New Age Islam
Sat Apr 17 2021, 01:05 AM

Urdu Section ( 27 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims and Their Conspiracy Theories مسلمان اور ان کی سازشی تھیوری

 

ایمن ریاض ، نیو ایج اسلام

 30جولائی ، 2012

( انگریزی سے ترجمہ  ۔   مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام )

کیا آپ کو معلوم ہے کہ  2004 میں سونامی نے انڈونیشیا اور اس کے پڑوسی ممالک کو اس لئے تباہ  کر دیا  کہ وہاں کے لوگ فاسق و فاجر  اور بد اخلاق ہو  گئے  تھے ، اور وہ شر کے مرکز مغرب کی  تقلید کر رہے تھے  ، اسی لئے خدا نے انہیں سزا دینے  کا فیصلہ  کیا  ؟

کیا آپ اس سے بھی با خبر ہیں کہ صہیونیوں نے ہی افریقہ میں مسلمانوں کے درمیان  ایڈس (AIDS) پھیلایا ہے ، یہودی طبیبوں نے پولیو  (polio ) کی خوارک کو خراب کر دیا تا کہ مسلمانو ں کے درمیان ایڈس   اور بانجھ پن  پھیل سکے اور مسلمانوں کی  آبادی کم ہو ؟

یہاں تک کہ اگر آپ یہ نہیں جانتے ہوں تو  اس بات کیا ضرور  پتہ ہو گا  کہ موساد، اسرائیلی انٹیلی جنس سروس  نے صدر جارج ڈبلیو بش کی ایماء پر 9/11 حملے کیے، اور یہ کہ یہودیو ں کو اس دن ٹوئن ٹاور نہ جانے کی اطلاع پہلے ہی دے دی گئی تھی  ؟

سازشی تھیوری  کے پر فریب دنیا میں استقبال ہے ، از سر خود غیر  منطقی اور وسوسہ بھری  وہ  تخیلاتی دنیا جہاں افواہ خبر ہے اور اور افواہ پر مبنی علم ہے ، جہا ں چیزیں اس لئے نہیں ہوتی ہیں کہ وہ کرتے ہیں بلکہ اسلئے ہوتی ہیں  کہ وہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ اسے ہونا ہے ۔

آکس فورڈ ایڈوانس لرنرس ڈکشنری کے مطابق سازشی نظریہ کا مطلب یہ ہے   ‘‘ یہ ماننا  کہ  کچھ نقصاندہ  یا غیر قانونی کرنے کے لئے لوگوں کی ایک جماعت کے ذریعہ کیا گیاخفیہ منصوبہ ایک خاص تقریب کے لئے ذمہ دار ہے  ۔’’

انہیں ابھی  کچھ  دنوں پہلے ہی مسلم امت میں ایک خاص  قسم کے   رجحان  کا حصول ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر  کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ  کوئی غلط واقعہ  پیش  آتا  ہے  تو وہ ضرور امریکہ یا  صہیونیوں کی  کارستانی ہو گی  ۔  جعلسازی کی ابتداء مذہبی قائدین اور پادریوں کے ذریعہ   ہوتی ہے ، اور اس کی تشہیر  تقریر، مسلم اخبارات کے جال، ریڈیو  ، ٹی وی چینلز  اور انٹر نیٹ سائٹس کے ذریعے کی جا تی ہے ۔

ان کی توجہ اس بات کی طرف کم ہی جا تی ہے کہ  سونامی نے  ،مثلاً ، ہزاروں غیر  مسلموں کی  بھی  جانیں لی ، جس طرح افریقہ میں ایڈس نے  ۔  لیکن کوئی بھی سازشوں کی تھیوری کی راہ میں عقل کا استعمال نہیں کرتا ہے ۔

اسی طرح جب کچھ سا لوں پہلےڈنمارک کے ایک اخبار ‘‘Jyllands Posten ’’ میں  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کارٹون شائع کیا گیا تو اس  کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ یہ بھی صہیونی سازش کا ایک حصہ ہے ۔ یہاں تک کہ ایران کے آیت اللہ خامنا ای نے یہ دعویٰ  کر دیا کہ  فلسطین کے  انتخاب میں حماس کی جیت پر اسرائیلی غصہ ہی اس کا محرک ہے ۔

ایک دوسری سازشی تھیوری کے مطابق اس بات کی تجویز پیش کی گئی ہے کہ پیپسی اور کوکاکولا میں خنزیر کے گوشت کا عرق ملایا گیا ہے ۔الریاض اخبار  میں 20  اگست  2006 کو شائع شدہ ایک مضمون میں  یہ بات کہی گئی ہے  :

