New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 11:44 PM

Books and Documents ( 3 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda Part 2 خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 2

 

خورشید احمد فارق

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت

ابوبکر صدیق کی خلافت کو چند ہی دن گذرے تھے کہ ملک کے اکثر عرب اسلام سے منحرف ہوگئے، یمن ، شمالی اور مغربی نجد کے طاقتور قبیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر ایام حیات ہی میں اسلام اور مدینے کی ماتحتی سے منہ موڑ چکے تھے ۔عرب انحراف کی مختلف شکلیں تھیں ۔ بعض قبیلوں نے کہا کہ اگر محمد نبی ہوتے تو مرتے ہی نہیں لہٰذا ہم ان کے مذہب کو حق نہیں مانتے، بعض نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے نبوت کا خاتمہ ہوگیا اورہم ان کے جانشین کی اطاعت لازم نہیں ، بعض نے نماز پڑھنے اور زکاۃ دینے سے انکار کردیا اور بعض  نے نماز برداشت کرلی لیکن تقریباً سب ہی نے زکاۃ کو ناقابل احتمال  او رمدینے کی ماتحتی کانشانِ عار سمجھ کر ٹھکرا دیا ۔ مدینے سے دور افتادہ علاقو ں میں جو اس نئی بغاوت میں شریک ہوئے حضر موت  او رمہَرہ ، شمال مشرق میں عُمان اور بحرین  خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ نجد کے تین اور حجاز کے معدودے چند قبیلوں  کے علاوہ جو قریش  کے زیر اثر تھے اور مدینہ کے رسالوں  سے قریب ہونے کے باعث بغاوت کے انجام سے خائف بھی ، باقی سارے قبیلوں نے مدینے کی وفاداری ترک کرنے کااعلان کردیا ۔ مدینے کے مغربی مضافات یعنی وادی  رُمہ  کی چراگاہوں میں بسنے والے تقریباً نصف درجن طاقتور قبیلوں  نے باہمی  تعاون کا معاہدہ کر کے ابو بکر صدیق سے مطالبہ کیا کہ ان کو زکاۃ سے معافی دی جائے ورنہ وہ بغاوت کر کے حکومت  مدینہ  کی بساط الٹ  دیں گے۔

بگڑتے ہوئے حالات  سے فائدہ اٹھا کر مکہ کے قریش  اور طائف کے ثقیف نے بھی اسلام سے اپنا رشتہ توڑ نے کا ارادہ کر لیا لیکن  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے مصلحت اندیش  گورنروں او رکچھ دوسرے محتاط اکابر نے شخصی رسوخ سے کام لے کر ان دونوں  مقتدر قبیلوں کے باغیانہ رجحانات  کو دبائے رکھا ۔

اس سنگین  اور سخت تشویشناک صورت حال  میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو اسلام کے اقتصادی استحکام نے سب سے زیادہ تقویت پہنچائی جس کی عمارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی  میں مضبوط بنیادوں  پر اٹھا گئے تھے ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے عربوں  کا چیلنج قبول کرلیا اور تہیہ

کیا کہ باغیوں کو تلوار کے ذریعے رام کریں گے جیسا کہ ان کے اس مشہور قول سے ظاہر ہوتاہے : نجدا اگر عربوں نے زکاۃ کے اونٹ کاایک بندھن تک  روکا تو میں اُن سے لڑوں گا۔

