New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:37 AM

Urdu Section ( 23 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

Martyrdom Of Babri Masjid- The Result Of A Systematic Conspiracy بابری مسجد کی شہادت ایک منظّم سازش کا نتیجہ

ظفر آغا

‘‘بابری مسجد انہدام منصوبہ بند سازش ،بقول لبراہن ،اٹل بہاری اوجپتی ،اڈوانی او رجوشی کے ساتھ شریک’’۔ جی ہاں! یہ انڈین ایکسپریس اخبار کی کل صبح کی سرخی ہے جو اس نے  لبراہن کمیشن رپورٹ کا خلاصہ چھاپتے ہوئے لگائی ہے اور بقول انڈین ایکسپریس بابری مسجد کی شہادت کوئی انجام حادثہ نہیں ،بلکہ ایک انتہائی منظّم سازش تھی اور اس سازش میں صرف اڈوانی اور اجپئی جیسے لوگ اجودھیا میں موجود تھے‘‘ ہی شامل نہیں تھے، بلکہ اس سازش میں بی جے پی کے سب سے لبرل لیڈر اٹل بہاری واجپئی بھی نزدیک تھے۔ اخبار انڈین ایکسپریس اس اخبار میں لکھتا ہے ‘‘جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کمیشن نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کوموجود حزب مخالف کے پارلیمانی لیڈر لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی اور دوسرو ں کو 6دسمبر1992میں بابری مسجد گرانے کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ’’ آگے یہی اخبار ان تینوں بی جے پی بھگتوں کے بارے میں کہتا ہے:‘‘ اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ان حضرات کو (پہلے سے) اجودھیا میں ہونے والے حادثے کی کوئی خبر نہیں تھی یا یہ حضرات اس معاملے میں معصوم ہیں’’.....

جی ہاں! آخر وہ بات جو ہر ذی ہوش ہندوستانی اچھی طرح سمجھتا تھا، اب اس بات پر باقاعدہ سرکاری مہر ثبت ہونے والی ہے۔ ہر کوئی اور بالخصوص مسلمان یہ بات اچھی طرح جانتے او ر سمجھتے تھے کہ 6دسمبر 1992کوبابری مسجد کسی ہندو مجمع کے غصے کے سبب نہیں گری ، بلکہ بابری مسجد کو گرانے کا آر ایس ایس نے باقاعدہ ایک منصوبہ بنایا تھا او ربابری مسجد اسی منصوبے اور سازش کے تحت گرائی گئی تھی۔ دنیا اس بات سے بھی بخوبی واقف تھی کہ بابری مسجد گرانے کی اس سازش میں لال کرشن اڈوانی او ر مرلی منوہر جوشی جیسے بی جے پی کے لیڈر شامل تھے، لیکن ایک بہت بڑا طبقہ ابھی تک یہ یقین کرتا تھا کہ اٹل بہاری واجپئی بابری مسجد گروانے کے سازش میں شامل نہیں  تھے، لیکن لبراہن کمیشن رپورٹ ک جو اقتباس کل انڈین ایکسپریس اخبار میں چھپے ہیں اس سے اب یہ ظاہر ہوگیا کہ بابری مسجد گروانے میں واجپئی بھی برابر کے شریک تھے اور بقول لبراہن کمیشن واجپئی کو بھی اس معاملے میں معصوم نہیں مانا جاسکتا ہے۔

اور لبراہن کمیشن رپورٹ ( جو حالیہ پارلیمانی اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ہے) محض اجودھیا معاملے میں اٹل بہاری واجپئی کے چہرے پر سے  ہر الزام کا مکھوٹا اتار کر نہیں پھیک دیتی ہے، بلکہ اس رپورٹ نے تو بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور آل انڈیا بابری مسجد ایکشن کمیٹی کو بھی نہیں بخشا ۔ انڈین ایکسپریس اخبار اسی رپورٹ میں ان دونوں مسلم تنظیموں کی قیادت کے بارے میں یوں لکھتا ہے :‘‘ ان مسلم تنظیموں کی اعلیٰ قیادت اپنے میں خود ایک الگ گروہ بن چکا تھا اور ان کو ان لوگوں (عام مسلمانوں) کی بھی کوئی فکر نہیں تھی۔ یہ لیڈران اپنی قوم کی جانب سے اس مسئلہ (اجودھیا معاملے)میں کوئی سوچا سمجھا اور فکر مند نظریہ نہ تو عدالتوں میں ، نہ عدالت کے باہر پیش کرسکی اور اس طرح ان مسلم تنظیموں کی قیادت مسلمانوں کے کسی کام نہ آسکی.....’’

