New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:40 PM

Urdu Section ( 12 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

What the ‘Hell’ He Is Doing, This Zakir Naik? ذاکر نائیک کیا تباہی مچا رہے ہیں ؟

 

ایمن ریاض ، نیو ایج اسلام

18 ستمبر، 2012

 (انگریزی سے ترجمہ ۔ مصباح الہدیٰ،نیو ایج اسلام )

‘‘ چونکہ  ‘دو ’اور‘ دو’ کے جواب میں  ‘چار ’کے علاوہ  کوئی کچھ اور قابل قبول نہیں ہےاور میں اپنے بچے کو  ایسے اسکول میں جانے کی اجازت نہیں دونگا  جہا ں اس کا جوب کچھ اور  پڑھایا جائے ؛ بالکل اسی طرح اسلام ‘حق’ ہے (صداقت اور صرف صداقت ) اس کے علاوہ اللہ کے نزدیک کوئی  اور مذہب قابل قبول نہیں ہے ’’۔

اس قسم کے جواب کی کوئی اہمیت نہیں ہے جس نے ایسا کہا ہے : ذاکر نائک ، صدر اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ۔وہ ایک MBBS  ڈاکٹر ہیں لیکن انہوں نےوہ کا م ایک  ‘‘فائق ’’اور  ایک داعی (وہ انسان جو لوگوں کو اسلام کے سائے میں آنے کی دعوت دے )بننے کے لئے ‘‘روحانی اعتبار سے زیاد ہ پر امید ’’ کام کے لئے چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘‘میں نے اپنا پیشہ بدل دیا ہے ؛ میں کبھی بدن کا معالج  تھا ، لیکن اب اللہ کے فضل سے، میں ایک روح کا معالج ہوں ’’۔

وہ ‘‘اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کو’’ مذہبی کتابوں، استدلال اور حکمت کی مدد سے دور کرنے کے لئے مشہور ہیں ۔اس علاوہ  وہ ‘‘ دوسرے مذاہب کے متعلق شکوک و شبہات کو بھی دور کرتے ہیں ’’ گو کہ وہ ‘تقابل ادیان کے ایک طالب علم ہوں ’۔ وہ واضح طور پر قرآن ،صحیح حدیث ، ویدا ،اپنشاد ، گیتا ،اور بائبل کا حوالہ پیش کرتے ہیں  جب کہ ساتھ ہی ساتھ  وہ   دھمہ دھرم پد اور مشرق کی مقدس کتابوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں  خاص کر ان کی تعریف  ‘‘ سولات کے وقت مطمئن کرنے والے جوبات دینے’’  کی وجہ سے ہوتی ہے ۔

وہ  ‘‘سیکڑو ں عوامی خطابات دے چکے ہیں اور مباحثے پر مبنی ٹی وی پروگرام میں شرکت  کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر   William Campbell کے ساتھ  ‘‘ قرآن اور بائبل سائنس کی روشنی میں ’’ کے عنوان پر ان کے  مباحثے کو بڑی کامیابی ملی اور  2006  میں  شری شری  روی شنکر کے ساتھ ‘ ہندوازم  اور اسلام  میں مقدس مذہبی کتابوں کی روشنی  میں خدا کا تصور ’کے عنوان سے ہونے والے مباحثے کو بھی خوب سراہا گیا ہے ۔’’

مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان سے محبت کرتا ہے اور ان سے عقیدت رکھتا ہے ۔اب مسلم والدین اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو   آئی ایس ایس (IIS) اسکول سے منسلک کرنا چاہتے ہیں، تا کہ وہ ذاکر نائک کی طرح بنیں  اور سبک روی کے ساتھ مقدس مذہبی کتابوکا حوالہ دیں ، اور ثواب عظیم کمائیں تاکہ وہ  آسانی کے ستھ جنت میں جا سکیں ، اور اپنے والدین کو بھی اپنے دوش پر جنت میں لے جائیں ۔

