New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:46 AM

Urdu Section ( 21 Oct 2012, NewAgeIslam.Com)

Some Pages of the Magazine Tahzeeb ul Akhlaq رسالہ تہذیب الاخلاق کے چند اوراق

 

سید قیصر رضا

22 اکتوبر، 2012

سرسید احمد خاں ایک ایسی عظیم شخصیت کا نام ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود و ترقی، تعلیمی پسماندگی اور تہذیب و اخلاق کو بہتر سے بہتربنانے کی کوشش کی۔ انہیں اپنے ماضی سے ر وشناس کرایا او رمستقبل کی راہیں ہموار کیں۔ مسلمانوں کے تاریخی ور ثے کو آئینہ آثار الصنادید کی شکل میں بہت محنت اور کاوشوں کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیا۔تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے مراد آباد ، غازی آباد اور الہٰ آباد میں اسکول قائم کئے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں آج بھی موجود ہے جس سے لاکھوں طلباء مستفیض ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ایک انسان کے تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہوتاہے نسلوں کا تعلیم یافتہ ہونا ۔

سرسید نے مسلمانوں کے عقائد کو درست کرنے اور ان میں جو اخلاقی قدروں کی گراوٹ پیدا ہوچکی تھی اسے درست کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، تقریر یں کیں، مضامین لکھے ، سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ اس کے علاوہ ایک اصلاحی اخبار تہذیب الاخلاق جاری کیا جس میں خود مضامین لکھے،دوسروں سے لکھاوئے اور بہت صاف گوئی اور حقیقت پسندی کے ساتھ مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی عقائد کی کمزوری ، بے جار سومات کے حقائق ،تعلیمی اور اخلاقی پسماندگی کو بہت ذہانت کے ساتھ ان کے سامنے اجاگر کیا۔ مسلمانوں کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی۔ تہذیب الاخلاق میں ہر موضوع پرمضامین شائع ہوئے ۔ ان  اخبارات کی پرانی جلدوں کا مطالعہ کرنے سے انداز ہ ہوتا ہے کہ سرسید کی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے اندر پائی جانے والی برائیوں پرکتنی عمیق نظر تھی ۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان بھی دیگر اقوام کی طرح ترقی کریں اور باوقار زندگی گزاریں ۔ سرسید کے خیالات اور افکار میں کوئی بناوٹ ، مکر وفریب ، ریا کاری یا قیادت یا شہرت حاصل کرنے کا شائبہ تک نہ تھا ۔ ان کی خدمات پر خلوص اور اصلاحی تھیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت کے لوگ سرسید اور ان کے ہم عصروں کی بات صحیح ڈھنگ سے سمجھ نہیں پائے اور ان کے  پرخلوص اور عملی اقدامات کا بھر پور فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس کے برعکس سرسید کے کارناموں کی ہر طریقے سے مخالفت کرتے رہے۔ اس کے باوجود سرسید کی شخصیت ایک عظیم شخصیت تھی اور خسارہ جو اس وقت کے نا سمجھ اور جاہل مسلمانوں کو ہوا اس کا خمیازہ آج کےمسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔

جب سرسید کو اس بات کا  احساس ہوا کہ ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مذہبی تعصب بھی ہے تو انہوں نے اس سمت میں بھی اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مذہبی منافرت کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی۔ سرسید کا ماننا تھا کہ ہندوستان کا ہر شہری چاہے وہ ہندو یا مسلمان ایک دوسرے کے معاملات سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر گزارہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اس مختصر سے مضمون میں سرسید کے اخبار تہذیب الاخلاق کے چند اقتبابات پیش کرنا مقصود ہے۔ تہذیب الاخلاق کے مضمون بعنوان ‘‘غیر مذہب کے پیشواؤں کا ہم کو ادب کرنا چاہئے ’’ میں اس طرح رقم طراز ہیں:

