New Age Islam
Thu Oct 29 2020, 05:47 PM

Urdu Section ( 15 Jan 2010, NewAgeIslam.Com)

The Voice Of Conscience: Part 6 ضمیر کی آواز:چھٹی قسط


زاہدہ حنا

اور جب یہ سب کچھ ہورا ہوگا اس وقت کرۂ ارض پر انسان کا نام ونشان بھی نہیں ہوگا۔ جیکو ارڈ لکھتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے وہ لوگ جو اس خوش فہمی میں مبتلا  ہیں کہ زیر زمین جو ہری پناہ گاہیں انہیں موت سے ہلاکت اور عذاب سے محفوط رکھیں گی۔ وہ اپنے آپ کو محض بہلارہے  ہیں ۔ اس کا اصرار ہے کہ اپنی ایجاد کا پہلا لقمہ تر خود انسان ہوگا جو نیو کلیائی جنگ کا آغاز ہو تے ہی بھاپ بن کر اُڑ جائے گا ،خاک بن کر بجھ جائے گا۔

جس دنیا میں ان ہلاکت آفریں ہتھیار وں پرکھربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں ،اسی دنیا میں اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق تیسری دنیا کے ایک ارب انسان ‘‘ پاورٹی لیول’’ سے نیچے یا یوں کہہ لیں کہ ‘‘غربت کی انتہا’’ پر زندگی بسر کررہے ہیں ۔ 78کروڑ انسانوں کو ناکافی غذا ملتی ہے، پچاس کروڑ انسان ناخواندہ ہیں جب کہ ڈیڑ ھ ارب انسانوں کو کسی بھی قسم کی طبی سہولتیں میسر نہیں۔

نیو کلیائی ہتھیارو ں پر خرچ ہونے والی ہوش ربا رقم کا تو یہاں ذکر ہی نہیں ،صرف ایک جیٹ بمبار کی قیمت سے تیسری دنیا کے دیہی علاقوں میں چالیس ہزار طبی مراکز کھولے جاسکتے ہیں اور صرف ایک تباہ کن بحری جہاز کیے قیمت بجلی پہنچانے پر صرف کی جائے تو نوے لاکھ افراد کے گھر بجلی کی روشنی سے جگمگا سکتے ہیں۔

غرض ایک طرف نیو کلیائی اندھیرے اور رگوں میں خون جمادینے والی سردی کا دہشت ناک تصور ہے تو دوسری طرف روشنیوں سے جگمگاتے ہوئے شہر ،قصبے اور دیہات ہیں۔ ایک جانب تابکاری سے اذیت ناک موت کے گھاٹ اترتا ہوا انسان ہے تو دوسری جانب طبی مراکز میں بچائی جانے والی انسانی جانیں ہیں۔

متعدد فرانسیسی ،برطانوی ،امریکی اور روسی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم انسان نہیں لے سکتے ۔ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی نیو کلیائی جنگ کی صورت میں دنیا کا خاکستر ہوجانا اور بنی نوع انسان کا بلکہ دنیا سے ہر ذی حیات کا نابود ہوجانا حتمی ہے۔ اسی لیے ہم دنیا بھر کے انسانوں کو ان خطرات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کے سروں پر اور ان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل پر منڈلا رہےہیں۔ یہ ہمارے ضمیر کا مسئلہ ہے او رہمارے وجود کا بھی۔ ہم اپنے بعد اپنی نسلو ں کی صورت میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اپنی زمین کو ان کی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے ان کی انگلیوں سے محسوس کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے ہم ان اداروں اور ان افراد کے خلف مسلسل صدائیں احتجاج بلند کرتے رہیں گے جو انسانو ں کو اس اجتماعی خود کشی کی طرف ڈھکیل رہے ہیں۔

