New Age Islam
Mon Sep 20 2021, 05:29 AM

Books and Documents ( 6 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات


سیّد امیر علی

مقدمہ (قسط اول)

اے کہ ہیچ جانداری جا

بوالعجب ماندہ ام کہ ہر جائی

وصالی

کفرودیں ہر دو دررہت پویاں

وحدہ لاشریک لہ گویں

سنائی

نوع انسانی کی دینی ترقی میں جو تسلسل پایا جاتا ہے وہ ایک ایسا موضوع ہے جو انسان کامطالعہ کرنے والوں کیلئے انتہائی دلچسپی رکھتا ہے۔ نفس انسانی کا تدریجاً ایک ہمہ گیرذات،ایک محیط کائنات ارادے کو پہچاننا یا اندھیرے میں بھٹکتے پھرنے کی جو زحمتیں کیا افراد اور کیا اقوام دونوں نے جھیلی ہیں، اس سے پیشتر کہ ان کے ذہنوں پر ایک ایسی روح مطلقہ کا تصور جلوہ گر ہوتا۔ جو تمام موجودات میں جاری و ساری اور نظام فطرت کو قاعدہ و قانون کے سانچہ میں ڈھالنے والی ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے نہایت معنی خیز سبق حاصل ہوتے ہیں ۔بارہا ایسا ہوا کہ جس عمل کے ذریعے نوع انسانی  اشیائے مادّی کی پرستش سے ترقی کر کے عبادت الہٰی تک پہنچی ہے وہ معرض تعویق میں پڑگیا۔

 اقوام اور افراد کثیر تعداد میں شاہراہ ترقی سے منحرف ہوگئے اور اپنی خواہشات نفسانی کے غول راہ کا دھوکا کھاکر اپنے عہد طفولیت کے بتو ں کی طرف ٹوٹ گئے جو محض ان کے جذبات کے تراشے ہوئے مجسمّے تھے لیکن خدا کی آواز چاہے کوئی اسے سنتا یا نہ سنتا ،ہمیشہ دعوت حق دیتی رہی ہے اور وقت آنے پر اس کے بندگان خاص نے اٹھ کر اعلان کیا ہے کہ انسان پر دوسرے انسانوں کی طرف سے اور اس کے پیدا کرنے والوں کی طرف سے کیا کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔ یہ بندگان خاص خدا کے حقیقی پیغمبر تھے۔ وہ اپنی قوموں میں اپنے وقت کی پکار بن کر آئے، جس میں سچائی، پاکبازی اور انصاف کے تمام ولولے تڑپ رہے تھے جو روح انسانی میں ودیعت کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے زمانے کے روحانی تقاضوں کا ترجمان تھا۔ ہر ایک اس لیے آیا کہ ایک گری ہوئی قوم کو سدھارے،نکھارے اور ابھارے اور ایک بگڑی ہوئی مملکت کو بنائے۔بعض ایک محدود تمدّن کی تعلیم دینے کے لئے، جو ایک چھوٹے سے دائرے کے اندر محصور رہا۔ دوسرے ایک عالمگیر پیغام لے کر آئے، ایک ایسا پیغام جو کسی ایک نسل یا قوم کے لیے نہ تھا، بلکہ ساری نوع بشر کے لیے ۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شمار موخرالذ کر زمرے میں ہوتا ہے۔ آپ کا پیغام صرف عربوں کے لیے نہ تھا۔ آپ صرف ایک زمانے یا ملک کے لیے مبعوث نہ ہوئے تھے، بلکہ ساری بنی آدم کے لیے، اس دنیا کے ایک سر ے سے دوسرے سرے تک جتنے بندگان خدا ہیں ان سب کے لیےاس معلم اعظم کا ظہور، جس کی سوانح حیات اس کی بعثت کے لمحے سے لے کر اخیر تک مصدقہ طور پرقلم بند ہوچکے ہیں، محض ایک اتفاقی حادثہ یا تاریخ عالم کے حاشیے پر لکھا ہوا ایک غیر متعلق اور ضمنی واقعہ نہ تھا۔ وہ اسباب، وہ زبان حال سے پکارتی ہوئی خرابیاں ساری کائنات میں جاری و ساری ایک قدرت مطلقہ پر یقین محکم پیداکرنے کے وہ اندرونی داعیے جو قیصر آگسٹس کے زمانے میں گلیلی کے کنارے ایک ایسے پیغمبر کو وجود میں لائے تھے جس کی زندگی ایک المیہ تھی، وہی ساتویں صدی عیسوی میں دوبارہ بروئے کار آئے، اور اب کی پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ۔

