New Age Islam
Fri Jul 23 2021, 09:40 PM

Books and Documents ( 4 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ15

 

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

کیا حکمرانی صرف مسلمانوں کا ہی حق ہے؟
’’
اسلام کی ابتدائی صدیوں میں کس طرح رفتہ رفتہ وحی کے بجائے متعلقات وحی کو اس قدر اہمیت ملتی گئی کہ مسلم حنیف ہونا بڑی حد تک ایک تہذیبی شناخت بن کر رہ گیا۔
وحی ربانی کی خالص فقہی تعبیر اور پھر اس تعبیر کو مغز دین قرار دینے کے نتیجے میں بہت جلد یہ آفاقی امت جسے سیادت عالم کے منصب پر فائز کیا گیا ہے فرقہ محمدی کی نفسیات میں محصور ہوگئی۔ مسائل عالم سے اپنا رخ موڑ کر اور عام انسانیت کی فلاح سے دست بردار ہوکر ہماری تمام تر توجہ ایک مخصوص ثقافتی شناخت والی امت مسلمہ پر مرکوز ہوتی گئی ۔‘‘
(اقتباس از ادراک زوال امت، تصنیف علامہ راشد شاذ)
کہتے ہیں اسلام نے غلام و آقا سبھی برابر کردیے۔ کتنے دنوں کے لیے اور وہ کون سے لوگ تھے جن کو غلام ہوتے ہوئے بھی آقا کی برابری حاصل تھی؟ اگر تاریخ میں ایسی چند ایک مثالیں ملتی ہیں تو انھیں کلیہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ مگر تبلیغ مساوات کے لیے ہم نے چند نام چن لیے اور ان کاورد زبان پر جاری رکھ کر بہت فخریہ طور پر عالمی سماج میں سرخ رو ہونے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ وہی کرشن اور سُداما والی داستان کی سی بات ہے جسے ہندو سماج میں پنڈت اپنی دھرم کتھا میں شامل کرکے اپنے سامعین کو درس مساوات دیتا ہے۔
علامہ اقبال نے بھی محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا دکھا کر اس مساوات کا اطلاق تمام معاشرہ پر عام ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر آج ہر آدمی خانۂ کعبہ میں رمضان کی نماز عشاء و تراویح کی اگلی صف میں حکمران خاندان کی مخصوص جگہوں کو اپنی آنکھوں سے پورے مہینہ دیکھ سکتا ہے۔ کتنی شاندار نمائش ہے ، محمود و ایاز کے بارہ گاہ الٰہی میں ہم دوش ہوکر کھڑے ہونے کی۔


