New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 10:04 PM

Urdu Section ( 19 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

If I Could I Would Have Had a Mourner with Me مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

عرفان صدیقی

غالب نے تو ذرا وسیع تر تناظر میں کہا تھا کہ

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے

لیکن وطن عزیز کے دروبام پر نگاہ پڑتی ہے تو دل دکھ سے بھرجاتا ہے کہ اگر یہی بے روح، بے مغز،بے ذوق اور بے ننگ ونام سا سرکس جاری رہا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟یقین جانئیے کہ اب مسائل کی فہرست مرتب کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ہر سو ایک طرح کی افراتفری اور انا ر کی بے مہا رسیلابی ریلے کی طرح دندنا رہی ہے۔ قانون ،میلے میں کھوجانے والے بچے کی  طرح بھٹک رہا ہے اور کوئی اس کے آنسو پونچھنے اور انگلی پکڑ کر سہارا دینے کو تیار نہیں۔ کرپشن ساری حدیں پھلانگ چکی ہے۔ حکمرانوں نے دم نہیں لیا تھا کہ ان کے ہونہار بچے، اس اکھاڑے میں کود پڑے ہیں۔ایسی ایسی وارداتیں ہورہی ہیں کہ ریاست سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔ نام ایسے کہ ایک ایک حرف سے تقدس کی مہک اٹھ رہی ہے۔ او رکام ایسے کہ سارا ماحول تعفن سے بھر گیا ہے۔ ستم یہ کہ ایک آراستہ پیراستہ آئین، ایک تیز دھار قانون، ایک مضبوط وتوانا عدلیہ اور ایک جما جما یا نظام انصاف رکھنے کے باوجود کسی کے ہاتھوں میں اتنی توانائی اوردم وخم نہیں کہ وہ فربہ گردنوں والے ان عناصر کو گرفت میں لے۔ انسانی خون پانی سے ارزاں ہوچکا ہے۔ جابجا قتل گاہیں آباد ہیں۔کہیں نسل ، کہیں فرقہ، کہیں مسلک او رکہیں کسی اور شناخت کی بنیاد پر سینے چھلنی کئے جارہے ہیں۔ ریاست کے جن بڑوں کا فرض ہے وہ اپنے حلف اور اپنے منصب کے تقاضوں کی بجا آوری کے لئے، تمام مصلحتوں سے بالاتر ہوکر میدان میں نکلیں ،اپنی ذات اور مفادات کو کچھ وقت کے لئے الماری میں مقفل کر کے پاکستان کی پکار پر کام دھریں ،وہ ایک لمحے کے لئے بھی اپنی اغراض وحرص کی چو کھٹ سے سر اٹھانے پہ آمادہ نہیں۔

ایسے میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ مایوسی کے سرمئی گہری سیاہ رنگ گھٹاؤں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ دوستوں کی ایک محفل میں ،تجربے اور مشاہدے کا بڑا اثاثہ اور نقدو نظر کی گہری نظر رکھنے والے اس کہنہ مشق صحافی نے جب کہا کہ فوج اگر ایک طاقت ور ادارہ ہے تو وہ اپنی طاقت او راپنے رعب داب کو اصلاح احوال کے لئے کیو ں نہیں استعمال کرتی تو میں نے عینک کے شیشے صاف کر کے اس پہ ایک بھر پور نگاہ ڈالی کہ کیا یہ وہی جمہوریت پرست ہے جو اٹھتے بیٹھتے فوج کی سیاسی آلودگی پر تبریٰ کرتے ہوئے کہا کرتاتھا کہ کچھ بھی ہوجائے، جرنیلو ں کو عوام کے منتخب نمائندوں کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھنا چاہئے۔ اس طرح کی محفلوں میں وہ ہمیشہ میرا اور میں اس کا ہمنوا ہواکرتا تھا۔ ہم دونوں نے کبھی اپنے اس فولادی موقف سے بال برابر انحراف نہ کیا کہ فوج کو سیاست سے کوسوں دور رہنا چاہئے کہ اس سے نہ صرف جمہوریت کی فطری نشو ونما رک جاتی ہے بلکہ خود فوج کے قلعے میں بھی دراڑیں پڑجاتی ہیں اور اس کے لہو میں وہ تمام بیماریاں گھر کر لیتی ہیں جو عموماً اہل سیاست کا جزوبدن ہوتی ہیں۔ اور پھر یہ کہ پینسٹھ سالہ قومی تاریخ میں سے نصف عرصہ مطلق العنان حکمرانی کرنے والے چار جرنیلوں نے کسی ایک بھی قومی مرض کی مسیحائی نہ کی البتہ انہوں نے لاتعداد ایسے مسائل ضرور پیدا کردیئے کہ ان کےچرکے کھاتا ہوا پاکستان اس حال کو آن پہنچا ہے۔ میرے شگفتہ رو اور شستہ کلام دوست کے دلائل مجھ سے کہیں زیادہ قوی ہوتے تھے او روہ برائے مصلحت بھی فوج کے کسی ایسے اقدام کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا جس کا دور ونزدیک کا کوئی تعلق سیاست سے ہو۔

