی محض ،معلوم ہوتا ہے لیکن یہاں پر یہ نکتہ بھی خاصا اہم ہے کہ انسان کی تخلیق سے پہلے فرشتے موجود تھے جو اللہ تعالیٰ کی رات دن تسبیح بیان کررہے تھے پھر بھی اللہ نے انسان کو پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کرے ۔ اس بات کو جاننے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فرشتوں اور انسان کی عبادت میں ایک بنیادی فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ فرشتے جبری عبادت کرتے ہیں اور انسان اختیاری عبادت کرتا ہے۔ فرشتے اس بات کے لیے مجبور محض ہیں کہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کی حمدوثنا بیان کرتے رہیں لیکن انسان کے سامنے ایسی کوئی مجبوری نہیں اس کو اختیار ہے، چاہے تو عبادت کرے اور چاہے تو عبادت نہ کرے۔ اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ جن وانس کی تخلیق کا مقصد‘محض بندگی’نہ ہوکر ‘اختیار ی بندگی ہے اور جب ایسا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ ایسا بھی ضرور ہوگا کہ کچھ لوگ اپنے اس اختیار کو درست طریقے پر استعمال کریں اور کچھ لوگ اس کا غلط طرح سے استعمال کریں اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ کی عبادت کرنے والے اور عبادت نہ کرنے والے قیامت تک اس دنیا میں موجود رہیں گے۔ دوسرے لفظوں میں کفراور اسلام ہمیشہ باقی رہیں گے اور جب یہ بات معلوم ہوگئی تو یہ سوال بھی خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں کی حیثیت کیا ہوگی ،دونوں میں سے کون غالب رہے گا اور کون مغلوب ۔اللہ نے جو فطری قوانین بنائے ہیں ان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر غالب اور مغلوب کی حیثیت سے رہیں گے۔کبھی ایک غالب ہوگا اور کبھی دوسرا ۔بالکل ایسی طرح جس طرح اللہ کے نبیؐ اور مشرکین کے درمیان جنگوں کا معاملہ تھا فتح اور شکست دونوں کے درمیان دائر رہتی تھی ۔خود قرآن نے اس کی وضاحت کی ہے:

وَتِلْکَ اْلاَ یِّامْ نُدَا وِلُھَا بَیُنَ النَّا سِ (آل عمران :۱۴)

‘‘  ہم زمانے کو لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں’’

یعنی کبھی ایک گروہ کو غالب کردیتے ہیں اور کبھی دوسرے کو غالب کردیتے ہیں ۔کبھی ایک کو فتح دیتے ہیں اور کبھی دوسرے کو ،کبھی ایک کو سروری دیتے ہیں اور کبھی دوسرے کو ۔ایک دوسری جگہ پر اہل ایمان سے خطاب ہے:

وَ اِن تَتَوَ لٔوْ ا یَسُتَبُدِلٔ قَوْ مّا غَیرَ کُمٔ لاَ یَکُمُ نُؤ اَمُثَا لَکُمُ (محمد :۳۸)

‘‘اگر تم نے روگردانی کی، تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو برپا کرے گا جو تمہاری طرح نہیں ہوگی’’

یہ تو اللہ کے فطری اور تکوینی قوانین کی بات ہوئی ۔اس کے بعد جو بات آتی ہے وہ اللہ کی منشا اور اس کی پسند کی بات آتی ہے کہ اللہل تبارک تعالیٰ کو کس گروہ اور کون سے دین کا غلبہ پسند ہے ۔ تو اس سلسلے میں قرآن کا صاف صاف اعلان ہے:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْثُ لَکُمُ دِیْنکُمْ وَاَتُممُتُ عَسلَیْکُمْ نِعُمَیّیُ وَرَ ضِیْتُ لَکُمُ اُلاِ سُلام دِیِنا (الماندہ:۳)

 

‘‘ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند فرمالیا’’