مثالی باتیں بہت ہو گئیں ، آئے اب  ان کے متعلق کچھ حقائق  کی باتیں کریں  

یہ پلاٹو کی مثالی جنت  کی طرح ہے ،کہ  بغیر کسی پیچیدگی کہ ہر چیز ،مثالی اور مکمل ہے ؛لیکن یہاں ایک حقیقت ہے ۔ پلاٹو کا  ایک مثالی جنت کا خواب ادھورا رہ گیا ۔بالکل یہی صورت حال ان مسلمانوں کے نفسیات کی ہے جو ذاکر نائک کی اتنی تعظیم کرتے ہیں : انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ذاکر نائک   نے انہیں ایسےخیالی دنیا  میں پہونچایا ہے کہ تصورات کی اس دنیا سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔

لوگ کیا کہتے ہیں یہ اس بات سے کم اہم ہے کہ جوگ کیسے کہتے ہیں ۔ایک سائنسی دریافت کے مطابق   ہم جو کہتے ہیں اس کا اثر صرف  7-10%  پڑتا ہے ،60-80%  اثر ہمارے انداز اور اواز کے لہجے سے پڑتا ہے (Allan Pease کی کتاب ‘The Definite Guide to Body Language’ سے رجوع کریں ) ڈاکٹر ذاکر نائک کہتے ہیں کہ وہ دوسرے مذاہب پر نہ تو تنقید کرتے ہیں اور نہ ہی ان کا مذاق بناتے ہیں ، لیکن سچائی اس سے بالکل مختلف ہے ۔ یہاں ایسے مثالوں کی ایک فہرست پیش کی جا رہی ہے جو ان کے بیان سے بالکل مختلف ہے :

وہ کہتے ہیں  کہ ‘اسلام کی پیدا وار100%  ہیں لیکن ان کی ترسیل 0% ہے ؛اور عیسائیت کی پیداوار  0% ہے لیکن اس کی ترسیل   100% ہے (‘ میڈیا اور اسلام : جنگ یا امن ؟’کے موضوع پر ایک خطبہ میں )۔یہ کیا مذاق ہے !وہ اکثر بائبل کا حوالہ دیتے ہیں اور ان کا چینل پیس ٹی وی (Peace TV) سو ملین سے زیادہ  لوگ دیکھتے ہیں۔(لوگ ذاکر نائک کو کیوں چاہتے ہیں اس  پر میں اگلے حصے میں گفتگو کروں گا ۔)

سولات کے دوران انہوں نے کہا کہ ‘ اگر دیوی جی ہونگی تبھی تو دعوت دیں گے ’ ( آپ دیویو ں کو صرف اسی وقت اسلام کی دعوت دینگے جب وہ ہونگی )۔ کیا یہ ایک ایسا فہم پیدا نہیں کرتا کہ یہ پتہ چل سکے کہ وہ ہندو دیویوں کا مذاق بنا رہے ہیں ۔ اگر کوئی اسے سنتا  ہے  اور یہ کہتا ہے تب کسی کو اندازہ ہوگا کہ اس کا مقصد ہندوؤں کو اور ان کے معتقدات کو بدنام کرنا ہے ۔ کشمیر میں ‘کیا قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے ’ کے موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘‘بائبل میں ایسی چیز ہے کہ ایک اچھا انسان بول بھی نہیں سکتا ، آپ اپنی ماں کے سامنے بھی نہیں بول پائیں گے ، اسے میں بولنا نہیں چاہتا ،پورنوگرافی ہے ، کیسے ریپ (عصمت دری )کرتے ہیں وہ لکھا ہوا ہے ، کیسے گینگ ریپ (اجتماعی عصمت دری ) کرتے ہیں وہ بھی ہے ، میں اور نہیں کہ سکتا ۔ 

