New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 05:03 AM

Books and Documents ( 16 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 28) جوگ بسشت: پرمان پرکرن: اودّیا کی اقسام


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

تمام ہوا پرکرن اور چھٹے پرکرن کا شروع ہوا یعنی پرمان پرکرن کا

اے رام چند ایسا ہوجاکہ تجھے یہ نہ کہیں  کہ یہاں  ہے اور وہاں نہیں ہے اور اس سمت ہے اور اُس سمت نہیں ہے اور اِس وقت میں تو ہے  اور اس وقت میں تو نہیں ہے۔ اے رام چند اپنی ذات سے مسرور ہو نہ دوسرے کے سرور سے اور اپنے آپ  کو پاکر خاموش بیٹھ او ربات نہ کر سخن انتہائے جزو اُس کے بیان کا ہے اور جہاں کہ عیاں ہے جزو بیانکی صاحب نہیں او راپنے باطن میں نظر کر اور آتش دانائی میں شکوک اور اوہام کو

(266)

تینوں لوک کے جلا ہوا جان اے رام چند سخن بیدانت  کا اُس شخص کے دل میں اثر کرتا ہےجس کا اعتقاد درست ہو بیدانت اور استاد پر جس سے سُنتا ہے اور معتقد طالب حقائق کا پیاسا ہوتا ہے اور جو سخن سُنتا  ہے اُسے جلد یاد کرلیتا  ہے جس طرح سوُکھی کھیتی  پانی کو فوراً  کھینچ ہی لیتی ہے اور رام چند اودّیا جو مشہور الفاظ بیدانت سے ہے  تین صف ستوگن رجوگن تموگن کے اعتبار سے دس قسم ہے اور اوّل  یہ کہ تینوں صفت برابر ہوں اور اس قسم کا نام پرکرت ہے اور ہستی پرکرت کی صفت کے ساتھ کسی چیز کی  مصدر نہیں  ہوتی دوسری قسم ستوگن دوصفت باقی پر غالب ہو اور دونوں اخیر صفت یکساں ہوں یہ قسم عارف دیوتاؤں کی پیدائش کی مادہ ہے جیسے بشن مہادیو وبرھما او رمثل ان کے جو ہوں تیسری قسم یہ کہ ستوگن برجوگن اور تموگن پر غالب ہو اور جوگن تموگن پر اور اس قسم سے  منیشبر اور کامل نوع انسانی  کے پید ہوئے مثل بسشٹ وبشوا متر اور جو امثال ان کے ہوں  چوتھی قسم یہ ہے کہ ستوگن رجوگن وتموگن پر غالب ہوا اور تموگن رجوگن پر اور اس قسم سے ناگ وبدیا او رجوکہ دیوتا کی ایک قسم سے ہیں موجود ہوئے  جیسے باسک وسنگھ ناگ خمیچہ کسپ وغیرہ قسم پانچویں  رجوگن ستوگن  او رتموگن پر غالب ہو اور یہ دونوں برابر ہوں او ریہ قسم چھتر یوں کی آفرنیش کے سبب  ہیں جیسے رام چند وجنک اور امثال ان کے چھٹی قسم یہ ہے کہ

(267)

رجوگن ستوگن اور تموگن پرغالب  ہو اور ستوگن تموگن پر اس قسم سے برہمن لوگ پیدا ہوئے جیسے بالمیک  وبیاس اور امثال اُ ن کے ساتویں قسم یہ کہ رجوگن ستوگن اور تموگن پر غالب ہو اور تموگن ستوگن  پر یہ قسم باعث خلقت شو درکشت مثل دھرم بیادہ وغیرہ کی ہوئی آٹھویں قسم یہ کہ تموگن ستوگن اور جوگن پر غالب ہو اور یہ دونوں برابر ہوں اور ا س قسم سے نباتات جمادات پیدا ہوئے جیسے جلوبے سُمیر امثال اُ ن کے جو ہوں قسم نہم تموگن ستوگن  اورجوگن کچھ غالب ہو وستوگن رجوگن پر اس قسم سے حیوانات پیدا  ہوئے جیسے گائے گھوڑا اور امثال ان کے وہم یہ کہ تموگن ستوگن اورجوگن پر غالب ہو اور جوں ستوگن پر اس قسم سے تمام حیوانات پیدا ہوئے جیسے شیر بھیڑ یا اور امثال اُ ن کے رام چند نے پوچھا کہ سبب تنزل ایسے سروپ کا جمادات میں کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز نہیں  جانتا ہے  اور نہ کوئی کام کرتا ہے بسشٹ نے فرمایا کہ جاننا او رکام کرنا دل کی حرکت پرموقوف ہے او ر جمادات میں  دل حرکت نہیں کرتا اس لیے ان صفات کا نظر نہیں ہوتا رام چند نے پوچھا  جمادات میں  دل حرکت نہیں کرتا تو جمادات بہ نسبت دیگر مخلوقات کے نزدیک ترمُکت  سے ہوں بسشٹ  نےفرمایا چنتین سروپ نے جمادات میں کوُرنگی اندھی جاہل ہونے کی پوشاک پہنی ہے او رمکُت وہ ہے کہ

