New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:29 AM

Books and Documents ( 7 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 22) جوگ بسشت: استھت پرکرن: اودّیا کا دور کرنا


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

فرمائیے کہ یہ نادانی آتما کے اندر کس طرح اوپجی اور جمی بسشٹ نے فرمایا کہ مجھ سے یہ سوال نہ کراور میں بھی اس کا جواب نہیں دے سکتا آپ کو اسی قدر فکر کرنی چاہئے کہ اودّیا کس طرح دور ہوتی ہے او ر مطلب اودّیا کا دور کرنا ہے۔ اے رام چند جس کو اودّیا ہو اُسے اس فکر میں نہ پڑنا چاہئے کہ اودّیا کیا چیز ہے اور کس طرح پیدا ہوتی ہے اور کس طرح دور ہوتی ہے کہ یہ باتیں ایک بڑا وقت چاہتی  ہیں او رطالب صادق کا وقت اس سے عزیز تر ہے کہ ایسی باتوں میں صرف کیا جائے بلکہ جوذکر شغل کہ اُستاد سے سیکھا ہو آئین مشغول ہو کہ ضروری ہے اور علاج اودّیا دور کرنے کا بھی یہی ہے نہ کچھ او رفکر اور تد بیر ۔  اے رام چند جب آدمی کسی وہمی چیز میں پھنسے تو اسی وقت اُس کی حقیقت پراطلاع ناممکن ہے جس طرح کوئی خواب میں نہیں جانتا کہ میں

(216)

خواب میں ہوں یا جو کچھ دیکھتا ہو وہ خواب میں دیکھتا ہو اور اس وہم کا علاج اس وقت کسی کے ہاتھ میں ہیں ہے جس طرح خواب میں کسی کا مقدور نہیں کہ اپنے کو بیدار کرے پس اودّیا کی حقیقت کو اودّیا کے دور ہونے پر تم سمجھوگے سردست اپنا وقت تلف نہ کرو اے رام چندر جپتین سروپ یعنی حق تعالیٰ عین دانائی ہے جب ایک بدن سے متعلق ہونا چاہا اپنے تئیں اس ارادہ کی صورت سے مقید کیا اور جیو آتما نام ہوا اور جب یہ قید کچھ زیادہ ہوئی اہنکار پیدا ہوا جب اور قید بڑھی بدُھ اُس کا نام ہوا اور بدُھ کے سنکلپ سے من پیدا ہوا اور من کے سنکلپ سے پانچ گیا اندری کہ سامعہ لامہ باصرہ ذائقہ شامہ ہیں ظاہر ہوئیں اور حواس کے سنکلپ سے پانچ کرم اندری کہ گویند ہ او ر گیرندہ اور روندہ اور عضو بول اور عضو براز ہیں اور ظاہر او ر باطن کے اعضا پیدا ہوگئے اور اس مجموعہ کا نام بدن ہے پس آتما نےاہل قیود کو اپنے آپ سے پیدا کر اپنے تئیں مقید ان سے کیا ہے جس طرح ریشم کا کیڑا ہو کہ ریشم کے تار اپنے ہی لعاب سے نکال خود اُ س میں پھنستا ہے اے رام چند چتین سروپ نے ان وہمی قیود کو اپنے آپ سے نکال اپنے تئیں اُس جال جنجال میں الجھا یا ہے جس طرح بیج درخت کو اپنے آپ سے نکا ل کر خود اُس میں

(217)

