New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 11:03 AM

Urdu Section ( 25 Feb 2010, NewAgeIslam.Com)

The Glorious Tradition Of Milad Al-Nabi Celebration In Uttar Pradesh اتر پردیش میں جشن میلاد النبی کی شاندار روایت


قطب بصیر

ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں اپنے اپنے طریقہ سےجشن میلاد النبیؐ منایا جاتا ہے ان میں لکھنؤ اور پورے اودھ کا انداز جدا گانہ ہے۔ یہاں اس دن کچھ لوگ چراغاں بھی کرتے ہیں لیکن سڑکوں اور محلوں میں برقی قمقموں کو روشن کرنے کا عام رواج ہے۔ محافل میلاد کا اہتمام ہوتاہے تو گھروں میں درود وسلام کے نذر انے پیش کرنے کے علاوہ نعت پرھنے کا عام رواج ہے۔ ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی لکھنؤ کی فضائیں درود وسلام سے گونجنے لگتی ہیں۔ گھروں سے نعت پڑھنے کی آواز یں بلند ہونے لگتی ہیں۔ نعت خوانوں کی ٹولیاں سرگرم ہوجاتی ہیں ان میں بچوں اور بڑوں کی الگ ٹولیاں ہوتی ہیں ان کا مقابلہ بھی ہوتا ہے۔ جج صاحبان بیٹھتے ہیں  ۔ اچھی نعت خواں ٹولی کو شیلڈ اور انعامات دیئے جاتے ہیں۔ اس کی بڑی پرانی روایت لکھنؤ نیا گاؤں مشرق میں برقرار ہے جہاں شہر بھر کی نعت خواں انجمنوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ اسکولی بچے اب اردو کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی نعت پڑھنے لگے ہیں۔ بچوں میں قرأت اور تقاریر کا مقابلہ ہوتا ہے اور مختلف انجمنیں بڑے ذوق وشوق کے ساتھ ان بچوں کی ہمت افزائی کرتی ہیں اور انہیں انعامات سے نوازتی ہیں۔ اس میں چھوٹی بچیاں کسی سے پیچھے نہیں رہتی ہیں۔

یوں تو ہر محلے اور پارک میں عید میلاد کے جلسے پورے ماہ ربیع الاول ہوتے ہیں لیکن اس کا بڑا قدیم جلسہ سریت قدیم چوک کے ہر ن پارک میں ہوا کرتا تھا۔ آج کل سب سے بڑے دو جلسے یہاں روایتی طور پر ہو رہے ہیں۔ لکھنؤ میں سب سے قدیم میلاد النبی ؐ کا جلسہ جو اجتماعی طور پر ہوتا تھا وہ نوابین اودھ کی بستی حسین آباد جہاں تاریخی آثار بھرے پڑے ہیں انہیں میں شیش محل کے سامنے بنے تاریخی گھنٹہ گھر ہے اسی کے سبزہ زار پر ہوا کرتا تھا۔آزادی سے قبل یہ میلاد کا جلسہ قومی یکجہتی کا ایک مجمع ہوتا تھا جس میں ہر مذہب وملت اور مسلک کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ لکھنؤ کی یہ قدیم ترین میلاد کی تقریب تھی جس میں باقاعدہ شیرینی تقسیم ہوتی تھی۔ امتد اد زمانہ کے بعد جب ملک آزاد ہوگیا تو میلاد کی یہ عظیم الشان تقریب گھنٹہ گھر کے سبزہ زار پر ہونے کی روایت ختم ہوگئی۔ آزادی کے بعد شہر میں انجمن فردوس ادب کا قیام ہوا جس نے بڑے وسیع پیمانے پر جھنڈے والا پارک ا مین آباد میں  میلاد النبی کا جلسہ کرنا شروع کیا ۔میلاد کے ان جلسوں کے روح رواں اردو کے بڑے بڑے شعرا ،صحافی، ادیب ،دانشور اور ہر مسلک کے علما نے اس میں شرکت کی۔اسی کے قبیل کی ایک اور انجمن خیر البشر ہے۔ اس نے ترکاری منڈی چوک پر میلاد کا جلسہ شروع کیا۔ ان میں سے ایک انجمن فردوس ادب کا جلسہ ہے جو امین آباد جھنڈے والا پارک میں ہوتا ہے اور دوسرا جشن خیر البشر کا جلسہ ہے جو شہر کے قدیم علاقے چوک ترکاری منڈی میں ہوتا ہے ۔ اس جلسہ کی خوبی یہ تھی کہ عرصہ تک ولادت کا ذکر جید عالم دین خانوادہ فرنگی محل کے اہم ستون حضرت مولانا ہاشم میاں فرنگی محلی بڑے بلیغ انداز میں کرتے تھے اور سلام اردو کے معتبر نعت کو اور معروف شاعر زائر حرم حمید صدیقی پڑھتے تھے ۔ جھنڈے والا پارک امین آباد میں ہونے والے میلاد کے جلسہ میں اتر پردیش کے سیاسی مرد آہن اور سابق وزیر اعلیٰ چند ر بھان گپتا ، مہابیر پرساد شریواستو ا خصوصی دلچسپی لیتے تھے اور ریاستی وزیر اعلیٰ ظہیر وہ خود بڑی عقیدت کے ساتھ آکر علما کے بیچ اسٹیج پر بیٹھتے تھے۔ آزاد ی کے بعد اس انجمن فردوس ادب کی روح رواں معروف صحافی حاجی امین سلونوی اور استاد شاعر عمر انصاری تھے۔