اپنے عزم کی تکمیل کے لئے سب سے پہلا قدم جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے چند ہی دن بعد اُٹھایا یہ تھا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی وہ مہم روانہ کردی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری علالت کے دوران جنوب مشریق، فِلسطین کی اُنبیٰ نامی بستی پر انتقامی غارتگری کے لئے مامور کیا تھا اور جوان کی بگڑتی ہوئی حالت  کے باعث روانہ نہ ہوسکی تھی ۔ یہ مہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنبیٰ فتح کرنے یا  اُسے با جگذار بنانے کے لئے نہیں  بھیجی تھی بلکہ اس کا مقصد اُسامہ رضی اللہ عنہ  کے والد اور رسول اللہ کے چہیتے پروردہ زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ اور چچا زاد بھائی  جعفر بن ابی طالب کا انتقام لینا تھا جو 8؁ ھ میں موتہ   پر فوج کشی کے دوران شامیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے ۔ عن عُروۃ عن اُسامۃ بن زید ان رسول اللہ بعثہ الیٰ اُنبی فقال : ائتھا صبا حاً حرّ ق 3 ؎   اس مہم  کو موجودہ نازک حالات میں جب کہ مرکز خلافت کئی طرف سے وادی رُمہ کے باغی قبیلوں  سے گھرا ہوا تھا، مدینے  کے ارباب رائے خلاف مصلحت قرار دے رہے تھے، اس کے باوجود ابوبکر صدیق مہم بھیجنے  پر مصر تھے، ان کی رائے تھی کہ اس کا دور و نزدیک ہر جگہ  چرچا ہوگا  اور عربوں کو معلوم  ہوجائے گا کہ مدینے  میں ایک منظم حکومت  موجود ہے جو فوجی اعتبار  سے بھی  انتی طاقتور  ہے کہ عربوں  کی بغاوت  کو خاطر  میں نہ لا کر قیصر جیسے طاقتور  بادشاہ کی شامی قلمر و  پر حملہ کرنے کی صلاحیت  رکھتی ہے ، اُن کا خیال تھا کہ اس مہم کالازمی نتیجہ  یہ ہوگا کہ عربوں  میں  مدینے کی دھاک اور فوجی طاقت کا از سر نو ایسا رعب بیٹھ جائے گا کہ وہ اپنے باغیانہ ارادوں سے باز آجائیں گے ۔ اُسامہ بن زید کی فوج تین ہزار سپاہیوں  ، بہت  سے اونٹوں اور ایک ہزار گھوڑوں   پر مشتمل  تھی ۔ اگر اسلام کی پوزیشن کمزور ہوتی  او رباغیوں  سے عہدہ برآہونے کے لئے ہتھیاروں او ر گھوڑوں کا توڑ ہوتا تو ابو بکر صدیق ڈپلو میٹک فوائد کے باوجود یہ مہم بھیج کر اسلام اور مرکز خلافت کو جوکئی طرف دشمن قبیلوں سے گھرا ہوا تھا، خطرے میں ڈالنے  کے لئے تیار نہ ہوتے ۔ اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مہم کا بھیجنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ابو بکر صدیق کی ترکش میں ابھی بہت سے تیر موجود تھے جن سے  وہ باغیوں او رحملہ آوروں کا خاطر خواہ مقابلہ کرنے پر قادر تھے ۔ اس مہم سے بغاوت آمادہ عربوں کے حوصلے پست ہوگئے او ران کی شر انگیز امنگوں کو کاری ضرب لگی ۔ یہ اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مہم ہی کی برکت  تھی کہ وادی القُریٰ سے سر حدِ شام تک بسنے والے عرب قبیلے  اور قریب  نصف درجن عیسائی اور یہودی علاقے بغاوت کی جرأت نہ کرسکے اور حسب سابق زکاۃ  اور جزیہ ادا کرتے رہے ۔

اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ  کے خروج کے چند دن بعد شمال مشرق و مغربی مضافات مدینہ کے متعدد سربر آ وردہ قبیلوں  نے جو  مدینے  کی ماتحتی  سے نجات پانے کے لئے باہمی تعاون کا معاہدہ کر چکے تھے اور جن میں طُلیحہ کا طاقتور قبیلہ  اسد بھی شامل تھا  ،مدینے کو کئی طرف سے گھیر لیا ، ان کے نمائندے یہ اعلان کر کے مدینے میں داخل  ہوئے  کہہ ہم نئے خلیفہ سے زکاۃ معاف کرانا چاہتے ہیں لیکن ان کا اصل مقصد جاسوسی تھا اور یہ معلوم کرنا کہ مرکزِ خلافت میں دفاع کا کیا انتظام ہے ، کتنی فوج او رکتنے گھوڑے ہیں ۔ ابو بکر صدیق اِن پڑوسی قبائل سے اتنے برہم تھے کہ انہوں نے ان کے وفد سے ملاقات  تک نہیں کی او رکہلا دیا کہ زکاۃ تو زکاۃ اگر تم نے زکاۃ کے اونٹ کا بندھن  تک دینے سے انکار کیا تو بُری طرح خبر لی جائے گی خلیفہ  کے روکھے برتاؤ پر پیچ و تاب کھاتا او رحملے کی دھمکیاں  دیتا وفد چلا گیا او راپنے قبیلوں کو جاکر مطلع کیا کہ مدینے کی ساری فوج اُسامہ زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلی گئی ہے او رشہر پر حملہ کر کے لوٹنے اور حکومت  کی بساط الٹنے کا بہترین موقع ہے ،  ان کو نہیں معلوم  تھا کہ حکومت مدینہ  کے ہزاروں فوجی گھوڑے چند میل دور نقیع کی چراگاہوں  میں محفوظ  تھے او رمدینے  کے خزانے میں نہ پیسے کی کمی تھی  اور نہ اسلحہ  خانے میں ہتھیاروں کی۔

وفد کی نامراد واپسی  کے بعد ابو بکر صدیق چوکنا ہوگئے اور حملے کی توقع میں انہوں نے شہر آنے والے سارے راستوں کی ناکہ بندی کرادی، تین دن بعد بے نیل  مرام لوٹنے والے وفد کے باہم معاہد قبیلوں نے مدینے پر حملہ کردیا، صدیقی مورچوں نے ان کا منہ توڑ جواب دیا ، معاہد قبیلوں  کی قیادت طُلیحہ کا جنرل اور بھتیجا حِبال کررہا تھا ، ابو بکر صدیق کے رسالوں  نے اس کو بھی مار ڈالا ۔ قبیلے بھاگ گئے اور اپنے اپنے علاقوں میں جاکر مخالفانہ سر گرمیوں  میں مشغول ہوگئے ۔

