New Age Islam
Mon Aug 02 2021, 06:13 AM

Books and Documents ( 18 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 6) جوگ بسشت: بیراگ پرکرن: سکھدیو کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

بالمیک کاقول ہے کہ جب کنور رام چندر کم عمر نے یہ تقریر کی جس کے سننے سے سامعین کی نادانی دانائی سے بدل گئی تو اہل مجلس کی آنکھیں کھُل گئیں اور رونگٹے کھڑے ہوگئے اور عالم ملکوت سے واہ واہ واہ کی آواز آئی جس سے حاضرین کے کان موتیوں سے بھر گئے او رملاواعلی سے رنگا رنگ پھولوں کی نچھاور برستے دیکھی اور مروان غیب کو کہتے سُنا کہ ہم عالم کے چوطرفہ پھرے ہیں اور  کاملونکی بہت سی جماعتوں سے صحبت رہی کسی شخص سے اور کسی مقام پر ایسی میٹھی اور نفیس باتیں جو آب حیات سے بھی زیادہ جان بخش ہیں اور  ہم کو سوتے سے جگا دیا نہیں سنیں اور وہ سب کے سب اِن باتوں کے نہایت فریفتہ ہوکر اُتر آئے جس سے مجلس جگمگا نے لگی اہل مجلس ایک ساتھ ان کی تواضع تعظیم کی خاطر اُٹھ کھڑے ہوئے اور بشو امتر اور بشٹ اور رام چندر نے بھی اُس جماعت کا اغراز و اکرام کیا۔ بشوا متر نے اپنے دل میں  کہا ہر گاہ راج کنوراِس چھوٹی عمر میں نہایت سمجھ اور شعور کے ساتھ ایسا سوال کرے اُس کا جواب اگر اصواب نہ دیں تو ہماری عقل کا تصور ہے اس لئے

(49)

بشوا متر کو چلا اے رام چندر تیز عقل جس قدر کہ حقائق سے معرفت اور نجات کی راہ مِل سکتی ہے وہ تمام اپنی عقل او رذہن صافی سے آپ نے دریافت کرلی ہیں جیسے سکھدیو بیاس کے بیٹے نے جس پر لڑکپن میں طلب حق کی راہ کھلی تھی اسے رام چندر معرفت کے مداح سے کوئی چیز باقی نہیں جس کو تیز عقل تمہاری نہیں پہونچی اب اسی قدر درکار ہے کہ جو آپ سمجھے ہیں اس میں ثابت قدمی بہم پہونچا ئیے رام چندر نے کہا ائے بزرگ ہرگاہ سکھدیو نے سب کچھ جان لیا جو چاہئے پھر جمیعت خاطر اسے کیوں حاصل نہ تھی بشوا متر نے کہا سکھد یو کا حال تمہارا ہی سا تھا اور انتہا اس کی ہمت کی یہ تھی کہ موت اور حیات دوبارہ اُسے نہ ہو اور فنا عالم جو اُس کی نظر میں سما گئی تھی اُس کے سبب سب سے آزاد اور بے تعلق ہوگیا تھا جیسے آپ مگر وہ اپنی عقل پر بھروسا نہ رکھتا تھا اور اُ س کا دل سب  لذتوں سے

۱؎ موت اور حیات دوبارہ نہ پائے یعنی طالب مرتبہ فنا وبقا کا ہوا اس واسطے کہ جب تک یہ مرتبہ اعلی حاصل نہ ہو ان لوگوں کے نزدیک یہ امر ثابت ہے کہ نفس ناطقہ تعلقات ابدان عنصری سےموافق اپنے اعمال اور اخلاق مستعلمہ کے نجات نہ پائے گا کیو نکہ اگر قوت غضبی افراط سے ہوشیر اور چیتے کا جامہ پائے گا اگر ریاکاری تو روباہ یعنی لومڑی کا اسی پر اور قیاس کرناچاہئے یہاں تک کہ اگر اور یعنی ناوالی اس فل السافلین تک پہونچے تو نباتات و جمادات تک تنزل کرے گا اس مذہب سے ہندی اور عجمی متفق ہیں الا مشائین اور متکلمین عدم بصیرت سے اس مسئلہ میں راہ نہیں پائے ہوئے ہیں ۱۲

