New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 05:27 AM

Urdu Section ( 7 Jan 2010, NewAgeIslam.Com)

Study of the Biography of The Prophet - The Contemporary Need سیرت پاک کا مطالعہ۔عصرِ حاضر کی ضرورت


عادل صدیقی

دنیا میں اس وقت ہر چوتھا آدمی مسلمان ہے، ہندوستان میں مذہب اسلام کے ماننے والوں کی تعداد ہندوؤں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اسلام ایک عالمی مذہب ہے۔ ایک موٹے اندازے کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 70کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا میں کل آبادی کا ساتواں حصہ مسلمانوں پر ہی مشتمل ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے آغاز پر آخری نبی حضور اکرم ﷺ کے توسط سے اسلام دنیا میں آیا ۔اس لئے کچھ لوگ اسے محمڈن ازم کہتے ہیں ۔ حالانکہ یہ کہنا غلط ہے ۔ حضرت عیسیؑ ٰ کی طرف سے قائم کردہ مذہب کرسچن مذہب کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے نبی تھے۔وہ مذہب کے خالق نہ تھے بلکہ آپ کی ذات گرامی کے طفیل مذہب اسلام جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا مذہب ہے، دنیا میں آیا اس لئے یہ مذہب اسلام کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اسلام کے معنی سلامتی اور امن کے ہیں۔ اسلام مذہب ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں عرب کی سرزمین پر نازل ہوا اور شام ، فلسطین، مصر نیز شمالی افریقہ کے ملکوں میں پھیل گیا۔ مذہب اسلام مغرب میں اسپین تک پھیل گیا اور مشرق میں دریائے سندھ تک آگیا ۔ ہندوستان کے جنوبی علاقے میں عرب تاجروں کے توسط سے اسلام آیا۔ اس وقت اسلام چین میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اسلام کی معنی خیز تعلیمات کو سمجھنے کے لئے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ قرآن کریم بلاشبہ ایک آسمانی کتاب ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا مہد سے لحد تک احاطہ کرتی ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر ہے۔ مغربی دانشور وں اور مفکرین نے بھلے ہی اسلام پر طرح طرح کے اعتراض کئے ہوں مگر اس بات پر دہ بھی متفق ہیں کہ قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جس کی حفاظت روز اول سے جس طرح کی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے کسی اور تاریخی کتاب ،درس کتاب یا کسی بھی مذہب کتاب کا تحفظ اس انداز پر نہیں ہواہے جس طرح کہ کلام پاک کا ایک طرح سے سیرت پاک کا مطالعہ قرآنی تعلیمات کا ہی مطالعہ ہے۔ سیرت پاک کے مطالعے سے اجتماعی زندگی کے اسلامی اصولوں کا بخوبی پتہ چل جاتا ہے۔اجتماعی زندگی میں ردوقدح ، جھگڑا، بدمزگی ،تکرار لازمی ہے، اس لئے کہ پروردگار نے ہر انسان کا مزاج جداگانہ بنایا ہے، دنیا میں سنجیدہ ،خوش مزاج ،خوش طبی لوگ بھی ہیں اورایسے لوگ بھی ہیں جو ذراسی بات میں تو تو، میں میں کرنے لگتے ہیں ،چنانچہ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ جو لوگ غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کی زیادتی کو معاف کردیتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ اس طرح احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ،البتہ جولوگ کینہ پرورہوتے ہیں اور کسی کی غلطی معاف نہیں کرتے ،وہ ہمیشہ گھٹن اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں ، لہٰذا جھگڑے کو طول نہ دے کر قطع کلامی کوجلد سے جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ امام داؤدؒ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے ا رشاد فرمایا :

’’کیا میں تمہیں ایسا عمل بتاؤں جس کا درجہ نفلی روزے ، صدقے اور نماز سے بڑھ کر ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’اے اللہ کے رسول ؐ ضرور بتائیے ‘‘۔

آ پ نے فرمایا:’’وہ عمل ہے قطع تعلق کرنے والوں کے درمیان صلح کرادینا۔ اس طرح سے بغض وکینہ پروری سے دل کو صاف رکھنے کی واضح ہدایات موجود ہیں ۔

کثرت زوجات پر اعتراضات :