ہم کو نہایت افسوس ہے کہ جب ہم مذہبی پیشواؤں کی کوئی کتاب دیکھتے ہیں تو ا س میں ایک مذہب والا دوسرے مذہب کے پیشواؤں کا بری طرح پرذکر کرتا ہے۔ یہ امر مذہب اسلام کے بر خلاف ہے ۔ جس مذہب کے جو پیشوا ہیں جب ہم اپنے مذہبی مباحثوں میں ان کا ذکر کریں خواہ وہ لوگ ہندو ہوں یا پارسی ، عیسائی ہوں یا یہودی یا خود مختلف عقائد کے مسلمان ہی ہوں۔ تو ہم ان بزرگوں و پیشواؤں کے ساتھ گستاخی او ربے ادبی سے پیش نہ آئیں ۔ قرآن شریف میں ہم کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ : بر امت کہو ان کو جو خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ بڑھ کر نادانستگی میں خدا کو برا کہیں گے۔ پس حقیقت میں غیر مذہب والوں کے پیشواؤں کوبرا کہنا خود اپنے مذہب کے پیشواؤں کو برا کہنا ہے۔ علاوہ اس کے اخلاق و متانت سے نہایت بعید ہے کہ ہم کسی دوسرے مذہب کے پیشواؤں کو برا کہیں۔

سرسید سماج کے ہر طبقہ کی نبض کو بہت عمدہ طریقے سےپہچانتے تھے۔ ہر وہ چیز جو لوگوں کو برائی کی طرف کھینچ لے جائے آپ نے اسے دور کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ایک برائی جو ہر مذہب میں کم یا زیادہ ضرور پائی جاتی ہے وہ ہے مذہبی تعصب جس کی وجہ ہے کہ ہر مذہب میں ایک طبقہ ایسا ضرور ہوتاہے جو شدت پسند اور جذباتی ہوتا ہے، اپنے مذہب کے علاوہ کسی دیگر مذہب کو برا سمجھتا ہے ۔ ایسے ہی لوگ سماج  میں نفرت ، تشدد او ربرائیوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اسی سلسلے میں سرسید اپنے ایک مضمون تعصب میں اس طرح فرماتے ہیں ‘‘روحانی اور اخلاقی بیماریوں میں تعصب غالباً سب سے زیادہ خطرناک بیماری ہے۔جو آج کل ہمارےعوام ، ہمارے خواص ، ہمارے جہلاء او رہمارے علماء کرام میں نہایت کثرت سے پھیلی ہوئی ہے۔ بالخصوص ہمارے علماء کرام اور صوفیاء عظام اس موذی مرض کے بری طرح شکار ہیں۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس عادت سے منع کیا ہے۔

اسی مضمون میں ایک او رمقام پر فرماتے ہیں : ‘‘ انسان کی بدترین خصلتوں میں سے تعصب بھی ایک بدترین خصلت ہے۔ یہ ایسی بدخصلت ہے کہ انسان کی تمام نیکیوں اور اس کی تمام خوبیوں کو غارت و برباد کرتی ہے۔متعصب گو  اپنی زبان سے نہ کہے مگر اس کا طریقہ یہ بات جتلاتاہے کہ عدل اور انصاف کی خصلت انسانی اس میں نہیں ہے۔ متعصب اگر کسی غلطی میں پڑتا ہے تو اپنے تعصب کے سبب اسی غلطی سے نکل نہیں سکتا، کیونکہ اس کا تعصب اس کے برخلاف بات کے سننے اور سمجھنے اور ا س پر غور کرنے کی اجازت نہیں دیتا ’’۔ اسی مضمون کا ایک فقرہ یہ ہے : ‘‘ تعصب انسان کو ہزار طرح کی نیکیوں کے حاصل کرنے سے باز رکھتا ہے ۔اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کام کو نہایت عمدہ و مفید سمجھتا ہے مگر صرف تعصب  کی وجہ سے اس کو اختیار نہیں کرتا اور دیدہ و دانستہ برائی میں گرفتار او ربھلائی سے بیزار رہتا ہے ’’۔

غرضیکہ تعصب خواہ اپنی ہو یا دنیاوی باتوں میں نہایت بری ہے  اور بہت سی خرابیاں پیدا کرنے والی ہے۔ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس نے خود ہی تمام کمالات اور تمام خوبیاں اور خوشیاں حاصل کی ہو بلکہ ہمیشہ ایک قوم نے دوسری قوم سے فائدہ اٹھایا ہے مگر متعصب شخص ان نعمتوں سے بدنصیب رہتا ہے۔

مذہبی معاملات میں بھی سرسید صحیح بات کہنے اور لکھنے سے کبھی ہچکچا تے نہیں تھے بلکہ چاہے علماء ہو ں یا واعظین سبھی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا کر وہ حق بات کہنا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے لہٰذا سرسید اپنے ایک مضمون میں ضعیف اور قوی روایات کےموضوع  پر اس طر ح اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں:

