New Age Islam
Tue Jun 15 2021, 02:22 AM

Books and Documents ( 21 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 14) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 14

  

 

خورشید احمد فارق

مرکزی خزانہ کے ذرائع آمدنی

ذیل میں مرکزی خزانہ کے ذرائع آمدنی کی ایک توضیحی فہرست پیش کی جاتی ہے اور ا س کے بعد اس سوال پر غور کیا جائے گا کہ دور فاروقی میں خزانہ کی سالانہ آمدنی کیا تھی ۔

(الف) مسلمانوں پر عائد ٹیکس

(1) زکات۔ اس ٹیکس کا مدنی قرآن نے 9 ؁ ھ یا اس کے لگ بھگ اعلان کیا تھا لیکن اس کے ضمن  میں آنے والی اشیاء کی وضاحت نہیں کی تھی ۔ عہد نبوی  میں دولت کے ان اصناف پر یہ ٹیکس لیا جاتا تھا : سونا، چاندی ، اونٹ ، گائے ،بکری ،بھیڑ ، گیہوں ، مکّا  (ذُرہ) جو، کھجور اور کشمش ۔ زروسیم پر ٹیکس کی شرح ڈھائی فی صد سالانہ تھی لیکن پچاس روپے یا اس کی قیمت کےسونے چاندی  پر ٹیکس معاف تھا ۔ کان اور دقینے سے حاصل کئے ہوئے سونے چاندی کی شرح پانچ فیصد تھی ۔ پانچ اونٹوں ، تیس گاؤں اور چالیس بکریوں سےکم پر بھی زکات نہیں تھی ۔پانچ اونٹوں پر ایک بکری، تیس گاؤں پر ایک بچھڑا اور چالیس بکریوں  پر ایک بکری واجب تھی بشرطیکہ یہ مویشی تجارت کے لئے ہوتے اور ذاتی ضرورت کے کام نہ آتے ۔ گھوڑا اور دوسرے بار برداری کے جانور غلام زکات سے خارج تھے ۔ تیس من (خمسہ أوسُق) سے کم غلہ اور پھل پر زکات نہیں تھی ۔ غلہ اور پھل کے کھیت اور باغ کی سینچائی بارش یا باڑہ کے پانی سے ہونے کی صورت میں  شرح زکات دس فیصد تھی اور کنویں یا تالاب  سے آب پاشی کی صورت میں شرح فیصد ۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ عمر فاروق نے زکات کی مذکورہ بالا اصناف میں زیتون کا اضافہ کردیا تھا جس کے بہت سے باغ شام اور جزیرہ میں ان دونوں ملکوں کی فتح کے بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے تھے ۔ قرآن سے اس اطلاع کی تائید نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ اور ٹیکس کا بوجھ غیر مسلمو ں کے ہی کندھوں پر رکھنا چاہتے تھے ۔ اسی لئے ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس روپے یا اس کے ہم قیمت زر وسیم،تیس من سے کم غلّہ اور پھل پر کوئی ٹیکس نہیں رکھا تھا اور دوسری طرف غلّوں میں صرف گیہوں  او رمکّا ، پھلوں اور صرف کھجور او رکشمش پر ٹیکس لگایا تھا اور باقی سارے غلے ، پھل اور ترکاریاں جن کی تعداد درجنوں تھی زکات سم مستثنیٰ کردی تھیں ۔

(ب) غیر مسلموں پر عائد ٹیکس

(1) خمس غنیمت

(2) خمس جزیہ

(3) خمس لگان ۔ ان تینوں کا اوپر ذکر آچکا ہے۔

(4) خمس زر معاہدات ۔ عرب فتوحات کے دوران جب کسی شہر، قلعہ یابستی کے باشندے لڑائی سے پہلے عرب  فوجوں کے ساتھ ایک مقررہ رقم کے بالمقابل سمجھوتہ کر لیتے تو عرب اسے عہد ( معاہدہ) کے نام سے یاد کرتے تھے ۔ مفتوحہ ملکوں میں ایسے مقامات خاصی تعداد میں تھے جہاں کے رئیسوں  نے عرب حملہ آوروں  سے معاہدے کر لئے تھے ۔اس نوعیت کے اولین معاہدے سر حد عراق کی فوجی چوکیوں با نِقیا ، اُیَّس ، بارُوسما اور پاپۂ تخت حیرہ کے رئیسوں  نے عہد صدیقی میں خالد بن ولید سے کئے تھے ۔