راشد شاذ نے بھی یہی لکھا ہے کہ حکمرانی مسلمانوں کا حق ہے۔ یہودیوں کا بھی یہی دعویٰ ہے، آریہ قوم کا یہی دعویٰ ہے۔ برہمنوں کا بھی دعویٰ سیادت عالم ہی ہے۔ یہ سب جان کر یہ فیصلہ کون کرسکتا ہے کہ ان میں کس کا دعویٰ برحق ہے۔ حیرت زدہ آدمی صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ یا تو سارے سچے ہیں یا سارے جھوٹے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ سارے جھوٹے ہیں اور نہ سارے سچے۔ بات تو صرف دنیا کے سامنے اپنے دعویٰ کے حق میں ناقابل تردید دلیل اور تاریخ سے شہادت پیش کرنے کی ہے۔ قرآن نے بھی منکرین حق سے یہی کیا تھا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو دلیل پیش کرو یا پھر قرآن کی پیش کردہ دلیل کو غلط ثابت کرو۔ حق فوجوں کی طاقت سے ثابت نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسٹاک ایکسچینج کے اونچے اعداد و شمار سے۔ جس کے ذریعہ آج کی دنیا میں ریاستیں عالمی میدان میں اپنی برتری ثابت کرتی ہیں۔
کنتم خیر امت کا قرآنی اعلان ہر کلمہ گو اپنے لیے مخصوص کرچکا ہے۔ آج کا مسلمان چاہے وہ مطلق جاہل ہو، مسکین و نادار ہو یا دوسروں کی بھیک پر اس کا گذر بسرہو، ہمارا خطیب مسجد و مجلس اسے چلا چلا کر بتاتا ہے کہ قرآن نے اس کو ’خیر امت‘ کا خطاب بخشا ہے۔ جنت میں اس کا ہی گھر بنایا گیا۔یہاں تک کہ بد حالی اور کسمپرسی سے بیزار نہیں ہونا چاہیے یہ تو تقدیر مسلم ہے یہاں کا عیش و عشرت تو جہنمیوں کے لیے مقدر کردیا گیا ہے۔ غیر مسلموں کی عیش و آرام کی زندگی تو عارضی ہے۔ مسلمانوں کو اس زندگی کے بعد جو کچھ ملے گا وہ دائمی ہوگا۔ اس طرح آخرت میں جو عذاب کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے وہ انھیں ہمیشہ ہمیشہ جھیلنا ہوگا۔ اسی تفہیم و تعبیر اسلام نے ہم مسلمانوں کی اکثریت کو دنیا کی سب سے بد حال بے علم اور بے ہنر قوم بنا رکھا ہے جو لوگ ایسی تبلیغی مہم کے مخالف ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے اور جو ہیں وہ نظام مصطفی او رحکومت الٰہی کے قیام کے علمبردار ہیں۔ عام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے نہ اسلام کا ورود ہوا ہے اور نہ مسلمانوں پر یہ کام واجب کیا گیا ہے۔ ان کی محدود اور متعصب عقل نے ان کو اسی عقیدہ میں پختہ کررکھا ہے۔ تمام اسلامی مالی اور علمی ادارے صرف مسلمانوں کی امداد و اصلاح کے دعویدار ہوتے ہیں ۔غیر مسلم غریب و نادار افراد کی حمایت یا انھیں مالی امداد پہنچا نا کفر قرار دیا جاچکا ہے۔
خدا خالق کل اور قادر مطلق ہوکر اپنے مخالفین اور منکرین پر ہم سے کہیں زیادہ مہربان اور کریم کیوں ہے؟ وہ ان کا صفایا خود کیوں نہیں کردیتا، اس کی ذمہ داری خالد بن ولید اور اسامہ بن لادن پر کیوں ڈال دی۔ انسانی سماج میں تمام اچھے لوگ وہی کہلاتے ہیں جو اپنا کام خود سے کرتے ہیں دوسروں کے دست و بازو پر منحصر نہیں رہتے۔ پھر وہ جو مالک ارض و سما ہے اور یہی نہیں کہ صرف خالق ہے بلکہ ہر لمحہ ان کی خبررکھتا ہے ان کی تقدیریں مقرر کرتا ہے۔