New Age Islam
Tue Jun 22 2021, 04:23 AM

Books and Documents ( 28 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 14

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

روح اصول دوام کا ہی دوسرا نام ہے
عملِ شمار ایک حوالہ جاتی علم ہے۔ اس لے کہ جو شئے شما رکی جاتی ہے اس کا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا لازمی ہوتا ہے۔ ورنہ شمار کرنا ناممکن ہوتا ہے جیسے پانی کو قطروں کی صورت میں الگ کر کے ہی اس کی کسی مقصود مقدار کا شمار کیا جاسکتا ہے۔
تعقل سے تخلیقی عمل سرزد نہیں ہوسکتا۔ تخلیق روح کے اس حصہ کا نام ہے جس میں آئیڈیل اصول محفوظ ہوتے ہیں اور وہیں تخلیقی عمل کا مرکز ہوتا ہے۔ یہیں سے آئیڈیل صورتوں کو دوبارہ عالم موجودات میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ تعقلی اصول سے روح اول کو جو صورتیں ملتی ہیں وہ انھیں کو عملی شکل دے کر پیدا کرتی رہتی ہے۔
**
کیا عالم موجودات میں شر کا وجود ضروری ہے؟ بلا شر کے روح کی تکمیل ناقص رہتی ہے۔ بیشتر یا کم از کم نصف شر کی صورتیں عالم موجودات کے مقاصد کی تکمیل میں اسی طرح کارگر ہیں جس طرح سانپ کے لیے اس کے اپنے زہر کا استعمال۔ گرچہ ہم اس زہر کی افادیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔


شر بذاتِ خود اپنے مثبت رول کا بھی ظہور دکھلاتا ہے اس کی وجہ سے ہی ہنر کو تخلیقی صلاحیت اور حسن کو ظاہر ہونے کا موقع ملتا ہے۔ مثلا چوروں کی وجہ سے تالے اور زنجیروں کے بنانے کا ہنر وجود میں آیا اور اس کا ارتقا صرف اس کے ساتھ جاری ہے۔ چوری کے ہنر کا ارتقا بھی جاری ہے۔
روح لاہوتی اور عمل
کائنات ایک ہمہ ساعت بدلتی ہوئی تصویر ہے، لیکن وہ تعقلی اصول جو اس تغیر و تبدل کا ذمہ دار ہے وہ خود تغیر و تبدل سے محفوظ ہے (ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا)
جب تک لاہوتی دماغ اور روح کل ہیں فکر لاہوتی نئی شکل کے ظہور کو جاری رکھے گی۔اس بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب تک سورج ہے روشنی باقی رہے گی۔
وجود ہیئتوں تک محدود ہے جو کچھ موجود ہے وہ کسی نہ کسی ہیئت میں ہی ہوتا ہے۔ مادہ کی صورت اصلی صرف ایک ہی ہے۔ اسی سے کائنات متشکل اور مقصود ہے۔ ہر شئے کا وجود اسی مادہ اصلی سے وابستہ ہے۔ ہر شئے جس کی شکل کو ہم دیکھتے ہیں اس کا انحصار اسی مادہ کے وجود پر منحصر ہے۔
ہم کیسے کسی نظم کے اصول کو بلا اس کی پوری شکل کو اپنے تصور میں لائے ہوئے ترتیب دے سکتے ہیں؟ ترتیب کا عمل جزوں کو حرکت میں لائے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اس لیے یہ کہنا قطعی معقول ہے کہ مادّی شکل یا صورت کا تصور مادہ کے وجود سے پہلے آنا لازمی ہے۔
تصور پہلے آئے گا پھر مادہ آئے گا۔ لہٰذا مادہ متصور شے کے ماتحت آجاتا ہے۔ یعنی معمار اسی لیے عمارت کی متصور شکل کو پہلے کاغذ پر بلا کسی تعمیری مادہ کے ترتیب دیتا ہے۔ وہ جب اس سے اچھی طرح مطمئن ہو جاتا ہے تو مادہ کو ہاتھ لگاتا ہے۔ اس کے بعد اب حجم اور صفت کی باری آتی ہے۔ پھر سب کچھ اصولِ تعلیل و تسبیب کے ماتحت کام کرتا ہے جو متصور شئے کی جسمانی/مادی تشکیل کی ذمے داری لیتا ہے۔
ہر مخصوص شئے کے وجود میں آنے سے پہلے اس کی خصوصیات کو آئیڈیل فارم سے اس کے وجود نقلی میں اُتار دینے کا کام یہی اصولِ تعلیل و تسبیب کرتا ہے۔ یہ ہر شئے چاہے انسان ہو یا جانور یا پیڑ پودے، تشکیل میں مادہ کی مقدار کا تعین بھی وہی اصول کرتا ہے جو اس کی صفات متعین کرتا ہے۔
کیا ہم کسی شئے کا تصور اس کی جسمانی ہیئت کے بغیر کرسکتے ہیں؟
مقداریت کی بذات خود کوئی مقدار نہیں ہوتی۔
کیا بغیر مادہ اور مقدار کے کسی شئے کا تصور ممکن ہے؟ قطعی نہیں!