‘‘ سائنسی اور طبی تحقیق یہ کہتی ہے کہ  پیپسی اور  کوکا کولا پینے سے کینسر اور ہو سکتا ہے اس لئے کہ اس کے بنیادی عناصر خنزیر کے گوشت سے بنائے جاتے ہیں ۔ آسمانی کتابیں قرآن بائبل اور  تورات نے خنزیر کھانے سے منع کیا ہے  ، اس لئے کہ یہی ایک ایسا جانور ہے  جو  پیشاب ،  لید اور غلاظت  کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے جرثومے زہریلے ہو جاتے ہیں ۔ ’’

ایک خاص  طور پر بعید از قیاس تھیوری ، وہ بھی ان کے معیار کے مطابق  ، مسلمانوں کو کوکا کولا نہ پینے  پر امادہ  کرتی ہے  صرف اس علامت کی وجہ جس میں  عربی  میں  منقلب  انداز میں یہ  لکھا گیا ہے  ،‘‘محمد نہیں ، مکہ نہیں ’’۔

یہ دیکھنا کہ مسلمان سازشی تھیوری  میں اس قدر کیوں منہمک ہو چکے  ہیں بہت آسان ہے  ۔  تہذیبی تصادم  اور  جنگ و جدال کے اس دور میں خوف ان کے لئے ایک تحریکی جذبہ  بن گیا ہے  ۔ہر انسان کے اندر ڈرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ یہ ضروری  ہے اور ہماری  جنس کی   بقاءمیں معاون ہے ۔لیکن جس کا سامنا ہم  آج کر رہے ہیں جو جنگلی ہو کر مخل دماغ ہو چکا ہے  ۔

ہم بھی اپنی کوتاہی کا ذمہ دار خود  کو ٹھہرانا نہیں چاہتے  ، یا   ان  مفسد انہ اور بزدلانہ  اعمال  کی ذمہ داری  قبول نہیں کرنا چاہتے جن کا ارتکاب ہمارے درمیان رہنے والے لوگ کر ہے ہیں ۔ ہم یہ یقین نہیں کرنا چاہتے کہ ہم کامل نہیں نہیں ہیں ، اسی لئے  ہو سکتا ہے کہ ہم غلط ہوں ۔ اسی لئے ہم آسانی کے ساتھ اپنی غلطیوں کا ‘‘ دشمن ’’ کو ذمہ دار ٹھہراتے  ہیں جیسا کہ 9/11 کے واقعہ میں ہوا ، اور کبھی ایسے معاملات میں  ہم ایسا کرتے ہیں جس میں دوسروں پر الزام کی صورت ہی نہیں بنتی جیسا کہ  سونامی کے واقعہ میں ہوا ۔

سازشی تھیوری کبھی  چند مسلمانوں کے اندر اسلام فوقیت  کے احساس کی عکاسی کرتا ہے ۔ وہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے مغرب کی ارفع و اعلیٰ شخصیتیں مثلاً ولیم شیکسپیئر، ابراہم لنکن اور لیونارڈو ڈاونچی ، تمام مسلم تھے ۔ اور  2011 میں  گرجا کے سروے کے مطابق  ۱۰ فی صد امریکی مسلمانوں کو یہ یقین ہے کہ براک ابامہ ایک  مسلمان ہے ۔

یقینا ً  ، مسلمان صرف سازشی اصول ہی نہیں جانتے ۔ مغرب کے بہت سارے لوگ کسی بھی قہرو غضب کے لئے دوسری دنیا کے ایلینس کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں ، کمیونسٹ ہونے سے پہلے اور اب مسلمان ہونے سے پہلے ۔یہ دشمنوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی وہی بیماری ہے جو مسلم سازشی تھیوری کو جلا بخشتی ہے ۔

جب تک ہم دوسروں سے نفر ت کرتے اور ڈرتے رہیں گے ۔ تب تک سازشی تھیوری کی  وجہ سے جھگڑے ہوتے رہیں گے ۔ ہمیں ان سے ضرور ہوشیار  رہنا چاہئے ،  اس لئے کہ  وہ صرف اپنے ذریعہ پیدا کئے گئے خوف کو کمک پہونچا ئیں گے ۔جب کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر عدوت کی بنیاد پر ان تھیوریوں کو فروغ دیتے ہیں  ،  اور بہت سے مسلمان آسانی کے ساتھ ان کا شکار ہو جا تے ہیں ۔ قرآن کا فرمان ہے  ، ‘‘ جب بھی کوئی بات تم تک پہونچے تو اسے دوسروں کو بتانے سے پہلے  اس کی اچھی طرح تفتیش کر لو ۔ ’’ ہماری ہدایت کی روشنی یہ ہونی چاہئے ۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/isam-and-the-west/by-aiman-reyaz,-new-age-islam/muslims-and-their-conspiracy-theories/d/8102

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ایمن-ریاض-،-نیو-ایج-اسلام/muslims-and-their-conspiracy-theories--مسلمان-اور-ان-کی-سازشی-تھیوری/d/9818

 

Loading..

Loading..