New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:14 AM

Urdu Section ( 1 Aug 2010, NewAgeIslam.Com)

Samana Naqvi Stands First Position in Science Seminar سائنس سمینار میں سمانہ نقوی کو پہلا مقام

August 2, 2010

 

Source: Sahafat, New Delhi

URL: https://newageislam.com/urdu-section/samana-naqvi-stands-first-position-in-science-seminar--سائنس-سمینار-میں-سمانہ-نقوی-کو-پہلا-مقام/d/3227

 

فہیم انصاری

وزیر اعلیٰ مایاوتی بھی کرچکی ہیں سرفراز

مراد آباد ،یکم اگست : محکمہ تعلیم کی جانب سے منعقد سائنس مذاکرہ میں پربھا دیوی آدرش کنیا انٹر کالج کی ہونہار طالبہ سمانہ نقوی نے پہلا مقام حاصل کر کے اپنے اعزازات میں ایک اعزاز کا اور اضافہ کرلیا ہے۔ سمانہ کو اب 12اگست کو ضلعی سطح کے مذاکرہ میں قسمت آزمانے کا موقع ملے گا۔ وزیر اعلیٰ مایاوتی کے ہاتھوں اور اعزاز یافتہ نویں جماعت کے طالبہ سمانہ نقوی کے لئے پہلا مقام حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں رہ گئی ہے۔ ان کے ذریعہ اسکول سے لے کر صو بائی سطح تک کے مختلف مذاکرہ میں حاصل کئے گئے اعزازات اور اسناد اس کی مثال ہیں۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے سرکاری انٹر کالج میں بلاک سطح پر آج ہوئے مذاکرہ میں دئے گئے عنوان ‘بھارت اور وشو وگیان /کہاں ہیں ہمارا استھان’ پر 6منٹ کی تقریر اور 2منٹ کا وقفہ سوالات اور 20منٹ کے تحریری امتحان کو پار کرنے کے بعد دیگر امیدوار وں کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ دوسرا مقام آریہ کنیا انٹر کالج کی طالبہ کو ملا ۔بلاک کے بعد اب 12اگست کو ضلع اور 17اگست کو ڈویژن کی سطح پر مذاکرہ ہونگے۔ آج کے مذاکرہ کے کور آڈی نیٹر جی آئی سی کے پرنسپل شیام سندرم سکسینہ رہے ۔مقابلہ میں کل 19طالبات نے حصہ لیا تھا۔ اس ہونہار طالبہ کے والد اور سرکاری ملازم شبیہ اصغر نقوی سرسوی نے بتایا کہ سمانہ سینکڑوں ایوارڈ پہلے مقام کے ساتھ جیت چکی ہیں ۔ جن میں سال 07۔2006 میں ماحولیات پر صوبائی سطح کے مذاکرہ میں لکھنؤ میں پہلا مقام اور 15مارچ 2008کو ‘سروجن ہتائے سروجن سکھائے’ کے موضوع پر پہلا مقام حاصل کیا تھا۔ لکھنؤ میں ہوئے اس سمینار میں وزیر اعلیٰ مایاوتی نے 25ہزار روپے نقد رقم کے ساتھ اعزاز بخشا تھا۔ اس کے علاوہ صوبائی سطح کی ہی 20اگست 2009کوالہٰ آباد میں ہوئے صوبائی سائنس سیمینار میں دوسرا مقام کیا تھا ۔ مسلسل ایوارڈ جیتنے سے سمانہ نقوی کے والدین کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی اسکول اور شہر کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کا نام بھی روشن کرے۔

اقلیتی طلبہ کا داخلہ نہیں تو اقلیتی درجہ ختم کیا جائے گا

اگر رجوع نہیں کرتے ہوں تو یہ ادارے حکومت سے اجازت حاصل کر کے اپنی نشستیں پر کرسکتے ہیں: عارف نسیم خان