اس وقت مجھے 60کی دہائی کے وہ دن یاد آئے جب کراچی ایک دلکش اور پرُماجرا شہر تھا یہاں سنیما گھر پائے جاتے تھے، لوگوں کو اچھی فلموں کی آمد کا انتظار رہتا تھا، سنیما گھروں پر لمبی لمبی قطاریں لگتی تھیں اور بین الاقوامی طور پر شہر ت یافتہ فلمیں اپنے اترنے کے بعد بھی عرصے تک موضوع گفتگو رہتی تھیں۔ ان ہی دنو ں کی بات ہے، کراچی کے کسی سنیما گھر میں ایک فلم ‘‘دی تھرڈ ورلڈ وار’’ ریلیز ہوئی۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ فلم جاپان میں بنی تھی اور اس کا مرکزی کردار ایک جاپانی لڑکی تھی جو اسکول میں نرسری کے بچوں کو پڑھانے پر مامور تھی۔ اس فلم میں دنیا کے بڑے بڑے شہروں، نیویارک، لندن، پیرس، ٹوکیو ، او ردلّی کو  نیو کلیائی آگ سے جلتے ہوئے، بہتے اور پگھلتے ہوئے لاوے میں تبدیل ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور انسان اپنی تمام محبتوں اور نفرتوں کے ساتھ اس جہنمی آگ میں بھسم ہوگئے تھے۔

‘‘دی تھرڈ ورلڈوار’’ ہویا ‘‘ہیروشیما اور ماں کی دعا ’’The Day’’ ‘‘After یو یا ‘‘Armagidion’’ یا اس موضوع پربننے والی دوسری فلمیں ایسی نہیں ہیں جنہیں دیکھ کر بھلا یا جاسکے۔اسی قبیل کی ایک فلم  ‘‘دی لیٹر آف اے ڈیڈ مین’’ ہے۔ یہ بھی اس نیو کلیائی جنگ کے بارے میں ہے جس کے خوف سے دنیا کی تمام قومیں دہشت زدہ ہیں اور پھر بھی ایٹمی ہتھیار وں کی تیاری اور ان کے حصول کے لیے بیقرار ہیں۔ اس فلم کے بارے میں بعض بین الاقوامی رسالوں میں پڑھا تو امید نہ تھی کہ اسے دیکھ سکوں گی کیو نکہ یہ فلم سوویت یونین میں بنی تھی اور کراچی میں سوویت یونین کی فلمیں عنفا ونایاب تھیں ۔لیکن سوویت کلچرل سٹر ا کے ڈائریکٹر طاش مرزا ئیوں کی عنایت کے سبب میں اس فلم کو دیکھ سکی۔

یہ ان بچوں کے بارے میں تھی جو ایٹمی پناہ گاہ سے نکلے تھے تو ان کے ارد گرد کی ہوا ناقابل یقین حد تک سرد تھی۔ ان کے پیروں کے نیچے نیوکلیائی آگ کی راکھ تھی۔ دنیا کا تمام حسن خاکستر ہوچکا تھا اور اب ان کے بھاری بوٹوں سے سرمئی راکھ بن کر لپٹ رہا تھا۔ وہ زمین جس پر دریا لہریں لیتے تھے ،پیڑ جھومتے تھے، بچے قلقار یاں مارتے تھے ،نوجوان محبت کرتے تھے محبو بائیں انتظار کرتی تھیں ، بوڑھے کہانیاں سناتے تھے ، جس کی فضا میں تتلیاں اڑتی تھیں ،جس کی ہواؤں میں خوشبو تھی، رعنائی وبر تائی تھی۔ وہ اب محض خاک کا ڈھیر تھی۔ وہ نیلاآسمان جسے کہکشاں اپنا دوشالہ اڑھاتی تھی ،چاند کی کشتی جس کی وسعتوں میں تیر تی تھی او رشام کا پہلا تارا جس کی پیشانی پر ہیرے کی طرح جگمگا تا تھا ، اس نیلگو ں آسمان کو نیو کلیائی آگ کے دھوئیں نے نگل لیا تھا۔ اب محض خنکی تھی، ایک بیکراں اندھیرا تھا او رپاگل کردینے والا سکوت۔

اس فلم کو دیکھتے ہوئے یہ احساس جاں فزا تھا کہ جو کچھ بھی میں دیکھ رہی ہوں، وہ ایک فلم ہے ، ایک کہانی ہے، حقیقی زندگی سے ا س کا کوئی تعلق نہیں اور اس کے ساتھ ہی ہرمرتبہ احساس بھی ہوا کہ اس وقت ہماری دنیا ہوس جنگ میں مبتلا جن جنونیوں کے چنگل میں ہے ،ان سے بعید نہیں کہ وہ کسی تخیلاتی فلم کے دہشت زدہ کردینے والے مناظر کو حقیقت میں بدل دیں۔

