New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 08:11 PM

Books and Documents ( 13 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 26) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: اودھ میں ایک برہمن کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اس باب میں ایک دوسری حکایت مجھ سے سُنو حکایت کو سلاملک یعنی ولایت اودھ میں ایک برہمن  گادھ نامے بڑا دانا پنڈت تھا عبادت کی نیت سے بیابان میں گیا اور پانی کے اندر آٹھ مہینے تلک ریاضت کی ایک دن بشن نے وہاں جاکر کہا کہ ای برہمن پانی سے باہر آ اور جو تو چاہتا ہے ہم سے مانگ برہمن نے بشن کو نمشکار کی او رکہا  میں چاہتا ہوں کہ اپنی مایا  مجھے دیکھلا ئیے

(248)

کہ جس سے یہ لا نہایت ظہورات پیدا ہوئے ہیں بشن نے فرمایا کہ اپنی مایا تجھے دکھلاؤنگا اور یہ وعدہ اُس سے کر کے چلے گئے پھر ایک دن برہمن اشنان کررہا تھا پانی میں غوطہ مارا اپنے کو دیکھا کہ بیمار ہوکر مرگیا  ہے او رمان بی بی کنبے قبیلہ نے اس کے تجہیز وتکفین  کر کے جلادیا پھر دیکھا کہ بیون  ملک میں جاکر ایک مہترانی کے رحم میں حمل ہوگیا اور بعد مدت کے لڑکا کالا بھجنگ پیدا ہوا ماں باپ نے اس کا نام کج رکھا اور پرورش کرنے لگے جب سولہ سال کا ہوا بیاہ کردیا اور اُس کے ہاتھ ایک خوبصورت عورت آئی اور اُس سے لڑکے بالے پیدا ہوئے پھر عبادت کی طرف رخ کیا بی بی  بچوں سمیت گھر سے نکل جنگل میں گیا اور وہاں سکونت اختیار کی چندر وز بعد اُس کی عورت اور بال بچے سب مرگئے برہمن تنہا  وہاں سے نکلا اور دوسرے ملک میں گیا دیکھا کہ اُس ملک کا راجہ لاولد مر گیا ہے وزیر وکلا نے موتیوں کی مالا ایک ڈال دے اُسی کو راجہ نبادین اتفاقاً ہاتھی نے وہ مالا اس مسافر مہتر کے گلے میں ڈال دی سب نے اسی کو راجہ بنایا اور راجہ کول نام رکھا کول نے آٹھ سال راج کا انتظام ایک دن سیدھے سُبھا ؤ گھر سے باہر نکلا تھا کہ ایک مہتر وہاں آنکلا جس سے

(249)

اپنا یت اُس کی تھی  اس نے دیکھ کر پہچان لیا او رکہا  اے کج اب تلک تو کہاں تھا اور کس طرح بسر کی اور تعجب کرتاتھا کہ اپنے رشتہ دارکو میں نے آٹھ سال بعد دیکھا سب نے اس کی باتیں سن کر جان لیا کہ یہ راجہ ذات کا چنڈال ہے سب اُمرا وزرا حیران ہوئے کہ ہم نے اس راجہ کے ساتھ کھانا کھایا اور اس کی صحبت میں رہے ہم سب چنڈال ہوگئے افسوس اب ہم کیا تدبیر کریں کہ اس پاپ سے پاک ہوں اور یہ دھبّا دور ہو اس  باب میں پنڈتوں کی طرف رجوع کی پنڈتوں کے علم سے جل مرے راجہ نے کہا کہ ہر گاہ یہ لوگ میرے سبب اس بلا میں  گرفتار ہوئے مروت کے خلاف ہے کہ میں جلنے سے بچ رہوں اور آپ بھی آگ میں گرپڑا عین اُس آتش میں دیکھا کہ پانی کے اندر آیا اور اشنان کرتا ہے اور یہ وہی پانی  ہے جس میں پہلے اشنان کیے تھے کپڑے جو کنارے پر رکھے تھے بدستور رکھے ہیں  بعد ازاں پانی سے نکل کر حساب کیا جیسے کہ وہ گھر سے نکل کر نہانے میں  مشغول ہوا تھا اب تک چار گھڑی گذری تھیں  اور جو عمر کہ مہترانی اور راجائی میں گذری سو برس کے قریب ہے اور تحقیق  جانا کہ یہ کام مایا کا ہے اور بھرم ہے کہ اس کے دیکھنے کی التجا  بشن سے کی تھی گادھ یہ واقعہ دیکھ کر پھر جنگل کو گیا اور عبادت میں مشغول ہوا ایک دن ایک