 (50)

فارغ تھا اور معرفت آلہی کا آب حیات مانگتا تھا جس طرح چاتک کو  جھٹے اُسے پپیہا کہتے ہیں آسوج کے مینھ بغیر دوسرا پانی نہیں مانگتا اب بشوامتر سکھدیو کی حکایت بیان کرتا ہے کہ ایک دن سکھدیو اپنے باپ سری بیاس کے پاس سمیر پہاڑ کی کھوہ میں بیٹھا تھا باپ سے پوُچھا کہ عالم کس طرح ظاہر ہوا اور کس طرح فنا ہوگا اور اُسکی لمبائی چوڑائی کس قدر ہے اور رنج اور راحت اُس کی کس کو ہے باپ نے جتنی حقیقت حال تھی تمام وکمال سکھد یو سے کہہ سنائی سکھدیو باپ کی بات کو جیسے چاہیے نہ سمجھا اس کے دل میں خطرہ آیا کہ اس قدر قومیں  بھی واقف ہوں بیاس اس کے خطرہ پر مشرف ہوکر بولا نرہت میں ایک راجہ ہے جنک نام ہے وہ سب حقیقت جانتا ہے اگر اُس  سے ملاقات تم کرو تو اس کے دیدار سے تمہاری خاطر کو تسکین ہوجائے گی۔ سکھدیو باپ کی یہ بات سن کر سمیر پہاڑ سے نیچے زمین پر اُترا اور بدّپہ نگری میں پہونچا جہاں راجہ جنک کا پائے تخت تھا اور راجہ کی ڈیوڑھی پر حاضر ہوا راجہ کو دربان لوگوں نے خبر پہونچا ئی کہ بیاس کا فرزند سکھدیو

۱؎ ایک پرندہی ہندوستان میں عرف عوام کے اندر خواہ کچھ نام اس کا ہو معلوم نہیں بعضے عوام کا قول ہے کہ یہی پپیہا ہے کہ گرمی کے موسم میں آنب کے درختوں پر بولتا ہے پیپو کہاں ہو کہاں اور اُس کی آواز مسلسل نہایت درد آلود عشق انگیز ہوتی ہے۔ شاید قول صحیح ہو ۱۲

(51)

آیا ہے اور دروازہ پرکھڑا ہے ۱؎ راجہ نے فرمایا کہ وہیں بیٹھے اور سات دن تلک خبر نہ ہو ازان بعد خلوت خانے میں اُسے بُلایا اور آپ وہاں  نہ گیا سکھدیو خلو ت خانے کی انگنائی میں سات دن تک کھڑا رہا پھر اُسے محل کے اندر بُلا کر دوسرے ہفتہ تک نہ ملا مگر خوبصورت عورتوں کو حکم دیا کہ بناؤ سنگار کر اُس کے سامنے جلوہ کریں اور گانا گاویں اور انواع  اقسام کی نعمتیں اُ س کے لیے تیار رکھیں عورتوں نے رام کے حکم کے موافق اس کے لُبھانے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا مگر اس کو حسن و جمال سے اُ ن کے سروکار نہ تھا ۔اور وہ ان پر یوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا اور نہ نہ راجہ کے تفافل سے برُا مانا اُس کی خاطر حق طلب میں ان لذت اور تلخی کے اسباب سے فرق نہ آیا جس طرح پہاڑ ہو اسے متاثر نہیں ہوتا جب راجہ نے اُ س کی ارادت اور اعتقاد کو دیکھا تو اکیس روز کے بعد اپنے پاس آنے کی اجازت دی منشکارا ورخیر وعافیت پوچھنے کے بعد ملاقات کی او رکہا اے صاحب تم اپنا سب کام پورا کرچکے ہو اب تمہیں کیا چاہئے او ر کون مطلب تمہیں پریشان رکھتا ہے سکھدیو نے کہا یہ فرمائیے کہ عالم کس چیز سے ظہور میں آیا اور کیا مقدار رہے یعنی مدت اُس کے بقا کی کس قدر ہے اور کس طرح فنا ہوتا ہے اور رنج وراحت عالم کا