جیسا کہ بجا طورپر کہا گیا ہے،ساتویں صدی عیسوی کا آغاز قومی، معاشرتی اور مذہبی انتشار کا زمانہ تھا۔اس میں جو مظاہر رونما ہوئے وہ ویسے ہی تھے جیسے مثبت ایمان و ایقان کے کسی نئی صورت میں جلوہ گر ہونے کا باعث بنتے ہیں۔تاکہ آوارہ و سرگرداں قوتوں کو مذہبی  ارتقا کے اس ناگزیر راستے پر لایا جائے جس کی منزل مقصود ذاتی عبادت کی تکمیل و تنظیم ہے۔ یہ تمام مظاہر اس پر دلالت کررہے تھے کہ یہودیت یا عیسائیت نے خدا کی مملکت کا جونقشہ پیش کیا ہے اس کے کسی زیادہ مربوط مرقع کا صورت پذیر کیا جانا ضروری تھا۔ زرتشت، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ نے جو شمع روشن کی تھی اس کی لو انسانی خون کے چھینٹوں سے بجھائی جا چکی تھی۔ ایک گڑی ہوئی زرتشیت نے اور ایک اس سے بھی زیادہ بگڑی ہوئی عیسائیت نے جو ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھیں، انسانی ضمیر کی ناطقہ بندی کر رکھی تھی اور کرہ ارض  کے بعض شادماں ترین خطّوں کو لہو کی ندیوں کا سنگھم بنا رکھا تھا۔

بالادستی کی خاطر مسلسل رزم آرائیوں، دائمی خانہ جنگیوں او رمذہبوں اور فرقوں کی لگاتار چپقلشوں نے قوموں کا خون زندگی نچوڑ لیا تھا اور روئے زمین کے باشندے جو ایک بے جان مشائخ پرستی کی آہنی  ایڑیوں سے کچلے جارہے تھے، خدا سے اپنے آقاؤں کے مظالم کی فریاد کررہے تھے، دنیا کی تاریخ میں ایک نجات دہندہ کی اس سے زیادہ ضرورت کبھی لاحق نہ ہوئی تھی اورنہ کبھی اس کے ظہور کے لیے اس سے مو زوں تر وقت آیا تھا۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے دنیائے اخلاق میں جو کچھ کر دکھایا اس کا صحیح صحیح اندازہ لگانے کی خاطر ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے اورطلوع اسلام کے وقت اقوام عالم کے جو مذہبی اور معاشرتی حالات تھے ان پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے۔

باختر (Bactria) کی سطح مرتفع، جسے عرب جغرافیہ دانوں نے اُمّ البلاد کا موزوں نام دیا ہے، نوع انسانی کا گہوارہ، مذہبوں اور قوموں کا مرزبوم خیال کی جاتی ہے۔نوع بشر کے بچپن پر تقابلی علم الاقوام جو مدھم سی روشنی ڈالتا ہے وہ روشنی ہمیں نسل انسانی کے اس ابتدائی مسکن میں خاندانوں کے چند در چند گروہ دکھاتی ہے، جو رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے ناطے جوڑ کر جرگوں اور قبیلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کے تحت موج درموج باہرنکل کر زمین کے مختلف خطّوں کو آباد کرتے ہیں۔ سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اس قدیم وطن کو خیر آباد کہی۔ وہ غالباً حامی (Hamitic) نسل کے لوگ تھے۔ ان کے بعدجو لوگ نکلے وہ تورانی تھے یا، جیسا کہ انہیں کبھی کبھی ملقب کیا جاتا ہے، اگر دفنّی (Urgo- Finnish) نسل کے لوگ، جو یا فثئی (Japhetic) خاندان کی ایک شاخ تھی۔

 معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض شمال کی طرف گئے اور پھر مشرق میں پھیل کر نوح انسانی کی موجودہ منگولی (Mongolian) شاخ کے مورثِ اعلیٰ بنے۔ایک اور شاخ مغرب کی طرف چل نکلی اور آذربائیجان، ہمدان اور گیلان میں آباد ہوگئی۔ جو بحیرہ خزر کے جنوب اور جنوب مغرب میں ہیں اور جو تاریخ قدیم اور (Media) کے نام سے نسبتاً زیادہ معروف ہیں۔ اس شاخ کے ایک حصے نے کچھ مدت کے بعد سرزمین بابل کے زرخیز میدانوں میں جاکر اپنے سے پہلے کی حامی نو آبادیوں کومسخر کیا اور رفتہ رفتہ ان میں مل جل کر اکادّمی (Accadian) قوم کی شکل اختیار کی جسے یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی کتابوں میں کوشتی(Kushitc)نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس مخلوط نسل نے بابل کی بنیاد ڈالی اور ایک ایسا مذہب ایجاد کیا جو اپنی بلند سطحوں پر فطرت پر ستانہ وحدت الوجود  سے مشابہ تھا لیکن زیریں سطحوں پر اس میں ہمہ دیوات (Pan-daemonism) کا عقیدہ تھا اور سورج دیوتاؤں اور چاند دیوتاؤں کی پوجا تھی۔ ان چیزوں کے ساتھ ساتھ لنگ پوجا تھی، جنسی خواہشوں کی تسکین کرنے والی رسمیں تھیں، بعل Moloch او ر دیوتاؤں پر بچوں کی قربانیاں تھیں، بلتیس Beltis اور اشتورث (Ashtoreth) دیویوں پر کنوارپن کی بھنیٹ چڑھانے کی ریت تھی۔ چنانچہ بابل کی مذہب ایک ایسے معاشرے کا مذہب تھا جس میں ایک طرف تو اعلیٰ درجے کی مادی ترقی تھی اور دوسری طرف پر لے درجے کی نفسانیت پرستی اور خون آشامی،جسے مذہب کی سندِ قبول حاصل تھی۔

اس کے بعد جس شاخ نے امّ البلاد سے کوچ کیا وہ سامی (Semitic) نسل تھی، سامی بھی تو رانیوں کے نقش قدم پر چل کر مغرب کی طرف گئے اور معلوم ہوتاہے کہ بین النہر ین (Mesopotamian) کے ڈیلٹے کے شمالی حصے میں آباد ہوگئے۔ بہت جلد انہوں نے تعداد اور قوت میں ترقی کر کے بابل کی سلطنت کا خاتمہ کردیا اور اس کی جگہ ایک وسیع سلطنت قائم کی، جس کا سکہ تمام ہمسایہ ملکوں میں چلتا تھا۔ مغربی ایشیا کہ دو بڑے دریاؤں کے درمیان اشوریوں (Assyrians) نے جو دارالحکومت بنایا اس میں جو مذہب رائج تھا وہ کبھی کبھی ایک مثبت تصور توحید کی بلندی تک جا پہنچتا تھا۔ ان کے یہاں جو سماوی سلسلہ مراتب تھا اس میں ایک افضل و اعلیٰ ہستی کے صریح اعتراف کے نشان ملتے ہیں۔

اد’ھر ڈیلٹے کے شمالی حصے میں سامی نو آبادوں کی بڑی جماعت ترقی کے مراحل طے کر رہی تھی، اُدھر سامیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ اُر (Ur) کے علاقے میں داخل ہوگیا، جو کلدانی سلطنت ۱؎ کے زیر نگیں تھا۔ اس قبیلے کا شیخ، جس کی خود اختیاری جلا و طنی اور بادیہ گروی بہت سے مذہبوں کے قصوں کامضمون بن گئی ہے، مستقبل کے تاریخ آفرینوں کا جّدا مجد بنا ۲؎۔