وہ ہمارے لیے ان تمام قوتوں کو پسپا کیوں نہیں کردیتا اور ہمیں سارے زمانہ میں سر بلند کیوں نہیں کردیتا۔ یہ صرف ہمیں ہیں جو اذانوں میں صبح و شام اس کے نام کو بلند کیے ہوئے ہیں۔ مسجدوں میں سجدہ گذار ہیں حرم میں محو طواف ہیں اور ساری دنیا کو اپنے بموں کی تباہ کن طاقت سے خوف زدہ کیے ہوئے ہیں۔ مگر دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم خیر امت کسی اعتبار سے بھی کہلائے جانے کے لائق نہیں ہیں۔
ہم اپنے اند رکسی خدائی صفت کو پنپنے کا موقع دینے کو ہرگز تیار نہیں ہیں، محبت فاتح عالم ہوسکتی ہے مگر کسی کو یہ بات تسلیم نہیں ہے۔ اس لیے کہ سیاست ، اقتصادیات اور معاشیات کے میدان میں محبت کا اظہار صرف بھکاری ، مسکین نادار اور نامرادوں کی ذمہ داری ہے۔ وہی چلاّ چلاّ کر ہمارے لیے خوشحالی کی جھوٹی دعائیں دیتے ہیں تو ہم ایک روپیہ ان کی اس محبت بھری دعا کا معاوضہ سمجھ کر ان کے آگے پھینک دیتے ہیں اور یہ یقین کرلیتے ہیں کہ ان کی دعاؤں کی بدولت ہم سے ہماری خوشی یا ہمارا مال کوئی ہم سے چھین نہیں سکے گا۔ ان کی دعائیں آسمان میں کہاں جاتی ہیں ہم کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ بزرگوں نے کہا ہے غریبوں کی آہ سے ڈرو انھیں جھڑکو نہیں۔ اپنے درسے بھگاؤ نہیں، تھوڑا بہت جو کچھ دے سکو ضرور دو ،انھیں مایوس کرو گے تو خدا تم کو اپنی رحمت سے مایوس کردے گا۔ ہم کبھی کبھی ایسی دھمکی سے ڈرے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ او رکبھی مانگنے والے کے صرف اچھے انداز طلب سے خوش ہوکر اس کی مدد کردیتے ہیں۔ دنیا میں ہم سب کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ صرف مانگنے سے کچھ نہیں ملتا۔ دینے والے کو خوش کرنابہت ضروری ہے۔ اگر وہ خوش نہیں ہوگا تو کچھ نہیں دے گا۔ اسی لیے خدا کو بھی راضی اور خوش رکھنا لازمی قرار دیا گیا۔ اسے راضی رکھو تو جو چاہو گے ملے گا۔ یہ اپنی نفسیات ہے جس کا اطلاق خدا کے لیے خود ابن آدم نے مقرر کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو الصمد اور الغنی ہے اسے خوش رکھنا یا وقتی طور پر خوش کردینا بھی عقل سے ماوراء ہے۔ کوئی خدا اگر خوش ہوسکتا ہے تو وہ ناراض بھی ہوسکتا ہے، اس کی ناراضگی دوسروں کے لیے تباہی اور بربادی کا اعلان ہوسکتی ہے۔ اگریہ سب مان لیا جائے تو اس خدا کی ساری عظمتیں، وسعتیں اور کمالات سب ہی زائل ہوجائیں گے۔ تو پھر وہ قابل پرستش نہیں ہوسکتا۔ اس اعتبار سے تو پھر سورج مہاراج ہی ہماری پوجا کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ نہ ناراض ہوتے ہیں اور نہ خوش ہوتے ہیں ۔ان کا کام روشنی اور گرمی سے بلا امتیاز امیر و فقیر، صغیر و کبیر سب کو راحت اور سہولت پہنچانا ہے ۔ وہ اس کا کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتے اور اگر ہم کچھ دینا بھی چاہیں تو وہ نہیں لے سکتے۔
