New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 07:54 AM

Books and Documents ( 13 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 8

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

تاریخ اسلام عہد رسالت کے بعد (ایک مختصر جائزہ)

کہا جاتا ہے وہ تمام احادیث جن کو صحیح تسلیم کیا جاتا ہے ان کی تعداد کم و بیش پانچ ہزار تک جاتی ہے۔ ان کتابوں میں جن کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے تمام طرح کے نقد و تبصرہ کے بعد آج بھی ایسی حدیثیں موجود ہیں جن کو کوئی ذی عقل تسلیم کرنے سے اس بنا پر انکار کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ جیسے صاحب بصیرت شخص سے ایسی باتوں کا اظہار ہونا ان کے منصب رسالت کی توہین ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کبھی ایسی کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے جو قرآنی آیات کی مخالف ہوں۔ مگر علما پھر بھی اس کا شمار معتبر حدیثوں میں کرتے ہیں۔ ایسی بہت سی حدیثیں مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بڑی عقیدت کے ساتھ رائج ہیں۔ در اصل میری غرض ان خیالات اور احساسات کا پوری دیانت علمی کے ساتھ اظہار کرنا ہے جس کے لیے میرا ضمیر مجھے آمادہ کرتا رہا ہے۔ میں ایسے وہم و گمان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا جب تک حقیقت ظاہری میں اس کی کوئی سند مجھے نہیں مل جاتی۔
ہماری دنیا میں ۱۹۰۷ سے ۱۹۷۱ تک مسلسل جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ خدا کی رحمت کا نزول صرف انھیں پر ہوا جو زندہ بچ گئے اور ان کے جسم سلامت رہے۔ ان تمام حقائق سے روشناس ہونے کے بعد ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر قاتلان عثمان کا بھی خدا تھا انھوں نے اپنی مہم کی کامیابی کے لیے اس سے مدد ضرور مانگی ہوگی۔ اور وہ کامیاب ہوئے۔ حضرت علی اور حضرت حسین کے قاتلوں کا بھی خدا تھا جس پر انھیں بھروسہ تھا، مگر وہ قتل ہوگئے، ان کے قاتلوں نے بھی اپنی کامیابی کی اس کے حضور دعائیں ضرور کی ہوں گی، اور کامیاب ہوئے۔ حضرت عائشہ، امیر معاویہ اور حضرت علی ان سب کا خدا ایک ہی تو نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے بھی اپنی حمایت کے لیے اس سے التجائیں ضرور کی ہوں گی مگر صحیح معنوں میں کسی کو من چاہی کامیابی نہیں ملی۔ امویوں اور عباسیوں نے ایک دوسرے کی شکست کے لیے اپنے خداؤں کے سامنے ہاتھ ضرور پھیلائے ہوں گے۔ اب سوال ہمارے سامنے یہ ہے کہ ہم کس خدا کی بندگی کے لیے اپنے ذہن کو آمادہ کریں؟ کچھ علمائے اسلام نے کسی کی طرف داری کرنے سے بہتر یہ سمجھا کہ حق یا ناحق پر ہونے کے فیصلے کو اپنے خدا کے حوالہ کرکے ایمان کو محفوظ کر لیا۔ انھوں نے تمام مسلمانوں کو بھی نصیحت کی کہ یہ سب لوگ ہمارے نزدیک محترم ہیں اس لیے کہ ان کے بارے میں قرآن میں واضح نہیں تو اشارۃً یہ کہا گیا ہے کہ یہ بخشے بخشائے ہوئے لوگ ہیں اور حدیث رسول میں ان سب کے ایمان کی متعدد بار تعریفیں موجود ہیں۔ لہٰذا ہم لوگ جو ان سے کم تر درجے کے مسلمان ہیں ان کو اس کا نہ تو حق ہے اور نہ ہی ان کو اس کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ ان جیسے بے مثال ایمانی کردار کے لوگوں کے خلاف کچھ کہیں یا خود کو قاضی بنا کر کسی کے حق میں کوئی فیصلہ سنائیں۔ مگر اس نصیحت پر عمل کرنے کو کچھ ہی لوگ راضی ہوسکے۔ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے خود کو قاضی بنا کر ایک جماعت کو کافر اور منافق بنا کر اس کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا۔ ایسے لوگوں سے عراق لبنان اور ایران آباد ہیں۔ اس بنیاد پر ان میں تقریباً پندرہ سو سال سے زبانی اور مسلح دونوں طرح کی جنگ جاری ہے۔ ان میں وہ جنھوں نے دونوں کو حق بہ جانب قرار دیا وہ صوفیائے اسلام کہلائے اور انھوں نے ارکان اہل بیت رسول کو ہر طرح سے حق بجانب قرار دیا۔ اور اپنی تصانیف میں ان کی مدح سرائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اور جن کو انھوں نے پسند نہیں کیا۔ ان کا سرے سے کہیں ذکر ہی نہیں کیا۔ ان میں سے کچھ نے یہ کہہ کر اپنا دامن بچایا کہ خدا کی وحدانیت میں ایمان رکھنے کے بعد ہمارا تعلق بلا واسطہ صرف خدائے وحدہ لاشریک سے رہ جاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں کیا کچھ لکھا گیا ہے اس سے ہمارے ایمان کا کوئی رشتہ نہیں ہے ہم سے اپنے علاوہ کسی کے اعمال صالحہ و ناقصہ کی کوئی باز پرس جب ہونی ہی نہیں ہے تو ہمیں اس سے کیا غرض کہ معاویہ حق پر تھے یا علی یا عائشہ۔ اپنی عاقبت تو اپنے اعمال پر منحصر ہے۔ خدا اپنے بندوں کے ساتھ جیسا سلوک کرنا چاہے وہ اس معاملہ میں مختار کل ہے۔ یہاں تک کہ اعمال کے صالح اور غیر صالح ہونے کا فیصلہ بھی اسی کو کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ باتیں بہت معقول لگیں اور وہ ایسے مسلک کے اماموں کے ہمنوا ہوکر ان کے مرید ہوگئے اور پھر اپنی نمازوں اور تسبیحوں کے وظائف میں مشغول ہوگئے۔ اور اپنی عاقبت کو اپنے خدا کے حوالہ کرکے مطمئن ہوگئے۔ یہ طرزِ زندگی ہی تھا جسے بنی اسرائیل کے رہبانوں یعنی متقیوں نے اختیار کرکے خانقاہوں کا رواج قائم کر دیا تھا جہاں وہ رات دن ذکر خدا میں مصروف رہ کر اپنی روحوں کو رحمت خداوندی سے منور کر رہے تھے۔ چوں کہ ان تمام مختلف نظریات اور عقائد کے لوگوں نے قرآن سے ہی اپنے عقائد کی تائید میں آیات کا انتخاب کیا ہے اس لیے ان سبھی کو دائرہ اسلام کے اندر ہی مقیم تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن آپس میں یہ اپنے مخالفین کو کافر یا منافق ضرور قرار دیتے ہیں۔ اس طرح قرآن کی مختلف آیات کی روشنی میں مختلف عقائد نے جنم لیا۔ ہر عقیدہ کا کوئی نہ کوئی امام ضرور ہے جس نے اسلام کو اپنی تفہیم کے مطابق ایک نئی صورت دے کر اپنے معتقدین کو سچا مسلمان بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو اس کے بیان کردہ قرآنی مفہوم سے اختلاف کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اس طرح اس وقت اسلام کے بہت سارے چہرے دنیا والوں کے سامنے موجود ہیں۔ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس اسلام کی اصل صورت محفوظ ہے۔ آج اکیسویں صدی میں اسامہ بن لادن اور اس سے قبل عبد الوہاب نجدی نے اسلام کی اصلی صورت سے اپنے بل بوتے پر دنیا کو روشناس کرانے کے لیے اسلامی انقلاب کا پرچم لہرایا تھا۔ ہر دور میں کچھ لوگ ایسے انقلابوں میں شریک ہوکر انھیں کچھ دنوں تک اپنے خون سے سینچتے ہیں پھر وقت ان کے خون کو پانی کر دیتا ہے۔
ہر شخص کو یہ احساس رہتا ہے کہ جو اس کے جیسے خیالات اور عقائد کا حامل نہیں ہے وہ روحانی اعتبار سے یقیناًاس سے کم تر ہے۔ بظاہر کوئی اس سے زیادہ مالدار اور تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو۔ وہ لوگ جو جانوروں کو مقدس سمجھتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں وہ جانوروں کا گوشت کھانے والوں کو ظالم اور پسماندہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں کرتے۔ اسی طرح صرف اس خدا کو معبود سمجھنے والے جس کی کوئی نہ شکل ہے اور نہ کوئی اوتار ہو سکتا ہے وہ ایسے عقیدہ کو تسلیم نہ کرنے والوں کو دنیا کی بدترین قوم قرار دیتے ہیں۔ انھیں عربی زبان کی اصطلاح میں کافر اور مشرک قرار دے کر اخلاقی اور روحانی خوبیوں سے عاری قرار دیتے ہیں۔ حالاں کہ دنیا میں ایسا کوئی قبیلہ یا سماج کہیں موجود نہیں ہے جس کے لوگ ایک ایسے صاحب اختیار اور قدرت والے خدا کے قائل نہ ہوں جس نے ان کو اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی سب کی زندگی اور موت پر حاکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ وہ اپنی قدرت اور اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک کر لیتا ہے۔ بس اسلام اور دیگر توحیدی مذاہب کتابی اعتبار سے تو ایسے عقیدہ کے دشمن ہیں مگر عملی اعتبار سے انھیں جیسے اعمال کے مرتکب ہیں جو ان کے نزدیک قابل گردن زدنی ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کوئی جماعت عقیدہ توحید پر نہایت سختی سے قائم ہے تو وہ علمائے یہود کی ہے۔ یہ سن کر ایک مسلمان اور عیسائی دونوں حیران ہوسکتے ہیں۔ اس کی سند یہ ہے کہ یہودی اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ کو خدائے واحد کے مقابلے میں ایک عام آدمی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ خدا نے براہِ راست بھی ان سے کلام کیا ہے اور وہ بلا واسطہ اس سے کلام کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا نے براہِ راست جس سے کلام کیا ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوسکتا ہے۔ اس عقیدہ کے مخالف لوگ اپنے عقیدہ کی تائید میں قرآنی آیات کا سہارا لیتے ہیں۔ جیسے قرآن میں خدا عربوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ ’’محمد تم میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں وہ صرف اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ دوسری جگہ خدا حکم دیتا ہے کہ اس نبی پر اللہ اور اس کے فرشتے صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں لہٰذا اے ایمان والو تم بھی اس پر صلوٰۃ و سلام بھیجتے رہو۔پھر ایک جگہ یہ وعدہ کیا کہ بہت جلد وہ ان کو مقام محمود پر فائز کرنے والا ہے۔ ایسی آیتوں سے لوگوں نے اپنی خواہش کے مطابق بہت سے معنی مراد لیے ہیں۔ اسی قرآن میں محمد رسول اللہ کی ایک عام آدمی کی سی حیثیت کی وضاحت بھی موجود ہے۔ تمام رسولوں میں سے صرف ایک رسول کی حیثیت کے حامل ہونے کا بھی ذکر ہے۔ خدا کے سامنے بالکل عاجز اور بے اختیار ہونے کا بھی ذکر ہے۔ لہٰذا مسلمانوں میں دو جماعتیں ایسی موجود ہیں جن میں ایک یہودیوں کے توحیدی عقائد کے مشابہ ہے اور دوسری عیسائیوں جیسے عقائد کی حامل ہے۔ جیسے عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ اور خدا میں قطعی کسی طرح کا کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی ایک جماعت ایسی ہے جس کے نزدیک خدا اور محمد میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ ان کے پاس بھی سند کے لیے قرآنی آیات موجود ہیں۔ قرآن کی روشنی میں دونوں جماعتیں مسلمان ہیں اور حق بجانب ہیں۔ گرچہ یہ ان دونوں جماعتوں کے اماموں کے نزدیک ان کا مخالف گمراہ ہے اور ان کے خدا کے نزدیک معتوب ہے۔ لیکن ایک عام مسلمان کے لیے جو قرآن حدیث اور فقہ اسلامی سے نابلد ہے اس کے لیے لازم ہوچکا ہے کہ وہ ان میں سے ایک جماعت کی رکنیت اختیار کرے ورنہ دنیا کی نظر میں اسے کوئی مسلمان نہیں سمجھے گا۔
اس منزل پر پہنچ کر قرآنی اسلام کا مطالعہ کرنے والے مستشرقین کا یہ کہنا کہ قرآن تورات اور بائبل کا مرکب ہے کسی حد تک درست لگتا ہے۔ اس لیے کہ یہ خالص توحید الٰہی کا عقیدہ تورات کی دین ہے اور رسول کی حرمت و عظمت کا لامتناہی احترام و تقدس بائبل کی دین مانا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ دونوں عقائد کی تعلیم و تبلیغ قرآنی آیات میں موجود ہیں۔ اس اعتبار سے مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں میں عداوت اور نفرت کا کوئی امکان نہیں ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت تو اس کے برعکس ہے۔