یہاں سردست یہ بات بھی بخوبی سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ کو دین اسلام پسند ہے تو صرف اس لیے پسند نہیں کہ چونکہ وہ اللہ ہے اور مختار کل ہے وہ جوچاہے پسندکرے ۔اس کی مرضی بلکہ اس کی اس پسند میں انسانوں کی بھلائی شامل ہے۔ زمین پر زندگی باقی رکھنے کے لیے جن عقائد ،نظریات اور اصولوں کی ضرورت تھی وہ سب اس کی نظر میں تھے اور ہیں۔ لہٰذا اس نے خاص اسی مصلحت کے پیش نظر اسلامی اصول ونظریات اور عقائد کو انسانوں کے لئے پسند فرمایا کیونکہ اسی میں ساری انسانیت کی بھلائی مضمر ہے، یہی وہ اصول ہیں جو فطرت کے بھی عین مطابق ہیں اور انسانی نفسیات اور ضروریات کے بھی عین مطابق ہیں۔ اللہ کے جتنے بھی اصول ہیں وہ انسانیت کے لئے سرتا پارحمت ہیں اور قیامت تک کے لیے رحمت ہیں، اسی لیے اللہ نے اپنے نبی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :

وَمَآ اَرُسَلْنکُ اِلأ رَحْمَۃُ لِّلعلَمِیْن (الا نبیا:۱۰۷)

 

‘‘ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔’’

ان تمہیدی باتوں سے موجودہ دنیا میں مسلمانوں کے تئیں ایک ایسے لائحہ عمل کا سراغ ملتا ہے جو خود اللہ کو بھی پسند ہے، مسلمان بھی اس پر راضی ہیں اور دنیا میں موجود دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی اس سے کوئی پریشانی نہیں ۔وہ لائحہ عمل یہ ہے کہ ایک طرف مسلمانوں کو اللہ کے بنائے ہوئے فطری اصولوں کا بھی پابند ہوتا ہے اوردوسری طرف اللہ کی پسند اور رضامندی وخوشنودی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ دین کو غالب کرنے کے لیے کوشش بھی کرنا ہے اور دیگر ادیان کا احترام اور ان کو انگیز بھی کرنا ہے۔

یہ بڑی عجیب سی سچویشن ہے اور بہت مشکل ہدف بھی۔ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہوئی کہ کوئی شخص اپنے مد مقابل کو شکست فاش بھی دینا چاہے اور پھر اس کو خوش بھی دیکھنا چاہے ۔بظاہر یہ بڑی عجیب اوردلچسپ سی حالت ہے مگر اللہ کے تمام قوانین میں کسی نہ کسی درجہ میں یہی سچویشن پائی جاتی ہے۔ذرا فارسی کے اس شعر پر غور کیجئے ۔جو اللہ کے فطری قوانین اور انسان سے اللہ کے مطالبات کے درمیان پائی جانے والی ایک ایسی ہی سچویشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردئی

باز می گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش

‘‘پہلے تو مجھے دریا میں ڈبکیاں دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ دیکھودامن نہ بھگولینا’’

 

