New Age Islam
Thu Jan 21 2021, 10:37 AM

Loading..

Books and Documents ( 10 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 25) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 25

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

مسلمانوں کی اقتصادی حالت

(1) عام عرب

علی حیدر رضی اللہ عنہ کی حکومت عام عربوں کے اقتصادی سدھار کے لئے کچھ مفید کام نہیں کرسکی بلکہ ان کے عہد میں بہت سےعرب گھرانوں کی مالی حالت خراب ہوگئی ۔ عربوں کے دو طبقے تھے : ایک طبقہ فوج میں بھرتی تھا، اسے مع متعلقین حکومت  کی طرف سے تنخواہ اور راشن ملتا تھا ۔ راشن کی مقدار ہر فرد کی ضرورت  سے زائد تھی لیکن تنخواہ اتنی کم کہ بہت  سی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی تھیں ۔ نقد کی کمی کو عرب سپاہی بڑی حد تک غنیمت  کے ان حصوں سے پورا کرلیتا تھا جو اسے غیرمسلم علاقوں  میں ترکتاز اور فوج کشی کے دوران حاصل ہوتے رہتے تھے ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتوحات کے دروازے بند رہے  اس لئے عرب سپاہی کو غنیمت کے سہام سے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کاموقع نہیں ملا۔ اس نقصان کے علاوہ ایک دوسرا خسارہ یہ ہوا کہ آرزو مندانِ خلافت کی باہمی جنگوں میں عرب سپاہی بڑی تعداد میں مارے گئے ۔ جنگ جمل ( 36 ؁ ھ) اور صِفّین (37 ؁ ھ) میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی ۔ اُن کے بعد اُن کے اہل و عیال بڑے پیمانہ پر مالی دشواریوں  میں مبتلا ہو گئے ۔ عرب فوج میں علی حیدر رضی اللہ عنہ سے بددلی اور ان کی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسری بڑی مجوزہ جنگ میں شرکت سے پہلو تہی کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ بہت سے خاندان ، جمل اور صِفّین کے معرکوں میں اپنے کمانے والو ں کو کھو کر اقتصادی بدحالی کا شکار ہوگئے تھے اور علی  حیدر کی امیر معاویہ سے دوسری مجوزہ جنگ میں شرکت کرنے والے باقی ماندہ سپاہیوں کو اپنی ہلاکت او راپنے متعلقین  کے لئے اس سے پیدا ہونے والی اقتصادی مشکلات کاسخت اندیشہ تھا ۔ دوسرا طبقہ جزیرہ عرب کے صحراؤں اور دیہاتوں  میں گروہ پیش کی نا مہربان قدرت سے لڑتا جھگڑتا عسرت کی زندگی گذار رہا تھا ۔  صدیقی  ، فاروقی اور عثمانی دور میں اس طبقہ کے ہزاروں جوانوں نے اسلامی فوجوں میں بھرتی  ہوکر اپنی مالی حالت سدھار لی تھی ۔حیدری خلافت میں تسخیری سرگرمیوں کے بند رہنے سے بھرتی بھی بند رہی اور جزیرہ  عرب کے جوان اسلامی حکومت  کے عسکری  سر پرستی  سے محروم ہوکر اپنی  اقتصادی  خستہ حالی دور کرنے پر قادر نہیں ہوسکے ، بصرہ اور کوفہ کی چھاؤنیوں  میں جو ایک لاکھ زائد فوج تھی وہی علی حیدر کی جنگوں میں کام آئی ۔

(2) غیر ہاشمی قریش ( بنو اُمیّہ)