۱؎ راجہ جنک خسرراجہ رام چندر جو عارف عمدہ تھا ۱۲

(52)

کس کو ہوتا ہے یعنی روح کو بادل ۱؎ کو راجہ جنک نے جواب دیا کہ ایک وجود آتما موجود ہے جس کی طرف عدم کو راہ نہیں ہے اور باقی سب  وہم اور خیال ہے اور یہ عالم اوّل سے آخر تلک وہم سے جمع ہوگیا ہے جب تلک وہم ہے عالم باقی  ہے اور جب وہم برطرف ہو ا وہ بھی فنا ہوگیا اور خلق اللہ کے دل اپنے وہم رنج وراحت سے بندھے ہوئے ہیں سکھدیو  نے کہا کہ یہ بات میں پہلے سے جانتا تھا اور میرے باپ نے یہی بات کہی تھی او رکتابوں میں بھی لکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عالم وہم اور خیال سے موجود معلوم ہے اور وہم کے جاتے رہنے سے وہ بھی نیست ونابود ہوجاتا ہے مجھے اِس بات کا یقین ہے لیکن یہ فرمائیے کہ ایسا کیوں ہے اور اسکا سبب میری خاطر نشان کیجئے راجہ جنک نے جواب دیا کہ آلمیات کے رموز اور متصوفین کی تحقیقات اور اپنے باطن کے کشف سے ایسا ہی میں نے دریافت کیا ہے کہ یہ تمام رنگ برنگ کے ظہور جو نظر آتے ہیں ایک حقیقت کے سوا نہیں ہیں

۱؎ ہندوؤں کے نزدیک دل عبارت ارادہ اور حرکت نفس سے ہے حکما ئے ہند حواس خمسہ باطنی کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ نفس ناطقہ نے جس کو جیو آتما کہتے ہیں ارادہ اور حرکت کی اُسی کا  نام دل ہے جب تک محسوسات کی طرف اُس کی توجہ ہے دل اور محسوسات سب موجود ہیں اور جب حرکت دل کی محسوسات معدوم ہوگئی ۱۲

(53)

اور یہ جو تم ایک ۱؎ کوبہت دیکھتے ہو اور اُس کا نام عالم رکھا ہے تم کوتمہارا ہی وہم ایسا دکھلانا ہے پس عالم کثرت کی نمود تمہارے وہم کے سوا نہیں ہے جب تمہارا وہم علم الیقین سےبدل جائے وحدت حقیقی تمہارے سامنے جلوہ کرے اور کثرت وہمی فنا ہوجائے پس ثابت ہوا کہ نمو د عالم کی تمہارے ہی وہم سے ہوئی اور وہم کے دفع ہونے سے وہ بھی معدوم ہوجائے گا اور تم وہم میں مقید او رمبتلا ہو اور وہم کے دور کرنے سے مُکت ۲؎ پاؤگے اور آزاد ہوجاؤگے۔ اےبیاس کے صاحبزادے میرے اعتقاد میں تم انتہا کی معرفت کو پہونچے ہو اور جو کچھ جاننے کے قابل ہے اُ س کو جان چکے ہو اُ س کی دلیل یہ ہے کہ تمام مزے جو دنیا بھر میں ہیں تم سے جاتے رہے اور سب سے بے تعلقی ہوگئی ہے یہ معرفت کی نشانی ہے بلکہ آزادی کے مقام پر پہونچنا ہی ہے کہ تمہاری خاطر محسوسات کی طرف رجوع نہیں اور غیر حق تمہاری نظر