وہ حدیثیں جو روایتاً ثابت نہیں ہیں۔ جو دراصل کسوٹی سچ کے پرکھنے کی ہے ان کو نہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کریں اور نہ ان ضعیف حدیثوں اور روایات کو مذہب اسلام میں داخل کر کے مذہب کا ایک جز قرار دیں اور قال رسول اللہ جب کہیں تو ہم غور کریں کہ ہم کس کی نسبت اس بات کو منسوب کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ جو حدیثیں اور روایتیں اگلے عالموں او رزاہدوں نے کتابوں میں لکھی ہیں انہی پر ہمارا اعتماد ہے، کافی نہیں ہے بلکہ خود اس کو سوچنا اور سمجھنا واجب ہے کہ جس امر کو ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں گو کہ اوروں نے کیا ہو اس کا منسوب کرنا صحیح ہے یا نہیں بلکہ و عید اس امر کی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں آئی ہے جو فی الحقیقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں ہے۔

سرسید کے اندر یہ ایک خداداد صلاحیت موجود تھی کہ وہ سماج کے رستے ہوئے ناسور کو بخوبی پرکھ لیتے تھے۔ ان کا مندرجہ بالا مضمون ان کی صلاحیتوں کا غماز ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات اور کمزور یوں کو کس حد تک سمجھ لیا تھا اور ان کمزوریوں کی اصلاح کے واسطے کیا کیا اقدامات کئے ۔ ایسا ہی ایک مضمون ‘‘ اپنی مدد آپ ’’ کے عنوان سے تہذیب الاخلاق میں شائع ہوا تھا جس میں ایک نفسیاتی  پہلو کو سامنے رکھ کر اس پر رائے زنی کی گئی ہے۔ سرسید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘ اپنی مدد آپ ایک نہایت عمدہ اور آزمودہ مقولہ ہے۔ اس چھوٹے سے فقرے میں انسانوں کا اور قوموں اور نسلوں کا تجربہ جمع ہے ۔ ایک شخص میں اپنی مدد آپ کرنے کا جوش اس کی سچی ترقی کی بنیاد ہے جبکہ یہ جوش بہت سے شخصوں میں پایا جائے تو وہ قومی ترقی اور قومی طاقت اور قومی مضبوطی کی جڑ ہے جبکہ کسی شخص کےلئے  یا کسی گروہ کے لئے کوئی دوسرا کچھ کرتا ہے تو اس شخص میں سے یا اس گروہ میں سے وہ جوش اپنے آپ مدد کرنے کا کم ہوجاتا ہے اور ضرورت اپنے آپ مددکرنے کی اس کے دل سے مٹتی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ غیرت جو ایک نہایت عمدہ قوت انسان میں ہے اور اسی کے ساتھ عزت جو اصلی چمک دمک انسان کی ہے از خود جاتی رہتی  ہے اور جب کہ ایک قوم کی قوم کا یہ حال ہوتو وہ ساری قوم دوسری قوموں کی آنکھ میں ذلیل اور بے غیرت اور بے عزت ہوجاتی ہے۔ لوگ جس قدر کہ دوسرے پر بھروسہ کرتے جاتے ہیں خواہ وہ اپنی بھلائی اور اپنی ترقی کا بھروسہ گورنمنٹ ہی پرکیوں نہ وہ اسی قدر بے مدد اور بے غیرت ہوتے جاتے ہیں ۔’’

مندرجہ ذیل بالا اقتباسات کی روشنی میں سرسید کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا ہر عمل چاہے وہ تحریروں کی شکل میں ہو یا تقریروں کی شکل میں نہایت سبق آموز ، اصلاحی اور قومی مفادات پر مبنی ہوتا تھا۔ اگر مسلمان سرسید کی تعلیمات اور اصلاحات کی دس فیصد بھی تقلید کرتے تو آج  مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی لیکن ابھی وقت ہے اور جس طرح ممکن  ہو سرسید کی تعلیمات کو عام کیا جائے ۔

22 اکتوبر ، 2012    بشکریہ : روزنامہ صحافت ، نئی دہلی

 URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/some-pages-of-the-magazine-tahzeeb-ul-akhlaq--رسالہ-تہذیب-الاخلاق-کے-چند-اوراق/d/9062

 

Loading..

Loading..