انہوں نے بے شمار مواقع پر یہ کہا ہے کہ ‘‘ اسامہ بن لادین دشمنان اسلام سے جنگ کر رہا ہے اس لئے میں اس کے ساتھ ہوں ’’۔  انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ‘‘ ہر مسلمان کو ایک دہشت گرد ہونا چائے ’’۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سماج مخا لف عناصر کو دہشت زدہ کرنا   ہر مسلمانو کی ذمہ داری ہے ۔برطانیہ میں اس کا داخلہ ممنوع ہے ، اس لئے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے بولنے کا طریقہ سرکش اور فتنہ انگیز ہے ۔ اگر مسلمان دلی طور پو ان کے خطبات پر عمل کرنا شروع کر دیں تو ایک بڑا انتشار پیدا ہو جائیگا ۔ ہر مسلمان سماج مخالف عناصر کو ‘‘ دہشت زدہ کرنے کی کوشش کریگا ۔لیکن ایک گرفت ہے ، ہم ہماری تفریق کے ذمہ دار خود ہیں : ایک متشدد مسلمان کےلئے ، جوشخص کتری ہوئی مونچھوں کے ساتھ  ڈاڑھی نہیں رکھتا اور وہ عورت جو خود کو اسلامی لباس میں نہیں ڈھانپتی ، یہ سب سماج مخالف ہیں اس لئے کہ یہ اسلامی نہیں ہیں ۔ لوگوں کو پولس کی طرح نہیں کرنا چاہئے ، پولس کو اپنا کام کرنے دیں ، ہم صرف اس کی مدد کر سکتے ہیں ، لیکن ہمیں ان میں سے ہی ایک نہیں بن جانا چاہئے ۔

ایک خطاب میں دوبارہ ، جو کشمیر میں دیا گیا ، انہوں نے کہا تھاکہ ‘‘Dr William Campbell سے مباحثے کے درمیان میں نے بائبل کی 38 غلطیوں سے انہیں آگاہ کیا ،لیکن وہ ایک کا بھی جواب نہ دے سکے ۔ وقت کم تھا ورنہ میں اور غلطیاں نکالتا ۔قرآن مقدس کے علاوہ ہر مذہبی کتا ب میں غلطیاں ہیں ۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب یجر ویدا کہتی ہے کہ دنیا  مسطح ہے ، بائبل کہتا ہے کہ دنیا مسطح ہے ’’۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مقدس مذہبی کتابوں میں غلطیاں تلاش کرنے میں مصروف ہونے کی وجہ سے حدیث دیکھنا بھول گئے ہوں ۔(ہو سکتا ہے کہ مسلمان مضطرب ہو جائیں اور کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط کیسے ہو سکتے ہیں ، میری طرف سے اس کا جوب یہ ہے کہ ان کی باتیں بعد کی صدیوں  میں بنائی گئی ہوں ، بالکل اسی طرح دوسری مذہبی کتابیں بنائی گئی ہوں گی ؛ لیکن ان سب کی وجہ سے ہمیں ان کتابوں سے حکمت حاصل کرنے سے نہیں رکنا چاہئے کیونکہ وہ بھی اللہ کے کلام پر مشتمل ہیں۔)

انانیت کی نفسیات 

ڈاٹر نائک  خدا کا راستہ تنگ کرتے ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہونا ہی خدا تک پہونچنے کا ایک واحد راستہ ہے ۔وہ اس بات کی تشہیر کرتے ہیں کہ صرف اسلام ہی خدا کی بارگاہ میں قابل قبول مذہب ہے ۔صرف قرآن ہی ایک ایسی مذہبی کتاب ہے جو پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہے ، دوسری مذہبی کتابیں صرف ایک ہی صورت میں پڑھے  جا سکتے ہیں اور وہ ہےان کی  خامہ تلاشی ۔اس کے علاوہ خدا کی طرف لے جانے والا نہ کوئی راستہ ہے ،نہ کوئی عقیدہ ہے اور نہ ہی کو ئی مقدس کتاب قابل قبول ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا کہ یوگا غیر اسلامی ہے اور حوالے میں قرآن کی آیت پیش کیا ‘‘اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا(3:85)۔ غیر ارادی طور پر وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اگر کوئی یوگا کرتا ہے تو وہ جہنم میں جائے گا ۔