یہ ایک ایسا تھرادینے والا خیال ہے جو ہم سب کو بہت کچھ سوچنے اور اپنے اپنے حلقہ اثر میں بہت کچھ کرنے اور مسلسل کرتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر کا نسٹنٹائن پشان کی کا شمار سابق سوویت یونین کے ان ذہن او رباصلاحیت نوجوان فلم ڈائریکٹر وں میں ہوتا تھا جو فلم کو انسانی احساسات اور جمالیات کا موثر ترین ذریعہ اظہار سمجھتے ہیں۔ اس نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا۔۔۔۔

‘‘مجھے اپنی ذمہ دار یوں کا احساس ہے اور اسی احساس نے مجھ سے یہ فلم بنوائی ہے جسے دیکھنے کے بعد انسان کےذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ ایٹم بم کی شکل میں انسان نے کہیں اس ‘‘جن’’ کو تو بوتل سے آزاد نہیں کردیا جو آخر کار اپنے آزاد کرنےوالے کو سمو چانگل جائے گا اور ہماری دھرتی ریزہ ریزہ ہوکر کائناتی دھول میں بدل جائے گی۔’’

اپنے انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ جنگ کا خوف انسانوں کے ذہنوں سےکابوس کی طرح چمٹ جائے۔ میں نہیں چاہتا کہ شدید بارش کے دوران جب بادل کڑکیں تو میرا پانچ سالہ بچہ مجھ سے چمٹ جائے اور پوچھے ۔۔۔۔ ‘‘ڈیڈ ی  ، کیا جنگ شروع ہوگئی ہے؟’’ میں یہ نہیں چاہتا ۔

اور یہ ہم میں سے بھلا کون چاہتا ہے۔ شاید دنیا کے بیشتر انسانوں کو اس عالمی صورت حال سے نفرت ہے جس نے کم عمر بچوں کے ذہنوں کو بھی جنگ کی ہیبت او ردہشت سے یو ں بھر دیا ہے کہ وہ آسمانی بجلی کے کڑکنے کو جنگ کاآغاز تصور کر لیتے ہیں اور بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوف سے لڑنے لگتے ہیں۔

یہ فلم ان خطوط پر مشتمل تھی جو لحظ لحظ کر کے نیو کلیائی موت مرتے ہوئے ایک باپ نے اپنے مردہ بیٹے کے نام لکھے ا س فلم کا مرکزی کردار ایک بوڑھا سائنسدان ہے جو شہر کے ایک آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں چند دوسرے افراد کے ساتھ ہے۔ تہہ خانے سے باہر سب کچھ ختم ہوچکا ہے او رجو لوگ تہہ خانے کے اندر موجود ہیں، موت ان کا بھی مقدر ہے۔

یہ تمام تباہی ایک کمپیوٹر کی غلطی سے شرو ع ہوتی ہے ۔کمپیوٹر آپریٹر کافی پی رہا ہے ۔اسےپھندا لگتا ہے اور اسی دوران کمپوٹر غلط طور پر دوسری عالمی طاقت کی جانب سے ایٹمی حملے کی نہ صرف خبر دیتا ہے بلکہ فوراً جوبنی حملے کے احکامات بھی جاری کردیتا ہے ۔کمپیوٹر آپریٹر چیختا ہے، جذباتی انداز میں کہتا ہے ۔ ‘‘ یہ اطلاع سراسر غلط ہے۔۔۔ ہم پرنیو کلیائی حملہ نہیں ہوا ہے ۔جوابی کارروائی فوراً روک دو، میزائلوں کی روانگی منسو خ کردو’’۔لیکن اس سے سات سیکنڈ کی تاخیر ہوگئی ہے۔ یہ وہی سات سیکنڈ ہیں جن کے دوران اسے کافی کا پھندا لگا تھا اور پھر یہ پھندا ،ساری دنیا کے گلے میں پھانسی کا پھندا ثابت ہوتا ہے۔ آپریٹر جانتا ہے کہ اس تاخیر کے سبب انسانیت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ۔ وہ جانتا ہے کہ چودہ منٹ کے اندر اندرساری دنیا تباہ ہوجائے گی اور اس ‘‘علم’’ کا بوجھ اتنا مہیب اور بھیانک ہے کہ کمپیوٹر آپریٹر اسی وقت خود کشی کرلیتا ہے۔