(268)

دل کی حرکت دانستہ برطرف کرے او ر دل کا جنبش کرنا جمادات میں اُس کی دانست میں نہیں ہے ۔  رام چند نے کہا  ہرگاہ چیتن سروپ جمادات میں موجود ہے او رکوئی کام او ر شغل کہ تفرقہ کا باعث ہو موجود نہیں ہے نادانستگی مانع مکُت کی کیوں ہو بسشٹ نے فرمایا کہ جمادات  باسنا سے خالی نہیں  او رمکُت باسنا کے دور کرنے پر موقوف ہے اور باسنا کا دور کرنا فکر کرنے پر او رکسب کرنے پر ہی اور یہ دونوں چیز جمادات میں نہیں ہے رام چند نے کہا کہ کرم جو آپ نے بیان فرمایا دل کو اس نے قرار اور آرام بخشا  اور باسنا کو بالکل دور کیا چاہتا  ہوں کہ کرم جوگ کا بیان دوبارہ فرمائیے  او رپر ان بائے کے قید کرنے کا طریق دونوں قسم کے جوگ کا طریق گذرنے کا دریا ئے عالم سے او روسیلہ معرفت آلہٰی  کا ہے یعنی  طالبو ں گیان جوگ کا طریق سہل معلوم ہوتا ہے اور کرن جوگ دشوار اور بعضو ں اس کے برعکس اس لیے اُستادوں  نے دونوں طریق بنائے ہیں تاکہ جو طریق جس کسی کے حال کے مناسب ہو اُس کو بطریق مذکور ارشاد کریں چونکہ گیا ن جوگ کا طریق بھی تیرے دلنشیں ہوگیا اور تیری خواہش ہے کہ کرم جوگ کا طریق بھی توخوب سمجھے اس باب میں ایک حکایت نقل کرتا ہوں ہوش کے ساتھ سُنو

(269)

حکایت ایک روز اندر کی مجلس میں میں بیٹھا ہوا تھا اور نارود    رکھیشر بھی تھے ایک تقریب سے ذکر اُس گروہ کا چلا جنکی عمر زیادہ ہوئیں شامانت  رکھیشر نے کہاکہ سُمیر پہاڑ کے اوپر سونے کا پہاڑ  ہے پورب اوتر کے درمیان ایک مکان بلند ہے کہ جس میں درخت بکثرت اور رنگ برنگ کے پھول اُس میں ہیں او درختوں کی ڈالیاں پھول او رمیو ے سب لعل دیا قوت ہے اور درخت طوبی وہیں ہے اور اس نششگاہ میں ایک کواّ ہے بھنٹد اُس کا نام ہے جتنی بڑی عمر اُس کی ہے اور کسی کی نہیں او ر کبھی اُس کو دُکھ بیماری نہیں ہوتا گذشتہ اور آیندہ سب حال اُسے معلو م ہے اور معرفت کے مرتبے کو پہنچا ہوا ہے اور دل اُس کا آرمیدہ ہے مجھے  شامانت کی نقل سے شوق پیدا ہوا کہ بھنڈ کو دیکھنا چاہئے جلد  میں وہاں سے نکلا اور ایک ساعت میں سُمیر پہاڑ پر گیا اور درخت طوبی کے نیچے پہنچا اور کاگ بھنڈ کو میں نے دیکھا کہ کرم جوگ کے عمل سے پران باے کو قید کیے بیٹھا ہے اور اقسام اقسام کے جانور جو اُس درخت پر تھا بیٹھا رہا اور وہ ہر چند واقفیت تھا کہ میں اس کے دیکھنے کو آیا ہوں لیکن جو شغل اُسے تھا وہ نہیں چھوڑا جب فراغت اُس سے پائی تو میری طرف دیکھا اور کہا اے بسشٹ خیر دعافیت ہے اور میری تواضع تکریم کی او رطوبی کا پتا میرے بیٹھنے کے لیے اوپر سے