معلوم ہوتاہے کہ یافثی شاخ دوسری تمام شاخوں کے چلے جانے کے بعد بھی اپنے اصلی وطن میں مقیم رہی جس زمانے میں دوسری شاخیں اپنے اصلی تنے سے جدا ہوکر سلطنتیں قائم اور مذاہب ایجاد کررہی تھیں۔ اسی زمانے میں یافثی شاخ اپنے طور پر نشوونما پارہی تھی۔ لیکن قوموں کی جادہ پیمائی جب ایک بار شروع ہوگئی تو پھر کہاں تھمتی تھی؟ یافثی قبیلے یکے بعد دیگرے مغرب کی طرف روانہ ہوگئے، نہ جانے اس فطری بے چینی کے باعث جو وحشی قوموں کو ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتی یا اس وجہ سے کہ ان کی آبادی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ان کی اصلی سرزمین ان کے داعیانہ مشاغل کے لیے نا کافی ہوگئی تھی۔ جو لوگ سب سے پہلے نکلے ا ن میں بلیسیجین the pelargiansاور کلٹ  (the Celts) تھے۔ ان کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی کوس رحلت بجایا تاآنکہ بالآخر صرف خالص آریہ لوگ اپنے قدیم مسکن میں باقی رہ گئے۔ان کا ایک گروہ بدخشاں کے نزدیک آباد تھا اور دوسرے بلخ کے نزدیک جہاں وہ ہمسایہ قوموں سے الگ تھلگ اور ان کے جنگ و جدل او رنقل وحرکت سے کوئی سروکار رکھے بغیر صدیوں تک بودوباش کرتے رہے۔تاریخ کی جو روشنی سلطنتوں اور تہذیبوں کی بنیاد رکھنے والی مغربی نسلوں پر پڑتی ہے وہ زمین کے ان قدیم باشندوں کا ایک دھندلا سا نقشہ بھی ہمیں دکھاتی ہے جس میں ان کے بہت سے قبیلے اس سطح مرتفع پر رہتے سہتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مکمل وحشت سے ترقی کر کے نیم وحشت کے درجے تک پہنچے ہیں اور ایک عالمگیر مجرددّات کا مبہم سا احساس ان کے ذہنوں میں شکل پذیر ہو رہا ہے۔ اب تک وہ خوف کے مارے لرزہ بر امذام ہوکر جن اشیائے فطری کی پرستش کررے رہے تھے ان کی جگہ لا تعداد خیالی ہستیاں لے رہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1- Rawlinson, Ancient Monarchies.