امین آباد کے اسی جلسہ میں سعودی عرب اور شام کے سفیر بھی آچکے ہیں۔ اس جلسہ کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ اس میں لکھنؤ کے اطراف میں واقع قصبات سے کثیر تعداد میں مرد اور خواتین آتے ہیں۔ صبح پورے شہر وا طراف سے جوق در جوق لوگ یہا ں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہاں سے ایک بڑا جلوس مدح صحابہ روانہ ہوتا ہوا عیش باغ عید گاہ تک پرچم لے کر جاتا ہے جہاں ایک بڑے سیرت کے جلسہ میں تبدیلی ہوجاتا ہے ۔ عید گاہ میں روایتی طور پر امام عید گاہ اس کا استقبال کرتے آئے ہیں۔ پہلے مولانا ابو الطیب احمد میاں فرنگی محلی اور اب نائب امام مولانا خالد رشید فرنگی محلی پابندی کے ساتھ اس جلوس کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں اکثر وزیر اعلیٰ یا اس کا کوئی نمائندہ ضلع مجسٹریٹ کمشنر اور پولس کے اعلیٰ افسران موجود رہتے ہیں اور حسب خواہش مجمع کو خطاب بھی کرتے ہیں۔

دوسرا بڑا میلاد کا قدیم جلسہ ترکاری منڈی چوک میں جشن خیر البشر کے نام سے ہوتا ہے جو رات بھر چلتا ہے اس میں نہ صرف تقاریر بلکہ بہترین نعت گو شعر ا اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ اس کا اہتمام ترکاری منڈی کمیٹی کے لوگ شروع سے کرتے آئے ہیں۔ عید میلاد کے کئی اور بڑے جلسے یہاں ہوتے ہیں جیسے اسلامک سنٹر آف انڈیا عیش باغ تو انجمن محمدیہ نظیر آباد اور اسلامیہ کالج مچھلی محال شاہ مینا شاہ اور اجریاؤں گومتی نگر ،اندر انگر چھندوئیاں ،کمپبل روڈ حاجی پورم اور اکبری گیٹ وغیرہ ۔ ان کے علاوہ شہر کے تقریباً ہر محلے میں سیرت کے جلسے پورے ماہ ربیع الاول ہوتے ہیں۔

بہار : پٹنہ سے عبدالواحد رحمانی:

محسن انسانیت آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت کائنات میں ہر اس شخص کو ہے جو اللہ پر ایمان رکھال ہے بلکہ یہ تو عقیدہ توحید پرقائم پرشخص کے ایمان کا جز ہے ،چنانچہ دنیاکے مختلف حصوں میں حضور محمد نور عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے خاص طور پر ماہ ربیع الاول میں مسلمانوں کا جوش عقیدت عروج پر ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ ماہ مبارک ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے۔ یوم ولادت پاک 12ربیع الاول کے موقع پرتو پوری دنیا میں مسلمان محبت رسول کا نذرانہ مختلف انداز میں پیش کرتے  ہیں، ہندوستان کی کثیر مسلم آبادی والی مشہور ریاست بہار میں بھی ماہ ربیع الاول خاص طور پر 12ربیع الاول کے موقع پر مسلمانوں کا اظہار عقیدت دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

بہار کے مختلف اضلاع میں ماہ ربیع الاول کے شروع ہوتے ہی دینی محفلیں اور ایمانی مجلسیں منعقد ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور بارہویں ربیع الاول کو تو مسلم محلوں میں ایک تبدیلی سی محسوس ہوتی ہے۔ درود وسلام کی محفلیں ،وعظ ونصیت کی مجلسیں جگہ جگہ منعقد ہوتی ہیں اور مساجد ومدارس میں رونق بڑھ جاتی ہے،علما و واعظین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے روشن کارناموں اور احادیث کے  حوالے سے ان کے اوصاف حمید ہ وبیان کرتے ہیں جن کو سن کر عوام کے اندر غیر معمولی دینی حمیت اور اسلامی جو ش ابھرتا ہے۔

بہا رکے ضلع مظفرپور، دربھنگہ، پورنیہ ، جہان آباد اور گیا کے مختلف مقامات پر سیرت النبی کے بڑے بڑے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ گڑھول شریف ، منیر شریف، بہار شریف، گیا اورراجدھانی پٹنہ کی مختلف خانقاہوں اور درسگاہوں میں دین اور ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر دقیع اور بصیرت افروز تقریریں ہوتی ہیں، نعت خواں اپنے مترنم آواز میں سلام پیش کرتے ہیں۔ پٹنہ میں قائم ادارہ شرعیہ اور پھلواری شریف کی خانقاہ مجیبہ کے زیر اہتمام متعدد محلوں اور ریاستوں کے مختلف شہروں میں مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح منیر شریف میں حضرت شیخ یحییٰ منیریؒ کے مزار پر بھی ایمان و ایقان کی شمع روشن ہوتی ہے،بہار شریف ،پورنیہ کے چمنی بازار، کشن گنج کے مختلف مواضعات میں میلاد النبی کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے ہیں اور کئی شہروں میں میلاد النبی کا جلوس بھی نکالا جاتا ہے جس میں سماج کے بااثر افراد اور سیاسی ودینی حلقوں کے نمائندے بھی شریک ہوتے ہیں۔

بہار کے مختلف حصوں میں مختلف مسلکوں کے ماننے والے ہارہویں ربیع الاول کو الگ الگ انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ مسلکی تعصب سے پاک مختلف پروگراموں میں سبھی مسلکوں کے افراد شریک ہوتے ہیں۔ کئی شہروں میں میلاد النبی کمیٹی قائم ہے جس میں مختلف مسلکوں کے نمائندے شریک ہیں اور عید میلا د النبی کی تقریبات مل جل کر منعقد کرتے ہیں۔ اس موقع پر حکومت کی جانب سے بھی صفائی اور سیکورٹی کا خاص انتظام کرتی ہے۔ رواں سال بھی عید میلاد النبی کی تقریبات زور وشور سے جاری ہے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-glorious-tradition-of-milad-al-nabi-celebration-in-uttar-pradesh--اتر-پردیش-میں-جشن-میلاد-النبی-کی-شاندار-روایت/d/2510


 

Loading..

Loading..