مقداریت اصول تعلیل کا حصہ ہے یا اسی کا ایک رکن ہے۔
تمام علم علت تعقلی عمل کی وجہ سے قابل تحلیل ہوتا ہے۔
*
صفت اپنے ہونے کے لیے کسی معقول موجود کا تقاضہ کرتی ہے۔
*
مادہ کی امتیازی خصوصیت اس کا موجود ہونا ہے۔ نہ کہ اس کے اندر کسی کا داخل ہونا۔
*
صفت کا مادہ سے الگ کوئی وجود نہیں ہے لیکن حقیقت بلا کسی صفت کے کامل ہوتی ہے۔
*
صفت کے دو پہلو ہیں ایک متحرک، اور ایک جامد۔
*
عالم تعقل میں صفت ایک عمل ہے۔
ہمارا بنیادی فرض ہے کہ پہلے ہم سب سے اعلیٰ خوبی کو جانیں پھر اس کی طرف حالات کی مناسبت سے آگے پڑھیں۔
**


اَنید سوئم
فلاطینوس سائنس دانوں کے اس عقیدہ کا مخالف ہے کہ کائنات کی تشکیل میں کوئی نظم نہیں ہے۔
(دماغ بذات خود محرک اول ہے)
فلاطینوس پوچھتا ہے کیا ہر چیز اپنے وجود کے لیے کسی سبب کی محتاج ہے۔
ہم بذات خود ہم نہیں ہیں، کوئی شئے ہمارے عمل سے پیدا نہیں ہے ہمارے خیالات ہمارے نہیں۔ ہمارے فیصلے ہم پر باہر سے آتے ہیں یعنی ہمارے فیصلوں کے اسباب ہمارے اندر نہیں ہوتے۔
ہماری حیثیت ایک ایجنٹ سے زیادہ نہیں ہے بالکل ایسے جیسے ہمارے پاؤں ہمارے ایجنٹ ہیں ہم جب چاہتے ہیں تو وہ چل پڑتے ہیں اس کے باوجود ایسے اعمال اور خیالات ہونے چاہیے جو ہمارے اپنے ہوں یعنی جو ہماری مرضی اور ارادوں سے ظہور میں آئیں۔
ان کے تحت سرزد ہوئے خیر اور شر کی ذمے داری ہمارے اوپر ہونی چاہیے۔ لازمی طور پر ایسا ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کی برائیوں یا ان کے برے نتائج کو روح کل پر نہ ڈالیں۔
**


کوئی ایک عمل جو حکمت کے خلاف واقع ہو اسے ’مقدر‘ کہتے ہیں۔
تعقلی اصول اپنے خزینہ تصور سے مادہ کا تعلق مربوط کرکے کائنات کو وجود میں لایا ہے۔
آدمی کی تمام تر مصیبتوں کا سبب ان حالات میں پوشیدہ ہوتا ہے جس میں وہ رہتا ہے یا موجود ہوتا ہے۔ کوئی خوشی کا تقاضہ نہیں کرسکتا اگر اس کے اعمال نے اس کے لیے محنت نہیں کی ہے صرف صاحب خیر خوشی کا حق دار ہوتا ہے صرف اس لیے کہ وہ صاحب خیر ہے۔
افلاس اور بیماریاں صاحب خیر کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اصحاب شر کے لیے ہی یہ تباہ کن ہوتے ہیں۔
*
جہاں جسم ہوگا وہاں بیماری ہوگی
حکمراں اگر ظالم و جابر ہے تو صرف اس لیے کہ وہ جس پر حکمراں ہے وہ کمزور ہے۔ طاقت ور اگر حکمراں نہیں ہے تو یہ انصاف نہیں ہوگا۔ کمزور کا حکمراں ہونا عقل و انصاف کی رو سے ناجائز ہے۔