فلم کا مرکزی کردار سائنسدان آرٹ میوزیم کے تہہ خانہ میں اپنی بیوی ،چند ساتھیوں اور بچوں کے ساتھ ہے اور جانتا ہے کہ اسے سسک سسک کر ختم ہوجانا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا بیٹا جو باہر تھا، ختم ہوچکا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا رہتا ہے ۔ بیٹا جو مستقبل کی علامت ہے ، اسے خط لکھتا رہتا ہے۔

‘‘ڈیئر ایرک ،قبل اس کے کہ ہم سب ، تمہاری ماں میں اور خود تم ۔۔۔کائنات کا حصہ بن جائیں ، ہمارے پاس زندہ رہنے کے لیے چند گھنٹے ہیں۔ میں اور تمہاری ماں آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں اپنے چند ساتھیوں سمیت پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں تمہارا انتظار کریں گے۔ شاید تم ختم ہوچکے ہو لیکن میں اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتا ۔’’

اس فلم کے ہیرو رولان بیگو نے اس فلم کے پریمیئر ریلیز کے موقع پر اس سوال کاجواب دیتے ہوئے کہ اس نے اس فلم میں بنیادی کردار کیوں ادا کیا، بے ساختہ کہا تھا۔۔۔۔

‘‘ اس فلم میں کام کرنا میرے لئے ناگریز تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس فلم میں کام کر کے میں نے اپنی شہری اور انسانی ذمہ داری ادا کی ہے۔’’

فلم میں ‘’سات سیکنڈ ’’  کو ایک خوبصورت او ربامعنی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا تھا کہ صرف ‘‘ سات سیکنڈ ’’ کی غلطی نظام شمسی کے سب سے حسین اور ذہن کرے کو تہس نہس کردیتی ہے۔ عہد نامہ عتیق کے مطابق تخلیق اور تعمیر کے لیے خدا کو بھی چھ دنوں اور چھ راتوں کی مدت درکار ہوئی تھی تب ہی ساتویں دن خدا وند خدانے آرام کیا تھا۔

 یہ حتمی موت کی دہلیز پر کھڑے ہوکر بھی زندگی پر یقین رکھنے کی ایک عظیم کہانی ہے۔ یہ ان بچوں کی کہانی ہے جو اس آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں موجود ہیں جنہیں فلمکار ہیرو یعنی بستر مرگ پر پڑا ہواسائنسدان ،یقین دلاتا ہے کہ زندگی موت سے عظیم ہے اور انسان کائنات میں سانس لینے والا سب سے بہادر اور جی دار ،ذی حیات ہے۔ یہ ایک مردہ کرے پر زندگی کے لیے جدوجہد کرنے والے ان بچوں کی کہانی ہے جن سے مرتے ہوئے ایک بہادر انسان نے کہا تھا۔۔۔ ‘‘ہمت نہ ہارنا ،چلتے جانا جب تک کہ تمہارے وجود میں توانائی کا ایک شمع بھی موجود ہے’’۔

‘‘لیٹر فرام اے ڈیڈ مین’’ ہو یا اس موضوع پر بننے والی دوسری فلمیں ،امن اور زندگی کے حق میں لکھے جانے والے ناول ، کہانیاں ،شاعر ۔۔۔ ان سب کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ نا اور انسانوں کو ان خطرات سے آگاہ کرنا ہے جو ان کے سر پر پہنچ چکے ہیں ۔ ایک ایسی  ہی تحریر ہندوستان کی مشہور ادیب اروندھتی رائے کی ہے۔پوکھران دھماکوں کے فوراً بعد 31جولائی 1998کو ہندوستانی رسالے ‘‘فرنٹ لائن’’ میں ان کا ایک مضمون ‘‘تخیل کی موت’’ کے نام سے شائع ہوا۔ اروندھتی رائے نے لکھا۔۔۔