(270)

ڈال دیا جب میں بیٹھا ہاتھ پھیلائے دونوں ہتھیلی اُس کے ہاتھ کی  پھولوں سے بھرگئیں اور وہ پھول میری طرف گرائے اور کہا اگرچہ میں جانتا ہوں جس کام کے لیے تم آئے ہو مگر چاہتا  ہوں کہ تمہاری باتیں سنوں جو آب حیات کی موافق ہیں کہو کس طرح آئے تعجب ہے کہ بڑی عمر والوں کے ذکر خیر کی تقریب سے میر ی یاد ہوئی۔  میں نے کہا کہ کہو تم کس طرح پیدا ہوئے  اورکس طرح معرفت کو پہنچے اور تمہاری عمر کس قدر ہے او رپچھلے واقعات سے کیا کیا یاد ہے اور یہ مقام تم کو کس نے دیا کاگ بھنڈ میرے سوالات کو سُن محظوظ ہوا أولگا جواب دینے کہ جن دیبیوں نے مہادیو کی  خدمت  ان  میں آٹھ عورت افسر تھیں 1 –جیا  2-  بجیا  3 ۔جنتی    4 ۔اپرا جیا  5 ۔سدھارا کیا     6۔ کیا     7۔ السا   8 ۔ اسلا  اور سب پرندو پرسوار تھیں مرکب السا کا ایک کواّ تھا چنڈ اُس کا نام ۔ ایک دن سب دیبیوں نے آسمان پرجشن کیا او ر برھما کی خدمتیوں سے بھی چند عورت آئی تھیں  اور سواری میں اُن کی ایک قسم کی مادہ ہنس تھیں  چنڈ میرا باپ جو تھا اُس نے سب سے جفتی کھا کر حاملہ  کردیا چنانچہ  ہر ایک نے تین تین بچہ جنے اکیس کوّے ہم پیدا ہوئے اور ہم سب بھائی ہمراہ اپنی ماؤں دیبیوں کی خدمت کرتے تھے اور دیبیاں ہماری خدمت سے راضی ہوکر ہمارے حق میں  دعا کرتی تھیں ان کی دعا کی برکت سے ہم سب نے جیون مکت پائی ایک دن میرے دل میں آیا کہ ایک علیحدہ گوشہ میری عبادت کی

(271)

خاطر ہوا اس ارادے سے السا اپنے باپ کے آقا کے پاس حاضر ہوا اور یہ ارادہ ظاہر کیا میرے باپ اور السا نے یہ مکان  میرے واسطے مقرر فرمایا اس وقت سے میں یہاں رہتا ہوں بسشٹ نے فرمایا کہ میں نے پوچھا کہ اکیس بھائیوں میں سے آپ تنہا  یہاں رہتے ہیں اس کا سبب کیا ہے کہا اور بھائیوں نے جُگ او رکلپ یہاں بسر کیے انجام کا ر اپنے اختیار  سے بدن کو چھوڑ بدیہہ مُکت ہوگئے میں نے پوچھا کہ ہر مکُت کے آخر ایک قیامت قائم ہوتی  ہے اور طوفان پانی آگ اور ہوا کا ظہور میں آتا ہے اور بارہ سورج ایک دفعہ نکلتے ہیں تم ان تہلکوں میں کس طرح زندہ رہے بھنڈ بولا کہ جب یہ سورج نکلے اور طوفان آگ کا آیا  برن دیوتا  جو پانی کی روحانیت ہے اس کا تصور کر کے اُس سے میں ایک ہوجاتا  ہوں اور جب ہوا کا طوفان آیا گرمان سدِّھر کو حاضر کر کے اپنے تئیں  ایسا بھاری کرتا ہوں کہ ہوا مجھے ایک سرمو جنبش نہیں دے سکتی اور طوفان آب کے وقت روحانیت ہوا کی صورت  بن جاتا ہوں اور آکاش میں برھمانڈ کے باہر جگہ حاصل کرتا ہوں  پھر جب برہما خلقت کو تازہ کرتا ہے میں اپنی جگہ چلا آتا ہوں اور میرے دل کے سنکلپ اور ارادے سے یہ درخت پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے بسشٹ نے فرمایا کہ میں نے پوچھا کہ اور لوگ جو کہ