(250)

برہمن اس کے  جھوپڑے میں آکرمہمان ہوا جس کی مہمانداری اس نے کی اور جنگل کے میوے  اس کے سامنے لاکر رکھے مہمان  نے رات وہاں کاٹی اور حکایات غریب نقل کیں گادھ نے اُس سےپوچھا کہ تو دُبلا اور ناتواں کیوں ہے کہا ان ایّام میں ایک عجیب واقعہ میں نے دیکھا ہے میں نے کیسر کے ملک میں  ایک مہینے سفر کیا وہاں  سنا کہ ایک چنڈال اس ملک میں راجہ ہوا تھا  تمام  اشراف اور امرا جو صحبت اور میل جول کھانے پینے میں اُس کے  شریک تھے جب حقیقت حال سے مطلع ہوئے  سب کے سب جل  مرے میں اس حقیقت  کو سن کر بہت دل گیر ہوا کہ اس قدر بے گناہ  برہمن اس واقعہ میں جل گئے ہیں ڈرا کہ ایسا نہ ہو اس ماجرا  کے سُننے  سے میں بھی تقصیر میں  اور گناہ میں پکڑا جاؤں پراگ کو گیا اور چند مہینے  عبادت اور ریاضت  میں مصروف ہوا یہ زردی  اور لاغری جو دیکھتے  ہو اُسی  عبادت کی نشانی  ہے گادھ نے یہ سن کر جانا کہ یہ سب میری حکایت ہے او رکہا کہ یہ واقعہ وہم وخیال کے عالم میں دیکھا تھا نفس  الامر میں اس کا وقوع کیا معنی ان حالات کی  تحقیقات کی خاطر دل ہوں کے ملک میں گیا میں گیا اور اپنا گھر دیکھا او راپنے چنڈال ہونے کی حقیقت سے مطلع ہوا اور اپنی  نسبت  اُس قوم کے ساتھ تحقیق کی پھر کیسر ملک میں گیا اور اپنی راجا ئی کی کیفیت سن کر علم الیقین سے جانا کہ یہ سب آثار

(251)

قدرت الہی کے ہیں کہ وہم  سے ظہور میں آئے تھے پھر اپنے دیس کو واپس آیا اور عبادت میں مشغول ہوا اور ڈیڑھ سال تک ہر روز تھوڑا تھوڑا پانی پیا کرتا اور بس اس درمیان بشن پھر آیا اور کہا ہماری مایا تونے دیکھی  اب تو کیا چاہتا ہے گادھ نے پوچھا کہ اس عالم کو جو وہم وخیال کے اندر میں نے دیکھا آیا کس طرح سچ ہوا بشن نے جواب دیا کہ اب جو تو دیکھتا ہے وہ بھی وہم  کے اندر دیکھتا  ہے تمام عناصر اور فرزندان عناصر وہم میں نمودار ہوئے ہیں نادان کا قول ہے کہ میں  میں ہوں اور یہ دوسرا ہے اور وہ دوسرا ہے اور ا س وہم میں ڈوب جانا ہے اور دانا کا قول ہے کہ سب وہم ہے اور باقی حق ہے اےبرہمن یہ وہم کی بڑی تیرے باطن کے پاوں سے نہیں نکلتی  جب تک کمال معرفت کو تو نہیں پہونچنا چاہئے کہ سب کام سے اپنے آپ کو پخنت کر کے ایک پہاڑ میں تو جاوے اور خالص خدا کے لیے تو عبادت کرے بشن یہ نصیحت  فرما کر چلا گیا اور برہمن پہاڑ میں گیا اور ریاضت اور عبادت کرتا رہا حتیٰ کہ مرتبہ عرفان کو  پہونچا بسشٹ نے فرمایا  اے رام چند حق کی مایا نے بڑی بڑی غفلتیں دلوں پر غالب  کی ہیں جیسے کہ گادھ برہمن کو چند اوقات غفلت کی بلا میں پھنسا یا تھا اس واسطے نادان اپنے تئیں  دوریکی محنت میں ڈالتا  ہے اور دانا کو یہ مرض لاحق نہیں ہوتا  یہ بیمار اپنا علاج اگر کرنا چاہئے تو لازم کہ ہے اپنے