ہم اگر کسی پیالہ کو توڑ دیں اور پھر اس کے ٹکڑوں کو جمع کر کے ان کی بندش دوبارہ کرنا چاہیں تو اگر ایک نہایت مختصر سا ٹکڑا بھی غائب ہوجائے یا نہ مل سکے تو اس پیالہ کی تشکیل کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتی اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ تشکیل کل میں چھوٹے اور بڑے دونوں برابر اہمیت اور قدر کے مالک ہوتے ہیں۔
موت انتقال کی صورت ہے اور کچھ نہیں
گائے گھاس کھاتی ہے تو اس کے جسم میں گھاس دودھ اور خون بن جاتی ہے اور آخری منزل پر جاکر گوبر بن جاتا ہے۔ یہ سب کچھ الگ الگ وقتوں میں ہوتا ہے۔ خون گائے کو زندہ رکھتا ہے۔ دودھ اس کا بچہ پیتا ہے اور گوبر پھر زمین کو واپس چلا جاتا ہے جس سے پھر گھاس پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ گھاس کی شکلیں بدلتی ر ہیں مگر اس کی قدر نہیں بدلی۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مادہ وقت اور حالات کے حصار میں اپنی شکلیں بدل لیتا ہے لیکن اس کی قدر و قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
خواہش اکثر خواہش کرنے والے کو غارت کردیتی ہے
خواہش خود مرنا نہیں چاہتی۔ اس وجہ سے وہ جس کی خواہش کی گئی ہے اسی کو ختم کر دیتی ہے۔ (ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے)
خیر و شر اپنی قدروں کے ساتھ ہم سے وابستہ ہیں۔ جیسے ایک رقاصہ کے جسم کی ہر حرکت ایک دوسری حرکت کی ضد ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اسے رقص نہیں کہتے۔ اچھل کود کہتے ہیں۔ ایک مصور تصویر بناتے وقت لکیروں اور زاویوں کے توازن کے لیے متضاد زاویے اور پہلوؤں کی صورت کو پیش نظر رکھتا ہے اس لیے کہ اس کے خاکہ کے اندر حسن کا دار و مدار زاویوں کے تضاد پر منحصر ہوتا ہے۔ 
اس طرح تضاد کو اگر کسی ڈیزائن سے باہر نکال دیں تو عیب نظر آتا ہے اور اگر وہ ڈیزائن کے اندر مرتب کر دیا گیا ہے تو وہ حسن کل کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ جو ڈیزائن سے باہر تھا تو قبیح تھا اور ڈیزائن کے ساتھ اندر آتے ہی اس کا عیب ختم ہو جاتا ہے۔ مسئلہ صرف تنہا یا علیحدہ ہونے کا ہے۔ خیر بھی اگر تنہا ہے تو بے معنی ہے (اسی طرح صرف جنت ہے تو لایعنی ہے اگر اس کے مقابل جہنم نہیں ہے۔ اس طرح یہ تصور کی کوئی خیر مطلق یا کوئی شر مطلق ہے تو وہ بے معنی ہو جاتا ہے ایک فرد میں جو عیب نظر آتا ہے وہ دوسرے کسی فرد میں خوبی ہوجائے گا۔ 
ہر روح اپنے لیے دوسرے اور تیسرے درجے بھی رکھتی ہے۔ اس لیے وہ اپنے اظہار کے لیے ان درجوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرسکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ کیوں نہ تسلیم کرلیا جائے کہ اصول تعلیل خود اپنے اندر اعمال خیر و شر دونوں کی کنجیاں رکھتا ہے۔اور یہی تمام موجودات میں تحریک کا باعث ہوتا ہے۔ 