(272)

جیون مکُت ہوتے ہیں تمہاری سی قوت اور قدرت کس واسطے نہیں رکھتے کہا تفاوت حکمت آلہٰی کی تقدیر کے تقاضا سے ہے کہ بندوں میں طرح طرح کی صورتوں سے جلوہ گر ہوا ہے پھر میں نے کہا کہ اس عمر دراز میں عجائبات واقعات سے کچھ یاد ہوں مجھ سے بیان کرو بھنڈ نے کہا کہ ایک بار اس عالم کو میں نے ایسا دیکھا کہ بالکل پہاڑ اور درخت ہی تھے دوسری مخلوقات کا نام ونشان نہ تھا اور دوسری مرتبہ کیا دیکھتا ہوں کہ پندرہ ہزار برس تک نہ پہاڑ تھا نہ درخت سب سفید خاک تھی ۔ اور ایک وقت بالکل پہاڑ ہی پہاڑ تھے او ربس او رکبھی بالکل درخت ہی درخت تھے اور ایک بار دیکھا بند ھ پہاڑ نے تمام عالم کو گھیر لیا ہے اور سورج کی آمد رفت کا راستہ بند ہوگیا اور اگست یعنی سہیل ستا راہ بھی پیدا نہ ہو اتھا اور حکایت بند ھ اور اگست کی اس طرح پر ہے کہ ایک دن نارد پسر برھما نے بدّھ کے حضور میں سُمیر پہاڑ کی تعریف کی اور کہا سمیر اس قدر اونچا اور بڑا ہے کہ آفتاب نے جو روز مّرہ پورب سے پچھم تک  سیر کرتا ہے اُس کی  بڑائی کا احاطہ نہیں کیا بندھ نے غصہ ہوکر کہا سمیر کی طاقت کیا ہے کہ میرے مقابل بلندی میں ہوسکے اور اپنے تئیں اس قدر بڑا بنا لیاکہ سمیر اور سورج کی راہ بند  ہوگئی اور مدت دراز تک عالم کا  حال ایسا تھا کہ ہر طرف آفتا ب چمکنا ہمیشہ دن تھا اور دوسری طرف رات اور عالم کے کام جو رات دن کے تلے اوپر آنے پر

(273)

موقوف ہیں بند ہوگئے حتی کہ اگست یعنی ستارہ سہیل پیدا ہوا اور پنڈت اور دانا  اور عارف ہوگیا او ربندھ پہاڑ اُس کی شاگرد ی سے منسوب ہوا سب دیوتا اگست کی خدمت  میں حاضر ہوئے اور التاس کی بندھ کو نصیحت فرمائیے کہ اپنی اصلی حالت پر جائے اگست اُس کے پاس گیا اور وہ تواضع کے سبب پست ہوگیا اگست نے کہا اسی طرح رہو تب تلک میں واپس آؤں بندّھ ویسا ہی  پست رہا  بھنڈ نے کہا کہ ایک بار مجھے یاد ہے کہ برہمن کو شراب حلا ل تھی او ر کمینوں کو حرام اور ایک  ایسا وقت تھا کہ عورت غیر سے صحبت رکھتی  اور اُسے پت برتا کہتے (اور پت برتا شوہر پرست کو کہتے ہیں )  اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بشن اور اندر اور سورج اور چاند کب وجود میں  آئے ایک بار ہر نانچھ دیت کرُہ زمین کو اصلی مقام سے اُٹھا کر دوسری جگہ لے گیا اس سبب سے بشن نے سوُر کی صورت میں تنزل کر کے اُسے قتل کیا اور زمین کو اُس کی جگہ پر لایا اور اس قدر مُن میری یاد میں راجہ ہوئے ہیں اور مُن وہ راجہ ہےکہ تیس کروڑ اور سرسٹھ لاکھ اور آٹھ ہزار سال راجائی کرے اور ایک وقت سنکھا سُرویت نے بیدوں کو سمندر میں چھپا یا تھا اس لیے بشن نے مچھلی بن کر اُسے مار ڈالا اور سمندر سے بید وں کو نکالا اور سنکھا سُر کی استخوان سے سنکھ پیدا کیا اور ایک بار بشن اور دیوتاوں نے مندر پہاڑ کو اُس کی جگہ سے اُکھیڑ کر سُمدر میں ڈال دیا او رسمدر کو زیر زیر کر کے