ان کے دو طبقے تھے : ایک وہ جو حکومت او راس کے مناصب سے وابستہ رہا تھا اور جس کے با صلاحیت افراد عثمانی  دور میں خلافت کے روشن ستارے تھے۔یہ ستارے علوی خلافت میں ایک ایک کر کے غروب ہوگئے ، اس طبقہ کے جن اشخاص کو عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نقد عطیات ، زمینیں یا نخلستان  دیئے تھے وہ علی حیدر رضی اللہ عنہ نے خلافت کا عہدہ سنبھال کر ضبط کر لئے تھے ۔ بنا بریں اس طبقہ کے متعدد با اثر اور ممتاز خاندان علوی  دور میں مالی دشواریوں سے دو چار رہے اور بعض  خاندانوں  کی اقتصادی  ترقی  رکی رہی لیکن چند ہی سال  بعد سفیانی دور میں یہ طبقہ پھر ابھرا اور خلافت کے سیاسی و اقتصادی افق  پر چھا گیا ۔ دوسرا طبقہ  جو حکومت  سے براہ راست متعلق نہ تھا اور جس کی مادی خوشحالی کا انحصار زیادہ تر تجارت اور باغبانی پر تھا حیدری حکمرانوں نا ہمدرد نظروں کے سامنے دبا دبا سہما سہما  رہا اور اقتصادی  ترقی کے میدان میں دورِ سابق کی طرح سرگرمی نہیں رکھا سکا ۔

(3) انصار

علی حیدر رضی اللہ عنہ کے مختصر دور خلافت میں انصار خلافت کے ناخداؤں میں سے تھے ۔ ان کو اعلیٰ فوجی اورسول عہد  ے ملے جن سے شیخین اور عثمان غنی کے عہد میں وہ محروم رہے تھے ۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں ابو بکر صدیق کے انتخاب سےجن دو  فریقوں  کو سخت مایوسی ہوئی تھی وہ علی حیدر رضی اللہ عنہ اور ان کا ہاشمی خاندان اور انصاری شاخ خزرَج کے سربرآور دہ لیڈر سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل  خاندان تھے ۔ حالیہ ناکامی  نے دونوں  فریقوں  کو ایک دوسرے سے قریب او رکامیاب  فریق  کے مقابلہ  میں متحد کردیا تھا ۔ علی حیدر بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہ اور دونوں  بچوں حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات میں ذی اثر انصاریوں کے گھر جانے اور شکایت کرتے کہ مجھ سے خلافت  چھین لی گئی ہے، اس زیادتی کی تلافی  کے لئے میری مدد کیجئے ۔ نامساعد حالات  کے باعث انصار دست و بازو سے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی مدد نہیں کر سکے ۔ لیکن ان کی ہمدردیاں  علی حیدر رضی اللہ عنہ سے وابستہ ہوگئیں ۔ صدیقی دور میں سرکاری عہدوں  سے محرومی ، فاروقی خلافت میں اعلیٰ  سول اور فوجی مناصب سے علیحدگی  نیز دیوان  العطا ء  میں مہاجرین قریش سے چھوٹا گریڈ پا کر انصار کا غبار خاطر بڑھ گیا اور وہ ہاشمی امیدوار خلافت علی حیدر رضی اللہ عنہ کے حامی ہوگئے ۔ عثمانی دور میں حکومت کی بڑھتی ہوئی بے التفاتی سے ان کی کشیدگی اشتعال میں بدل گئی اور وہ اس مہم میں شریک ہوگئے جو غیر ہاشمی خلافت  کا خاتمہ  کر کے ہاشمی خلافت قائم کرنا چاہتی تھی ۔ خلیفہ ہوکر علی حیدر رضی اللہ عنہ نے انصار کو ان کی حمایت  اور خلافت کی مہم میں  ان کے سر گرم تعاون کا صلہ دیا ۔ انہوں نے پانچ میں سے تین اہم صوبوں پر انصاری گورنر مقرر کئے جن  میں سے ایک انصاری امیدوارِ خلافت سَعْد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ  کے فرزند قیس  تھے ۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں جب سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لئے خلافت نکل گئی تو وہ سخت  بر ہم ہوئے تھے ، انہوں نے ابو بکر صدیق کی بیعت نہیں کی تھی اور احتجاجاً مدینہ چھوڑ کر شام کے ایک الگ تھلگ شہر میں  جا بسے تھے ۔ ان کے لڑکے قیس علی حیدر رضی اللہ عنہ کے سرگرم کارکنوں  میں سےتھے ۔ اعلیٰ سول عہدوں  کے علاوہ انصاری صحابہ عَلَوی فوج کے اہم عہدوں پر بھی فائز ہوئے ۔ عَلَوی  خلافت کی سب سے بڑی جنگ صِفّین جس میں علی اقل التقدیر علی حیدر رضی اللہ عنہ کے نوے ہزار سپاہی  شریک ہوئے اور جس میں طرفین  کے کم از کم سترّ ہزار آدمی  مارے گئے ، قیس بن سعد بن عبادہ بصرہ کی پیادہ ڈویژن اور سہل بن حنیف انصاری بصرہ  کی رسالہ فوج کے کمانڈر تھے ۔