ایک طرف تو دین اسلام کو دیگر تمام چھوٹے بڑے مذاہب پر غالب کرنے کا حکم ہے اوردوسری طرف دیگر مذالب اور ان کے ماننے والوں کو کسی بھی قسم کے صدمات سے دوچار نہ کرنے کا حکم ہے۔بظاہر یہ ایک عجیب وغریب ٹارگیٹ ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کے سررکھا ہے۔ہاں یہ بالکل عجیب وغریب ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ انہیں یہ ذمہ داری دے کر چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ اللہ نے اس عجیب وغریب ٹارگیٹ کو حاصل کرنے کے لیے رہنما ہدایات بھی دی ہیں ۔اگر مسلمان ان کو پیش نظر رکھیں تو یقینا کامیابی سے ہمکنار ہوں اور وہ عجیب وغریب بات پیدا کرلیں جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں اور اللہ نے صرف یہی نہیں کیا کہ انسانوں کو رہنماہدایات دے کر چھوڑ دیا بلکہ اپنے آخری نبی ؐ اور ا ن کے اصحاب کےتوسط سے ایسا کر کے بھی دکھا دیا۔ اللہ نے اپنے نبیؐ کے اصحاب کو دنیا کے بیشتر حصے پرغلبہ واستحکام دیا اور ان کے ذریعہ امن وامان کی ایسی مثال قائم کروائی ککہ اس جیسی مثال دنیا نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ اس کے بعد آج تک دیکھی ہے۔ جب اللہ کا دین غالب تھا صرف یہی نہیں تھا کہ صرف مسلمان ہی خوش تھے بلکہ تاریخ کے شواہد موجود ہیں کہ ان کی قیادت میں دیگر تمام اقلیتیں اور تمام چھوٹے بڑے مذاہب بھی خوش تھے، ان کے جان ومال محفوظ تھے اور ان پر کسی قسم کا سماجی دباؤ نہیں تھا۔

 

 انہیں اخلاقی مراعات حاصل تھیں اور اگر ان پر ظلم ہوتا تھا تو ان کو انصاف ملتا تھا ۔آج کل پر امن بقائے باہم (Coexistance) اور بین المذہب مذاکر؎ات (Interfaith) کی بات بڑی شدومدکے ساتھ اٹھائی جارہی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے سیاسی اور مذہبی نمائندے دنیا کے مختلف ممالک کے دوروں پر نکل کھڑے ہوے ہیں اور وہ ہر جگہ جمہوریت، امن وشانتی ،پرامن بقا ئے اہم اور بین المذاہب مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔ اور ڈھکے چھپے انداز یا کبھی کبھی واضح لفظوں میں مسلمانوں اور اسلام کا عندیہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام اس معاملے میں کیا کہتا ہے اور مسلمان لیڈروں کا معاملہ یہ ہے کہ جیسے اندھے کو بٹیر ہاتھ لگ جائے ۔ وہ اس بات سے ہی خوش ہیں کہ انہیں انٹر نیشنل میڈیا میں آکر چند لفظ بولنے کا موقع نصیب ہوجاتا ہے اور ان  کا اپنا سیاسی یامذہبی قد اونچا ہوجاتا ہے ،یہ جانے اور سمجھے بغیر کہ امریکہ، اسرائیل اور یورپ ، جمہوریت ،امن، اور دہشت گردی کا شور بلند کر کے اس کے پس پردہ اپنے عزائم کی تکمیل میں جٹے ہوئے ہیں۔

 

یہ ممالک تو یہی چاہتے ہیں کہ دنیا دہشت گردی کے سائے کے پیچھے بھاگتی رہے، پڑھے لکھے اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ اسی طرح مذاکرات کرتے رہیں اور مذہبی نمائندے قرآن وحدیث کے بحربے کراں سے اسی طرح امن وامان ،بقا ئے باہم اور باہمی گفتگو کی موافقت اور دہشت گردی کی مخالفت کے لیے دلیلیں تلاش کرتے رہیں ۔ چنانچہ آج کی حالت یہی ہے کہ پوری مسلم دنیا سوالات کے گھیرے میں ہے۔ وہ جواب تلاش کرنے اور جواب دینے میں ہی اپنی صلاحیتیں کھپارہی ہے اور اس مصروفیت اور شور وہنگامے کی آڑ میں سپر پاور طاقتیں اپنا شیطانی کھیل کھیل رہی ہیں۔ مسلم دنیا میں روزانہ کے حساب سے سیکڑوں اموات ہورہی ہیں جن میں زیادہ تر بے قصور اور معصوم لوگوں کی جانیں جارہی ہیں۔بطور خاص جواں سال بچے روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں لقمۂ اجل بن رہے ہیں اور باقی دنیا کو نہ صرف یہ کہ اس کا درد نہیں ہوتا بلکہ وہ الٹا یہی سوچتی ہے کہ :