ابو بکر صدیق نے بڑے پیمانہ پر عسکری تیاری شروع کردی، گھوڑے اور اونٹ مدینے کے باہر جمع ہونے لگے، فوج کے لئے کھجور ،  ستو اور ہتھیار ذخیرہ  کئے جانے لگے ۔ مستقرِ حکومت کے مغرب و شمال یعنی وادی  رُمہ اور نجد کے خطرناک باغیوں  کی سرکوبی کے لئے تو انہو ں نے خلافت  کاعہدہ  سنبھالنے کے دو تین ہفتے  کے اندر ہی کئی فوجیں  روانہ کردی تھیں، دو ماہ بعد جب اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جنوبی  شام کی بستی  اُبنیٰ پر انتقامی غارت گری  کر کے اپنی  فوج کے ساتھ صحیح سلامت واپس آگئے  تو ابو بکر صدیق نے دور کے باغیوں کو سزا دینے کےلئے مزید فوجیں  روانہ کیں ۔ رپورٹر بتاتے  ہیں کہ انہوں نے جزیرہ نمائے عرب میں گیارہمحاذ بنانے  او رہر محاذ پر الگ الگ سالاروں  کی کمان میں پیادہ  فوج او ررسالے روانہ کئے او ر انہیں  حسب  ضرورت  برابر رسد او رکمک بھیجتے رہے ۔ اتنے محاذوں کے لئے گھوڑے ، ہتھیار او راونٹ  دولت کے اسی سر چشمے سے فراہم کئے گئے جس کے سوتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کھول گئے تھے ۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا مدینے کےمغرب میں وادی القریٰ سے  سر حد شام تک عرب قبیلوں  نیز عیسائی اور یہودی جزیہ گذار بستیوں  نے اُسامہ زید کو فوج سے خائف ہو کر کوئی قابل اعتراض حرکت نہیں  کی تھی اس لئے ابو بکر صدیق کے تعزیری لشکر  کا رخ مدینے کے شمال، شمال مشر ق، مشرق  اور جنوب مشرق کی طرف تھا ، ان سمتوں میں واقع جن علاقوں  میں ابو بکر صدیق  کی فوجوں نے جنگیں  لڑیں  ان میں بُزاخہ ، یمامہ ، بحرین ،عُمان ،مَہرہ ،حَضر مَوت ، یمن اور تہامہ کے معر کے مشہو ر ہیں ۔ عرب باغی تعداد میں جتنے زیادہ اور اقتصادی اعتبار سے جتنے زیادہ طاقتور ہوتے اتنا ہی صدیقی  فوجوں کا مقابلہ اُن سے سخت ہوتا ، اس کے باوجود ہر محاذ پر آخری فتح افواج ہی کو نصیب ہوتی ۔ بہت سے باغی یا باغی رجحان عرب جنگ کے شعلوں میں پھنس کر لڑتے ہوئے  مارے گئے ، ان کی ایک خاصی تعداد کو جن کا قصورزیادہ سنگین خیال کیا گیا، آگ میں ڈال کر جلا دیا گیا  ، جو گرفتار ہوئے انہیں قتل کر دیا گیا اور ان کے بال بچے غلام بنائے گئے ، بہت سے مویشی  جن میں قیمتی گھوڑے بھی شامل تھے ، نیز ہتھیار ، سامان اور زروسیم فاتحیں کے ہاتھ آیا اور اُس کا خُمس خلیفہ کے پاس مدینے بھیج دیا گیا ۔  اس طرح لگ بھگ دو سال میں ملک کے گوشے گوشے سے بغاوت مخالفت اور سرکشی کا ستھراؤ کر کے ابو بکر صدیق کے جنرلوں نے پھر جزیرۃ العرب میں اسلام کے پیر جمادیئے ، عرب کچھ اس بری طرح پامال ہوئے اور ان کے اکابر کو ایسی  عبرتناک سزاد ی گئی کہ اسلام کے مذہبی ،سیاسی اور اقتصادی مطالبوں سے سر تابی کا نشہ ہمیشہ کےلئے ان کےسر سے دور ہوگیا ۔

ان تعزیری مہموں پر حکومت مدینہ کا جتنا روپیہ صرف ہوا اس کی تلافی بڑی حد تک مال غنیمت سے ہوگئی ، اس کے علاوہ زکاۃ کی وہ آمدنی کھل گئی جو سال ڈیڑھ سال پہلے عرب قبائل نے روک لی تھی ۔ نیز جزیے کی وہ رقمیں بھی بحال ہوگئیں جو عُمان اوربحرین کی  پارسی ، عیسائی  اوریہودی اقلیتوں نے عام عرب بغاوت سے فائدہ اٹھا کر بند کردی تھیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عرب بغاوتیں  مستقبل  میں اسلام کی مذہبی ، سیاسی اور اقتصادی فروغ کے لئے چھپی ہوئی برکت ثابت ہوئیں ، ان کی بدولت  ہمیشہ کے لئے عرب اسلام کے مطیع ہوگئے ، ان کی بدولت انہو ں نے مدینے کی غیر مشروط وفاداری  ہی قبول نہیں کی اور اپنی گاڑھی کمائی میں سرکار مدینہ کو شریک ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسلام کی توسیع اور پیش رفت کے لئے اپنے دست  وبازو کی ساری توانائی  بھی اس کے قدموں  میں رکھ دی۔ ابوبکر صدیق نے طاقت کے اس سرچشمے سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی۔

URL for Part 1:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-part-1--the-age-of-abu-bakr-siddique-(rta)---خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-اول-عہد-صدیقی-کا-اقتصادی-جائزہ/d/35556

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-part-2-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-2/d/35590

 

Loading..

Loading..