New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 09:52 AM

Urdu Section ( 22 Sept 2009, NewAgeIslam.Com)

Baitul Maal (House of Money) And the Muslim economy بیت المال اور مسلم معیشت


سید زاہد احمد علیگ

زندگی کے جن شعبہ جات میں مسلمانوں نے دین کے احکامات پر عمل کیا،ان شعبہ جات میں اللہ نے ان کیلئے امن وعافیت رکھی اور جن شعبہ جات میں قوم نے دین کو نظر انداز کیا ،وہاں قوم ذلیل اور مغلوب ہوگئی ۔مثلاً نماز اور حج میں اگر ہم شریعت کے پابند رہے تو اللہ نے ہمارے لئے مسجدوں اور خانہ کعبہ میں امن وعافیت عطا کیا۔اس کے برخلاف جب ہم نے سیاسیات او رمعاشیات میں شریعت کو فراموش کیا تو اللہ نے ہمارے لئے دشو اریاں پیدا کردیں۔جب مسلمانوں نے شوریٰ کانظم ترک کردیا اور یہ سمجھا کہ سماجیات او رسیاسیات کا دین سے کچھ لینادینا نہیں ہے تو ہم سماجی اور سیاسی طور پر منتشر او ربے وزن ہوگئے ۔ آج ملک کے سماجی ڈھانچے میں مسلمان سب سے پچھڑی قوم ہے ۔ ملک میں کئی مسلمان مختلف سیاسی جماعتوں میں خاص مقام تو رکھتے ہیں مگر ہم قومی سطح پر ملی قائد سے محرو م ہوگئے ۔مالیات او رمعاشیات میں ہم نے بیت المال کے نظم کو فراموش کیا اور سود سے بچنے کی کوشش نہیں کی تو معاشی پسماندگی کےشکار ہوگئے اور ملک کے مالی نظام میں تو ہمارا کوئی وجود ہی نہیں رہا۔ مجموعی طور پر ہندوستان کے 31فیصد مسلمان سطح غربت کے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں ۔ شہری علاقوں میں 20فیصد مسلمان بھی ملک کے اوسط معیار پر زندگی گزارنے کی حالت میں نہیں ہیں جب کہ مسلمانوں کا کل جمع شدہ رقم کا 29 فیصد ملک کی دیگر قوموں کے کام آرہا ہے ۔ معاشی یعنی روزی روٹی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے (سورہ جمعہ) میں ارشاد فرما کر کمانے کا حکم دیا تاکہ لوگ خود کفیل بنیں اور اپنی ضرورتیں خود پوری کرنے کی کوشش کریں اور دوسرو ں کے سہارے جینے یاگدا گری کو ذریعہ معاش بنا کر عزت نفس پامال نہ کریں۔ دست سوال دراز کرنے سےاگرچہ قانوناً نہیں روکا گیا، لیکن حضورﷺ نے اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے (بخاری) کی تعلیم دے کر ہاتھ پھیلانے سے اخلاقاً رو ک دیا ۔آپ ﷺ بیعت کرتے وقت اس بات کی شرط رکھتے تھے کہ بیعت کرنے والا کسی سے سوال نہیں کرے گا ۔ اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے مزدور کا ہاتھ چوم کر محنت مزدوری سے اپنی روزی کا انتظام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ۔سماج میں ہمیشہ کچھ لوگ ایسے رہے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے خود اپنی معاش کا انتظام نہیں کرسکتے ۔ جیسے لولے، لنگڑے ،اندھے ، اپاہج ، ضعیف ، یتیم ،بیوہ اور وہ لوگ جو کوشش کے باوجود اپنی روزی کا سامان نہیں کرپاتے۔ ان کی کفالت کا بارقوم کے سر پر ڈال دیا گیا۔