خیر ابھی لبراہن کمیشن رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش تو نہیں ہوئی ہے،لیکن اس کے اقتباسات اخباروں میں شائع ہونے شروع ہوچکے ہیں اور ان خبروں کے مطابق سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بابری مسجد گرایا جانا آر ایس ایس کی ایک منصوبہ بند سازش تھی اور اس سازش میں اٹل بہاری واجپئی سمیت پورا سنگھ پریورا شریک تھا۔6دسمبر 1992کو اجودھیا میں جس طرح ‘جے سیارام’ اور ‘ہر ہر مہادیو’ کے نعروں کے درمیان انتہائی اطمینان سے بابری مسجد گرائی گئی تھی ، اس سے اسی روز سے یہ بات طے تھی کہ بابری مسجد کا گرایا جانا ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ بابری مسجد شہادت کے سلسلے میں ٹی وی ریکارڈنگ ہوئی تھی ایک انڈیا ٹوڈے گروپ کی ویڈیومیگزین بنی تھی ، جو باقاعدہ بازاروں میں فروخت بھی ہوئی تھی۔ میں ان دنوں انڈیا ٹوڈے سے منسلک تھا اور وہ پوری فلم میرے ذہن پر آج تک نقش ہے ۔صبح تقریباً دس بجے سے اڈوانی ،جوشی، اوبا بھاری، اشوک سنگھل وغیرہ جیسے تمام سنگھ پریوار کے افراد کی موجودگی میں نہ صرف بابری مسجد گرائی گئی تھی، بلکہ میں نے جس فلم کا ذکر کیا اس فلم کے مطابق بابری مسجد باقاعدہ گانے بجانے کے ساتھ گرائی گئی تھی۔ وہاں شادمانی کا ماحول تھا۔ ایک طرف کارسیوک بابری مسجد گرارہے تھے ۔دوسری طرف وشو ہندو پریشد کے افراد اور اوما بھارتی جیسے بی جے پی کے اہم لیڈران ایک بھجن منڈلی کے ساتھ ‘جے رام ’ اور ‘‘ہر ہر مہادیو’’ کے نہ صرف نعرے بلند کررہے تھے ،بلکہ مسجد گرائے جانے کے ساتھ باقاعدہ طرح طرح کے بھجن گارہے تھے اور یہ سب کچھ فیض آباد کے ڈی ایم کی موجودگی میں ہورہا تھا ، جوپولس کو کوئی حکم دینے کے بجائے باقاعدہ گری ہوئی مسجد کا منظر نہ صرف خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، بلکہ چائے کی چسکیاں لگا لگا کر مسجد گرنے سے لطف اندوز بھی ہورہے تھے ۔ اس لئے یہ مان لینا کہ بابری مسجد کا گرایا جانا ایک حادثہ تھا ایک بچکانی بات ہی ہوسکتی ہے ۔ یقیناً بابری مسجد سانحہ ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھا جس سے سب واقف تھے، لیکن مسجد کو گرنے سے کسی نے روکا نہیں۔