(274)

آب حیات وغیرہ اُس میں  سے نکالا  اور وہ وقت مجھے یاد ہے کہ گر ڑبیاسب کا انڈے سے نکلا اور ابھی اُس کے پر نہیں جمے تھے اور ابتدا ئے خلقت سات دریا اور تمہاری امثال کی یاد ہے اے بسشٹ جیسے کہ بھردواج پیست  اتر نارو مریچ  سنت کمار بھرگ مہادیو  سوام کا رتک گنیش  پار بتی  سرستی او رلچھمین اور آٹھ بار تمہاری پیدائش مجھے یاد اور اس آٹھویں پیدائش میں کہ برھما کے لڑکے ہوئے  میرے اور تمہارے درمیان ملاقات ہوئی اور تم  ایک بار آکاس سے پیدا  ہوئے اور ایک بار آتش سے اور ایک بار پانی سے اور ایک بار پہاڑ سے اور پانچ مرتبہ زمین اور سمندر میں  ڈوبی ہے اور ہر بار بشن نے کچھوے کی صورت بن کر زمین کو پانی سے  نکالا  ہے اور بارہ دفعہ دیوتا وں نے سمندر کو زیر وزیر کیا ہے اور چھ بار پر سرام کا تنزل مجھے یاد ہے اور کتنے ہی کلجگ دیکھے ہیں کہ ان کا شمار قطار نہیں اور ایک سو تنزل بودھ اوتار جانتا ہوں وہر بار کہ یہ تنزل ہوا ہے بیدوں کے عمل کومنسوخ کیا اور یہ تنزلات دیتوں کے گمراہ کرنے کے لیے تھے او رمہادیو نے تین بار سُردیت کو قتل کیا اور جگ دَمچھ اپنے خسر کو برہم کیا اور حکایت جگ دچھ کی اس طرح پر ہے کہ دچھ ستی زوجہ مہادیو کے باپ نے جگ کیا تھا جس میں  سب دیوتاؤں کی دعوت کی مگر مہادیو کو نہیں بُلایا ستی نے کہا کہ میرے شوہر کو تم کس واسطے نہیں بُلا تے باپ نے کہا کہ اُس کی وضع مکروہ ہے آدمیوں کے

(275)

سرون کی مالا گلے میں ڈالے ہے او ر سانپوں کو اپنے بدن پر لپیٹا ہے وہ اس لائق نہیں کہ اُس کو اس کوجشن  میں  بُلاوں ستی مارے شرم او رننگ کے جل گئی مہا دیو یہ خبر سن کر جاپ کے جلسہ پر آموجود ہوا اور جگ کو برہم کردیا بھنڈ بولا کہ دس بار مہادیو نے اندر کو مار کر سلطنت کا مرتبہ اُس سے چھین لیا اور آٹھ دفعہ کی جنگ بشن کی جو بانا سُرد یت کے ساتھ ہوئی مجھے یاد ہے او ربہت دفعہ بیدیں تبدیل ہوئیں  اور اُن کے اعمال اُلٹ پلٹ گئے اور فنون بیدوں کے جو علم قرأت اور علم خواص ادعیہ  اور خواص حروف او رعلم بیا کرن یعنی صرف نجو وعلم عروض وعلم نجوم ہیں تبدیل و تغیر ہوگئے اور یہ بھی یاد ہے کہ بالمیک نے بارہ دفعہ کتاب رامائن جس کے معنی جوگ بسشٹ ہیں ایک لاکھ اشلوک میں تصنیف کی جس میں بیان حقائق اور معارف آلہٰی ہے اسی طرح بیاس نے سات بار کثاب مہا بھارت تالیف کی  حاصل کلام یہ کہ ہر بار قیامت قائم ہوئی کتابیں بھی اور مخلوقات کی طرح معدوم ہوگئیں  اور دوسری پیدائش میں جو مصنف یاشاگرد اُن کے پیدا ہوئے اُن کتابوں کو حافظہ قوی اور فطرت عالی سے ان کے الفاظ و معانی یاد کر کے جیسے تھے ویسے ہی تحریر میں لائے یا بمتقضائے حرکات اور اوضاع آسمان  ایسی کتابیں  جو پہلے مضامین پر مشتمل تھیں  از سرنو تصنیف کیں بدون اس بات کے کہ حالات گذشتہ سے آگاہ ہوں بھنڈ بولا یہ بھی مجھے یا دہے کہ گیا رو دفعہ

