New Age Islam
Tue Apr 20 2021, 12:41 AM

Books and Documents ( 15 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 3) جوگ بسشت: بیراگ پرکرن: بسوامترا رامچندر مکالمہ (حصہ دو


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian

 by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

استاد اس دل نے مجھے کھالیا جو حرص کے پیچھے پیچھے جاتا ہے  کُتے کی طرح جو مادین کے پیچھے جائے ۔جہاں مردار پڑا پائے کھانے کے لیے دوڑتا جائے۔ اور دسو سہ دل کو مجھے اڑا تا رہے گا جس طرح ہوا کا جھونکا سوکھی گھانس کو پتی اڑا ئے لیے جائے ۔ ان دوحال سے باہر نہیں  ۔ جو وہم اور خیالات کہ دل سے امنڈ تے ہیں مجھے ڈراتے ہیں کہ جیسے بچے کے خیال میں سایہ  دیو کی شکل بن کر خوف دلاتا ہے اے مہاراج وہم بھر ادل آگ سے زیادہ پرسوز ہے کہ اس کو پکڑ نہیں سکتے اور پریت سے زیادہ بلند ہے جس پر کوئی نہیں چڑھ سکتا  اور ہیرے سے زیادہ سخت ہے کہ ٹوٹ نہیں سکتا ۔ سمندر کی سطح پانی پر چل سکتے ہیں اور سمیر ایسے عظیم الشان پہاڑ کو کھود  کر پانی اس کا نوش کرسکتے ہیں لیکن دل کو مفلوب نہیں کرسکتے ۔ اے حضور ہر طرح کے خطرات اور داہی تباہی خواہشیں سب دل کی بیماری کے سبب سے ہیں ۔ اور علاج اس کا

۱؎جیسے تیز ہوا جو گھانس کو اڑاتی ہے مثال کے درمیان واقع ہوئی دوحال سے خالی نہیں یعنی زمین پر ڈالے گی یا ہوا میں سرگردان رکھے گی۱۲

(25)

آپ کے ارشاد کی امداد پر منحصر ہے ترشنا یعنی حرص ہر طرح کے ارمانوں کو اسی طرح جمع کرتی ہے کہ متفرق چُندون کو اندھیری رات اکٹھا کرتی ہے۔ اسے اُستاد جتنے اچھے صفات ہیں جن کا جمع کرنا دل کے واسطے جمعیت اور آرام کا موجب ہے سریلے راگون کے موافق جن کو سنکر مزہ اور خوشی ملے حاصل کرتا ہوں فوراً حرض ان کو خراب اور پریشان کردیتی ہے جس طرح ایک چوہارباب  کے تاروں کو بگار ڈالتا ہے حرصی کی مجال نہیں ہے کہ اپنے اصلی مقام پرکہ معرفت ہی  پہنچ سکے اس واسطے کہ حرص کی الجھن اس کو روکتی ہے جس طرح ایک چڑیا کہ جال میں پھنس گئی ہو اس کو چھوٹنا اور اپنے گھونسلے تک پہنچنا میسر نہیں آتا حرصی آتش حرص سے ایسا جل گیا ہے کہ ہزار آب حیات سے اس کو غسل دیں مگر حرارت اس کی فرد نہیں ہوتی۔ اسے اُستاد جو شخص دنیا کے سب کا روبار چھوڑ کر آزاد ہوگیا ہو اس کے لیے حرص بہت کام پیدا کرتی ہے۔حرص نڈرآدمی کو اندھیری رات کی طرح ڈراتی ہے جس کی  آنکھ کھلی ہو بند کردیتی ہے ۔حرص انسان کو گھر گھر گھماتی ہے کسی کادل خوش نہیں کرسکتی جیسے بھونڈی صورت کی  بوڑھیا ۔حرص ہوا برُے کام پیدا کرتی ہے او رٹھکانے تک نہیں پہنچا تی جس طرح ایک نکّمی ناچنے والی ناچ کے سارے بھاؤ ایک ہی دفعہ بتلانا چاہے اور پھر پورے

 (26)

نہ کرسکے حرص بدن کے سب گھر مندوں سے کام کاج لیتی ہے یعنی ظاہر کے تمام جوڑ توڑ اور بندھون سے اور باطن کے سب حواس اور طاقتوں سے کمینوں کو نیستی اور ناداری کمانے پر  ناچار کرتی ہے اسی طرح شریفوں کے پاک صاف دل کو حرص اپنی طرح کھینچتی ہے جیسے متقی آدمی کو حسین عورت اور نیلو فر کو سورج کی برآمد کشش کرتی ہے آدمی ہر چند عقل مند اور سُمیر پہاڑ کی طرح بھاری بھرکم ہو مگر حرص اُسے ایک پتی سوکھی گھانس کی بنادیتی  ہے ۔ اسی اُستاد بدن کو شکوہ کیا کروں کہ بالکل پاخانہ کا گھر ہی تھوڑی ناموافق غذا میں بگڑ جاتا ہے او ر ہمیشہ  چاہیتی چیز وں کے نہ پانے سے گھانس پھونس کی طرح جلنا ہے اور میں کوئی ہنر اور سود

