New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 06:00 PM

Urdu Section ( 29 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

US military accepts Islam in Guantanamo Prison گوانتا موجیل میں امریکی فوجی کا قبول اسلام

اشتیاق بیگ

نصب شب کا وقت تھا، گوانتا موجیل کے کیمپ ڈیلنا میں تعینات 19سالہ امریکی فوجی ہولڈ بروکس مراکس کے مسلمان قیدی نمبر 590احمد الرشیدی سے سلاخوں کے باہر سے محوگفتگو تھا۔ بروکس کی خواہش پر احمد الرشیدی نے جیل کی سلاخوں سے ایک پرچی بروکس کے حوالے کی جس پر عربی اور رومن انگلش میں درج تھا۔‘‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں’’۔بروکس نے اس کلمے کو ادا کیا اور احمد الرشیدی نے اسے مسلمان ہونے کی مبارکباد دی اور اس کا نام مصطفیٰ عبداللہ تجویز کیا۔دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا مگر ان کے درمیان میں جیل کی سلاخیں حائل تھیں۔ گوانتا ناموجیل میں تعینات امریکی فوجی ہالڈ بروکس کے مراقش کے قیدی احمد الرشیدی کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کا یہ واقعہ میں نے مراقش کے اخبارات میں پڑھا ۔ میں کام کے سلسلے میں کچھ دن قبل مراقش آیا ہوں ۔مراقش کے اخبارات میں امریکی گارڈ بروکس کی تصویر چھپی جس میں وہ خوبصورت داڑھی رکھے، ٹوپی پہنے اور ہاتھ میں قرآن لے کر کھڑا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس چہرے پر وہ نور عطا کیا ہے جو وہ اپنے خاص بندوں کو اپنی عنایت سے عطا کرتا ہے ۔

گوانتا ناموجیل میں تعیناتی کے وقت ہالڈ بروکس شراب کا رسیا اور موسیقی کا دلدارہ تھا۔ وہ اللہ کی وحدانیت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کے دائیں بازوں پر نقش ونگار ( Tattoo) بنا تھا جس میں تحریر تھا۔‘‘ شیطان کے کہنے پر چلو ۔’’ گوانتاناموجیل بھیجنے سے قبل ٹریننگ کے دوران اسے 9/11کے واقعات کی ویڈیوز دکھائی گئیں ،اسے ٹوئن ٹاور جسے اب گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے، کاؤنٹ کرایا گیا او ر بتایا گیا کہ گوانتا نامو میں قید مسلمان قیدی بدترین لوگ ہیں۔ یہ افراد اسامہ بن لادن کے ساتھی ہیں ، ان میں کوئی بن لادن کا ڈرائیور ، کک او رکوئی لاس کا محافظ ہے اور یہ سب لوگ اس کے وفادار امریکہ کے دشمن ہیں اور یہی افراد 9/11کے واقعے میں ملوث ہیں۔ اگر انہیں کبھی موقع ملا تو یہ آپ کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔اس لیے ان جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے۔گوانتا ناموجیل کے مختلف کمروں میں بند قیدیوں پر کڑی نظر رکھنا اور ان کو تفتیش کاروں تک لے جانا بروکس کی ڈیوٹی میں شامل تھا۔وہ رو ز ان قیدیوں پرانسانیت سوز مظالم اور قرآن کی بے حرمتی کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا اور انہیں برا محسوس کرتا تھا۔ اس کے دوسرے ساتھی گارڈ شراب کے عادی ،عیاش اور تعصب سےبھرپور تھے اور وہ حکام کی جانب سے ملنے والے احکامات پر اندھا دھند عمل پیرا ہوتے تھے ۔ اپنی ڈیوٹی کے دوران اسے قید یوں کے ساتھ ملنے کے کافی مواقع میسر تھے ۔ ایسے میں اس کی دوستی مراقش کے قیدی احمد الرشیدی سے ہوگئی جو ہمیشہ اسے اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔ ہالڈ بروکس کا کہنا ہے کہ مسلمان قیدیوں کا اپنے مذہب سے لگاؤ اور ظلم وتشدد کے باوجود ان کے چہروں پر مسکراہٹ نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ جب اس کےدوسرے ساتھی رات کو سونے کے لیے چلے جاتے تو وہ احمد الرشید ی کے ساتھ سلاخوں سے باہر  کھڑے ہوکر گھنٹوں اسلام کے بارے میں آگاہی حاصل کرتا ۔ چھ مہینے میں ہالڈ بروکس اسلام کی تعلیمات سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنے قیدی کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا۔ بروکس نے اسلام قبول کرنے کے بعد نہ صرف شراب بلکہ موسیقی سے بھی توبہ کرلی۔ شروع میں اس نے اپنے ساتھیوں سے اپنے مسلمان ہونے کا ذکر نہیں کیا اور یہ اس کے لئے آسان نہ تھا جب وہ ساتھیوں سے باتھ روم جانے کا بہانہ بنا کر پانچوں وقت کیا نماز ادا کرتا۔