(276)

بشن گھر میں راجہ کے جنم لے کر رام چند ہوا اور سولہ دفعہ بسد یو کے گھر میں جنم لے کر کشن ہوا بسشٹ نے فرمایا کہ تمہاری طول عمر کا سبب کیا ہے بھنڈ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نے پوچھا تم اس کو بہتر مجھ سے جانتے ہو لیکن بزرگ اور استاد وں کا قاعدہ یہ ہے کہ اپنا جانا ہوا امتحاناً شاگرد سے پوچھتے ہیں او رمجھ سے خود آپ کے حکم کا  قبول کرنا لازم ہے اس واسطے بیان کرتا ہوں کہ جو کوئی تین باسنا نرکھ اور باسنا کے ڈوڑے میں عیب دار موتی نہ پروئے یعنی  برُے صفات اُس میں نہ ہو او رمصرف کا آب حیات پیے ہو اور توحید کا قائل ہو اُس کے نزدیک موت نہیں آتی  الا اُس کے اختیار سے میں نے ان اشغال سے جو خدا تک پہونچا ئیں پران چنتا کو اختیار کیا ہے اسی کا اثر ہے کہ میری  اس قدر عمر ہوئی میں نے پوچھا کہ پران چنتا کیا چیز ہے بھسند نے کہا کہ بدن میں دوباد یعنی ہووا عمدہ ہے ایک پران بائے دوم ایان بائے کہ چاند کی مثل سر د ہے اول غذا کو پکاتی ہے دوسری شایستہ غذا بد ن کے تمام اجزا کو پہونچا تی ہے اور ناشایستہ کو دور کرتی ہے اور طریق شغل یہ ہے کہ پران باے جو بارہ انگل ناک کے سوراخ سے باہر نکلتی  ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہتے کہ اندر کی طرف لوٹ جائے اور اُس کو کنھک کہتے ہیں اور اپان بائے کہ بارہ انگشت اپنے اصلی مکان سے نیچے کی طرف جاتی ہے اُس کو اوپر کھینچ کر پران ماہی سے ملادینا چاہئے اور جو چار انگشت پران باے کےمکان سے اوپر کھینچ لے

(277)

نہایت مرتبہ جوگ کا ہے اور اُسے بھی کنھک کہتے ہیں  اور بھی لازم ہے کہ عامل اس شغل میں تصور کرے جس کسی نے ان ہواؤں کے لیے مکان معتین اور حرکت مضبوط مقرر کی ہے میں نے اُس کو طلب کرتاہوں بھسنڈ نےکہا کہ میں اس شغل کی بدولت خدا کو پہنچا اور گذشتہ اور آیندہ کو یاد نہیں کرتا اور پسند ناپسند خوش اور ناخوش میرے نزدیک برابر ہوگیا ہے اور اسی سبب سے میں ہمیشہ زندہ رہتا ہوں بسشٹ نے فرمایا کہ میں نے اُس سے کہاکہ جو کچھ کُنہ بیدانت کی اور حقیقت معرفت کی تھی وہ آپ نے بیان کردی اب میں جاتا ہوں اور اُس سے رخصت ہو آکاش کو گیا اور وہ ایک جوجن میری مشایعت کر کے اُلٹا پھر گیا ایک بار اور بھسنڈ کو میں نے ست جُگ کی ابتدا میں دیکھا اور ایک بار اس جگ تریتا میں کہ جس میں تو ہی دیکھا ہے اور اے رام چند جس طرح طریق معرفت اور ضبط پران بای واپان بای کیا ہے اور بھسنڈ نے اُس پرعمل کیا دیوپوجا بھی ایک طریق ہے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL for Part-25:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259

URL for Part-26:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---26)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--اودھ-میں-ایک-برہمن-کی-حکایت/d/8269

URL for Part-27:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---27)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--کابل-میں-اکال/d/8292

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---28)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--اودّیا-کی-اقسام/d/8304


Loading..

Loading..