اس میں بھی وہی شان بے نیازی ہے ہم جس کو اپنے خدا سے منسوب کرتے ہیں مگر اسلام نے ہمیںیہ نہیں سکھایا کہ ہم سورج یا چاند کو صاحب اختیار تسلیم کریں بلکہ ہمیںیہ بتایا ہے کہ ہماری نظر اور حواس میں جو کچھ بھی ہے مخلوق ہے اور مسلمان کسی مخلوق کا پجاری نہیں ہوگا۔ وہ صرف خالق کائنات کا پجاری ہوگا۔ اس تعلیم پر عمل کرنے والے کو ہی خیر امت کہا جائے گا۔ ایسا کوئی بھی بندہ خدا افسر عالم ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ وہ دنیا اور دنیا والوں کی غلامی سے سراسر آزاد ہوگا۔ عالمی افسری کے لیے فرد کا آزاد ہونا پہلی شرط ہے۔ رسول اللہ کی شخصیت اسی آزادی کا سب سے افضل اور معقول ثبوت ہے۔ وہ اپنے خدا کے سوا کسی کے غلام نہیں تھے۔ اسی کا اعلان کلمہ شہادت میں ہر مسلمان کرتا ہے۔ مگر وہ اس کے مفہوم سے قطعی بے خبر ہے لاعلمی کے علاوہ ایسی ذات کا احاطہ نگاہ میں نہ ہونا بھی اس بے خبری کا ایک لازمی سبب ہے
ڈھونڈو گے اسے ملکوں ملکوں ملنے کا نہیں نایاب ہے وہ
جب یہ طے کرلیا کہ ہماری سماجی نشو ونما اور فلاح و بہبود دوسروں کی کوششوں پر منحصر ہے تو ہم کو بس یہ انتظار کرنا ہے کہ دیکھیں مشرق سے بصورت آفتاب کون ہمارے لیے امید کی روشنی لے کر آتا ہے۔ ہم سورج کی طرف کہاں جاتے ہیں وہ تو خود ہی ہمارے تاریک گھروں کو روشن کرنے ہر روز چلا آتا ہے۔ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ مایوس کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ مایوسی کفر ہے ،اللہ کی رحمت بے پایاں اور غیر مشروط ہے، وہ ضرور آئے گی۔ صبر و انتظار مشکل ضرور ہے مگر بے سود نہیں ہوتا۔ یہ سب تعلیمات شکست خوردہ ذہنیت کی پیدا کردہ ہیں۔ اس کے لیے قرآن سے بھی چن کر آیات نکال لی جاتی ہیں، ان کا سیاق سباق غائب کردیا جاتا ہے۔ قوت عمل کو بروئے کار لانے کی آیات کو نامراد اور بے حس لوگ اپنے حق میں فال بد سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے کبھی ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
اسلام میں تصوف کی ابتدا میری سمجھ میں حضرت عثمان کے قتل کے بعد ہوگئی ہوگی ۔
مسلمانوں کی مالی بد حالی حضرت عمر کے دور خلافت میں ختم ہوگئی تھی۔ انصار اور مہاجرین مکہ کی اکثریت خوشحال زندگی کی حامل ہوگئی تھی۔غازیوں کے لیے پنشن کا نظام مقرر کردیا گیا تھا۔ ان کے بعد حضرت عثمان کی خلافت میں اس خوشحالی میں مزید فتوحات کی بدولت اور بھی اضافہ ہوگیا ۔ مکہ اور مدینہ کے باشندے اب ہر طرح استحصال اور سماجی خوف سے بھی آزاد زندگی بسر کررہے تھے کہ ایک لازوال سازش کا دور نمودار ہوگیا۔ حضرت عثمان کی حکومت اور خلافت ملک عرب ، شام ، ترکی، عراق ، مصر اور مغربی افریقہ کے کنارے تک وسیع ہوچکی تھی وہ بہت بے رحمی سے قتل کردیے گئے۔ یہی نہیں بلکہ ان کی لاش کو مدینہ کے لوگوں نے شہر میں دفن نہیں ہونے دیا، چند روز بعد بمشکل کچھ لوگوں نے اسے مدینہ سے باہر لے جاکر بغیر نماز جنازہ دفن کردیا۔ یہ ہیبت ناک منظر جس نے دیکھا اس پر کیا گذری ہوگی، اس کا ایک حساس اور ذی شعور آدمی اندازہ کرسکتا ہے اس وقت رسول اللہ کے جیّد اصحاب، اہل علم ، کاتبان وحی الٰہی اور جان نثاران پیغمبر کی بہت بڑی تعداد مدینہ اور اطراف مدینہ میں موجود تھی۔ قاتلان عثمان کی سازش کی حمایت میں بصرہ اور کوفہ سے بھی بہت سے لوگ آئے یا بلوائے گئے تھے۔ مدینہ کے وہ لوگ جو اس سازش میں شریک نہیں تھے ان کے دل و دماغ پر کیا اثر ہوا ہوگا، سوائے بے بسی اور مجبوری کے جو صرف تقدیر کے آگے ہی سر جھکانے پر آمادہ کرتی ہے۔ حکومت اسلامی میں شاید ہی کسی نے خلیفۃ المومنین کا یہ انجام بدست مومنین اور مسلمین سوچا ہو۔ ان سے قبل حضرت عمر کا قتل ہوا تھا مگر قاتل غیر مسلم تھا۔ ہم کسی حد تک اس قتل عثمان کو مہاتما گاندھی کے قتل سے مشابہت رکھنے والا کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ انھیں بھی وہاں گولی ماری گئی جہاں کبھی کسی کو اس کی توقع نہیں ہوسکتی تھی۔ گولی مارنے والا بھی ہندو تھا ۔ پورے ملک میں ہر شخص پر سوا سازشی لوگوں کو چھوڑ کر سب پر مایوسی طاری ہوگئی تھی ۔ ان کے اسی دردناک انجام سے بہت سے لوگوں نے اپنی سیاسی زندگی کا رخ بدل لیا۔
اصحاب مکہ اور مدینہ میں بھی ایسے ہی مایوس کن رجحان کا قیاس کیا جاسکتا ہے زندہ تو رہنا ہے ۔ خون خرابہ سے گریز کرتے ہوئے زندہ رہنا ہے تو پھر تصوف ہی وہ واحد راہ ہے جو انھیں امن و آشتی کی زندگی کی ضمانت دے سکتا تھا اور شاید ایسا ہی ہوا۔ اس لیے کہ خلافت عثمانیہ کے بعد عرب مسلمانوں کو چین و سکون کے بہت کم ہی دن دیکھنے کو ملے۔ حضرت علی کا دور خلافت بھی اپنوں کے کشت وخون سے رنگین گذارا۔ اس کے بعد نام نہاد آئیڈیل اسلامی اسٹیٹ کئی باغی سرداروں اور ان کے حامیوں کی کمائی کا بازار بن کر رہ گئی۔ اب وہی لوگ خوش حال رہے جو سیاسی قوت کے حامی تھے یا جنھوں نے اپنی ہوشیاری سے بہت ساری دولت جمع کررکھی تھی لیکن جن کو یہ سب کچھ حاصل نہیں تھا اب ان کی طبیعت کا رجحان تصوف کی طرف مائل ہونا عین فطرت انسانی کا تقاضا تھا۔ ایسے لوگوں نے اپنی بقائے حیات کے لیے خاموشی کو ترجیح دی اور زندگی کے بیش تر اوقات کو ریاضت اور عبادت میں صرف کرنے میں بڑی عافیت دیکھی ۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ اپنی شرافت بزرگی اور غیر جانبداری کے لیے مشہور ہونے لگے۔ پھر ان کی عزت معاشرہ میں بڑھنے لگی۔ دھیرے دھیرے تمام کمزور اور پست ہمت لوگوں کا ایسے نیک نام لوگوں کے گھر مجمع ہونے لگا جہاں بیٹھ کر قرآن کی ان تمام آیت کو حفظ کرنے کی رسم شروع ہوگئی جن میں صبر و شکر کے بدلے دنیوی اور اخروی انعامات کا ذکر ہے ۔ خاص طور پر واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ والی آیت پر عمل کرنے کی تلقین پر زور دیا جانے لگا۔ اسی ہدایت پر عمل کو تقویت ایمانی کا سرچشمہ قرار دیا جانے لگا اب جو کچھ بھی چاہتے ہو وہ نماز کے ذریعہ حاصل کرسکتے ہو۔ تلوار اور گھوڑوں سے نہیں۔ اس لیے کہ اس کو سہارا بنانے میں اپنوں کا خون بہت بہہ چکا ہے۔ اپنے گرد و نواح میں کوئی کافر نہیں بچا جس کو مار کر خدا اور رسول کو خوش کیا جاسکے ، جیساکہ اسلام کے ابتدائی دور میں ہوا کرتا تھا، اب تو سبھی مسلمان ہیں۔ اب کافر او رمشرک کی اصطلاح کا اطلاق اپنوں پر کیسے ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنی جماعت کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو منافق کہہ کر ان کے انجام کو خدا کے حوالہ کردیا اس لیے کہ منافق کو قتل کرنے کا حکم نہیں ہے اس لیے کہ وہ بظاہر مسلمان ہوتا ہے۔ وہ کلمہ گو اور صوم و صلوٰۃ کا پابند بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے اسے نہ کافر کہا جاسکتا ہے اور نہ مشرک۔ پھر شمشیر ایمانی کی پیاس کی تسکین کے راستے مسدود ہوتے گئے تو لوگوں نے زہد و تقویٰ میں انہماک کو عوام کی تسخیر کا ہتھیار بنایا۔ خود کچھ خلفائے وقت عوام کی تسلی کے لیے بڑی پابندی سے مساجد میں لمبی لمبی نمازیں پڑھتے اور اچھا وقت تلاوت قرآن میں صرف کرتے تاکہ رعایا انھیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے اور ان کی اطاعت کو چاہے وہ جیسی بھی ہو اس سے انکار نہ کرے۔ مذہب میں غلو اور عیش و عشرت کی جگہ سادہ زندگی گذارنے سے سلطنت میں بغاوت کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ خلیفہ چونکہ قرآن کے حکم کے مطابق صاحب امر یعنی حاکم وقت ہوتا ہے۔ خدا اور رسول کے بعد اس کی اطاعت بھی واجب قرار پائی ہے اس لیے اس پر بھی لازم تھا کہ وہ ہر طرح سنت رسول کی پیروی کرتا نظر آنا چاہیے ورنہ اس کے خلاف بغاوت کے امکانات قوی ہوجاتے ہیں۔ سلطنت اموی اور عباسی میں خلیفۃ اللہ کہلانے کا رواج تو قائم رہا مگر قرآنی احکامات کی اور سنت رسول کی پیروی کی بیشتر اہمیت ختم ہوگئی۔ خلیفہ مطلق العنان ہوگئے۔ خلیفہ ہونے کے بجائے وہ شاہانِ وقت ہوگئے۔ انھوں نے خلافت کو شاہی میں بدل دیا اور آج پوری دنیائے اسلام شاہان اسلام سے باعزت بنی ہوئی ۔ سعودی عرب کی حکومت جن کے قبضہ اختیار میں مکہ اور مدینہ ہے اس کا لقب بھی ’’جلالۃ الملک‘‘ ہے خلیفۃ اللہ نہیں ہے بلکہ صرف حرم شریف میں اس کو خادم الحرمین شریفین کہلایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی حدود کے باہر وہ بادشاہ وقت کہلاتا ہے اور دیگر بادشاہوں کے مقابل کسی طرح کم تر اختیار و احترام کا مستحق نہیں سمجھا جاتا۔
مغلیہ سلطنت کے آخری شہنشاہ اورنگ زیب کے نام کے آگے بہت سی جگہ رحمۃ اللہ علیہ لکھا ملتا ہے۔ ان کی کمائی کتابت مصحف قرآنی تک محدود بتائی جاتی ہے۔ صوم و صلوٰۃ کے شدت سے پابند تھے اور اسلامی سماج کے فروغ کے لیے فتاویٰ عالمگیری ترتیب کرانے کا نہایت مستحسن کام کیا۔ لاہور میں ہندوستان کی نہایت وسیع اور شاندار مسجد تعمیر کرائی جو اس وقت مسجد عالمگیری کے نام سے جانی جاتی ہے۔ تقریباً پچاس سال حکمرانی کی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کرگئے جس سے ان کے بعد آنے والے حکمراں اس اسلامی حکومت کو پروان چڑھا سکتے یا برقرار ہی رکھ سکتے۔ ان کی حکمرانی کا دور بھی بیشتر باغیوں کی سرکوبی میں گذرا اور ہندوستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ایسا کام نہیں کر گئے جو ان کے بعد ان کی پسماندہ حکومت کو سہارا دے سکتی ۔قرآنی اسلام کے مقابلے اسلامی تصوف کو عراق ، ایران اور ہندوستان میں سب سے زیادہ مقبولیت کیوں حاصل ہوئی؟ شاید اس کی بڑی وجہ تھی کہ یہاں اسلام سے پہلے کے دور میں عوام کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔ عقائد کی بنیاد پر نہ جنگ ہوتی تھی اور نہ منافرت پیدا کرنے کا مذہبی مشن قائم کیا جاتا تھا۔ جنگ اگر ہوتی بھی تھی تو اپنی ریاست کی حدود اور آمدنی بڑھانے کے لیے ہوتی تھی۔ فاتح کسی مفتوح اور اس کی قوم کا مکمل صفایا نہیں کرتے تھے۔ ان کے یہاں مردوں کو قتل کرنے اورعورتوں بچوں کو غلام بنانے کا مذہبی فرمان ناپید تھا۔ بادشاہ سے رعایا صرف انصاف کی امید رکھتی تھی جب تک وہ انصاف کرتا رہا اس کی پوجا کی جاتی تھی اور ظالم ہونے پر اس کے خلاف بغاوت شروع ہوجاتی تھی ۔ یہی دستور حکمرانی عالمگیر تھا۔ ایرانی بادشاہ نو شیروان اپنے عدل و انصاف کے لیے آج بھی مشہور ہے، حسن بصری کو جو عراق کے باشندے تھے اسلامی تصوف کا امام تسلیم کیاجاتا ہے۔ عرب میں محدث اور فقیہوں کا دور دورہ تھا۔ امام شہاب زہری اور امام مالک کا نام سر فہرست آتا ہے لیکن وہاں سے ہمیں صوفی کا کوئی نام نہیں ملتا ۔ دنیا میں ہر جگہ صوفیوں کا مختلف نام سے وجود ملتا ہے۔ یہ اس مسلک اور عقیدے کے لوگ کبھی جنگ و قتال، جبر و ظلم اور غارت گری کی حمایت نہیں کرتے ۔ محبت اور انسانی مساوات ان کا مذہب ہوتا ہے ۔ ان کا خدا صرف بے لوث محبت کرنے والوں کو اپنا دوست رکھتا ہے ۔ وہ کسی سے اس کی برادری یا شہریت یا اس کی دولت اور ثروت کے بارے میں کچھ نہیں پوچھتا۔ اس عقیدہ کو علامہ اقبال نے ایک سطر میںیوں پیش کیا ہے:
یقیں محکم ، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
صوفیوں نے عوام کے دلوں کو محبت سے مسخر کیا۔ ہندوستان میں رام اور کرشن حکمراں رہ چکے تھے۔ شری رام چندر راہ سلوک کے امام تسلیم کیے جاچکے تھے شری کرشن مہابھارت میں شریک تھے مگر نہ تلوار رکھتے تھے اور نہ تیر کمان۔ ان کے ہاتھ میں لوگوں نے بانسری دیکھی تھی جو دلوں کو مسحور کرتی رہتی تھی۔ ان دونوں مسلکوں میں ہر قریب آنے والے کو محبت کی نظر سے ہی دیکھا جاتا تھا۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ ہندوستان میں جو بھی امن و محبت کے پیغام کے ساتھ آیا وہ پوجا جانے لگا۔
اس کی پہلی مثال حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور ان کا دینی مشن ہے۔ ان کے مزارپر ہر مذہب و ملت کے لوگ سر جھکانے اور اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے ہر روز ہزاروں کی تعداد میں حاضر ہوتے ہیں۔