 مسلمان ہونے کے بعد وہ اپنے فرائض منصبی سے نالاں تھا اور یہ محسوس کرتاتھا کہ حالانکہ اسے آزادی حاصل ہے جو ان قیدیوں کو حاصل نہیں مگر اس کے باوجود ایک قیدی سے بھی بدتر ہےکیونکہ وہ اپنے افسران  صحیح اور حکم ماننے کا غلام ہے۔ اس کے لیے وہ لمحات بڑے ہی ناخوشگوار ہوتے تھے جب قرآن مجید کی بے حرمتی کی جاتی یا قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ۔ جب اس کے افسران کو اس کے قبول اسلام کا علم ہوا تو انہوں نے اسے فوجی نما وضبط کا پابند نہ ہونے کا بہانہ بنا کر فوج سے نکال دیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی 4جون 2005کی اشاعت میں واضح طور پر یہ خبر شائع کی کہ جنرل جےہڈ جب گوانتا ناموجیل کے انچارج تھے تو  اس دوران امریکی فوجیوں اور تفتیش کاروں نے قرآن پاک کو ٹھوکریں ماریں اور تفتیش کے دوران وہ قرآن پاک  کے اوپر کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے قرآن پاک پر وہ غلاظت پھینکی جس کا نام لکھنا میرا قلم گورارہ نہیں کرتا اور اس کے بعد اس ظالم امریکی فوج نے قرآن کریم کو فلش میں بہایا ۔(نعوذ باللہ)اخبار کے اس انکشاف کے بعد پنٹاگون کی جاری کردہ تحقیقات کےمطابق گو انتا ناموجیل میں مبینہ طور پر امریکیوں نے کم از کم پانچ بار قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ صدر بننےکے بعد اپنی پہلی تقریر میں بارک حسین اوبامہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ بہت جلد گو انتا نامو جیل بند کردیں گے مگر وہ ابھی تک اپنے وعدے پر عمل نہیں کرسکے ۔ابو غریب اور گو انتا ناموجیسی جیلیں پوری دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ کررہی ہیں۔ جب تاریخ رقم کی جائے گی تو ان جیلوں میں قرآن کی بے حرمتی او رمسلمانوں کے ساتھ کئے گئے مظالم کے بارے میں پڑھ کر آنے والی نسلوں کی آنکھیں شرم سے جھک جائیں گی۔

امریکیوں نے گو انتانامو جیل میں تعینات اپنے فوجیوں پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ مسلمان قیدیوں سے دور رہیں ،غیر ضروری گفتگو سے اجتناب کریں اور بالخصوص ان سے دوستی سے منع کیا گیا کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ مسلمان قیدیوں سے دوستی کے نتیجے میں امریکی فوجی اسلام قبول نہ کرلیں۔گو انتا نامو جیل میں تعینات امریکی فوجی اسلام اور اس کے ماننے والوں کےدلوں سے اس کی محبت کم کرنے میں تو ناکام رہے مگر ا ن کا ایک فوجی اسلام تعلیمات سے متاثر ہوکر اور اپنے ساتھیوں کے اسلام کے بارے میں رویے سے متنفر ہوکر مسلمان ہوگیا۔ ہالڈ بروکس کے بازو پر بنے Tattoo جس پر ‘‘شیطان  کےکہنے پر چلو’’ تحریر تھا اب ‘‘خدا کے کہنے پر چلو’’ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ گوانتا نامو جیل پر تعیناتی نے بروکس کی زندگی کی کایا پلٹ دی اور جنت کا حقدار بن گیا۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/us-military-accepts-islam-in-guantanamo-prison--گوانتا-موجیل-میں-امریکی-فوجی-کا-قبول-اسلام/d/2022


 

Loading..

Loading..