ان تمام حالات کے پیش نظر سب سے بہتر اور معقول مذہبی عقیدہ کو قبول کرنے کے لیے قرآن کی سورۃ العصر اور سورۃ الاخلاص بالکل کافی سمجھی جاسکتی ہیں۔ ان کے دائرہ ایمانی میں رہ کر ایک حق کے متلاشی کو پوری تسکین مل سکتی ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کوئی بھی غلط کام کرنے کے لیے آدمی اس وقت تک قدم نہیں اٹھاتا جب تک اسے کرنے کا جواز اپنے نزدیک پیدا نہیں کر لیتا۔ ہر آدمی کے دل میں ایک روح موجود ہے، جو ہر برے عمل سے بیمار ہو جاتی ہے۔ اس لیے وہ آدمی کو برائی کرنے سے پہلے روکتی ضرور ہے۔ پھر اس کے ذریعے پیدا ہوئے اعتراض کو ختم کرنے کے لیے آدمی دلیلیں ڈھونڈتا ہے اور جب تک وہ اپنے ضمیر یعنی اپنی روح کو لاجواب نہیں کرلیتا اس وقت تک اس غلط کام کے لیے جس کا اس کے نفس نے اسے حکم دے رکھا ہے کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ اسی خیال کو مذہبی زبان میں پروفیسر محمد مجیب نے یوں کہا: مسلمان کا ضمیر مفتی اعظم ہوتا ہے، یعنی ایک سچے مسلمان کو کسی اہم مسئلہ پر فیصلہ کے لیے صرف اپنے ضمیر سے اجازت چاہیے ہوتی ہے۔ اسے کسی مفتی سے سند لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسی بات وہی کہہ سکتا ہے جس کو خیر و شر میں حلال و حرام میں تمیز کرنے کا پورا شعور حاصل ہو۔
سلطنت روما کا دستور تھا کہ کسی شخص کو قتل کرنا ہو یا اس کے وجود کو ختم کرنا ہو تو اس کو روم کا باغی قرار دینا کافی ہوتا تھا۔ اس کے بعد ملزم کو اپنی دفاع میں کچھ عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ مسلمانوں نے بھی اپنے ایمانی کاروبار میں اسی اصول کو اختیار کرنے کے لیے ذاتی طور پر ایک قانون بنا لیا کہ جو شخص بھی محمد رسول اللہ کی اہانت کرے گا اس کا سر قلم کر دینا ہر سچے مسلمان پر واجب ہوگا۔ لہٰذا ابھی چند دنوں قبل پاکستان میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر صاحب کو ان کے ایک سرکاری گارڈ ممتاز قادری نے گولی مار کر ہلاک کر دیا اور بڑے ایمانی جوش کے ساتھ اعلان کیا کہ اس نے ایک دشمن رسول کا واجبی قتل کر کے اپنا ایمانی فریضہ پورا کر دیا۔ سلمان تاثیر صاحب کے مخالفین نے اس کا زبردست استقبال کیا ہے وہ گارڈ کہنے کو تو جیل میں ہے لیکن موجودہ سیاسی بحران جس میں پاکستان مبتلا ہے اس میں اس کو پھانسی دیے جانے کا کوئی امکان ابھی تو نظر نہیں آتا۔ ہر صاحب علم کو معلوم ہے کہ آج کی دنیا میں کسی شخص کو وہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے خیالی مجرم کا سر قلم کردے یا اسے گولی مار کر ہلاک کر دے۔ اس طرح کے مذہبی جنون کے حامل ہی نے انور سعدات صدر مصر کو ہلاک کیا تھا۔ اندرا گاندھی کو ان کے سکھ گارڈ نے گولی مار کر ہلاک کیا۔ قرآن کے حکم کے مطابق اگر کوئی مسلمان جان بوجھ کر کسی مسلمان کا بے جا قتل کرتا ہے تو اس کی سزا جہنم قرار دی گئی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال کرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خدا کی توہین پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ قرآن کی توہین پر اس طرح کا غصہ نہیں آتا جیسا محمد رسول اللہ کی توہین پر آتا ہے۔ تو اس کا جواب دینا آسان نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کا جواب یہ ہوتا ہے کہ خدا تو سب کا ہے اور قرآن کا محافظ تو خود خدا ہے۔ البتہ رسول کے محافظ تو صرف مسلمان ہیں۔ ترکی کے سلطان نور الدین زنگی کا ’’سچا خواب‘‘ بچوں کی کتاب میں داخل ہے۔ ناموس رسول کی حفاظت مسلمانوں کا دین ہے اس لیے ہم اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس کی حفاظت کرنے کو واجب سمجھتے ہیں۔ مخالف کا اس جواب کے بعد منہ بند ہوجاتا ہے وہ صرف یہ سوچ لیتا ہے کہ ایسا جواب دینے والے کی دماغی حالت درست نہیں ہے۔ 