۱؎یعنی کمینہ شریفوں سے خدمت لیتا ہے اس واسطے کہ عقل اور ادراک حضرت نفس ناطقہ کی شان خاص سے ہے اور تدبیر ات کا کام میں لانا یعنی خسیس کے  مشتہیات کے آثار کی قسم سے ہےکہ شریف خدمت کمینے کی  کرے ۱۲ مذمت جسم شیخ علی خرین کا قو ہے ؎ مکن دشوار ازتن پردری آزادی جانرا۔ چہ محکم میکنی چوں املہان دیوار زندا نرا۔ پھر اُسی اُستاد نے نفس ناطقہ عالی مکان کی حضرت میں خطاب کر کے کہا ہے بلکہ اطلاق لفظ مکان اُس کی شان میں خطا ئے محض اس  کے علو درجات کے لیے ہے؎ تورشک یوسف مصری فتا دہ درجہ تین ۔ تو باز کنگر عرشی نجا کدان چونی۔ غان گسستہ ترا بحر جود میجو ید۔ بریک باد یہ اے ماہی طپان چونی ۱۲

 (27)

اس میں نہیں دیکھتا اور اس قدر ہلکا اور اوچھا ہے کہ تھوڑی آسودگی میں تو ہوا کا کُپّا اور تھورے دکھ میں بے چین ہوجاتا ہے ۔ اسے استاد میں اس بدن کو خودی او رتکبر کا گھر جانتا ہوں نہ اپنا آباد ہو یا اُجاڑ ہو مجھے اُس سے سروکار نہیں ۔ یہ گھر جو گدھوں کی پایہ گاہ ہے (اور مراد ان سے حواس ظاہر وباطن کے ہیں) بی بی حرص کے محلات ہیں اور وہم وخیال اس میں مزے اڑاتے ہیں میں نہیں چاہتا اس واسطے کہ جس گھر کا دوار ا ہڈی کا ہو (دانت) اور اس کے دردان پر بندر یا ں بیٹھی ہو(زبان) میری نشست کے قابل نہیں اور یہ بندریاں کود پھاند چلت پھرت میں ضرب المثل ہے کہ ہر ایک بیچین کو اُس سے تشبیہ دیتے ہیں اور وہ زبان ہے جو ہمیشہ جنبش میں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ جسم کیا کمال رکھتا ہے ظاہر میں مُردار گوشت اور باطن میں لہو اور غلاظت ہے۔ اس حال کے ساتھ بھی اس کو ثبات اور قرار نہیں اور امیر وغریب عقل والے اور بے وقوف میں تمیز نہیں کرتا بوڑھا پا ۔مرض  او رموت جو اُسے لازم ہے سب کے سامنے پیش کرتا ہے اور کسی کو بھی نہیں  معاف کرتا اور اس بے تمیزی اور بیوفائی کے باوجود دنیا بھر کا

۱؎چونکہ زبان ہمیشہ حرکت میں رہتی ہے اس واسطے  نشیبہ اس کی بندریاں سے کی اس واسطے کہ زبان  اسم مونث ہے مادہ کے ساتھ تخصیص کی والا مطلق بند رکھتا ۱۲

 (28)

محبوب اور مرغوب ہے ۔ناداں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں جو اس پر بھروسا کرے اُس کی مثل وہی ہے کہ جو کوندتی بجلی اور کوار کے منیھ پر اعتماد رکھے۔ آدم زاد لڑکا ئی سے ایسے حوادث کے دریا میں گرا ہے جس کی لہروں کی حد اور نہایت نہیں ہے اور ہمیشہ محبت اور رنج میں بسر کرتا ہے علی الخصوص لڑکپن کے زمانے میں کہ روٹی پانی کپڑے کا محتاج ہے اور زبان سے بات نہیں کر جانتا کہ اپنی حاجت دوسرے سے کہے۔ نہ اس کو یہ عقل ہے کہ اپنی بہبود میں کچھ فکر کرے اور نہ ایسی سکت ہے کہ اپنے کام کو آپ ہی پورا کرے۔ یوں کہنا چاہئے کہ آدمی کوئی چیز نہیں  بلکہ ناتوانی اور سُستی نے مجسم ہو کر آدمی کی صورت پائی اور بچہ اس کا نام ہوگیا۔آدمی جب تک بچہ ہے قرار اس کو اور سکون نہیں ہے اور آدمی کا خیال تو نہ دن کو ٹھہر سے نہ رات کو یعنی نہ جاگتے  نہ سوتے ۔ جہاں یہ دواضطراب جمع ہوں تو یقین ہے کہ کام بے انتظام ہوجائیں اور یوں سمجھنا چاہئے کہ معشوق کی آنکھ اور تڑپتی بجلی آگ کے شعلے اور دریا کی لہر نے بچے ہی سے بے قراری سیکھی۔ بچّے کے خیال میں ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ جتنی کھانے کی چیزیں دنیا میں ہیں سب کو دم سے منھ میں رکھ لو ں ۔ چاند جو چمک رہا ہے اُس کو ہاتھ میں پکڑ لوں۔ جس کی فکریں یہ ہوں اس کی عقل سے کیا امید فائدے کی ہوسکے ۔