(252)

دل کو قابو میں کرے اور  دل کو قابو میں لانا دل کا خوش رہنا  ہے اُس کے ساتھ جو سردست اُس کے سامنے ہے اور گذشتہ اور آیندہ کی فکر میں  نہ ہونا اور باسنا اور شنکلپ کی یاد نہ کرنا کہ لحظ بھر میں لاکھ خطرے پیش آتے  ہیں اور خطرات کا علاج اس کے سوا  نہیں ہے کہ جو خطرہ آئے اُسی دم دور کرے اور نہ مہلت دے کہ دوسرے بار  آوسے اور زور پکڑ ے جب تو ہمیشہ یہ علاج  کرے وہ بیمار ی تجھ سے جاتی رہے گی اور ہسی حقیقی اور سرور دائمی ملے گا اورتمام صفات محمودہ کے ساتھ تو موصوف ہوجائے گا اے رام چند بات کہنے چپ رہنے جانے او رکھڑے ہونے پکڑ نے اور چھوڑنے دیکھنے اور کرنے اور آنکھ بند کرنے میں کسی وقت حضور حق سے غافل نہ ہو اور عالم کے تفرقوں پرنگاہ مت کر اور اُس کی خلاصہ حقیقت کو حاصل کر اور آرام چین سے بیٹھ ۔  اے رام چند پہچان کی لذت سے جب تو آشنا ہوگا دنیا کی  کی جو اعلے درجہ کی لذات ہیں بے مزہ بلکہ زہر کے موافق معلوم ہونگی اےرام چند دل سانپ کی مثال ہے اور دنیا کی خواہش ہو ا ہے اور لذات وشہوات دودھ کی مانند اور ہوا اور دودھ دونوں سانپ کی غذا ہیں جو شخص یہ غذائیں  دل کے سانپ کے لیے تیار کرتا ہے اس کو موٹا تازہ کرتا ہے اے رام چند اپنے دل کو مثل ادا لک  رکھیشر کے عاجز کر او رعقل کا مل سے اپنے تئیں  غفلت کے

(253)

دریا سے نکال رام چند نے پوچھا کہ ادالک نے کس طرح اپنے دل کو مغلوب کیا تھا بسشٹ نے فرمایا کہ حکایت رکن کے ملک میں ایک بڑا پہاڑ ہے کہ زمین اُس کی سفید  مثل کا فور ہے اور رنگ برنگ کے پھول اُس زمین میں کھلے ہوئے تھے ادالک وہاں عبادت کیا کرتا  او ر باسنا  اُس کا بالکل نہیں گیا تھا لیکن رات دن کی ریاضت اور شاستر کی تعمیل اور خورش کی نگاہداشت سے معرفت کی طلب  اُس کے دل میں قرار پکڑ چکی تھی اور ہمیشہ اپنے نفس  سے لڑائی لڑتا تھا کبھی محسوسات کی ہوا اسے بے آرام کرتی او رکبھی اپنے باطن پرنگاہ کر تھوڑی تسلی  پاتا تھا جب دیکھا کہ قدیم گھر میں اُس کا دل آرام سے نہیں رہتا اُسی پہاڑ میں دوسری جگہ آدم زاد کا گذر نہ تھا اپنے بیٹھنے کے لئے پسند کی اور عبادت میں مشغول ہوا اور اپنے نفس سے کہا کہ اے بیوقوف کس لیے دانائی کے شہر ستان کو چھوڑ نادانی کے جنگل کو تو جاتا ہے جس طرح کوئی احمق طوبیٰ کے درختوں کا باغ چھوڑ کر زہرا ور تھوہڑ کے جنگل میں جاتا ہے۔  اے نفس محسوسات میں ملوث او رہرن کی طرح اچھی آواز  میں گرفتار نہ ہو۔  ورنہ تو مارا جائے گا اور ہاتھی کی مثال مادہ کے مساس میں مبتلا  نہ ہو ورنہ تو باندھا جائے گا و پروانہ کی طرح روشنی  کا پابند نہ ہو ورنہ تو جل جائے گا او رمچھلی  کی طرح گوشت کے مزہ پر نہ جا ورنہ تو شکا ر ہوجائے گا اور