آسمان خلافت پر پونے پانچ سال چمکنے کے بعد انصاری ستارے ماند پڑ گئے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی وفات کے سات آٹھ ماہ بعد سارے  مسلمانوں نے بالا تفا ق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرلیا ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اموی تھے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار ۔ اموی دور  میں انصار کو بنو ہاشم سے اپنی دوستی کی قیمت ادا کرنی پڑی ۔ بنو اُمیّہ کی نظر میں ان کا پایہ اور اعتبار گر گیا ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انصار کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جیسا شیخین اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ کرتے تھے ۔ ان کے بیس سالہ دور حکومت میں صرف دو انصاری خلافت کے بڑے عہدوں پر نظر آتے تھے۔ ایک نُعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اور دوسرے مسلمہ انصاری مُخلّد رضی اللہ عنہ ۔ نعمان کے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ ، سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ کی طرح انصاری شاخ خزرج کے لیڈر تھے  لیکن  سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ اثر اور رسوخ میں ان سے بڑھے ہوئے تھے ۔ دوسرے اکابر قبیلہ  کے دباؤ میں آکر بشیر بن سعد نے خلافت کے لئے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی نامزدگی قبول کرلی تھی لیکن دل سے انہیں  سعد بن عبادہ  کا خلیفہ ہونا گوارا نہ تھا ۔سقیفہ بنی ساعدہ میں جب قریش نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا مطالبہ خلافت مسترد کردیا اور فریقین میں قیل دقال بڑھی  تو بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے موقع سے فائدہ اٹھا کر قریش کی خلافت کے حق میں ایک تقریر کردی، اس سے انصار کے کیمپ  میں پھوٹ پڑ گئی، ان کا محاذ کمزور پر گیا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب  ہوگئے ۔  اس خدمت کی ابوبکر صدیق نے قدر کی اور بشیر بن سعد کو قریشی سپہ سالار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زیر کمان ایک دستہ کاکپتان بنادیا ۔ یہ نعمان جنہیں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا انہیں بشیر بن سعد کے لڑکے تھے اور ان کا تعلق عثمانی کیمپ سے تھا ، اُن نو دس بڑے انصاریوں میں یہ بھی شامل تھے جنہوں نے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی ۔ انہی نعمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ مقتول خلیفہ کے عیسائی بیوی نائلہ نے اپنے شوہر کی خون میں رنگی  ہوئی قمیض  اور ان کی تلوار سے اپنی کٹی انگلیاں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجی تھیں ۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی طرح مُسلمہ بن مُخَلَّد رضی اللہ عنہ بھی عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہوا خواہوں میں سے تھے  ، انہوں نے مصر جاکر بہت سے عربوں  کو عثمان  غنی رضی اللہ عنہ کا طرفدار بنا لیا تھا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کو مشورہ  دیا تھا کہ ایک فوج بھیج کر مصر کو علوی تسلط سے آزاد کرالیں ۔ امیر معاویہ نے مسلمہ بن مخلد کے مشورہ  کی قدر کی اور ایک رسالہ فوج بھیج دی جس نے مسلمہ مخلّد اور دوسرے عثمانی  وفاداروں  کے تعاون  سے علوی گورنر محمد بن ابی بکر ( پر وردہ ٔعلی حیدر) کو شکست دے کر مصر پر قبضہ کر لیا ۔ مسلمہ بن مخلّد کی وفاداری  دس بارہ سال مزید آزما نے کے بعد 50 ؁ ھ میں امیر معاویہ نےانہیں مصر اور شمالی افریقہ  کی گورنری سونپ دی ۔