در آیا اور ڈالی  پھول پتیّ میں جلوہ گر ہے اے رام چند یہ دل جو غم کی آگ میں جلا بھُنا اور غصّے کا اژ دہا اُسے نگل گیا اور شہوت کے دریا کی لہر نے اُسے غرق کیا او رنہایت پریشانی سے اس نے اپنے خالق کو بھُلا دیا اس کو دلدل میں پھنسے ہاتھی کی طرح باہر نکال کہ تیرے کام آئے گا اور جس نے اس ناچاری کی حالت میں اُس پر رحم نہیں کیا وہ ایک شیطان ہے آدمی کی صورت کہ ذرہ اُس کو درد اور مہر نہیں ہے۔   رام چندر نے پوچھا کہ اصل کائنات کی دل ہے اس نسبت میں یکساں ہیں پھر ایک ان میں سے برھما کس طرح ہوجاتا ہے بسشٹ نے فرمایا پہلی چیز جو برمھ آتما ں سے پیدا ہوئی جیو آتما ہے اور برمھ آتما روح روح مطلق کا نام ہے جیو آتما روح اور روح تھوڑی توجہ اور تصرف سے دل کی صورت بن گیا او رپہلے پہل جو چیز دل سے پیدا ہوئی شدی جس کو سامعہ سنتی ہے اور آکاش کا مادّہ وہی آواز ہے اور دل اور آکاش کی ترکیب سے سپرش ظاہر ہوئی کہ لامسہ اسکو پانی ہے اور ہوا کا وہی مادہ ہے اور من اور آکاش سے  تادر دپ پیدا ہوئی کہ باصرہ اُس کو پانی ہے اور آگ کا وہی مادہ ہے اور دل اور آکاش و ہوا ا ٓگ سے رس ظاہر ہوئی کہ ذائقہ اُسے پاتا ہے اور پانی کا مادہ وہی ہے اور دل آکاش ہوا آگ پانی کے ملنے سے گندہ یعنی بوُ نے صورت پکڑی کہ شامہ اسے

(218)

پاتی ہے اور خاک کا وہی مادّہ ہے( اور شبد کے معنی آواز ہیں اور سپرس وہ چیز ہے جو چھوئی جائے اور روپ جو چیز  کہ دیکھی جائے اور رس جو چکّھی جائے اور گندھ جو سونگھی جائے) پس آکاش میں شبد ہی اور ہوا میں شبد اور سپرش ہے اور آگ میں شبد سپرش اور روپ اور پانی میں شبد سپرش ہے روپ اور اس خاک میں شبد سپرس و رو پ درس اور گندھ اور ا ن پانچوں عناصر نے اپنے مادّون سمیت باہم خوب مل جُل کر خاص مزاج پیدا کیا جو پتنگے کے مانند آگ میں نظر آتا ہے اور اس پتنگے نے اہنکار رو بدُھ یعنی عقل اور حواس سے قوت پائی جیسےبیل کہ پختگی کے وقت بڑھ جاتا ہے ( اور بیل ایک مشہور میوہ ہے) اور انسان کے نیلو فری دل میں بھونرے کے مثل قرار پایا چونکہ برھما کا نام اول ہے سے من مقرر ہوا اب بھی اُس کا نام دل ہے حالانکہ بہت منزلیں طے کرچکا اوردل بدن کی صورت تصور کر جسمانی تجلی کے ساتھ نمودار ہوا جس طرح سونا جس قالب میں آئے اسی قالب کی شکل نظر آتا ہے او رپہلا ظہور جو عقل علم اور ریاست سرداری اور کاموں کی رغبت اور حرفوں پیشوں کی طاقت سے آراستہ ہوا اس نے برھما نام پایا جب اُ س کی پیدائش کامل ہوئی تو اس فکر میں ہوا کہ میں کس واسطے پیدا کیا گیا اور کشف باطن سے جانا کہ پہلے برھما دن نے

(219)