لیکن مسلم معاشرہ میں اگر ایسے کسی مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے تو ایک جماعت اسے شہید اور عاشق رسول کا خطاب دے کر محبوب الٰہی قرار دیتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ خود رسولِ خدا اس کے استقبال کے لیے جنت کے دروازے پر ہوں گے، اسے اپنے ہاتھوں جام کوثر پلائیں گے۔ حوران بہشتی میں اس عاشق رسول کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے رقابت شروع ہوگی۔ غرض جتنی بھی آسمانی نوازشیں ممکن ہیں اسے ان سب کا حق دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ بعض کتابوں میں کچھ بزرگانِ دین نے اپنے خواب میں یہ سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھا جس کا ذکر انھوں نے اپنے معتقدین اور مریدین کے سامنے کیا ہے۔
آج القاعدہ اور دوسری انتہا پسند اور نہایت متعصب جماعتیں اپنے خود کش نمائندوں کو عیش و عشرت کی ایسی ہی فضیلتوں کا حق دار بنا کر اپنی جانوں سے دست بردار ہوکر مخالفین کا صفایا کرانے پر آمادہ کرلیتے ہیں۔ وہ ان کے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے انھیں اس بات کا پختہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ کسی بے گناہ کا خون بہانے نہیں بھیجے جا رہے ہیں۔ انھیں صرف دشمنان دین اسلام کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس بات پر یقین کرتے ہی اس کا سینہ جوش ایمانی سے بھر جاتا ہے اور اپنے جسم پر بمبوں کو آراستہ کرکے کسی درگاہ یا کسی مسجد میں گھس کر خود کو اڑا دیتا ہے، جس کی لپیٹ میں آکر سو پچاس لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ ان خود کش حملہ آوروں کی فوج میں بہت کم عمر کے لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ ان میں اب لڑکیوں کا داخلہ بھی ہوچکا ہے۔ ان کو جنتی ہونے کا شوق لڑکوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان احمقوں کو جان دینے کی سوداگری پر آمادہ کرنے والے نہایت غلو کے ساتھ اپنے آپ کو نماز اور سجدوں میں خود کو رات دن مصروف رکھ کر ہی اپنے تقویٰ اور غالی توکل علی اللہ کا مظاہرہ کرکے ہی انھیں قربان ہونے پر راضی کر پاتے ہیں۔
اسلامی حکومت میں اسلام ترک کرکے کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنے کی سزا علی الاعلان موت مقرر ہے۔ اس لیے اگر کسی جماعت کا امام کسی کے بارے میں یہ جان لے کہ اس نے اسلام کو ترک کر دیا ہے تو وہ اس کے قتل کا فتویٰ جاری کر دے گا۔ ان کے لیے روز حساب کا قطعی انتظار نہیں کیا جاتا۔ پہلے یہودی اور عیسائی بھی یہی کرتے تھے اس لیے مسلمانوں نے اسی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ ہندوستان میں چندر گپت موریہ نے اپنے عہد میں بودھ مذہب کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ ہندو دھرم میں واپس آجاؤ یا اس ملک سے باہر نکل جاؤ اور اگر ایسا نہیں کیا تو جان سے ہاتھ دھولو۔ اس اعلان کے نتیجہ میں بودھوں کی بہت بڑی تعداد ہندوستان سے افغانستان، ایران، عراق، ترکستان، برما اور سری لنکا کی طرف ہجرت کر گئی تھی۔