(29)

لڑکا ئی خوف کا گھر ہے ان سے باپ سے اور جو اس سے بڑا ہو ہر وہم سے او رہر خیال سے  سب سے ڈرتا ہے ۔ بچّے نے جوچھوٹی عمر میں دکھ اور محنت برابر دیکھی ہے اس لئے جوانی کی اُسے اُمنگ ہوتی ہے آہستہ آہستہ جوانی کے پہاڑ پر چڑھنا ہے اور جب کہ بچّہ جوان ہوگیا تو شہوت کا شیطان دل میں پہنچ کر ہزاروں نامناسب خواہشیں پیش کرتا ہے اور اپنا تابعدار اُس کو بنا لیتا ہے آدمی کی عقل چاہے کتنی ہی لڑکپن میں تیز ہو مگر اُس کی عقل کو جوانی تاریک اور گدلا کردیتی ہے جیسے  کوئی دریا جس کا پانی موتی سا صاف ہو برسات کے موسم میں لطافت اس کی نہیں رہتی۔ بدن کی مثال جیسے ماڑ واڑ کی زمین جہاں پانی کا نام  نہیں اور جوانی ایک دھوکے کے دکھلاوے کی چیز ہے اور دل کو ایک پیاسا ہرن تصور کیجئے کہ اس چمکیلے رتبے پر امید لگائے ہوئے انجام کا مایوس اور ناکام رہ جاتا ہے ناموری اور تعریف کے سزا دارہ گروہ ہے جو کہ شباب کے تنگ کوچہ سے صحیح سلامت باہر نکل آئے ایسا جوان جس میں سیل مہر ہو اور وہ بوجھل بھی ہو ڈھونڈھے نہیں ملتا جس طرح آکا س کا پھول ہو او رنوعمر ی کی سب آرزو سے عمدہ عورت ہے

آکاس اُسے کہتے ہیں کہ حکما اشراقیہ یونانیہ اس کو مکان کہتے ہیں ۱۲

(30)

اس کے رخسارے کا پھول تھوڑے دن تروتازہ رہالیکن جلد مرُجھا تا ہے اور اُس کی چھاتیاں موتی بھری اُبھری ہوئی سونے کے پربت سُمیر سے جیسے گنگا بہہ رہی ہو ایک روز بوڑھا پے کی ہوا سے اُسی طرح لسپت اور ہموار کہ قیامت کی ہوا سے پہاڑ ہوجائینگے عورت بالکل آگ ہے کہ اُس سے ملا اور جلد صحبت اُس کی پوشاک کو میلا کر ے اور بال اس کے سر کے خیال کرو کہ ایک دھواں ہے جو آگ سے اُٹھ رہا ہے۔ عورت دوزخ کی ایندھن ہے حالانکہ وہ ترہی تس پر بھی دوزخ کی آگ کو بھرکاتی ہے مطلب یہ ہےکہ جس کے گھر میں عورت ہے وہ ابھی سے دوزخ میں ہے اور دوزخ کی دہکانے والی عورت ہے او رکام  یعنی شہوت ایک شکاری ہے کہ وہ عورت کو اپنا جال بنا کر بڑے پہلوان شہزوروں کو اپنا شکار کرتا ہے دنیا ایک حوض ہے کہ مچھلی اُس کی مردہین اور گلابہ اُ س کا شہو تاور اُس مچھلی کو مارنے والی شست عورت ہے۔ اور اُس تعلق کا نام نسبی کی ڈورہی جو دل کو دنیا کی کسی چیز سے ہے اور عورت جو عیبوں کی گٹھری ہو اور رنجوں کی بیڑی پاؤں میں رکھّے وہ ہمارے کام نہیں ہے  جو شخص عورت والا ہے سب مزون کا وہ حرصی ہے اور جس نے جہاں کو ترک کردیا وہ آرام سے ہے اور کامل ہوگیا ۔ دنیا کے مزے پہلے پہل

 (31)