ممبئی : اقلیتی درجہ رکھنے والے تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلبہ کو مقررہ تناسب کے اعتبار سے داخلہ دینے سے متعلق مہاراشٹر حکومت کے حالیہ فیصلے کا تنظیم والدین اور سرکردہ مسلم دانشور وں او رعلماے کرام نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے رو سے ریاست کے مسلم طلبہ کو داخلوں میں ہونے والی دشواریوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں مہاراشٹر کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد عارف نسیم خان نےاعلیٰ سرکاری افسران ایک میٹنگ طلب کی تھی اور کہا تھا کہ ایسی شکایات ملی ہیں کہ لسانی اور مذہبی اقلیتی درجہ رکھنے والے تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلبہ خصوصی طور سے مسلمانوں کو ہی داخلے سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ مسٹر نسیم خان نے اس موقع پر کہا کہ قانون کے مطابق ان اداروں میں پچاس فیصد اقلیتی طلبہ کو داخلہ دیا جانا چاہئے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان اداروں میں تناسب کے مطابق اقلیتی طلبہ وداخلہ نہیں دیا گیا تو ا ن اداروں کے اقلیتی درجوں کو ردکیا جائے گا نیز اگر ان اداروں میں اقلیتی طلبہ داخلے کیلئے اگر رجوع نہ کرتے ہوں تو یہ ادارے حکومت سے اجازت حاصل کر کے اپنی نشستیں پر کرسکتے ہیں ۔حکومت کے اس فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے ناگپاڑہ نامی گنجان مسلم آبادی والے علاقے کی گھریلو خاتون بلقیس مقبول احمد نے کہا کہ مسلم علاقوں میں اور اس کے اطراف کئی ایک انگریزی میڈیم اسکول موجود ہیں جو اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ رکھتے ہیں اور ان اسکولوں میں داخلوں کے لئے اقلیتی طبقہ کے طلبہ خاص کر مسلم بچوں کو کافی دقتوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس فیصلے کے رو سے گذشتہ کئی دنوں سے پریشان بلقیس بانو کی دفتر کو اپنی پسند کے انگریزی میڈیم اسکول داخلہ مل گیا۔ انگریزی اسکول سینٹ پیٹر کے تنظیم والدین کے ایک عہدیدار شمسی نے بتلایا کہ حکومت کا یہ یقیناً قابل ستائش ہے نیز گنجان مسلم آبادی والے مسلم علاقوں میں واقع انگریزی میڈیم اسکولوں میں مسلم طلبہ کا تناسب صرف پندرہ بیس فیصد ہے اور فیصلے کے بعد یہ تناسب میں اضافہ ہوگا۔ ممبئی کے کئی ایک تعلیمی اداروں سے وابستہ سماجی خادم شبیر سومجی نے کہا کہ شہر کے ایک اثنا ئے عشری اور دیگر ایسے فرقے موجود ہیں جن کی مادری زبان گجراتی ہے لیکن انہیں یہ مراعات حاصل نہیں تھیں۔ شبیر سومجی نے کہا کہ آزادی کے بعد غالباً پہلی مرتبہ اس قسم کے سخت احکامات کے بعد نرسی مونجی کالج جیسے باوقار ادارے کو اپنا سیکولر واپس لینا پڑا اور لسانی بنیاد پر مسلم طلبہ کو بھی داخلہ دینا پڑا ۔ آل انڈیا علما بورڈ کے صدر علامہ نعیم حسین نے ان ہدایات کی ستائش کی او رکہا کہ جہاں اس حکم سے اقلیتی فرقے کے طلبہ فیضیاب ہوں گے وہیں حکومت کو ان اداروں کے ملازمین خاص طور سے اساتذہ کرام اور دیگر کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے حل کرنا چاہئے جن کے حقوق اسلئے تاخیر سے حاصل ہوتے ہیں کہ وہ اقلیتی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ صابو صدیق انجینئر نگ کالج سے فارغ التحصیل انجینئر افروز انصاری نے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کے ایسے بھی کئی ایک ادارے ہیں جو اقلیتی درجہ رکھتے ہیں لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ان اداروں میں مسلم طلبہ کو تناسب کے اعتبار سے داخلہ نہیں ملتا اور دیگر اقوام کے طلبہ کو ڈ ونیشن کے عوض داخلہ دیا جاتا ہے اس حکم سے ان تمام چیزوں پر روک لگ جائے ۔ ریاست مہاراشٹر میں کل 1217ایسے تعلیمی ادارے ہیں جنہیں اقلیتی ادارہ کا درجہ حاصل ہیں۔

(بشکریہ صحافت ، نئی دہلی)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/samana-naqvi-stands-first-position-in-science-seminar--سائنس-سمینار-میں-سمانہ-نقوی-کو-پہلا-مقام/d/3227

 

Loading..

Loading..