اقتصادی نقطہ نظر سے عَلَوی دور میں انصار کو اعلیٰ سول اور فوجی  عہدوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ۔ نامساعد حالات  کے ماتحت انصاری گورنروں کو سال چھ مہینے میں اپنے منصب چھوڑ نا پڑے۔ ان کے اعلیٰ فوجی افسروں نے جو معرکے لڑے ان میں خود ان کے ہم مذہب مد مقابل تھے اور ان کے گھوڑوں کی ٹاپ کے نیچے غیر مسلم علاقہ نہیں  تھا جہاں  ترکتاز کر کے وہ اور ان کے متعلقین  مختلف  قسم کے مال غنیمت سے بہرہ اندوز ہوتے جیسا کہ سابقہ ادوار میں  مسلمان مجاہد ہوتے رہے تھے ، اس کے باوجود کہ ایک چھوٹی سی جماعت کو چھوڑ کر سارے انصاری اکابر نے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی، عَلَوی لشکر میں جس کی تعداد نوے ہزار اور بقول بعض ایک لاکھ  سے زائد تھی ،  سات آٹھ سو  سے زیادہ انصاری نہیں  تھے ۔کئی سبب اس قلت تعداد کے ذمہ دار تھے ۔سقیفہ بنی ساعدہ میں ہمیشہ کے لئے خلافت کا میدان چھوڑ کر انصار قریش کی سیادت  اور اقتصادی فروغ کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا نے سے گریز کرنے لگے تھے، ان کی مالی حالت بھی اسلام کے زیر سایہ اتنی سدھر گئی تھی کہ کسبِ معاش کے لئے تلوار وں کے سایہ میں جینا ان  کے لئے ضروری  نہیں رہا تھا ، بہت سے انصاری  اپنے ہم مذہبوں پر تلوار اٹھانے سے بھی جی چراتے تھے ۔ علی حیدررضی اللہ عنہ کی خلافت میں اقتصادی  اعتبار سے انصار کے وہی چار طبقے  تھے جن کا عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کے اقتصادی میں ذکر آچکا اور ان کی مالی حالت علوی  دور میں کم وبیش وہی  رہی جیسی  کہ سابقہ  دور میں تھی ۔ یہ فصل ہم  ایک انصاری  کے ذکر پر ختم کرتے ہیں جس کی دولت  کی قدیم عربی  مراجع نے نشان دہی کی ہے ۔ یہ انصاری  مشہور صحابی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ  ہیں جن کا تعلق  انصار کی شاخ خزرَج کے ایک معمولی گھرانے سے تھا ۔ کاتب وحی ، جامع قرآن او رمفتی و قاضی کی حیثیت  سےانہیں  خاص شہرت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت زید بن ثابت چوبیس سالہ جوان تھے۔ سقیفہ  بنی ساعدہ  میں انہوں نے خلافت قریش  کی تائید  میں تقریر کر کے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا کے دل میں گھر لیا تھا ۔ شیخین  اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ تینوں  کو ان کا تعاون حاصل تھا اور تینوں نے انہیں  خوب نوازا بھی ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قرآن جمع کرایا ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں  معاوضہ دے کر مفتی و قاضی  کے فرائض  سپرد کئے اور وہ جب حج یا کسی دوسری مہم  پر مدینہ  سے باہر جاتے تو اکثر  زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہی کو اپنا جانشیں مقرر کرتے تھے اور جب سفر سے واپس آتے تو انہیں  بالعموم  ایک نخلستان انعام میں دیا کرتے تھے ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بیت المال  کا خزانچی  مقرر کردیا تھا ۔ تنخواہ کے علاوہ  انہیں خلیفہ  سے عطیے  بھی ملتے رہتے تھے ۔ کبھی  زر وسیم اور سامان ، کبھی  جائداد  اور نخلستان  ۔ ایک بار بصرہ  سے مرکزی خزانہ  کے لئے پانچ لاکھ روپے آئےتو خلیفہ نے پچاس ہزار    زید بن ثابت کو ان کی حسن خدمت  سے خوش  ہوکر عطا کردیئے ۔ زید رضی اللہ عنہ  نودس انصاریوں میں سے تھے جو آخر وقت تک  عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کی حمایت و وکالت کرتے رہے تھے ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کے محاصرہ  کے دوران ایک موقع پر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ  نے انصار  اکابر سے اپیل کی کہ خلیفہ کی مدد کریں  اور محاصر باغیوں کو مدینہ سے نکال دیں،  اس پر سہل  بن حنیف انصاری  نے جو علی حیدر  کی طرف سے کچھ دن بعد بصرہ کے گورنر  مقرر ہوئے ، جھلا کر کہا : زید ، عثمان  غنی  نے مدینہ  کے نخلستانوں سےتمہارا پیٹ بھر دیا ہے ( اس لئے تم ان کی حمایت  کرتے ہو) یا زید أ شبعک عثمان من عِضْدان المدینۃ ۔رپورٹر بتاتے  ہیں کہ 45 ؁ ھ میں جب زید بن ثابت کا انتقال ہوا تو ان کے گھر میں سونے چاندی  کے سلوں کے ڈھیر لگے تھے جنہیں کلہاڑیوں سے کاٹا گیا ، زر وسیم  کے علاوہ  ان کی جائداد اور نخلستانوں  کی قیمت  کا اندازہ پانچ لاکھ روپے کیا گیا ہے ۔خلّف من الذھب و الفضۃ ماکان یُکس الفوؤس غیر ماخلف من الأموال و الضیاع یقیمۃ  مئۃ ألف دینار ۔ حسب تصریح تاریخ صنعا ء قلمی ان کی صرف نقد میراث ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کے مساوی تھی ۔ ترک زید بن ثابت من الذھب و الفضۃ ما کان یُقرض  بالمقر اض و ما مبلغہ مئۃ ألف دینار و سبعمئۃ ألف درھم۔