 

خس کم جہاں پاک

جہاں تک پرامن بقائے باہم

 

(Coexistence)اور بین المذاہب مذاکرات (Interfaith dialogue)کے بارے میں اسلامی تعلیمات کاسوال ہے تو اسلام نہ صرف یہ کہ ان کو تسلیم کرتا ہے، اس قسم کے کھلے ماحول کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔انسانی بنیادوں پر آپسی رشتوں اور تعلقات کا حامی ہے بلکہ وہ تو ان چیزوں کا زبردست داعی بھی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان طرح کی کوششوں سے اسلام کو ہی فائدہ پہنچنے والاہے۔ صلح حدیبیہ میں یہی سب تو ہوا تھا کہ جب یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا، اللہ کے رسولؐ نے مشرکین کی بہت ساری بے سروپا قسم کی شرطیں بھی منطور کرلیں، جنہیں لے کر اجلۂ صحابہ بھی فکر مندتھے ۔جنگ بندی کے بعد جب مسلمانوں کا دوسری قوموں کے ساتھ رابطہ بڑھا تو اسلام کی حقانیت مزید نکھر کر سامنے آئی۔ بدگمانیاں دور ہوئیں اور سچائی واضح ہوگئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے ۔

 

تودنیا جتنی زیادہ پرامن ہوگی ،آپسی رشتوں میں جتنی زیادہ خوشگواری ہوگی، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور بات چیت کرنے کی جتنی زیادہ آزادی ہوگی، طبعیتوں میں جتنی زیادہ آمادگی اسلام کو پھلنے پھولنے کے اتنے ہی زیادہ مواقع حاصل ہوں گے ۔شریعت میں دواصطلاحی لفظ ہیں ۔ اسلام اور ایمان ،ایک کا مدہ ‘سلم‘ ہے اور دوسرے کا ‘امن’ اور ان دونوں کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی ‘امن وسلامتی’۔ اسی طرح مسلمانوں کے تعارف کے لیے بھی دولفظ استعمال کیے جاتے ہیں ‘مسلم’ اور ‘مومن‘ ۔جو پہلے دولفظوں ہی سے مشتق ہیں اور ان کے معنی بھی تقریباً وہی ہوتے ہیں ۔یعنی امن وسلامتی ہی کے دوسرے دونام ہیں ‘ اسلام’ اور ‘ایمان’ اور اسی طرح جو شخص خود اپنی اور دوسروں کی سلامتی چاہتا ہے وہ ‘مسلمان ’ ہے۔ اور جو خوداپنے لیے اور دوسروں کے ‘امن’ چاہتا ہے وہ ‘مومن’ ہے۔ پرامن بقائے باہم (Coexistance) کے سلسلے میں قرآن کی ہدایات نہایت صاف اور واضح ہیں،چند تعلیمات درج ذیل ہیں: لا

۱۔ لاَ اِکُرَاہَ فِی الدِّ ینِ قف قَدْ تُبَینَ الرّشُدُ مِنَ الْغَیّ (البقرہ :۲۵۶)

 

’’دین میں کسی طرح کی کوئی زبردستی نہیں ۔ اب ہدایت گمرہی سے واضح ہوچکی ہے۔’’

۲۔لَکُم دِیُنُکْمُ وَلِیَ دِینِ (الکافرون :۶)

‘‘ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین’’

۳۔ وَلاَ تَبُو ا الّذِینَ یَدُ عُوْنَ مِنْ دُوُن اللہِ فَیبُوا اللہ عَدُوّام بِغَیُرِ عِلّم (سورہ انعام :۱۰۸)

‘‘جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ،ان کے خداؤں کو برامت کہو، نہیں تو وہ بھی نادانی اور دشمنی میں اللہ کو برا کہیں گے’’

(جاری)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/islam-and-global-peace--اسلام-اور-عالمی-امن/d/2548


 

Loading..

Loading..