ہر کوئی اپنی برتری اور افضلیت چاہتا ہے ۔ یہ انسانوں کے سب سے مضبوط تحریکی عوامل میں سے ایک ہے ۔وہ  دوسرے مذاہب کی شخصیات سے مباحثہ کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کیلئے اس کا استعمال کرتے ہیں ، وہ براہ راست  ان کا اور ان کے مذہب کا مذاق بناتے  ہیں ؛ اور  زبان کی ملمع سازی کے ذریعہ وہ اسلام  اور مسلمانو کو برتر و بالا بنانے کی کو شش کرتے ہیں  ۔ اس کی وجہ سے مسلم عوام کے درمیان احساس برتری پیدا ہوتی ہے۔ رات میں وہ  پیس ٹی وی دیکھنے  اور اس بات کا مزہ لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ وہ کس طرح دوسرے مذاہب  اور ان کے معمولات کا مذاق نباتے ہیں۔ یہ چیز مسلمانوں کو مطمئن کرتی  ہے اور یہ تحریکی عنصر  انہیں اور ان کے چینل کو دیکھنے پر امادہ کرتی ہے۔یہی ایک ایسی وجہ ہے کہ وہ ذاکر نائک سے اتنی محبت کرتے ہیں ۔

میں IIS کے طالب علموں کے تعلق سے بہت زیاد ہ فکر مند ہوں ۔ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان کے اندر  کس قدر نفرت اور عدم روداری بھری جا رہی ہے ۔ ان کا صرف دو ہی مقصد ہے : ۱۔ دوسروں کو اسلام کے سائے میں آنے کی دعوت دینا ، ۲۔جتنی زیادہ سے زیادہ ہو سکے دوسرے مذاہب کی تنقید کرنا ۔ ذاکر نائک نے اپنی ہی طرح ایک  دعوتی فوج تیار کر لی ہے ، ان میں سے کچھ تو ان سے بھی زیادہ بدتر ہیں ۔ ایک دن میں نے ایک لڑکی کو سخت آواز میں  یہ کہتے ہوئے سنا کہ ‘‘ اسلام ہی حق ہے  اور وقت اسے ثابت کر دیگا ’’۔  مجھے یہ محسوس ہوا کہ اس نے اس گہرے احساس کے ساتھ کہا کہ  جو بھی اس کے نظریات کے خلاف جائیگا وہ اس کے قہر و غضب کا سزاوار ہو گا ، انفرادی طور پر اگر آپ ہندو ہوتے تو وہ ہندوازم کی تنقید کرتی ، اگر آپ ایک عیسائی ہوتے تو وہ عیسائیت کی تنقید کرتی ۔ میں نے سوچا کہ جو مسلمان  اس کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے ہوں  تو وہ اور اس جیسے طالب علم انہیں کیا کہتے ، ہو سکتا ہے کہ ہمیں لعنت و ملامت کرتے کہ تم جہنم میں جلائے جاؤ گے ۔

ذاکر نائک نے کتنے مسلمانوں کو مطمئن کر دیا ہے ، اس لئے کہ انہیں اس بات  کا یقین دلا دیا ہے کہ صرف وہی سچے راستے پر ہیں دوسرے نہیں ۔