‘‘ایٹمی ہتھیار پاگل پن کے پیغامبر ہیں ۔۔۔۔ یہاں ہندوستان میں اور یہاں سے تھوڑی دور پاکستان میں ،ہر مرد، عورت اور بچے سے میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں اسے اپناذاتی مسئلہ سمجھئے ۔ آپ جو کوئی بھی ہوں، ہندو، مسلمان، شہری، دیہاتی، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔ جی وہ دن آئے گا تو آپ سے آپ کے ذاتی کوائف نہیں  پوچھے جائیں گے۔ تباہی ہر ایک کے لیے یکساں ہوگی۔۔۔ ہندوستان کا ایٹم بم اس حکمران طبقے کی جانب سے حتمی غداری ہے جس نے اپنے عوام کو دھوکا دیا ہے۔۔۔۔ ہم اپنے سائنسدانوں کو تعریف کے کتنے ہی ہاروں سے لاددیں ،ان کے سینوں پر کتنے ہی تمغے آویزاں کردیں ،حقیقت یہی ہے کہ بم بنانا بہت آسان کام ہے ،چالیس کروڑ عوام کو تعلیم دینا اس سے کہیں زیادہ دشوار ہے۔۔۔ ایٹم بم انسان کے ہاتھوں وجود میں آنے والی سب سے زیادہ جمہوریت دشمن، قوم دشمن، انسانی دشمن اور شیطانی چیز ہے’’۔

11مئی 1998کو ہندوستان نے جو ایٹمی دھماکے کیے اس پر اروندھتی رائے نے او رکئی دوسرے ہندوستانی دانشوروں او رادیبوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس سے بہت پہلے ہندوستان کے ایٹمی پروگرام سے خوفزدہ ہوکر ساحر لدھیانوی نے کہا تھا۔۔

کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے

تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں

 جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے

زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں

گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار

عجب نہیں کہ یہ تنہا ئیاں بھی جل جائیں

گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار

عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں

 افسوس کہ یہ آوازیں مدھم رہیں۔مہاتما بدھ او رمہاتما گاندھی کی جنم بھومی پر وہ دانش  غالب نہ آسکی جو ہندوستان کی سرزمین پر ایٹمی عفریت کی پیدائش کو روک سکتی۔ اب ہم ساحر کی طرح اس خوف سے دوچار ہیں کہ ہمارے وجود تو دور کی با ت ہیں ،یہ ایٹمی بلائیں کہیں ہماری پرچھائیوں کو بھی جلا کر راکھ نہ کردیں۔

قوموں او رملکوں کو جنگی جنون میں مبتلا کردینا بہت آسان ہے لیکن انہیں امن وآشتی کا راستہ دکھانا ایک مشکل کام ہے۔ وہ لوگ جو آج کیمیائی ہتھیار وں یا ایٹمی اسلحے کی موجودگی پرفخر کرتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق معاملات نہیں طے کیے گئے تو وہ ان ہتھیار وں کا استعمال کر گزر یں گے انہیں ذمہ دارانہ عہدوں پر نہیں، پاگل خانوں میں ہونا چاہئے۔

جوہری ہتھیار وبندی جنوبی اشیا پر کس طرح اثر انداز ہوگی اس کی واضح تصویر ہمیں سامنے دکھائی دے رہی ہے۔ اس ہتھیار بندی کے شائقین نے برصغیر کے کروڑوں انسانوں کے ہاتھ سے ان کی آدھی روٹی بھی چھین لی ہے۔وہ خطیر رقم جو دونوں ملکوں کے غریبوں کی حالت سدھارنے پر صرف ہوسکتی تھی ،وہ جوہری برصغیر کے خواص وعوام کی سمجھ میں نہ جانے کب آئے گی کہ اگر لاکھوں سپاہیوں پر مشتمل افواج او ر اسلحے کے انبار ہی قوموں کے ناقابل تسخیر ہونے کا سبب ہوا کرتے تو ویتنام سے دنیا کی عظیم ترین فوجی طاقت امریکہ کو شرمناک پسپائی نہ اختیار کرنی پڑتی او ردوسری جنگ عظیم میں جاپان پرایٹمی حملہ کر کے اسے شکست فاش دینے کے بعد ،اس پر فوج او راسلحہ نہ رکھنے کی پابندی لگانے والے امریکہ کو صرف 48برس بعد جاپان سے تجارتی مراعات کے لیے درخواست نہ کرنی پڑتی ۔ اس سے بھی بڑھ کر کہ دنیا کی عظیم طاقت سوویت یونین اپنے اسلحہ خانوں میں ہزاروں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود یوں ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوجاتی ۔