۱۲؎چونکہ اس کا وجود اعتبار ی ہے نفس ناطقہ میں فانی ہوگیا برہما کوبھی عالم کبیر میں دل کہتے ہیں ساتھ پرم آتما یعنی حق کے جس طرح عالم صغیر میں دل ہے ساتھ جیو آتما  یعنی نفس ناطقہ کے ۱۲ نظر ۱؎ آتے ہمیں کا ہے کہ تجھ سے خود نما اتنے ۔یہ حسن اتفاق آئینہ میرے روبرو ٹوٹا ۱۲ مُکت ۲؎ آزاد اور رستگاری محسوسات سے اور واصل ہونا اپنے مبدر سے ۱۲

(54)

حق بیں میں نہیں آتا اب تردو اور شبہہ کو اپنی طرف نہ آنے دو اور جو کچھ سمجھے بوجھے ہو اس پر ثابت قدم رہو راجہ جنک نے جو یہ ارشاد مبارک فرما کر سکھدیو کے دل کو وہم اور وسوسہ سے نحپنت کر جمال مطلق کے مشاہدہ سے جمعیت اور آرام بخشا تو اُ س کا ایسا حال ہوگیا کہ رز تیر کے جو کام تھے بے اختیار چھوٹ گئے اور دنیا کی راہ اور رسم سے مثلاً ہاتھ سے گئی چیز کے رنج اور کسی چیز کے نہ ملنے کے غم سے درگذر اور اس خاص نسبت کی ورزش اور پرورش کی خاطر سُمیر پہاڑ کی طرف رجوع کی اور دس ہزار سال وہاں سمادھ یعنی مراقبہ میں بسر کیے اور انجام کا اپنی کلیت کےمقام میں ہتمکن ہوکر قطرہ ۱؎ کی طرح دریا میں مل گیا اور وحدت حقیقی کے نور نے اس کی عقل کو روشن کردیا اور وہم کی کارستانی چراغ بے روغن کی طرح ختم ہوئی۔اُس وقت بشوا متر نے رام چندر سے کہا کہ جیسے سکھدیو نے آزادی کے تمام مراتب کو سمجھا تھا اور اس کی تکمیل کرنے میں اسی قدر چاہئے تھا کہ جو کچھ جانا تھا پایۂ اثبات کو پہونچا دیا تمہیں بھی یہی مناسب ہے کہ جو کسی قدر وہم تمہارا حجاب ہے اپنے آپ سے معرفت اور دانائی کی علامت واضح ہماری آنکھو ں کے سامنے ہے ۔خوب سمجھ لو

۱؎ دریا قطر چوں و اصل شود دریاست ومعینی ۔  حباب وموج ہم آب اندیشہ گاف ابن معمار اور

(55)

کہ سب صفات نفسانی سے بدترین صفت حُب جاہ اور عزت ہے اور اُس کو بلند ہمتی کے ساتھ دل سے نکالنا دلیل وصول حق کی ہے جس کو جیون مکُت ۱؎ کہتے ہیں جس وقت حب جاہ سے درگذر ے یقین جانو کہ جیون مکُت کے مقام پرپہنچ گئے بعد اس کے بشوامتر نے علما ومجلس کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ تحققان علم الہیات میرے دل میں آتا ہے کہ بسشٹ جو مالک دین اور دُنیا کے ہیں اورتمام رگھ نبسی ۲؎  قوم رام چندر پرحکم اُن کا چلتا ہو ا ہے اور باپ دادا سے اُ ن کا اُستاد اور ارضاع و اطوار کا  ان کے وافق کار اور دنیا بھر کے اسرار کا خواہ پچھلے ہوں یا آئندہ جاننے والاہے اور ذمہ دار رام چندر کی ہدایت کے ہوں اور تربیت و مہربانی کا کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھیں اور بسشٹ کی طرف بھی متوجہ ہوکر کہا کہ آپ خیال رکھیں جس وقت ہمارےتمہارے درمیان بغض اور