(254)

کال برّ کی طرح اچھی خوشبو کی طرف میلا ن نہ کر نہیں تو قید ہوجائے گا اے نفس حیوانات میں سے ہر ایک لذت حستی کا گرفتار ہوا ہے تو جو سب لذتوں میں گرفتار او راُلجھا ہوا ہے کیو نکر خلاصی پائے گا اے نفس ہر گاہ پرم آتما تجھ میں نہیں  سماتا کس کام آویگا میں نے تمام بدن میں سرسے ناخن تک تلاش کی وہ چیز کہ اس درمیان میں آتا یعنی میں کہہ سکے نہیں  ہے پس مجھے فکر کرنی چاہئے  کہ میں  کا کہنے والا  کون ہے  ادالک یہ باتیں کہہ کر مراقبہ میں گیا اور تین قسم کی پرانا یام یعنی جسی نفس عمل میں لایا اول عمل پورک یعنی دل کا ہوا سے  خالی کرنا اور اُس کا طریق یہ کہ پران بای کو جس کی جگہ دل ہے اُسی  رگ کی راہ سے کہ سکھمنا اُ سکا نام ہے دل سے اوپر  کی طرف کھینچتے ہیں اور اس سبب سے دوسری چار ہوا کہ اودان، سان،  سمان او رابان اُن کے نام ہیں اُن رگوں کی راہ سے جو سُکھمنا سے ملی ہوئی ہیں داخل سکھمنا ہو کر اوپر کی طرف کھینچی  جاتی ہیں  اور ان ہواؤں کوآہستہ آہستہ دماغ تک پہنچانے میں دوسرا عمل کتھک او ر کتھک کو زہ کو کہتے ہیں  اور وہ   یہ ہے کہ اوپر کی طرف ہوا کھینچی  ہوئی کوام الدماغ میں جمع کرے او رنگاہ رکھے اور چونکہ یہ عمل بہت گرمی دیتا ہے اور گرمی آتش کا اثر ہے احتمال ہے کہ اس عمل میں  حرارت سے بدن کو نقصان پہنچے اور ضعف اورنقصان پہونچا ئے

(255)