یہ کام دانشوروں ،ادیبوں اور فنکاروں کا ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا لوگوں کے سامنے سراٹھا کر کھڑے ہوسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ اے لوگو! ہم لڑائی کے لیے اپنے ہتھیار کیسے اٹھائیں کہ ادھر اور ادھر دونوں طرف ہمارے باپ، بیٹے ، بھائی اور بھتیجے ہیں۔۔۔ ہم لہلہاتی ہوئی فصلوں اور رسے بسے شہروں پر بم کیسے برسائیں کہ دونوں طرف ہمارے دل کے رشتے اور خون کے ناتے ہیں۔۔ ہماری مشترک تہذیب کے حسین ترین آثار اور افکار ہیں۔ ہمارے بچے ان شہروں میں کھیلتے ہیں اور یہاں ہمارے پرکھوں کی قبریں ہیں۔۔۔ ان کی راکھ یہاں کے کھیتوں کھلیانوں میں بکھری ہوئی ہے۔ قبرستانوں اور شمشانوں پر بھی بھلا کہیں آگ برسائی جاتی ہے؟

اپنی بات ختم کرتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ آپ کو ایک کہانی سناؤں ۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک قصبے میں دوبچے رہتے تھے ۔دونوں دو برس کے ہوئے تو ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگے۔ کبھی ایک دوسرے کو گھونسا مار کر بھاگ جاتا، کبھی دوسرا پہلے تھپڑ رسید کردیتا ۔دونوں بارہ برس کے ہوئے تو ایک دوسرے کے خلاف ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال شروع کردیا۔ کبھی ایک سر پھٹتا ،کبھی دوسرے کا ہاتھ ٹوٹتا ۔بائیس برس کے ہوئے تو دونوں نے ایک دوسرے پر گولیاں برسانے کا شغل اختیار کیا۔ بیالیس برس کو پہنچتے پہنچتے وہ ایک دوسرے پر بم برسانے لگے اور جب 62برس کے ہوئے تو ایک دوسرے کے خلاف جراثیم کے ہتھیار تیار کرنے لگے۔ 82برس کی عمر میں دونوں مرگئے ۔ مرنے کے بعد بھی ان کا ایک دوسرے سے ناتا نہ ٹوٹا، اور ان کے وارثوں نے انہیں پہلو بہ پہلو دفن کر دیا۔ قبر کا کیڑا اپنے  لاتعداد بیٹوں بیٹیوں ، پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کےساتھ ان دونوں کی لاشیں کھارہا تھا تو قبر کے کیڑوں کا یہ خاندان اس بات سے آگاہ نہ تھا کہ اس نے جن دولاشوں پر اتنے دنوں دعوت اُڑائی ہے وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے اور وہ کیڑے جانتے بھی کیسے کہ دونوں قبروں کی مٹی تو ایک ہی جیسی تھی۔

ذرا تھمئے کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور بات سن 5000عیسوی تک جاتی ہے ۔سن 5000میں ایک بچھو نے زمین سے سر نکال کر اپنے چاروں طرف نگاہ کی تو دیکھا کہ پیڑ جھومتے ہیں، کوئے کائیں کائیں کرتے ہیں۔ کتے بھونکتے ہیں ، مچھلیاں اور گھونگھے چاند اور ستارے، سمندر کی لہریں ،دریا کی موجیں زمین پر رینگتی ہوئی چیونٹی او رہوا میں اڑتی ہوئی گوریا سب اسی طرح ہیں ۔بچھو نے آدمی کو تلاش کیا لیکن وہ اسے نہیں ملا، اس نے قریب سے گزرتے ہوئے لکڑ بگھے سے آدمی کے بارے میں پوچھا تو اس نے افسوس سے گردن ہلائی اورکہا ۔۔۔ ‘‘آدمی ....؟ ہاں، کبھی کبھار کوئی آدمی بھی نظر آجاتا ہے۔’’