۱؎جیون مکُت اسے کہتے ہیں کہ جسم عنصری کی حالت بقا میں واصل بیدار ہوجائے اور بدیہہ مکت مرتبہ فنا سے مطلق کا ہے کہ اس میں بدن  باقی نہیں رہ سکتا اس واسطے کہ تصرف ناطقہ کا اُس حالت میں بالکل محسوسات سے منقطع ہوجاتا ہے اور جب تدبر کی تدبیر منقطع ہوگئی بقا وجود جسم محال ہے اور ظہور جسم کا سبب توجہ خاص اُس کی ہے جب تک متوجہ مجسوسات ہے ہزار جسم پیدا کرتا ہے جیسا کہ تقا ضا ملکات رغبت کا اُس کے ہو صورت پیدا ہوتی ہے ۱۲ رگھ ۲؎ ایک بڑے راجہ کا نام تھا اور نبس نسل کو کہتے ہیں اور گھر نبسی اولاد رگھ کی ہے۱۲

(56)

عداوت تھی اور ہم دونوں لڑائی پر طیار ہوئے اور برھما نے آکر ایک ہدایت فرمائی کہ ہم کو ہماری خودی سے نکال دیا اور ہمارے غرور اور عداوت سےکچھ باقی نہ چھوڑا اور ایسا حال ہوا کہ ہماری تمہاری دشمنی دوستی کے ساتھ تبدیل ہوگئی وہی انچھر جو برہما نے تم سے کہے تھے رام چندر شاگرد اپنے کو بتلا نا اور دانشمندی کا یہی  پھل ہے رام چندر ایسے سچّے طالب کو جو دنیا اور مافیہا سے بے تعلق ہوگیا ہے ارشاد اور تربیت کیجئے اور جس کو سچّی طلب نہ  ہو اور وہ دنیا کے دھندے نہیں چھوڑ تا اُس کو تعلیم اور تلقین کرنا گویا گئو کا دودھ کتّے کی مشک میں بھرنا ہے۔  جس وقت گاد کے بیٹے بشوا متر نے یہ تقریر تمام کی ۱؎ پاس اور ۲؎نادر اور مجلس کے تمام حاضرین نے اُس کی رائے کو پسند اور اُس کو تحسین و افرین کی بسشٹ خلف ۳؎ برہما نے جو اپنے باپ کے مثل صاحب کمال تھا جواب دیا اے بشوا متر فرمانا آپ کا قبول کرنا لازم اور لواز م عقل اور

۱؎ عارف محمد ہ کا نام ہے دو مٹیا پارا شرعارف کا اور باپ سکھدیو کا تھا ۱۲ نادر ۲؎ نام ایک عارف کا ہے کہ ملائکہ مقدس کے شمار میں  ہیں ۱۲ تمام ۳؎ افراد کائنات کو برھما کے بیٹے ہونے کی نسبت ہے اس لیے کہ بر ہما سے مراد تعین صفت ایجاد ہے اور بسشٹ زیادہ سزا دار اس نسبت کا ہے اس واسطے کہ تمام کمالات اور اوصاف برھما باپ کے آمین تھے جس طرح حکیم خافانی نے بدکار آدمیوں کی نسبت کہا ؎  بنگر چہ ناخلف پسر ے کزوجود قو۔ دارالخلا فت پدرست  ابرمان سرائے ۔ایرمان اے ماتم سرائے کو کہتے ہیں اور دارالخلافت اس کا جان ہے ۱۲

(57)

فہمید سے ہی برھما نے مگدھ پہاڑ میں جو کچھ کہ میرے وہم اور خطرات کے دور کرنے کے لیے فرمایا تھا سب تفصیل دار بلا کم وکاست میرے ذہن میں ہے بالمیک روایت کرتا ہے بعد ازانکہ بسشٹ نے رام چندر کی تعلیم اور تلقین اپنے ذمہ کی اور حکایت بشوامتر اور بسشٹ کی ۱؎

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978


Loading..

Loading..