New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:17 AM

Urdu Section ( 20 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Muslims and Education Part 2 (ہندوستانی مسلمان اور تعلیم (2

  ظفر آغا

عہد مغلیہ کے اواخر میں بھی ہندوستانی مدارس میں اس وقت کا فلسفہ ،ریاضیات ، جغرافیہ، سائنس کے تمام علوم اور سیاسیات وغیرہ جیسے سیکولر مضامین پڑھائےجاتے تھے اور ان مسلمانوں کا تعلیمی معیار اتنا بلند تھا کہ بہادر شاہ کے دور کے مدارس اپنے وقت میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے کم نہ تھے۔لب لباب یہ ہے کہ مسلمان ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ قوم تھے لیکن وہی قوم اب آزاد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی میدان میں دلتوں سے بھی پسماندہ ہے۔ اگر ہم اس کی ذمہ داری محض ملک کی سیاسی حالات پر ڈال دیں تو یہ بات شاید پوری  طرح سے درست نہ ہوگی۔ بےشک سیاسی ماحول سے مسلمان کو جو مار پڑی ۔تعلیمی معیار بھی اس سے متاثر ہوا لیکن محض سیاسی ماحول کو مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرنا صحیح نہیں ۔

راقم کی ادنیٰ رائے میں آزادی کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سبب مسلمانوں کا سرسید کی تحریک سے انحراف ہے۔ سرسید احمد خان نے سن 1860کی دہائی میں محض پہلے مسلم تعلیمی ادارہ ہی قائم نہیں کیا تھا بلکہ سرسید خان نے مسلمانوں میں جدید تعلیم کو عام کرنے کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔اس تحریک کا مقصد محض علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام نہیں تھا بلکہ سرسید تحریک کا مقصد ہندوستانی مسلمان میں یہ فکر پیدا کرنا تھا کہ مغل سلطنت کے خاتمے اور انگریز حکومت کے قیام کے بعد ملک میں محض سیاسی تبدیلی ہی نہیں آئی ہے بلکہ پوری دنیا ہی بدل گئی ہے۔ سرسید اس نتیجے پر تب پہنچے جب انہوں نے انگلینڈ کے دورے کے بعد حالات زمانہ کو اچھی طرح سمجھ لیا۔ ان کی سمجھ اس وقت یہ کہتی تھی کہ انگریز مغلوں کو شکست دینے میں  اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ اس نے دنیا کے تازہ ترین علوم یعنی سائنس وٹیکنالوجی پر عبورحاصل کرلیا تھا، جس نے انگلینڈ میں ایک جمہوربپا کردیا یعنی سائنس وٹیکنالوجی پر مبنی جدید تعلیم نے انسانی کو بادشاہی نظام سے نکال کر جمہوریت تک پہنچادیا۔

یہ ایک تاریخ ساز انقلاب تھا۔ اس انقلاب کا فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جو جدید تعلیم سے فیض یاب ہو اور بقول سرسید اس جدید تعلیم کے لیے جدید تعلیمی اداروں کا قیام لازمی تھا۔ اس لیے سرسید نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور اپنے مضامین سے اس فکر کو عام کرنے کے لیے ایک تحریک کی بھی داغ بیل ڈالی ۔تحریک پاکستان سے قبل ہندوستانی مسلمانوں میں سرسید تحریک کا گہرا اثر رہا۔ مسلم اکثریت والے شہر وں میں درجنوں اسکول کھلے،کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیا بلکہ چند نوابوں نے عثمانیہ یونیورسٹی جیسے ادارے قائم کیے لیکن حد یہ ہے کہ پاکستان کی تحریک کی شروعات کے بعد ہندوستانی مسلمان کی توجہ تعلیم سے ہٹ کر سیاست پر مبذول ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ مسلمان تعلیم کارہا اورنہ ہی سیاست کا۔ اس کا سبب محض یہ تھا کہ قوم جو تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائے وہ کسی بھی میدان میں کامیابی نہیں پاسکتی ۔ایسی قوم دل سے تو سوچ سکتی ہے لیکن  دماغ کا استعمال نہیں کرسکتی ہے۔چنانچہ مسلمان قوم نے تعلیمی پسماندگی کے بعد یہ شیوہ بنالیا کہ وہ ہمیشہ جوش میں رہی اور ہوش کھودیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ مسلمان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہندوستان کی آزادی کے 63برس بعد دلت سے بھی پیچھے رہ گئے ۔

خیر یہ تو قصہ پارینہ تھا۔ ضرورت ماضی کو یاد کرنے کی نہیں بلکہ حال میں رہ کر مستقبل کو سنوارنے کی ہے۔ اسی غرض سے ماہ جولائی کی یاددہانی کرائی تھی اور وہ جولائی بھی بس اب ختم ہوا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس جولائی میں کتنے مسلم طلبہ کالج یا یونیورسٹی تک پہنچے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ یہ تناسب آج بھی بہت کم ہے۔ اس لیے آئیے اس جولائی میں ایک بار پھر سرسید احمد کی تعلیم لے کر ہندوستانی مسلمانوں میں دوسری سرسید تحریک کی شروعا ت کریں تاکہ آئندہ جولائی میں زیادہ سے زیادہ مسلم بچے کالجوں اور یونیورسٹی تک پہنچ جائیں ۔اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہم اللہ کو بھی خوش کردیں گے کیونکہ سب سے پہلے یہ تعلیم اللہ کے رسولؐ نے ہم کو ‘‘اقرا’’ کہہ کر دی تھی۔ (ختم شد)

بشکریہ۔ روزنامہ وقت

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/indian-muslims-and-education-part-2--(ہندوستانی-مسلمان-اور-تعلیم-(2/d/6431

 

 

Loading..

Loading..