(4) ہاشمی قریش

علی حیدر رضی اللہ عنہ کے دور میں آسمان خلافت پر خانہ جنگیوں  کے بادل چھائے رہے، جن کی سیاہ پرچھائیاں ہر عرب طبقہ کی طرح ہاشمی خاندان پر بھی پڑیں ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ  نے خلافت  کاعہدہ سنبھا لا تو ایک طرف ہزاروں مسلمانوں کو طلحہ  بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور ام المؤمنین  عائشہ رضی اللہ عنہ اور دوسری  طرف سیکڑوں  شامی رسالوں کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مقتول  خلیفہ  کے خون  کا انتقام لینے کے لئے  تلوار  بکف پایا ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ کی پونے پانچ سالہ خلافت میں مسلمانوں کے نزاع  ، عصبیت اور خونریزی  کا المناک ڈرامہ برابر جاری رہا اور امن و سکون سے محروم ان کے با حوصلہ ہاشمی اعزا ء میں جو اسلامی صوبوں  کی گورنری اور غیر اسلامی ممالک  میں فتوحات  کرکے اپنی اقتصادی  عمارت بلند کرنا چاہتے تھے،  چند سے زیادہ کی آرزو ئیں  پوری نہیں ہوئیں ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ نےاپنے پانچ اقارب  کو صوبائی گورنر  مقر رکیا تھا، ان میں سے چار ان کے چچا عباس ابن عبدالمطلب کے لڑکے تھے اور ایک محمد بن ابی بکر تھے جن کی پرورش اور تربیت ان کے زیر سایہ ہوئی تھی ۔ تماّم بن عباس  کومدینہ  ، قُثم بن عباس  کو مکہ اور طائف کی گورنری ملی، عبیداللہ بن عباس کو یمن کی ، عبداللہ بن عباس کو بصرہ کی او رمحمد بن ابی بکر کو مصر کی ۔ یہ اقارب  دو تین سال سے زیادہ  اپنے عہدوں کے ثمرات سے بہرہ  اندوز نہ ہوسکے ۔ بس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ علی حیدر رضی اللہ عنہ  کی خلافت کے آخر تک بصرہ کے گورنر رہے اور اپنے عہدہ کے مادی فوائد  سے بھی اچھی  طرح متمتع ہوئے ۔ ان کا نظریہ  تھا کہ ہاشمی حاکم ذوی القربیٰ کاحصہ ذاتی خرچ  میں لا سکتا ہے خواہ مال غنیمت کے خُمس  کا ہو یا زکات کے علاوہ دوسرے سرکاری محاصل کا ۔ اس نظریہ کے مطابق بصرہ کے خزانہ سے ذوی القربیٰ کے حصہ کے بقدر  روپیہ وہ اور ان کے متعلقین  اپنے صرف میں لاتے تھے ۔ فلما صار الأ مر إلی علیّ استملہ ( عبد اللہ بن العباس ) علی البصرۃ فاستحل الفیٔ علیٰ تأویل قول اللہ : وأعلموا أ نما غفِتم من شئی فإن للہ خمسہ و للرسول ولذ ی القربی و الیتا میٰ والمساکین و ابن السبیل ، واستعلہ لقرابتہ من رسول اللہ ۔ بصرہ کے فاضی نے ایک بار عبد اللہ بن عباس کی سرزنش پر مشتعل  ہوکر بصرہ کے خزانہ میں ان کے ذاتی  تصرفات  کی شکایت علی حیدر رضی اللہ عنہ  کو لکھ بھیجی تو انہوں نے شاکی کا نام مخفی  رکھ کر عبداللہ بن عباس کو شکایت سے مطلع کیا اور ان  سے سرکاری روپیہ کا حساب مانگا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حساب نہیں دیا اور اپنے مختصر جواب میں شکایت کر بے بنیاد قرار دے کر خلیفہ کو اپنی دیانت داری  کا اطمینان  دلانے کی کوشش کی ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ مطمئن نہیں ہوئےبلکہ  ان کا شبہ  اور زیادہ پختہ  ہوگیا ۔ انہوں نے ایک ملامت آمیز خط میں سختی سے خزانہ کی یافت اور خرچ کے حساب کا تقاضا کیا ۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ چڑگئے اور علی حیدر رضی اللہ عنہ کو لکھا :  مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس خبر کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ میں اہل بصرہ  کےمحاصل  کاکچھ حصہ خورد برد کررہا ہوں، قسم  ہے خدا کی میری نظر  میں یہ کہیں  بہتر ہے کہ زمین  کے اندر  جو سونا اور جواہرات  ہیں  وہ مجھے مل  جائیں ، اور اس  کی سطح  پر جوٹیلے ہیں وہ سونے کے ہوجائیں اور میں ان سب سے متمتع ہوں بہ نسبت  اس کے کہ حکومت و امارت  کی خاطر عرب قوم کا خون بہا کر خدا کے سامنے جاؤں ، اپنے اس عہدے  پر جسے چاہیں  بھیج دیں، میں جار ہاہوں ۔فانہ بلغنی تعظیمک علی من رأۃ ما بلغک أنی رز اتہ أھل ھذہ البلاد و أیم اللہ لأن ألقی اللہ بمافی بطن ھذہ الارض من عقیا تھا و مخبئھا و بما  علے ظہر ھامن طلا عھا ذھبا، أحب اِلیَّ من أن ألقی اللہ و قد سفکت دما ء ھذہ الأمۃ لأ نال بذالک الملک و الإمرۃ ،إلعث إلی عملک من أجبت فإنی ظاعن ۔یہ وہ وقت تھا جب علی حیدر رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے حوادث و افکار کا ہجوم تھا، مصر ان کے قبضہ سے نکل چکاتھا ، فوج کا  ایک حصہ باغی ہوکر خوارج کے نام سے ان کی مشرق  قلمر و میں لوٹ مار کر رہا تھا ، ایک دوسرا حصہ اُن کی جنگ کوشی اور امیر معاویہ کے ساتھ جنگ پر اصرار سے بر گشتہ خاطر ہوکر دیلمستان میں قسمت  آزمائی کرنے چلا گیا تھا ۔  باقی فوج نا فرمان ہوگئی تھی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کے لئے ان کی ساری اپیلیں سنی ان سنی کررہی تھی ، دوسری طرف ان کی گرتی ہوئی خلافت  پر ہر طرف سے شامی ضربیں  لگا رہے تھے  ۔ ان حالات میں ایک وفادار اور خیر اندیش بھائی کا کھونا جس کے زیر فرمان خلافت کا سب سے بڑا فوجی مرکز تھا، علی حیدر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو سخت خلاف مصلحت  نظر آیا او رانہوں نے خلیفہ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نام ایک مصالحت آمیز خط لکھوا کر انہیں منا لیا ۔ اوائل 41 ؁ ھ میں امام حسن رضی اللہ عنہ سے سمجھوتہ کر کے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  نے اپنی خلافت کااعلان کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ بصرہ کے خزانہ سے ایک بڑی رقم لے کر جس کی مقدار تیس لاکھ روپیہ   ( ستۃ آلاف ألف درھم ) بتائی گئی ہے مکہ چلے گئے ۔