بہت سے مستشرقین ،متعصب پادری اور سرسری مطالعہ کرنے والوں نے نبی اکرمؐ کی سیرت پاک کے حوالے سے کثرت زوجات کو لے کر اعتراض کئے ہیں اور عوام الناس کو شکوک واوہام میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوکر سامنے آجائے گی کہ رسول پاکﷺ نے ابتدائی عمر سے 25برس تک کسی عورت سے کسی قسم کا کوئی تعلق قائم نہیں کیا۔ حالانکہ عمر کا یہی وہ حصہ ہوتا ہے جس میں انسان جوش جوانی میں دیوانہ نظر آتا ہے ۔پندرہ سے پچیس برس کے درمیانی عرصے کی نزاکتوں کو سبھی ماہرین نفسیات نے تسلیم کیا ہے۔ مگر زندگی کے یہی دن نبی اکریم ؐ نے انتہائی احتیاط اور عفت وعصمت کے ساتھ گزارہے ہیں، اس سلسلے کی ایک دوسری اہم کڑی یہ تھی کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے علاوہ آپ نے جس قدر عورتوں سے شادی کی وہ سب کی سب بیوہ خواتین تھیں ، جبکہ شہوت پرست انسان کنواری اور کم سن لڑکیوں سے عشق کرتا ہے، بھلے ہی کوئی انسان 60برس کا ہو، مگر پھر بھی اس کی خواہش کنواری لڑکی سے ہی شادی کرنے کی ہوگی ۔ چنانچہ آپ نے ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح کئے جو عمر میں آپ سے پندرہ سال زیادہ اور ایک نہیں بلکہ دودو خاوند وں کے نکاح میں رہ چکی ہوں ۔حضرت حدیجۃالکبریؓ آپ کی پہلی بیوی تھیں جس وست آنحضرتؐ نے ان سے نکاح کیا اس وقت آپ کی عمر 25برس اور ان کی بیوی کی عمر 40برس کی تھی۔حضرت خدیجۃ الکبریؓ پہلے ابو ہالہ بن زرارہ کے نکاح میں تھیں ان کے انتقال کے بعد عتیق بن عائد مخزومی سے شادی ہوگئی اور عتیق کی وفات کے بعد آنحضرت ؐ کے عقد میں آئیں ۔حضرت خدیجۃ الکبریؓ کی وفات کے بعد آپ کا نکاح سودہ رضی اللہ عنہا سے ہوا جن کی عمر 25سال تھی یہ ان کی دوسری شادی تھی۔

حضرت رسول پاکﷺ کی زندگی اہم مقاصد میں سے اہم ترین مقصد امت کو دین کی تعلیم دینا تھا۔ تعلیم کو بچوں تک پہنچانے میں خواتین کا اہم رول ہوتا ہے۔ اس اقدام سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں عورت کو کس قدر وقعت اور عظمت حاصل ہے۔ اسلام نے عورت کی عظمت واہمیت کو شروع ہی سے بڑی قدروقیمت سے پہچانا ۔اسلام ایک طرح سے اصلاح معاشرہ کا عظیم ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ ان نکاحوں کے توسط سے قبائل کو اسلام سے جوڑا جاسکتا۔ نبی اکرم ﷺ سے قیامت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے کا سوال کیا گیا اور عقلی نقطۂ نظر سے شکوک وشبہات پیش کئے گئے تو حضرت اکرم ﷺ نے قرآن کریم سے توضیحات کی روشنی میں جواب دیا کہ جس طرح مرد زمین بارش سے پہلے خشک اور بے رونق ہوتی ہے ، بارش آتے ہیں مردہ اجسام کے سفوف وذرات خاکی کیلئے بھی ایک بارش ہوگی اور اس سے مردو ں میں جان پڑجائے گی۔

مختصراً یہ نبی اکرم کی زندگی اور تعلیمات مہد سے لحد تک انسان کی رہبری کرتی ہیں۔ مدارس اسلامیہ کے طلباء مفکر اسلام بن کر ان تعلیمات کو ہر خاص وعام تک پہنچائیں تو روئے زمین کا نقشہ ہی بدل جائے اور اسلام کے حوالے سے جو غلط فہمیاں ہیں ان کا ازالہ بھی ضرور ی ہے کہ اسلام تبلیغ کے ذریعے پھیلانہ کہ بزور شمشیر جیسا کہ ہمارے کچھ مؤرخین اسلام کی شبیہ بگاڑنے لایعنی کوشش کررہے ہیں۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/study-of-the-biography-of-the-prophet---the-contemporary-need--سیرت-پاک-کا-مطالعہ۔عصرِ-حاضر-کی-ضرورت/d/2343


 

Loading..

Loading..