ان تمام حقائق کے پیش نظر مذاہب کے ذریعے دیے گئے خداؤں کے تصور میں گھرا ہوا حق کا متلاشی ایک ایسے راستہ پر کھڑا رہ جاتا ہے، جہاں اسے ہر طرف خندق نظر آتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ جدھر بھی بڑھنے کا ارادہ کرتا ہے اسے وہ راہ غیر محفوظ نظر آتی ہے۔ اب ایسے میں اسے کیا کرنا چاہیے۔ وہ تاحیات ایک نافیصلہ کن حالت میں نہیں رہ سکتا۔ جب اسے کوئی واضح صورتِ حال قابل قبول نظر نہیں آتی تو وہ یا تو سب کو صحیح سمجھنے کو مجبور ہو جائے یا پھر سب کو غلط کہنے پر آمادہ ہوجائے۔ لیکن اپنے لیے خدا کی ضرورت کو پھر کس طرح پورا کرے۔ بالآخر وہ اپنی عقل سلیم پر بھروسہ کرکے ایک غیر مذہبی خدا انتخاب کر لیتا ہے۔ اور ہر طرح کی مذہبی شرطوں سے خود کو آزاد کرلیتا ہے۔ وہ پھر ایک ایسا طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے جس کا منشا بلا تفریق عقائد تمام انسانوں کے ساتھ مساوی رحیمانہ اور کریمانہ سلوک کرنا ہی اس کا نصب العین بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ پھر انسانیت کے محسن ہوجاتے ہیں وہ صرف اپنے حسن سلوک کے لیے محبوب اور مشہور ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کو پھر نیکی اور بھلائی کی راہ پر چلنے کی دعوت دینے میں مذہبی لوگوں کا متعصبانہ طریقہ کار اختیار کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔میں ایسے چند حسن اخلاق کے نمائندوں کی صحبت میں رہ کر ان سے بہت متاثر رہا ہوں۔ میرے دل میں ان کے لیے بہت عزت پیدا ہوگئی تھی۔
مذہبی دنیا کے لوگ ایسے لوگوں کو گم کردہ راہ سمجھتے ہیں۔ انھیں شیطان کا دوست قرار دیتے ہیں۔ حالاں کہ ایسے لوگ کبھی خدا کے وجود کے منکر نہیں ہوتے اور نہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ان کی زندگی اور موت پر کسی اور کا اختیار ہے۔ ان کے ذہن میں مختار کل خدا سے بغاوت کرنے کا کبھی خیال نہیں آتا اس لیے کہ وہ اپنی نیکی پر کبھی مغرور نہیں ہوتے اور عجز و انکسار کے اظہار میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اپنا وجود عارضی ہے، جس کی مدت کا نہ انھیں علم ہے اور نہ کسی دوسرے کو۔ ان کی تمام تر مصروفیات دوسروں کو ہر طرح کی اذیت اور عذاب سے دور رکھنے پر مرکوز ہوتی ہیں۔ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مصیبت میں مبتلا آدمی کا مذہب کیا ہے۔ وہ تو بس اسے کسی مصیبت میں مبتلا دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایسے لوگوں کی جماعت کو آج انسان دوستوں کی جماعت کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے تمام مذہبوں کی رسموں اور رواجوں سے خود کو دور رکھتے ہیں۔ یہ جنت اور جہنم کی کبھی گفتگو نہیں کرتے۔ ظاہر ہے جو لوگ دوسروں کی بھلائی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر چکے ہیں انھیں نہ روزِ حساب یا یوم حشر کا انتظار ہوتا ہے اور نہ خوف۔ یہ لوگ اپنا محاسبہ ہر روز خود کیا کرتے ہیں۔ انھیں پورا یقین ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ ناپائیدار ہے۔ ایسے سالم اور معقول عقائد کے ساتھ زندہ رہنے والوں کو صرف احمق لوگ ہی بے دین، ملحد اور سرپھرا کہہ سکتے ہیں۔
بت صرف لکڑی اور پتھر یا تانبے پیتل کے ہی نہیں ہوتے۔ اصل بت تو ہمارے دماغ میں ہماری انا کے مندروں میں نصب رہتے ہیں جن کی پوجا ہمارا اصل دین دھرم ہوتا ہے۔ اقبال نے اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ
مگر ہمارے سماج میں صرف لا الٰہ الا اللہ کہنے والے کو مسلمان نہیں کہا جاتا۔ یہ تو بہت سے لوگ کہتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے لیے ایک شرط اس اگلے کلمہ کی ہے یعنی محمد رسول اللہ۔ جو صرف خدائے واحد کا نعرہ بلند کرتا ہے وہ موحد کہلاتا ہے۔ جس کی جگہ اسلام میں نہیں ہے۔ اس دنیا میں موحد کا کوئی سماج نہیں ہے۔ لوگ انفرادی طور پر موحد ہوتے ہیں ایسے لوگ بہت سی نام نہاد مذہبی جماعتوں میں مل سکتے ہیں۔ موحد رسمی عبادتوں میں یقین نہیں رکھتے ان کا خدا ان کے قلب و ذہن میں جاگزیں ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ مذہبی کتابوں کے خدا میں ساری انسانی صفات پائی جاتی ہیں۔ مثلاً: خدا حاجت مند ہے اپنی تعریفوں اور عبادات کا۔ رحیم و کریم۔ مگر انتقامی کارروائی کا حامی ہے۔ ناارض ہوکر سزائیں دینا پسند کرتا ہے۔ حالات کے سامنے مجبور ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ وہ خود حالت کے پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی لیتا ہے۔ وہ صاحب اختیار بھی ہے اور بے بس بھی۔ مختار کل ہے مگر اپنے اختیارات ہر وقت استعمال نہیں کرتا۔ اسے غصہ بہت آتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ وہ وقت سے آزاد بھی ہے اور اس کا پابند بھی ہے وہ ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی۔ وہ ہر جگہ ہے اور کہیں نہیں ہے۔ وہ سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ پوچھتے ہیں ایسی صورت میں ہر شخص آزاد ہے کہ نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس کو تسلیم کرے۔ پھر ایسی صورت میں تمام مذہبی تعلیمات بے معنی ہوجاتی ہیں۔
مذہبی کتابیں جو بت پرستی کی مخالف ہیں شاید وہ بت پرستی کی نہیں بلکہ اسے کاروبار دنیا بنانے کی مخالف ہیں۔ مگر کوئی بھی کتاب یا اس کی تبلیغ کرنے والے اس کاروبار کو کبھی کسی طرح بھی روک نہیں سکے۔ اس کا ثبوت دنیا کے ہر گوشے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ بت پرست خود کو خدا پرست بھی کہتے ہیں مگر جو خدا پرست ہیں وہ خود کو بت پرست نہیں کہتے، چاہے ان کے جیب و آستین میں بہت سارے بت پوشیدہ ہوں جنھیں وہ اپنا مددگار تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرتے۔
غالبؔ نے اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے ایک مشورہ یوں دیا ہے:
کفر و دیں چیست جز آلائش پندار وجود
پاک شو پاک کہ ہم کفر تو دین تو شود
یہاں صرف ظاہری پاک بازی سے کام نہیں چل سکتا بلکہ باطن کو ہر طرح کے تعصب سے پاک کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ عام آدمی سے کہا جاتا ہے کہ صرف ابن آدم ہونے سے اس دنیا میں راحت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے جب تک ہم مسلمان، عیسائی، یہودی ہندو یا سکھ ہونے کا شرف حاصل نہ کرلیں۔ یہی نہیں ایسا ہوجانے کے بعد کسی رہنما کا انتخاب کرکے اس کی غلامی میں بندھ جانے کا شرف بھی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر موحد رہے تو سماج میں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ پتا چلا کہ صرف خدا کی وحدت میں ایمان رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا، اس کے بعد کسی بڑے عظیم المرتبت شخص کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں ڈالنا ضروری ہے۔ ہم آزاد پیدا ضرور ہوئے مگر زندگی کو خدا کے علاوہ کسی اور کی غلامی میں گزارنا پڑ سکتا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر دوسرے غلام لوگوں کے لیے ہم بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں اور پھر ہم کو زندگی سے محروم بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا مخالفین اور منافقین دونوں سے مل کر بنی ہوئی ہمارے سامنے موجود ہے۔ اب یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ ہم کب کس میں شامل ہونا پسند کرتے ہیں۔ دنیا کا امن سکون ہمارے اسی فیصلہ پر منحصر رہتا ہے۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

 

Loading..

Loading..