اور یہ بات  مانع مطلب ہے کہ بدن سب کاموں میں روح کی داری ہے جب تک سواری نہ ہو راستہ چلنا  دشوار ہے پس عامل کو چاہئے کہ اس عمل میں  بدن سے خبر دار اور ہوشیار رہے اور اس نقصان کو تصور میں باسنا اور آہنکار اور دیگر صفات ذمیمہ پر ڈالے  کہ یہ سب جلجا میں اور بدن صحیح سلامت رہے تیسرا  عمل ریچک ہے یعنی دماغ کا ہوا سے خالی کرنا اور اُس سے یہ مراد ہے کہ اوپر کھینچی ہوئی  ہوائیں  آہستہ آہستہ  چھوڑ نی جس  جگہ سےکہ حبس کی تھیں اور اُن ہواؤں کا پھر اُسی جگہ پر پہونچانا  کہ جہاں سے اوپر کی طرف کھینچی تھیں اور یہ پہلے عمل  سے مشکل تر ہے کہ یہ ہوائیں  چھوڑنے کے وقت اپنے مکان طبیعی کی طرف میل کرتی ہیں اور بزور چاہتی  ہیں کہ وہاں پہونچیں اور نزدیک ہوتا ہے کہ سررشتہ ضبط کا عامل کے  ہاتھ سے جاتا رہے  او رچونکہ اس عمل کا اثر اخیر کو برودت ہی چاہئے کہ سر کے کانسہ کو جو آب حیات کا معدن ہے تصور کرے او رکتھک کے عمل سے جو آگ نمودار  ہوئی اس کے دھوین کو قرار دے کہ ابر ہوکہ آب حیات برسا رہا ہے اور جب یہ تصور کا مل ہوجائے تو دماغ آب حیات سے لبریز ہوجاتا ہے اور سکھمناکی راہ سے اور تمام رگوں میں اور اعضا وجوارح میں پہونچتاہے اور جلی ہوئی باسنا پھر جی اُٹھتی  ہے لیکن بصورت نعم البدل کے یعنی  صفات

(256)

ذمیمہ کے بجائے کہ وہ جل گئے  ہیں صفات حمیدہ  ظاہر ہوتے ہیں اور باطن کے جیسے چہرہ کی شگفتگی او رملائم  شیریں کلام محبت اور رضا اور تسلیم ظہور میں آتے ہیں اور اس  عمل کے خواص سے یہ ہے کہ عامل کے ساتھ ملک الموت کا معاملہ نہیں رہتا  بلکہ موت حیات اُس کے اختیار میں آتی  ہے القصہ ادالک نے یہ تینوں اعمال سہولت سے انجام کو پہونچا ئے کہ ہٹھ جوگ نہ کی یعنی  سینہ زوری اور سخت کوشش سے ان اعمال میں ورنہ آیا اور اُس کے جسم کو مضرت نہ ہوئی اور اس جوگ کی بدولت اُس کے دل نے آرام پایا اور خوشی کے دریا اور آٹھ سدّھ کا مالک بن گیا اور آٹھ سدِھ حسین صورتوں کے ساتھ اُس کے پاس حاضر آئیں اور اُس سے کہا کہ ہمارے لوک میں آؤ اور چار ارب بتیس کروڑ سال طرح طرح کی نعمتوں سے مزے اڑاؤ ادالک نے جواب دیا کہ میرا تم سب کو سلام جاؤ کہ تم سے مجھے کام نہیں اور پھر مُراقبہ میں مشغول ہوا کبھی ایک دن او رکبھی ایک مہینہ او رکبھی ایک سال بعد مراقبہ سے سر اُٹھا تا پھر اُس کے جی میں آیا کہ بدیہہ مکت ہو اس لیے ہونٹھوں کو بند کر اور اوپر تلے  کے دانتوں کو ایک دوسرے سے علیٰحدہ کر زبان کے سرے کو تالو میں چپکا یا او رکتھک کے عمل سے حبس نفس کر بدنی تعلق کو چھور دیا اور آسودہ  ہوا اور سرور محض بن گیا بسشٹ نے فرمایا

(257)