اس کی گفتگو سے مجھے یوں لگا جیسے میرا ایک بازوشل ہورہا ہو۔ میں اپنے آپ کو تنہا تنہا سا محسوس کرنے لگا۔ میری کیفیت دیکھ کر میرے پہلو میں بیٹھے دوست نے کہنی ماری اور سرگوشی میں کہا۔ ‘‘پریشان نہ ہو وہ کل بھی محبّ وطن او رجمہوریت پرست تھا۔ آج بھی ہے لیکن مایوسی انتہا کو چھونے لگے تو اچھے بھلے شخص پر ہذیانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے’’۔مجھے اپنے دوست کی کیفیت سے کہیں زیادہ اس احساس سے خوف آنے لگا کہ کیا یہ ہذیانی کیفیت ایک وبا کی طرح پھیلتی نہیں جارہی ؟کیا تجر بوں او رمشاہدوں کی پوٹلیاں بغل میں رکھنے والے صاحبان شعور اور اہل تدبر بھی اپنا توازن کھورہے ہیں؟

اسے اتفاق ہی کہنا چاہئے کہ اسی محفل میں ، اصلاحی احوال کے حوالے سے کسی اقدام کی فوری ضرورت کا رخ عدلیہ کی طرف مڑ گیا۔ اور میرے لئے شدید صدمے کا باعث دوسرا سانحہ یہ ہوا کہ وہ دوست عدلیہ کی مصلحت کیشی اور محتاط روی کے خلاف پھٹ پڑا جو بحال عدلیہ کی تحریک کا سرگرم سپاہی تھا اور جو اس آزاد وبے باک عدلیہ کی شان میں ذرا سی گستاخی کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔میں ایک صدمے سے شکستہ ،اس کی تقریر سنے جارہا تھا ۔ ‘‘یار احتیاط اور مصلحت ہی کی بنیاد پرفیصلے ہوتے ہیں تو پھر یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہم نے نظریہ ضرورت ہمیشہ کے لئے دفن کردیا ۔پھر کیوں کہتے ہیں کہ ہم انصاف کریں گے چاہے آسمان ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے۔ پھر کیوں دعویٰ کرتے ہیں کہ چاہے کوئی کتنا ہی بڑا اور طاقت ور ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا۔ کیا یہ نظریہ ضرورت نہیں کہ قانون کے مطابق ایک دوٹوک فیصلہ دینے کے بجائے آپ دوردراز کے اندیشوں میں الجھ جائیں؟ صبح وشام ان کی توہین ہوتی ہے۔ دن رات ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اب بلاول زرداری جیسا نونہال بھی ان کی طرف پتھر پھینکنے میں لطف محسوس کرنے لگا ہے۔ یہ اس طرح کے ریمارکس دیتے ہیں کہ اخبارات کی چیختی چنگھاڑتی سرخیاں پوری قوم کا لہو گرما دیتی ہیں..... لیکن اگلے دن پتہ چلتا ہے کہ فیصلہ مہینے بعد ہوگا۔ یہ کیا ہے....؟

بولتے بولتے وہ جنوں کی منزلوں سےگزرتا ہوا۔ ہذیان کی سرحدوں میں داخل ہونے لگا تو میں کوئی بہانہ کرکے اٹھ آیا لیکن پچھلے کئی گھنٹوں سے میں بے حد دل گرفتہ ہوں۔ جب جمہوریت کے پاسبانوں اور عدلیہ کے قصیدہ خوانوں کے دل ودماغ میں اس طرح کاآتش فشاں دہکنے لگا ہے اور جوئے نغمہ خواں جیسے یہ لوگ یکایک سیل تند رد بننے لگے ہیں تو یقین جانئے کہ معاشرہ حوصلہ ہاررہا ہے اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جانے کو ہیں۔

ناامیدی کو کفر سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن بانجھ ،سیم زدہ او رکلر لگی زمین سے یہ توقع بھی عبث ہے کہ کل کوئی مسیحا پھونک مارے گا تو ایکا ایکی حد نظر تک شاداب فصلیں لہلہانے لگیں گی۔ پاکستان کی چولیں ہل رہی ہیں ، کشتی بھنور میں ڈبکیاں کھارہی ہے اور ناخداؤں کی نظریں سرائیکی صوبے ،اس کی وزارت اعلیٰ اور ایک نئے بینک پر لگی ہیں۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گرکو میں

بشکریہ : جنگ ،پاکستان

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/if-i-could-i-would-have-had-a-mourner-with-me--مقدور-ہوتو-ساتھ-رکھوں-نوحہ-گر-کو-میں/d/7110


 

 

Loading..

Loading..