کیا گیا تھا اور اُن کی صفات کیا تھیں ان کی پیروی کی اور تمام دنیا کو مناسب تفصیل اور ترتیب  کے ساتھ بطون سے ظہور میں لایا اور اس لیے کہ عالم کا انتظام او رمصالح کی تکمیل اور اصلاح مفاسد اور نفوس اعلے ادنے کی تربیت کے لیے چار آسمانی کتابیں اہل جہاں کو پہنچا ئیں اور قرار دیا کہ اُس کی اولاد  و احفاظ کے علما چھتیں کتاب سمرت کی جن میں روزانہ عملیات اور احکام اور چھ شاستر جن میں عقائد اور اصول دین کے اور اٹھارہ پرُان جن میں حکایات رمزد کنایہ کی اور صحیح واقعات عالم ہوں اور تمام فائدہ بخش کتابیں تالیف کریں اس سے ظاہر ہوا کہ اتنی ترکیب اور ترتیب کے جو مذکور ہوئیں دل صورت اور معنی برھما کاہے اور عالم اس کے سنکلپ سے ظاہر ہوتا ہے اور سنکلپ کے فنا ہونے سے وہ بھی فنا ہوجاتا ہے جس طرح تیل کے ہو چُکنے سے چراغ کی روشنی جاتی رہے اے رام چندر دانائی اور فہمید کی نشانی یہ ہے کہ جسمانی لذات میں جو عوام کا جال ہے آپ نہ پھسیں اور جو تمہارے پاس نہ ہو اس کا ارمان نہ ہو او رنہ آرزو دگی ہو او رجو ملے اُس پر خوش رہو بشر طیکہ تعلق اُس سے نہ ہو اے رام چند دنیا کے اسباب دانا کے شغل کو مانع مراحم نہیں کہ اُس سے آلودہ نہیں ہوتا ہے ۔ جس طرح نیلو فر کی تپی کہ پالی میں رہتی ہے

(220)

اور اُس سے میل نہیں کھاتی ۔ اے رام چند عالم کا دریا باسنا کے پانی سے پرُ ہے جو دانائی کی ناؤ پر سوار ہوا صحیح سلامت اس دریا سے گذرگیا نہیں تو ڈوب گیا ۔ اے رام چند دانا اور آفتاب ایک ہیں کہ دونوں ہمیشہ راستہ چلتے اور سفر کرتے ہیں اور توشہ بغیر نہیں ٹھہرتے اور جو راستہ میں کوئی نعمت ملےتو اس کی طرف نہیں بھٹکتے ۔ رام چند یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا اور دل نے آرام پایا اور اپنی خاطر جمع سے سستا یا رام چند نے کہا کہ پیشتر آپ نے فرمایا ہے کہ برھما بشن کی ناف سے پیدا ہوا پھرکہا کہ آکاس سے پیدا ہوا اور آکاسح اس کا نام ہوا اب آپ فرماتے  ہیں کہ دل سے پیدا ہوا یہ اختلاف کس سبب سے ہے بسشٹ نے کہا کہ ہم نے برھما اور تمام مخلوقات کے باب میں جو بیان کیا مقرری امر نہیں ہے حقیقت حال یہ ہے کہ برہما او رمخلوقات کی پیدائش مکر ر ہوئی اور ہوتی ہے تو لازم نہیں کہ ایک ہی طور سے ہو ہر دفعہ کہ نئی دنیا پیدا  ہوئی عالم کی ترتیب وضع اور تر کیب میں بھی اختلاف ظاہر ہوا چنانچہ کبھی عالم کی آفرینش مہادیوسے ہوئی  او رکبھی برھما سے کبھی بشن سے اور کبھی برھما کے نو لڑکوں سے جو رکھیشر تھے  اور برھما کبھی تو نیلو فر کے پھول سے ظاہر ہوا کبھی پانی سے او رکبھی برھمانڈ سے جو مرغ کے انڈے کی شکل ہے اور پہلے مخلوقات عنصری سے کبھی آکاش کبھی ہوا کبھی آگ او رکبھی خاک

(221)

اور زمین میں ایک وقت درخت ہے درخت تھے اور ایک چپّا زمین ان سے خالی نہ تھی اور کبھی آدمی سے بھری تھی اور کبھی تمام پہاڑ تھے اور کسی وقت میں تمام زمین  سونے کی تھی حاصل کلام اصل عالم قدیم ہے دور اور جُگ متواتر آتے ہیں اور دنیا میں کوئی شے نہیں جیسے اول مخلوقات کہہ سکیں اس واسطے کہ ہر مخلوق اوضاع و ادوار کی تکرار سے مکّر ر طہور میں آتے ہیں او رکھنڈ پرلے میں جو چھوٹی قیامت ہے ضرور نہیں کہ تمام ایثا بعینہ موجود ہوں اور مہا پرلی یعنی بڑی قیامت متواتر میں برھمانڈ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے  او رہر ایک چیز ہر وقت میں جیسے پہلے دور میں تھی پھر بعینہ ظاہر ہوگی ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200


Loading..

Loading..