اچھے معلوم ہوتے ہیں اور انجام کو برُے جس قدر مزے کے ڈھونڈھنے والے ہیں تین مکروہات اُن کے سامنے آتے ہیں ۔ بیماری ۔ بوڑھاپا ۔موت۔ میں نے سب مزے چھوڑ دیے اور اعلیٰ دررجہ کا مقام حاصل کرنے کے لیے ہمت باندھی ہے الاّ میری ہمت مجھے ٹھکانے پر نہیں لگاتی آپ کی مہربانی سے میرا کام نکلے گا اور یہ مطلب آپ ہی کی عنایت سے مل سکے گا جوانی کے ہل  لڑکپن کے خیالات کو الگ کرتے ہیں او ربوڑھا پے کی دہشت جوانی کے بازار کو ٹھنڈا کردیتی ہے سمجھنے کی بات ہے کہ ایک کو دوسرے سے کس قدر  ضد ہے اور ان مخالفوں کی صحبت میں کوئی آرام سے رہ سکتا ہے۔بوڑھاپے کے آتے ہی عقل تو رفوچکر  ہوجاتی ہے بی بی لڑکے بالے اپنے اور دوست آشنا نوکر غلام ضعیف العمر کےاعضا کو لرزتے دیکھ کر ہنستے ہیں اور اغیار کاتو ذکرکیا ہے ۔چونکہ بوڑھاپے میں سب  عادتیں بدل جاتی ہیں اور اچھی شکل بھی بھونڈی ہوجاتی ہیں قوت اور قدرت کے بجائے ناتوانی او ر سُستی پیدا ہوتی ہے اور حرص تو بہت ہی بڑھ جاتی ہے اس لیے کسی کو بھلا نہیں معلوم ہوتا کہ بوڑھا آدمی اس کی طرف دیکھے پیری حرص کی صورت ہے کہ احتیاج کو لازم ہے اور خدائی بھر کی محنت حاجت مندی کے طفیل سے ہے۔ بوڑھا آدمی ہمیشہ خوف اور خطرے میں ڈوبا رہتا کہ مجھے دوسرے عالم میں جانا پڑے گا اور

 (32)

نہیں معلوم کہ وہاں کیا پیش آوے اور کیا کیا دکھ درد دیکھنے اور سننے پڑیں ۔ بوڑھا آدمی حرص کے مارے چاہتا ہے کہ سب ارمان نکل جائیں مگر ہاتھ پاؤں کے جواب دینے  سے مطلب کو نہیں  پہنچتا ۔ اس سبب سے ہمیشہ سوز وگداز مین رہتا ہے ۔موت ایک بادشاہ قہاّ رہی جس وقت جی چاہا شہر وجود پر  چڑھ دوڑتا ہے  اپنے لشکر کو جس کا نام پیری دلاغری ہے آگے بھیجتا ہے اور سفید بال اِس لشکر کے لیے گویا پھر ہرے نشان کے ہیں ۔ تین ارمان جو تمام عالم کو اپنا بندھوا اور تابعد ار کیے ہوے ہیں  حالانکہ اُن ارمانوں سے نشانی تلک باقی نہیں رہتی ۔پھر بھی خلق اللہ کو ایسا گرفتار اپنا کیے ہیں کہ دوسری کسی چیز سے خبر نہیں ہوتے۔ بڑی ذلت اور ندامت اور عجب طرح کی پست ہمتی کی بات ہے کہ ایسی حالت میں کسی کو جینے رہنے کی رغبت ہو دنیا میں خوشی اور آرام کا وجود نظر نہیں آتا اور جسے دنیا دار عادت کے موافق خوشی قرار دیتے ہیں زمانہ اُسے تھوڑی دیر میں لوٹ لے جاتا ہے۔ زمانے کو انتہا کی اشتہا ہے کہ دنیا میں کوئی شئے نہیں جس کو نوش نہ کر جائے مال او راولاد اور آبرو تینوں کے ارمان کو تسخیر کرلیا اور مثل اس کے واڑ دانل کی ہے جو سمندر کو نگل جاتا ہے اور واڑوانل آتش ہے جس کی خوراک سمندر ہے زمانہ بزرگ اور دانا دولت مند اور حسینوں کے ساتھ بھی

(33)

مروت اور احسان نہیں کرتا اور لخط بھر کے لیے بھی سانس نہیں لینے دیتا اور سب کا ایک لقمہ بنا کر چٹ کرجاتا ہے جس طرح مو ر ثابت سانپ کو ایک دم سے نگل جاتا ہے سب کہ زمانے نے دنیا بھر کو اپنے پیٹ میں رکھ لیا تو کہنا چاہئے کہ دنیا خود وہی ہے چونکہ پیشتر ظاہر ہوچکا ہے کہ کال یعنی زمانہ سب کو فنا کرتا ہے ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943


Loading..

Loading..