ایک او رجھوٹ جس پر لبراہن کمیشن رپورٹ پر دہ اٹھا نے والی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوؤں میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر نہ بنانے کی وجہ سے بے حد غصہ تھا او ربابری مسجد 6دسمبر 1992کو اسی ہند و غصے کا شکار ہوئی ۔ لال کرشن اڈوانی جو رتھ پر سوار ہوکر اجودھیا پہنچے تھے اور بابری مسجد گرائے جاتے وقت وہاں موجود تھے، اکثر ہندوغصے کی بات دہرایا کرتے تھے۔ اڈوانی کے جھوٹ کا عالم تو مت پوچھئے وہ تو یہ بھی کہتے تھے کہ ‘‘مسجد گرنے پر مجھ کو گہرا صدمہ ہے۔’’لبراہن کمیشن رپورٹ کے تعلق سے انڈین ایکسپریس میں جو رپورٹ شائع ہوئی ہے، وہ ہندوغصے والی بات کو با لکل من گھڑت کہانی ثابت کرتا ہے۔ اخبار اس سلسلے میں لکھتا ہے:‘‘ اجودھیا کیمپن کے بارے میں کہنا بالکل غلط ہوگا کہ اس کو عوام بالخصوص ہندو کی حمایت حاصل تھی۔ دراصل لبراہن کمیشن رپورٹ ا س سلسلے میں کہتی ہے کہ رام مندر کی مانگ کبھی ایک عوامی تحریک کی شکل حاصل نہیں کرسکی....’’یعنی لبراہن کمیشن  کے مطابق رام مندر کی عوام میں مقبولیت اور رام مندر کا قیام ایک عوامی تحریک جیسی تمام باتیں بھی بالکل من گھڑت تھیں اور یہ سب کچھ بہت منظّم طریقے سے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا تھا ، جس کا ہندو عوام سے کوئی گہرا تعلق نہیں تھا۔

لبرہن کمیشن کا یہ پہلو کہ ہندو عوام کا رام مندر تحریک سے کوئی گہرا رشتہ نہیں تھا، اس بات سےبھی ثابت ہوتا ہے کہ مسجد گرنے کے بعد ایک سال کا مدت سے کم وقفے میں یعنی 1993میں جب اتر پردیش اسمبلی کے انتخاب ہوئے تو اس انتخاب میں مسجد گرو انے والے یوپی کے ہیرو  کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کا انتخاب بری طرح فلاپ رہا اور بی جے پی کی جگہ ملائم سنگھ کی حکومت قائم ہوئی ، یعنی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کا قیام ہندو عوام کی مانگ کبھی نہیں تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو یو پی کے تمام لیڈر بابری مسجد گروانے کی خوشی میں 1993میں کلیان سنگھ کو بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیاب کرواتے۔

بابری مسجد کا گرایا جانا صرف آر ایس ایس کی ایک سازش تھی، بلکہ لبراہن کمیشن رپورٹ کے تعلق سے اب جو باتیں منظر عام پر آرہی ہیں، اس سے یہ بات بھی عیاں ہے کہ بابری مسجد جیسا سانحہ نہ صرف مسلمانو ں کے خلاف ایک سازش تھی ،بلکہ خود پسماندہ ذات اور دلت ہندوؤں کے  خلاف بھی ایک سازش تھی،کیونکہ پسماندہ ذات اوردلت ہندوں کو رام مندر تحریک میں اس وقت کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ ان ذاتوں کے ہندو تو منڈل کمیشن رپورٹ آنے کے بعد سے اپنے لئے اقتدار میں اپنا حصہ تلاش کررہے تھے۔

اب یہ بات سرکاری طور پر بھی تقریباً طے ہوچکی ہے کہ بابری مسجد انہدام کوئی سانحہ نہیں ،بلکہ ایک منصوبہ بند سازش تھی۔اس سازش کے ذمہ دار صرف سنگھ پریوار ہی نہیں ،بلکہ اٹل بہاری واجپئی ، لال کرشن اڈوانی او رمرلی منوہر جوشی جیسے لیڈران بھی تھے ۔کیا حکومت ہند بابری  مسجد شہادت میں شریک افراد کو سخت سے سخت  سزا دلوا کر ملک کےسیکولر کردار کو باقاعدہ بحال کروائے گی؟ اب وقت ہے کہ اٹل یا اڈوانی ،بابری مسجد گروانے والے کو سزا دی جائے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/martyrdom-of-babri-masjid--the-result-of-a-systematic-conspiracy--بابری-مسجد-کی-شہادت-ایک-منظّم-سازش-کا-نتیجہ/d/2135



 

Loading..

Loading..