اے رام چند تو بھی ادالک کی طرح شاستر کے پڑھنے اور استاد کی امداد اور فکر درست سے معرفت کے مرتبہ کو پہنچ کر سرور محض نہ بجا۔ رام چند نے پوچھا دوشخص جو عارف ہوں ایک دنیا کا کام کرے او ردوسرا نہیں  کرتا ان دونوں سے کون بہتر  ہے بسشٹ نے فرمایا جس کا دل آرام سے ہو اس کو دنیا وی کام کرنا نہ کرنا برابر ہے اُس کا کام کرنا ایک متوالے رقاص کے موافق ہے کہ ناچتا ہے اور رقص کے قاعدون سے واقف نہیں عارف کام کرنے والا اسی طرح دنیا کا کام کرتا ہے اور اُس سے خبر نہیں رکھتا اور جس کا دل بے آرام ہے اگر دنیا چھوڑ گوشہ میں مراقبہ کرے اُس کا مراقبہ مست رقاص کے مانند ہے کہ جو ناچتا ہے اور قواعد سے اُس کے خبر نہیں ۔ غافل مراقب اسی طرح مراقبہ کرتا ہے اور قاعدہ سے نہیں کرتا اور قاعدہ یہ ہے کہ دل اُس کا پریشان نہ ہو۔  اے رام چند جس کسی کا  دل پریشان ہو گو کچھ کام نہ کرے گویا سب کام کرتا ہے تکان او رمحنت کام کرنے کی اُسے معلوم ہوتی ہے جس طرح کوئی خواب دیکھے کہ وہ کنوئیں میں گر پڑا حالانکہ کوئی کام نہیں  کرتا کنوئیں  میں گرنے کی تکلیف اُٹھا تا ہے عارف کا گھر بے تعلقی کے باعث بیابان ہے اور غافل کے لیے بیان اسباب کا بھرا گھر ہے زمین اور آسمان اور دریا پہاڑ جو کچھ عالم میں ہیں اگر دل کا اُن سے تعلق ہے تو گویا یہ سب دل کے بوجہ سے باہر پڑے ہوئے

 

(258)

او رجو دل ان سے بے تعلق ہے سب اُس کے خیال میں معدوم ہیں جو شخص دل کو قابو میں لایا ہے خواہ آج مکت او رنجات پائے خواہ جگوں بعد اُس کو مضرت نہیں ہے جس طرح سونا کیچڑ میں پڑا ہوا اُسکو کیچڑ نقصان نہیں پہونچا تی اس بارہ میں ایک حکایت تجھ سے کہتا ہوں حکایت اے رام چند کیلاس پہاڑ کے نیچے ایک گروہ قوم کرات کا بود باش رکھتا ہے ان کے راجہ کا نام رکھ تھا او روہ سیاست ملکی کے سبب مجرم کو سزا دیا کرتا ایک دن اس فکر میں پڑا کہ ان لوگوں نے ایذا دہی کا ہر چند ایک روز حساب ہوگا چونکہ میرے ہاتھ سے ہوتی ہے تو میرے باطن کو کدورت ہوتی ہے اور اس بات کا جسوقت دھیان کرتا ہوں تکلیف ہوتی ہے جس طرح ہاتھی کہ شیر کے ناخن کا تصور کرتے او رتکلیف پائے اس درمیان میں مانڈت   رکھیشر اُس کے گھر آیا راجہ نے اُس کی تواضع تعظم کی اور اُس سے بیان کیا کہ دنیاوی کام میرے دل کو پریشان کرتے ہیں آپ بزرگ اور اُشا د میں اسی توجہ فرمائیے کہ میری یہ پریشانی رفع ہو مانڈت نے کہا کہ تم عاقل ہو پریشانی اپنی آپ ہی دور کرو اور یہ فکر اپنا وظیفہ  کرو کہ میں کون ہوں اور جہاں کیا ہے اس فکر سے تمہاری گرہ کھل جائیگی یہ کہہ کر وہ چلا گیا راجہ نے اس فکر کے برابر کرنے سے جانا کہ برھما او رماندر او رجم او رتمام کائنات میں ایک حقیقت موجود ہے جیسے کہ جواہرات کے

(259)

مالا میں ایک ڈورا ہوا اور اس فکر کی بدولت وہ گیانی اور عارف ہوگیا اے رام چندر راجہ رگھ نے اپنی ہی کوشش او رتلاش سے  معرفت پائی او رخلق کی دید سے سویا او ردید حق سے بیدار ہوا او رراج کا کاروبار شاستر او رسُمرت کے موافق بلا تعلق خاظر کرتا نہ کسی کے ساتھ  لطف ادرترحم اور نہ کسی کے ساتھ قہر او رغضب۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL for Part-25:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---26)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--اودھ-میں-ایک-برہمن-کی-حکایت/d/8269


Loading..

Loading..