انکشاف

اگر احمد دیدات نہیں ہوتے تو ذاکر نائیک نہیں ہوتے ؛ اور اگر عیسائی مشینریاں  نہیں ہوتی تو احمد دیدات نہیں ہوتے ۔ احمد دیدات ساؤتھ افریقہ میں ایک دوکان میں کام کرتے تھے ۔اس دوکا  ن کے قریب عیسائی مشینری کا ایک اسکول تھا  جس میں طالب علموں کو یہ پڑھایا جا تا تھا کہ  ہر شخص اس وقت تک سزا کا مستحق ہے جب تک وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ صرف  عیسی ٰمسیح ہی خدا ہیں اور وہی شفاعت کرنے والے ہیں۔اور وہ یہ  بھی سیکھاتے تھے کہ کس طرح عقلمندی کے ساتھ مسلمانو پر کس طرح  حملہ کیا جائے : وہ مقامی مسلم لڑکوں کو یہ کہ کر تکلیف پہونچاتے تھے کہ ‘محمد کے پاس بہت ساری بیویاں اور  رکھیل تھیں ’، محمد نے اپنا مذہب تلوار کے زور سے پھیلایا ہے ’ ،  ‘محمد نے اپنے قرآن کو بائبل سے نقل کیا ہے ’ وغیرہ وغیرہ ۔

ایک دن انہوں نے اسی قسم کے سوالات سے احمد دیدات  کو پریشان کر دیا ، سالوں بعد وہ ایک خطاب میں کہتے ہیں ، تب ان کے پاس دو راستے تھے : یا تو وہ بھاگ جائیں یا  عقلی طور پر ان سے لڑیں ۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا ، احمد دیدات پڑھنے کے بہت شوقین تھے ، ایک دن وہ اپنے مالک کے گھر گئے اور رسالوں ، اخبارات اور کتابوں کو  چھاننا شروع کیا ۔ انہوں نے ایک دن‘‘ اظہار حق ’’نامی ایک کتاب  پڑھی ۔ اس کتاب نے ان کی زندگی بدل دی ۔ اس کتاب کا مقصد برطانوی عیسائیوں پر عقلی حملہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو مسلح کرنا تھا ۔ انہوں نے اس کتاب کو  پڑھا اور عیسائیت میں دوبارہ داخل ہونے والے ایک شخص سے انہوں نے بائبل  کی تعلیم بھی لی ، جو بائبل کی تعلیم میں بہت اچھا تھا ۔ان دو ذرائع سے علم حاصل کرنے  اور اپنی جماعت کے  ۲۰  سے ۳۰ طالب علموں کو اس کی تعلیم دینے کے بعد  ان کے علم میں اور اضافہ ہوا  اور اس کے بعد انہوں نے خطبات دینے شروع کر دئے ۔

 انہوں نے ایسے مسلم طالب علموں کو تعلیم دی جن کے اندر بائبل کے گندے حصے کے بارے میں سننے اور بولنے کی جرأت تھی ( احمد دیدات کے تعلیمی حلقے کی طرف رجوع  کریں )۔ انہیں کے ایک شاگردوں میں ڈاکٹر ذاکر نائیک ہے ۔ ذاکر نائیک ان سے متأثر تھا اور بائیل کی تعلیم انہیں سے بائبل کی تعلیم حاحل کی ۔ لیکن احمد دیدات  نے  ذاکر نائیک کو نہ صرف بائبل کی تعلیم دی بلکہ انہیں رجعت پسندانہ نقطۂ نظر کی بھی تعلیم دی ۔

احمد دیدات نے ذاکر نائیک کو  بائبل کےان  نہایت ہی گندے حصوں  کو  منظر عام پر لانے کی تعلیم دی ، جن میں ‘ایک بیٹا اپنی ماں کا کی عصمت دری کرتا ہے ’ ، جن میں ‘ایک بھائی اپنی بہن کی عصمت دری کرتا ہے ’ ، جن میں ‘ایک بیٹی اپنے باپ کو جنسی اعتبار سے لبھاتی ہے’ وغیرہ وغیرہ ۔احمد دیدات نے یہ ساری باتیں ذاکر نائیک کو اس کی بیوی کے سامنے کہی ہے (یو ٹیوب پر  احمد دیدات کو ذاکر نائیک کو پڑاھاتے ہوئے دیکھیں )۔مجھے ایسا لکھنے کیلئے معاف کریں در حقیقت وہ ایسا کہتے ہیں اور ان کی نشان دہی بائبل میں کرتے ہیں ۔میں یہ نہیں کہ رہا ہوں کہ ان کا ذکر بائبل میں نہیں ہے ؛ ضرور وہ بائبل میں مذکور ہیں ، لیکن ان  چیزوں پر ہی کیوں توجہ مرکوز کی جائے ؟