مجھے نہیں معلوم کہ جنگ پسند اس کہانی سے کیا سبق لیں گے لیکن میں دونوں طرف کے جنگ پسندوں کو یہ حق نہیں دینا چاہتی کہ وہ برصغیر کو ہمیشہ کے لیے  کوروکشتر یا پانی پت کا میدان بنادیں ۔ میں اس خیال سے لرزتی ہوں کہ حتمی جنگ کے ہزارو ں برس بعد باڑھ پر آئے ہوئے دریا میدانی علاقوں کی مٹی بہالے جائیں تو ہماری ہڈیاں نظر آنے لگیں جو اس وقت بھی تابکاری سے آلودہ ہوں گی۔

ہیرو شیما او رناگا ساکی سے پہلے ہم انسانوں کا خیال تھا کہ افراد کو موت آسکتی ہے ،تہذیبیں فنا ہوسکتیں ہیں ، تاریخ دفن ہوسکتی ہے لیکن انسانیت لازوال ہے۔ ہماری دھرتی ‘‘ابدالا ٓباد ’’ تک ‘‘آباد’’ رہنے کیلئے ہے۔ لیکن ان دوشہروں کی تباہی نے ہم انسانوں کا یہ یقین ہم سے چھین لیاہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ کسی جنوبی حکمران کا ایک اشارہ یا کسی غیر ذمہ دار انسان کی لا پروائی اس کرۂ ارض کو مردہ سیارے میں تبدیل کرسکتی ہے اور ‘‘انسان ہمیشہ کے لئے معذور ہوسکتا ہے۔

مجھے ایک بار پھر ‘‘لیٹر فرام اے ڈیڈمین’’ یاد آئی ۔عام انسانوں کے نام، مستقبل کی جانب سے بھیجا جانے والا ایک کھلا ہوا خط ہماری نفرتوں او رہماری دشمنی کی لایعنیت ہم پر عیاں کرتا ہے۔ہمارے ذہنوں میں اس سوال کو اٹھاتا ہے کہ ہم ایک ایسی جنگ کیوں لڑیں جس میں ہر فریق محض ہار نے کے لیے لڑے گا اور یہ ہار چند انسانوں یا چند قوموں کی نہیں ،تمام انسانیت کی ہوگی۔

‘‘دی لیٹر فرام اے ڈیڈ مین’’ کا ایک کردار کہتا ہے۔

‘‘ اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ بات تسلیم کرلیں کہ انسان کی تاریخ ہر زندہ شے کو ملیامیٹ کردینے کی تاریخ ہے۔ انسان کو دانش دی گئی تھی لیکن وہ اس دانش کو استعمال کرنے کے طریقے نہیں جانتا تھا۔ اس کی ذہانت نے وہ تمام طریقے ایجاد کیے جن کے ذریعے انسان اور انسانیت مکمل طور پر خودکشی کرسکیں ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم انسان اس بات کا اعتراف کرلیں کہ ہم مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ ہم انسانیت کے نام پر ایک تہمت ہیں۔ ہم نے اس میں سے ذرہ برابر بھی استعمال نہیں کیا۔’’

جنگ کی باتیں ،جب تک باتیں رہیں۔۔۔ بہت شاندار ،پرُ شکوہ او رباوقار محسوس ہوتی ہیں لیکن جنگ جب انسانوں پر مسلط ہوجائے تو وہ تمام اعلیٰ اقدار کو چاٹ جاتی ہے اورتمام خوبصورتیوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکتی ہے اور اپنے پیچھے لاشوں کے پہاڑ اور خون کے دریا چھوڑ جاتی ہے ۔ اور اب ہم سب جس آخری جنگ کی بڑی جوش وخرو ش سے تیاریاں کررہے ہیں اس کے بعد نہ فتح کا پھریرا اڑانے والے رہیں گے او رنہ شکست کی ذلت سہنے والے ۔پھر تو فاتح ومفتوح ا س اجتماعی قبرستان میں ایک ساتھ سوئیں گے جس کا نام ‘‘زمین ’’ہوگا۔

(ختم شد)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-voice-of-conscience--part-6--ضمیر-کی-آواز-چھٹی-قسط/d/2386


 

Loading..

Loading..