New Age Islam
Mon Oct 25 2021, 01:49 PM

Urdu Section ( 25 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Malala, A Chapter of Knowledge and Awareness ملالہ علم و آگہی کا روشن حوالہ


 اداریہ، طلوع ِ اِسلام

نومبر 2012

‘‘ میں سوات کی ایک دُکھوں کی ماری لڑکی ہوں۔ سوات جو کبھی سر سبز کھیتوں میں گھری ایک پرُامن زمین تھی’ جس پر ہوا مہربان تھی ۔ یہ پھولوں کی سرزمین تھی جہاں دنیا بھر سے سیاح آیا کرتے تھے ’ یہ وادی مشرق کا سوئٹزر لینڈ کہلاتی تھی ۔’’

‘‘ مگر اب یہ ماضی کا قصہّ ہے ۔ اب یہاں لاقانونیت ’ خوف اور تشدد کا دور دورہ ہے۔ یہاں تک کہ لوگ اپنے بچوں کو پولیوں کے ٹیکے نہیں لگواسکتے اور لڑکیاں اپنے اسکول جانے کے حق سے محروم کردی گئی ہیں ...... ہمارے اسکولوں کو دھماکوں سے اُڑادیا گیا  ستم بالائے ستم یہ کہ انہوں نے لڑکوں کے اسکول بھی اُڑادیئے ’’۔ آج سے تین سال پہلے گیارہ سالہ۔ ملالہ نےپریس کلب پشاور میں جرأت مندانہ کہا تھا کہ ‘‘مجھے میرا تعلیم کا حق اللہ اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ۔ تو پھر یہ لوگ کیوں مجھ سے میرا وہ حق چھیننے کے درپے ہیں جو مجھے میرے اللہ اور اس کے پیغمبر آخر نے عطا کیا ہوا ہے ’’۔

یہ تھا ملالہ کا مطالبہ! جس کے جواب میں اس کی اسکول بس رُکو ا کر ماتھے میں گولی مار دی گئی ۔ ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کر لی۔ پاکستان آرمی اور حکومت نے وزیر ستان آپریشن کی ٹھانی ۔ جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے خبر دار کیا کہ ملالہ کے خون پر سیاست کے شیش محل تعمیر نہ کئے جائیں۔اور قاضی حسین احمد فرماتےہیں کہ ‘‘ میں قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو وحشی سمجھتا ہوں لیکن میں جرم کا ذمہ دار اُن لوگوں کو بھی سمجھتا ہوں جنہوں نے اس معصوم بچی کواستعمال کیا تاکہ لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی فلم کو بھول جائیں ۔’’

اس روشنی کے استعار ے ۔ ملالہ پر قاتلانہ حملے کو ایک چیستان بنادیا گیا ہے ۔ ہر ایک فریق اسے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بڑے آواز اُٹھانے کی بجائے ڈر کے خاموش بیٹھ گئے اور آواز اُٹھانے کی ذمہ داری اس ننھی بچی کے ناتواں کاندھوں پر ڈال دی ۔ افسوس ! ایک طرف ملالہ کی عمر کے  بچوں کو خود کش جیکٹ پہنائے جارہے ہیں اور دوسری طرف ملالہ جیسی بچی کو نشانہ بنا یا جارہا ہے ۔ دونوں صورتوں میں نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو ہو رہا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ ملالہ کے مشن کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے ۔ یعنی ہماری قومی ترجیح تعلیم، تعلیم اور تعلیم ہونی چاہئے ۔ اس نقار خانے میں ایک طوطی نے بجا کہا ہے کہ ہمیں ‘‘تعلیمی ایمر جنسی ’’ لگانی چاہئے ۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا؟

نومبر  2012  بشکریہ : طلوع ِ اِسلام

URL:

 https://www.newageislam.com/urdu-section/اداریہ،-طلوع-ِ-اِسلام/malala,-a-chapter-of-knowledge-and-awareness--ملالہ-علم-و-آگہی-کا-روشن-حوالہ/d/9441

 

 

Loading..

Loading..