خلاصہ : اپنے اندر جھانکئے

اگر کوئی اسلام کے تعلق  سے کوئی  شخص سوال کر تا ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ ایک غیر مسلم ہو یا ایک مسلم سمجھا جاتا ہو ، تب ہم غصہ ہو جاتے ہیں ، لیکن ہم دوسروں سے لوٹنے کی امید کرتے ہیں (آپ کو کوئی اعتراض ، ان کے حساب سے یہ صرف ‘ عود کرنا’ ہے ‘بدلنا ’نہیں) اگر ہم کھلے عام ان کے مذہب اور ان کو رسوم کی تنقید کرینگے ، تو جب ہمیں کوئی یہ حوالہ دے گا تو ہم متشدد ہو جا یں گے :

‘‘ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے’’(55:56)

ایسی بے شمار حدیثیں ہیں جنہیں (میں اپنی ماں کے سامنے نہیں بول سکتا ) ۔ منفی پہلوؤ پر غور کرنے کے بجائے ہمیں مثبت پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے  اس لئے کہ ہمارے پاس بھی منفی پہلو ہیں ۔

ذاکر نائیک تمام غیر مسلموں کو اسلام کی طرف پھیرنا چاہتے ہیں لیکن میں انہیں قرآن کی اس آیت کا حوالہ دینا چاہوں گا :

‘‘(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں’’ (2:136) ۔

ذاکر نائیک  آدھی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ مثلاً وہ یہ تو کہتے ہیں بھوشیہ پوران میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کے اس میں عیسا مسیح  کا بھی ذکر ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم غیب کی باتیں جانتے تھے ، ہو سکتا ہے کہ گوتم بدھہ بھی جانتے ہوں ۔ لیکن در اصل وہ آدھی سچائی بیان کرتے ہیں ۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ  رگ ویدا میں اللہ کا نام مذکور ہے لیکن جب میں نے انٹر نیٹ پر اسے تلاش کیا تو لفظ اللہ کی جگہ لفظ ‘‘ہری ’’ کو  پایا ۔ ذاکر نائیک  وہی کہتے ہیں جو پیٹروڈالر اسلامسٹ ان سے کہلوانا چاہتے ہیں ۔ایک  مولانا کے پاس اتنی دولت کبھی نہیں ہو سکتی  کہ وہ ایک اسلامی تنظیم قائم کرے ، ایک اسکول قائم کرے اور تین چینلز چلائے ۔اب وہ ایک  نیا نیوز چینل کابھی افتتاح کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔

آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ  ‘دو ’اور‘ دو’ صرف  ‘چار’ ہوتے ہیں ؛ لیکن میرا یقین ہے ، جیسا کہ قرآن کہتا ہے ،کہ  خدا(اسے جنت پڑھیں ) تک پہونچنے کے بہت سارے راستے ہیں ،اسی طرح جس طرح دو سے زیادہ نمبر کے مختلف جواب ہو سکتے ہیں۔ ذاکر نائیک کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ غلط سولات پوچھنے کے عادی ہیں ۔

URL:for English article

http://newageislam.com/interfaith-dialogue/aiman-reyaz,-new-age-islam/what-the-‘hell’-he-is-doing,-this-zakir-naik?/d/8752

 

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ایمن-ریاض-،-نیو-ایج-اسلام/what-the-‘hell’-he-is-doing,-this-zakir-naik?---ذاکر-نائیک-کیا-تباہی-مچا-رہے-ہیں-؟/d/9664

:

Loading..

Loading..