(5) خُمس صوافی ۔ صوافی  سے مفتوحہ ملکوں کی وہ اراضی مراد ہے جس پر مقامی رئیسوں سلاطین اور شاہی خاندان یا حکومت  کی تصرف تھا یا وہ زمینیں ، جاگیر یں اور املاک جن کے مالک عرب فوجوں  کی ترکتاز کے دوران بھاگ گئے تھے یا جنگ میں مارے گئے تھے ۔ رپورٹر وں نے صرف عراق کی صوافی  کا ذکر کیا ہے اور ان سے حاصل شدہ سالانہ آمدنی کی مقدار پینتیس لاکھ روپے ( ستر لاکھ درہم) بتائی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آمدنی چالیس لاکھ روپے پر مشتمل تھی  

(6)  خمس عُشو ( تجارتی ٹیکس ) ۔ عمر فاروق کے گورنر بصرہ نے انہیں لکھا کہ مسلمان تاجر جب دارالحرب جاتے ہیں تو ان سے دس فیصد تجارتی ٹیکس لیا جاتاہے ، لیکن ہم بھی حربی تاجروں سے ٹیکس وصول کریں اور اگر کریں تو کتنا ،عمر فاروق نے ایک جامع ضابطہ بنایا جس کے دائرہ میں حربیوں کے علاوہ ذمی اور مسلمان تاجروں کو بھی داخل کر لیا ۔ اس ٹیکس  کی شرح حربیوں  کے لئے دس فیصد تھی، ذمیوں  کےلئے پانچ فیصد اور مسلمانوں  کے لئے ڈھائی فیصد ۔ یہ ٹیکس نہ مدنی قرآن  نے تجویز کیا تھا، نہ رسول اللہ اور ابو بکر صدیق  کے زمانہ میں رائج تھا ۔ تجارتی ٹیکس مفتوحہ علاقوں  تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ  جزیرۃ العرب میں بھی نافذ تھا ،  متعدد مصادر سے جن میں امام مالک کی مُؤ طا بھی شامل  ہے، معلوم  ہوتا ہے کہ عمر فاروق  شام کے بزنطیون سے جو تجارت کےلئے مدینہ آتے تھے دس فیصد اور پانچ فیصد تجارتی  ٹیکس  لیتے تھے ۔ کان عمریأ خذ من النَّبطَ من الزیت والحِنطۃ العشر لکی یَکْثُر الحمل الی المدینۃ و یأ  خذ من القّطنِیّۃ العشر ۔  عمر فاروق نَبطی نسل کے ذمیوں سے  روغن زیتون او رگیہوں  پر پانچ فیصد لیتے تھے تاکہ ( اس رعائتی شرح سے) یہ اشیاء لانے کے لئے ان کا حوصلہ بڑھے اور دوسرے اناجوں  ( دالوں ، مٹر، لوبیا، چنا وغیرہ ) پر دس فیصد وصول کرتے تھے ۔

(7) اِن سب کے علاوہ مرکزی آمدنی کا ایک ذریعہ نبو نصیر ( مدینہ) فَدَک ، خیبر اور وادی ’’ القری کے زراعتی  فارم اور نخلستان تھے ۔ یہ آمدنی عہد نبوی سے چلی آرہی تھی اور عرب بغاوتیں دبانے میں ابو بکر صدیق کا سب سے بڑا سہارا  تھی ۔

یہ سارے ذرائع عہد فاروقی میں بحال رہے البتہ خلافت کے دو سال بعد علی حیدر رضی اللہ عنہ کے مسلسل  تقاضو ں سے مجبور  ہوکر عمر فاروق  نےبنو نصیر  کے نخلستان اس شرط پر ان کی تحویل  میں دے دئے کہ وہ اس کی آمدنی کاکچھ حصہ  اپنے صرف میں لائیں گے اور باقی جہادی مدوں  میں صرف کردیں گے جیسا کہ رسول اللہ اور ان کے بعد ابو بکر صدیق کیا کرتے تھے ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ ساری آمدنی پر قابض ہوگئے اور نخلستانوں  پر جن کی تعداد  سات تھی مالکانہ قبضہ کر لیا ۔  باقی یہودی بستیوں  کی آمدنی حسب سابق بیت المال میں  آتی رہی او رپہلے سے زیادہ مقدار میں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ 20؁ ھ میں عمر فاروق  نے فدک ، خیبر  اور وادی  القری کے ان یہودیوں  کو جزیرہ  عرب سے باہر نکال  دیا تھا جو نصف پیداوار  سرکار مدینہ  کو دیتے تھے اور نصف بطور حق محنت اپنے  استعمال  میں لاتے تھے ، ان کے اخراج کے بعد عمر فاروق سرکاری غلاموں سے کاشت و باغبانی  کرانے لگے اور اب وہاں کی کل آمدنی مدینہ کے بیت المال  کے لئے مختص ہوگئی ۔