اللہ نے امیروں کے مال میں غریبوں کاحق مقرر کیا ہے ، اور زکوٰۃ کی شکل میں ایک لازم جز مقرر کردیا ہے جسے بیت المال کے ذریعہ جمع اور تقسیم کیا جائے گا ۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں بیت المال کا عظیم نظم قائم کیا اور صحابہ اکرامؓ نے بھی اس نظم کو برقرار رکھا ۔بیت المال ایک ایسا نظم ہے جس سے مسلمانوں کے انسانی ،مالی اور تنظیمی وسائل کی نہ صرف حفاظت ہوگی بلکہ مسلمانوں کے تمام مالی اور معاشی مسائل حل ہونگے ۔ حضرت ابوبکرؓنے بیت المال میں زکوٰۃ نہ جمع کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا، جب کہ زکوٰۃ کا انکار نہیں کررہے تھے بلکہ بیت المال میں زکوٰۃ جمع کرنے کے بجائے اسے خود اپنے طور پر خرچ کرنا چاہتے تھے ۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کی رائے کو قبول نہ کرتے ہوئے ان کو بیت المال میں زکوٰۃ جمع کرنے پر مجبور کیا۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج کےمسلمان جو اپنی زکوٰۃ بیت المال میں جمع کرنے کی بجائے اپنے طور پرخرچ کرتے ہیں ، ان کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ کا کیا فیصلہ ہوتا؟ اللہ کی رحمت واقعتاً مسلمانوں کےساتھ ہے جس کی وجہ سے قوم کسی طرح زندہ ہے۔ ورنہ جو طرز عمل مسلمانوں نے اختیار کررکھا ہے وہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کیلئے کافی ہے۔ جس دین کی دہائی دیتے مسلمان نہیں تھکتے ، اسی دیں کے ایک اہم جز کو خود فراموش کر رکھا ہے۔ جس نبی ﷺ کی فرمابرداری کا دم بھر تے نہیں تھکتے ، اسی رسول ﷺ کے قائم کردہ نظم کے خلاف عمل کررہے ہیں۔بیت المال کا جو نظم رسول ﷺ نے قائم کیا تھا، اس سے سماجی اور مالی وسائل کا بہتر سے بہتر استعمال ہوتا تھا ۔ آج بھی اگرمسلمان بیت المال قائم کرلیں تو مسلمانوں کے تمام مالی اور معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان کے بینکوں میں مسلمانوں کی جمع شدہ رقم کا 29فیصد حصہ غیر قوموں کو قرضہ جات کی شکل میں دیا جاتا ہے۔ اس طرح سالانہ مسلمانوں کو 66،700کروڑ روپیہ کا مالی نقصان ہورہا ہے جب کہ ملک کے 97فیصدمسلمان غیر منظّم سیکٹر میں کام کرنے کی وجہ سے مالی خدمات حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں ۔