۲؎ عربی روایتوں میں حضرت ابراہیم کے باپ کا نام آذربیان کیا گیا ہے جو صریحاً اشور کی ایک دوسری صورت ہے آذر کے بنائے ہوئے خوبصورت بتوں کا ذکر اسلامای ادب میں اکثر آتا ہے ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم اشوری النسل تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض قبیلوں کے یہاں مجرد شخصیتوں کا یہ لشکر و جامع اصولو ں کا تابع فرمان ہے، یعنی نور اور ظلمت۔زندگی اور روشنی کا نقیب آفتاب ایک واحد خدائے رحیم کی علامت بن جاتا ہے جس کی قوت ابھی مزاحمتوں سے دو چار ہے، لیکن آخر الامر اپنے مخالف اصول، یعنی ظلمت اور شر پر غالب آجائے گا۔ دوسرے قبیلوں کے ہاں یہ صورت حال ہے کہ وہ اپنے معبود بتوں کو جن خیالی ہستیوں کا جامہ پہنا رہے ہیں وہ خیالی ہستیاں ایک دوسری میں مد غم ہورہی ہیں کبھی تو وہ جدا جدا شخصیتیں بن کر سامنے آتی ہیں او رکبھی یکجا ہوکر ذی حیات مادے کی ایک وحدت بن جاتی ہیں۔ دھند کے بادل رفتہ رفتہ چھٹ جاتے ہیں او رہم دیکھتے ہیں کہ شعوب و قبائل بادشاہیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں، زراعت نے آہستہ آہستہ راعیانہ مشاغل کی جگہ لے لی ہے، دھاتوں کا استعمال رائج ہورہا ہے۔ اور ان سب سے زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ ایک افضل و اعلیٰ شخصیت کا بلند تر تصویر ذہنوں کے بند ریچے کھول کر بزور داخل ہورہاہے۔کیمورس، ہوشنگ اور دوسرے شاہان پاستان جن کے گیت ایک حیرت انگیز قادر الکلامی سے فرودسی نے گائے میں، ایک روبہ ترقی تہذیب کے اوًلین نشان بردار ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں آریوں کے یہاں بادشاہی کا آغاز ہوا،اسی زمانے کے لگ بھگ آریائی خاندان کی دوشاخوں میں وہ مذہبی تنازعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں مشرقی شاخ اپنے مرزبوم سے جلا وطن ہوگئی۔ مغربی آریوں میں ایک مسلم نے، جو اپنے مذہب کی کتابوں میں ستامہ زرتشت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا تھا۔ اس تحریک نے جو شدید مذہبی کش مکش پیدا کی اس کے نشان ان تبروں میں ملتے ہیں جو ویدوں کے بھجنوں میں مشرقی آریوں کی نسل و مذہب کے دشمن ”جروشتی“ پر بھیجے گئے ہیں۔ اصلاح شدہ مذہب کے بارے میں ان بھجنوں کے لکھنے والوں کا جو ذہنی زاویہ تھا وہ ناموں کے غیر معمولی توارد سے بھی بڑھ کر اس کاامر کاقوی ترین ثبوت ہے کہ یہ مذہبی اختلاف ہی خالص آریوں کو دوشاخوں کے علیحدہ ہوجانے کا فوری اور بلاواسطہ سبب تھا۔ اس مذہبی جنگ میں، جو غالباً انسانی تاریخ کی پہلی مذہبی جنگ تھی، مغر بی آریوں کے ثنویت مسلک (dualist) قبیلے اپنے مشرقی بھائیوں ں کو، جن کا مذہب تعدد ارباب (polytheism) اوروحدت الوجود (Pantheism) کی ایک معجون مرکب تھا پرمیہلو (Paropamisadae)کی سرحدوں سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے مشرقی آریہ ہندوستان پر ٹوٹ پڑے،جہاں انہوں نے اصلی سیاہ فام باشندوں کو اپنی آبادیوں سے نکال باہر کیا یا قتل کردیا یا غلام بنالیا۔ اور انہیں ہمیشہ اپنے سے کمتر ہستیاں، یعنی داس اور شودر سمجھتے رہے۔ بہر حال ویدوں کے مذہب اور زرتشتی مذہب میں جو اختلاف تھا وہ محض اضافی تھا۔ زرتشیت مظاہر کی بجائے ان کے سبب کی پرستش مذہب میں جو اختلاف تھا وہ محض اضافی تھا۔ زرتشتیت مظاہر کی بجائے ان کے سبب کی پرستش کرتی تھی۔ جہاں تک ویدوں کے دیوتاؤں کا تعلق تھا، اس نے انہیں دیووں کا جامہ پہنا دیا اور دیوپرستوں کو کافر قرار دیا۔ ویدوں کے بھجن لکھنے والوں نے اس کے جواب میں اوستاکے خدا اہوراکو ایک خبیث دیوتا اور دیوتاؤں کا دشمن کہا اور ”جروشنی“ پر دل کھول کر سب وشتم کی بوچھاڑ کی۔

پہلا زرتشت کہاں اور کس زمانے میں ہوا یہ پردہ لاعلمی میں مستور ہے۔ بہر حال وا ر پوش ہستاسپ کے عہد میں اسی نام کا ایک معلّم گزرا، جس نے پرانی تعلیمات کی تجدیدا تدوین اور توسیع کی۔

URL:https://www.newageislam.com/books-documents/urdu-ameer-ali-spirit-part-2/d/122302

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..