مذکورہ بالا  توضیحی فہرست آمدنی کے آٹھ اصناف پر مشتمل ہے۔ ان میں سے صرف ایک صنف یعنی زکات  مسلمانوں کےذمہ  تھی باقی  سات اصناف عشور کے ایک اقل قلیل حصہ کو چھوڑ کر جو مسلمانوں سے وصول کیا جاتا تھا، مفتوحہ اقوام پر لازم  تھے ،ان اصناف کی ضخیم آمدنی کے مقابلہ میں زکات  ٹیکس آٹے میں  نمک کے برابر تھا عربی آثار و اخبار سے یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ عہد فاروقی میں ان آٹھ مدوں سے کتنی آمدنی ہوئی  اور نہ اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود ہے کہ عمر فاروق  کا سالانہ بجٹ کیا تھا ۔ بنابریں  اس کے اعداد و شمار  متعین  کرنا ممکن نہیں  ، تاہم  ان کی ضخامت کا اندازہ عراق  ، شام اور مصر کے جزیہ و مالگذار ی کی ان  چند رقوم سے کیا جاسکتا ہے جن کی تصریح  عربی مراجع میں موجود ہے!

(1) عراق کاجزیہ اور لگان ۔ پانچ کروڑ روپے سالانہ ( دس کروڑ درہم )

(2) صوافی عراق ( خالصہ املاک) پینتیس یا بیس لاکھ روپے (ستر لاکھ اوربقول بعض چالیس لاکھ درہم )

(3) شام کا جزیہ اور لگان ۔ پچیس لاکھ روپے ( پچاس لاکھ درہم )

(4) مصر کا  جزیہ او رلگان ۔ چھ کروڑ روپے ( ایک کروڑ بیس لاکھ دینار )

 ان تینوں ملکوں کے سالانہ جزیہ ، لگان اور صوافی عراق  کی مجموعی آمدنی گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے  ہوتی ہے اور اس کا خمس جو مرکز کا حق تھا اور بظاہر فاروقی  خزانہ میں ہر سال جمع ہوتا ہوگا دو کروڑ بتیس لاکھ روپے کہ خطیر رقم پر مشتمل تھا ۔

دورِ فاروقی میں پہلے غنیمت کے مسلسل اور گراں قدر حصص اور پھر سارے ہتھیار بردار مسلمانوں  کے لئے حکومت  کی طرف سے تنخواہیں  اور راشن مقرر ہونے سے حجاز اور عرب چھاؤنیوں کے مسلمانوں کی مالی حالت سدھر گئی تھی، ان کے ہاتھ لگی بندھی آمدنی آنے لگی تھی اور بعض چیزوں  کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوگیا جیسا کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہے: سائب بن زید ۔ عہد ِ نبوی  میں خون بہا (دیت) چہار عمری اونٹوں کی صورت میں وصول کیا جاتاتھا پچیس حقِے ، پچیس جذعے، پچیس بنات لَبون اور پچیس نبات مخاص عمر کا عہد آیا اور مفتوحہ ملکوں  میں فوجی چھاؤنیاں قائم ہوئیں  تو عمر فاروق  نے کہا کہ ہر شخص کے لئے اونٹ فراہم کرنا مشکل ہے اس لئے ویت کے اونٹ کی قیمت نقد مقرر کردینا چاہتے ادل اول سو اونٹوں کی قیمت دو ہزار روپے (چار ہزار درہم) میں آنے لگے ، کچھ دن بعد ان کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا اور اب سو اونٹوں کی قیمت پانچ ہزار روپے (دس ہزار درہم) ہوگئی ۔ گرانی بڑھتی رہی اور زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ سو اونٹوں کی قیمت پانچ ہزار سے تجاوز کر کے چھ ہزار ہوگئی ۔ عمر فاروق  نے ان لوگوں کے لئے جن کے پاس چاندی تھی دیت کے او نٹوں کی قیمت بارہ ہزار درہم ( چھ ہزار روپے) مقرر کردی اور جن کے پاس سونا تھا ان کے لئے ہزار دینار ( پانچ ہزار روپے) ، اونٹ والوں کے لئے سو اونٹ اور جو لوگ حُلّے تیار کرتے تھے ان کےلئے دو سو حلّے مقرر کر دیئے بحساب پانچ دینار ( پچیس روپے) فی حُلہ ، بکری والوں کے لئے ہزار بکریاں، بھیڑ والوں کے لئے دو ہزار بھیڑیں اور گائے والوں کے لئے دو سو گائیں اس اطلاع سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد فاروقی میں اونٹ کی قیمت بیس  روپے سے بڑھ کر ساٹھ روپے ہوگئی تھی اور اسی تناسب سے گائے ، بکری اور بھیڑ کے دام بھی بڑھ گئے تھے یعنی گائے تیس روپے کی تھی، بکری چھ روپے کی اور بھیڑ تین روپے کی ۔

URL for part 13:

https://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-13)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-13/d/35867

URL for this article:

https://newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-14)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-14/d/35879

 

Loading..

Loading..