صوفی با دوستان تلطف با دشمناں مدارا (یعنی دوستوں کے ساتھ لطف و کرم اور دشمنوں کے ساتھ رواداری کا درس دیتے تھے۔) اپنے اعلیٰ اخلاقی کردار سے لوگوں کو اپنا گرویدہ اور مرید کرلیا کرتے تھے۔ ان کے یہاں جہاد کا مطلب دلوں کو فتح کرنا تھا نہ کہ زمینوں اور ریاستوں کا۔ صرف ان کی شرافت اور دریا دلی رواداری کی بدولت آج کے ہندوستان میں بیس کروڑ مسلمان موجود ہیں ۔ پاکستان او ربنگلہ دیش جو ۱۹۴۷ء سے پہلے کا ہندوستان تھا اس کو بھی شمار کرلیں تو اس ہندوستان میں ۷۰ کروڑ سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ اتنی آبادی دنیا کے شاید ہی کسی ملک میں وہاں کے اپنے قدیم باشندوں کی موجود ہو۔ جنھیں ہم مسلم نہیں کہہ سکتے۔ صرف آج کے ہندوستان میں غیر مسلموںیا ہندوؤں کی آبادی ۹۰ کروڑ بتائی جاتی ہے ۔ اتنی بڑی غیر مسلموں کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب کل آبادی کا چھٹواں حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں عام ہندو کو مسلمانوں سے کوئی بغض ہے نہ عناد ۔ پاکستان کے وجود کی وجہ سے ایک طبقہ ضرور بد دل رہتا ہے مگر وہ اعلانیہ طور پر اپنی نفرت کا اظہار نہیں کرتا صرف اس لیے کہ یہاں کی حکومت سماجی یا ملی نفرت پھیلانے والوں کو مجرم قرار دیتی ہے۔ یہاں بھی قانون کا رویہ رواداری کی ہی حمایت کرتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی حکومت جو خالص اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اس کا غیر مسلموں کے ساتھ وہ رویہ نہیں ہے جس کی اس سے تو قع کی جاتی ہے۔ اسلامی ریاست میں ہر غیر مسلم دوسرے درجہ کا شہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام اپنی بالادستی کا علم ہی بلند رکھنے کا سبق دیتا ہے۔ اس کے نزدیک تمام انسان برابر نہیں ہیں۔ خدا ہی خالق خیر و شر ہے اور اسی نے افضل و ابتر لوگ بنا دیے ہیں۔ اس عقیدہ کی روشنی میں جو بھی مسلمان ہے وہ دنیا کے تمام لوگوں میں سب سے بہتر آدمی قرار پاتا ہے اور پھر ’خیر امت‘ کے احاطہ میں داخل ہوکر وہ چاہے خلیفہ عمر بن عبد العزیز ہوجائے چاہے حجاج بن یوسف یا اسامہ بن لادن ہوجائے اس کو آزادی مل جاتی ہے کہ کلمہ گو ہوکر وہ جو چاہے کرے اسے کوئی اسلام دشمن نہیں کہہ سکتا۔ میں نے یہ نام اس لیے پیش کیے ہیں بقول راشد شاذ سیادت عالم کی ذمے داری یہودیوں کے ہاتھ سے لے کر مسلمانوں کے سپرد کردی گئی ہے اور قیامت تک انھیں کے پاس رہنی ہے۔ اس سے زیادہ خوش کن اعلان مسلمانان عالم کے لیے کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔

URL for Part-1: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL for Part-10: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

URL for Part-11: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-11/d/9728

 

URL for Part-12:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ12/d/9771

 

URL for Part-13: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-13/d/9820

 

URL for Part-14:  https://newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-14/d/9833

 

URL:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ15/d/9888

 

Loading..

Loading..