اب اتنے برے نقصان کو نظرانداز کرتے ہوئے ملت کی تقدیربدلنے کا خواب دیکھنے والوں کو اپنے فکر کاجائز ہ لینا چاہئے ۔بغیر بیت المال کے نہ مسلمانوں کا مالی استحصال روکا جاسکتا ہے نہ غربت دور کی جاسکتی ہے ۔ اس لئے ہم ملت کے تمام فرد سے درخواست کرتے ہیں کہ بیت المال کے قیام کی فکر اور صحیح کوشش کریں۔ ملک کے ملی اداروں کی کارکردگیوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملت کی ضرورت کے مقابلہ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اصل میں ایک فیصدمسلمان بھی اب تک عملی طور پر کسی بیت المال سے نہیں جڑے ہیں۔غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سماجی ، مالی اور معاشی پسماندگی نے قوم سے خود اعتمادی چھین لیا ۔ لوگ ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر ملی امور میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کی ملت کے پاس بڑےاور کامیاب ملی اداروں کی کمی ہے۔ ملی اداروں کی تعمیر اور تشکیل میں اپنا تعاون پیش کرنے سے قبل ہی لوگ اس میں اپنا حصہ تلاش کرنے لگتے ہیں ۔ نتیجتاًٰ ملی ادارے قائم ہونے کے ساتھ ہی آپسی کھینچا تانی کاشکار ہونے لگتے ہیں اور کامیاب ہونے کے بجائے ڈوب جاتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ جیسے جیسے لوگ آپسی اعتماد اور تعاون کے ساتھ بیت المال سے جڑیں گے، بیت المال مستحکم ہوگا اور مسلمانوں کے معاشی مسائل حل ہوتے جائیں گے ۔ اس لئے ملت کے ہر فرد سے درخواست ہے کہ بیت المال کے قیام اور تشکیل میں شریک ہو ں۔فرد کو ملا کر گھر بنتا ہے ،گھروں کو ملا کر بستی یا محلّہ اور پھر ضلع ،صوبہ اور ملک بنتا ہے۔ اس لئے ایک شخص کا تحریک سے جڑنا ایک بڑے کام کی شروعات ہوگی۔ اور یقین جانیں یہ شروعات ہر اس فرد سے ہونی ہے جس کے ہاتھ میں اس وقت یہ تحریر ہے۔ ملت میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بیت المال صرف اسلامی حکومت میں ممکن ہے اور چونکہ ہندوستان ایک غیر اسلامی ملک ہے اس لئے یہاں بیت المال قائم نہیں ہوسکتا او ربغیر امیر کے بیت المال کی بات فضول ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بات کرتے ہیں جن لوگوں نے زکوٰۃ کی تنظیمیں بیت المال کے نام پر قائم کیا ہے ان کو کس نے حق دیا کہ وہ ایسا کریں اور خود سے وہ لوگ ایسی ذمہ داری کیسے لے سکتے ہیں ؟ اب ایسے لوگوں کو کون سمجھائے کے ملک کا قانون بیت المال کے قیام میں آڑ ے نہیں آتا ۔ اور اگر ملت میں کچھ لوگ بیت المال کے قیام کی کوشش کررہے ہیں تو ان کا ساتھ دینا چاہئے اس لئے مومن پرواجب ہےکہ وہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور برائی سے ایک دوسرے کو روکیں۔

اب کون  سا جوز بنتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے طریقہ کو قائم کرنا چاہیں تو ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کی مخالفت کی جائے؟ایسے لوگوں کے عملی کوشش میں شریک نہیں ہونا درحقیقت اسلامی کاوشوں کی مخالفت ہے۔اس مخالفت پر آخرت میں جواب دینا ہوگا ۔ جب تک ملک کے مسلمان اس بات کا پختہ عزم نہیں کرتے کہ وہ ملک میں بیت المال کا نظم قائم کر کے رہیں گے ،تب تک ملت کی بدحالی دور نہیں ہوسکتی۔ ہمیں سمجھنا اور لوگوں کو سمجھنا ہے کہ مسلمانوں کی معیشت کو مالیات کے بغیر درست نہیں کیا جاسکتا ہے اور مالیات کو مستحکم کرنے کےلئے نبی اکرم ﷺ نے بیت المال قائم کیا تھا۔ اب مسلمان بیت المال کو نظر انداز کر کے تو اپنی مالیات کو درست نہیں کرسکتے ۔لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ملت کا ہر فرد ملک میں بیت المال کی تشیلا اور قیام کے متعلق اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسے پورا کرے۔ جب تک ہم اسلامی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہوئے معاشی ترقی کی کوشش کرتے رہیں گے ،ناکام رہیں گے اور جب معیشت کو درست کرنے کےلئے اسلامی تعلیمات اور نظم پر عمل پیرا ہو کر کوشش کریں گے، اللہ کی مدد اور نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔ (انشا اللہ )

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/baitul-maal-(house-of-money)-and-the-muslim-economy--بیت-المال-اور-مسلم-معیشت/d/1785


 

Loading..

Loading..