علی حیدر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مرکزی خزانہ کی آمدنی بہت کم ہوگئی تھی۔ ماتحت  صوبوں سے جن کے عظیم محاصل سے عثمانی خزانہ  بھر پور رہتا  تھا ، شام، مصر اور شمالی  افریقہ سے علوی خلافت  کا تسلط اٹھ گیا تھا ۔ آر مینیہ ، اَذْرَبی جان ، خراسان ، سجستان اور مُکران پر خلافت کی گرفت اتنی ڈھیلی ہوگئی تھی کہ وہاں  سے یافت یا تو بند ہو گئی  یا برائے نام رہ گئی تھی ۔ کوفہ کے مرکزی  خزانہ کا دارو مدار چار صوبوں پر تھا ۔ فارس، عراق، جِبال اور خوزِستان ۔ یہاں سے جو روپیہ  ( جزیہ) اور غلہ (لگان) آتا وہ علی حیدر رضی اللہ عنہ کے سول اور وسیع فوجی اخراجات کے لئے بمشکل  کافی ہوتا تھا ۔ شائد وہ اپنا گھریلو خرچ  یا اس کا بیشتر حصہ بھی  ذاتی آمدنی سے پورا کرتے تھے ۔ خزانہ کی آمدنی  اس حد تک کم ہوگئی  تھی کہ انہوں نے خمس  کی مد سے ذوی القربی کا حصہ دینا بند کردیا تھا ۔ ان کے گھر والوں  نے اس پر احتجاج کیا تو انہوں نے  یہ عذر پیش کیا کہ معاویہ  سے جنگ  کی تیاری  کے مصارف  اس کی اجازت نہیں دیتے۔

عثمانی دور میں علی حیدر رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاشمی خاندان اقتصادی ترقی کے میدان  میں پیش پیش تھے ۔ جائداد ، باغبانی اور تجارت پر ان گھرانوں کی اقتصادی  عمارت اٹھی تھی ۔ فاروقی اور عثمانی دور میں  یہ عمارت  بڑھی اور پھیلی اور حیدری  خلافت  میں اس کی شان  میں مزید اضافہ ہوا ۔ متعد ہاشمی اشخاص کو سرکاری  خدمت  کی راہ  سےبھی اپنی مالی حیثیت  بڑھانے کاموقع ملا ۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ  کے چار لڑکوں  کا ( جو علی  حیدر کے صوبائی  گورنر تھے ) اوپر ذکر ہوچکا ہے ۔ ان میں عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو سرکاری  خمس سے ذوی القربی کا حصہ ذاتی خرچ میں لاتے تھے اقتصادی ترقی  کے زینہ پر سب سے اوپر تھے ۔ آثار  و اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانچ سو روپے لاگت  کی پوشاک پہنتے تھے ، انہیں  نیز علی  حیدر رضی اللہ عنہ کے بھتیجے  اور داماد عبداللہ بن جعفر کو ہر سال امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے پانچ پانچ لاکھ روپے کاعطیہ  ملتا تھا ۔

URL for part 24:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-24)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-24/d/56059

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-25)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-25/d/56077

 

Loading..

Loading..