تمام واقعات اور اشیاء عالم چاہے وہ اچھے ہوں یا برے سب ہی کائناتی عمل کے اصول کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ کائناتی اصول و ضوابط ایک کائناتی روح کے اعمال یا اظہار کا ارادہ ہوتے ہیں۔
ہماری شخصیت کے اصول کہیں باہر سے عالمی اسکیم میں نہیں آتے۔ ہم خود اسی اسکیم کا یعنی نظم کا حصہ ہیں۔ ہم اور ہمارا مزاج اور طبیعت بھی اسی کے زیر اثر کام کرتے ہیں۔
ایک گائے کا اصولِ تعلیل اس مادہ پر کام کرتا ہے جس مادہ سے اسکی تشکیل ہوئی ہے۔ اب اگر گائے کی روح کسی انسان میں یا انسان کی روح کسی گائے میں داخل ہوتی ہے تو وہ اسی کے اصولِ تعلیل کے ماتحت عمل کرے گا جس کے اندر وہ داخل ہوتی ہے۔ 
اعلیٰ اور ادنیٰ روحیں مختلف اصولِ تعلیل کے تحت کام کرتی ہیں اس طرح انتقال مکانی یا جسمانی میں جو جہاں منتقل ہوتا ہے وہاں کے قوانین اس پر نافذ ہوجاتے ہیں۔ (بالکل یہی صورت ہمارے ایک ملک سے دوسرے میں جانے سے پیدا ہوجاتی ہے۔ ہم ہندوستان سے امریکا پہنچ جائیں تو ہم کو وہاں کے قوانین کے ماتحت زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ ہمارے ملک کا ہم پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا)۔  شاید ہم کو اسی لیے یہ پتا نہیں چل پاتا کہ جو بیل ہمارے سامنے ہے یا ہماری بیل گاڑی میں جوتا ہوا بوجھ کھینچ رہا ہے وہ پہلے کوئی بڑا پہلوان تھا، جس کی ادنیٰ روح اس میں کار فرما ہے۔ اس لیے کہ پہلوان کی روح بیل میں منتقل ہوکر بیل کے اصولِ تسبیب کے ماتحت ہوجاتی ہے۔ پھر اس کے اعمال اور مزاج سب کچھ بیل کی فطرت کے مطابق ہوجاتے ہیں اسی لیے کسی کو یہ علم نہیں ہو پاتا کہ بیلوں میں نقلی بیل کون ہے اور اصلی کون۔
شر سلسلہ اشیاء میں موجود ہے لیکن خالق کی طرف سے نہیں بلکہ لوازمات کی طرف سے اس کا ورود ہوتا ہے اس کے وجود کی ضرورت کو ہم خالق سے منسلک کرنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔ اور نہ ہی اسے اس کی طرف سے جاری کردہ عمل تصور کرتے ہیں۔ دراصل یہ عمل اصولِ تعلیل کے عین مطابق ہوتا ہے۔
اس لیے اگر ایک مریض اپنے علاج کی پیروی کرتا ہے تو وہ خود معالجہ کا ایجنٹ ہوتا تاہم وہ معالج کی ہدایات پر عمل کرتا ہے جو بیماری اور صحت کے اسباب کا علم رکھتا ہے۔ اصول صحت کی جو پیروی کرتا ہے یا اس کی خلاف ورزی کرتا ہے یہ اس کا اپنا عمل ہوتا ہے جس کا اصولِ صحت اور معالج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
*
تمام اضداد ایک دوسرے پر اصولی طور پر برابر درجہ کے مؤثر ہوتے ہیں۔ مادہ ہیئت جسمانی پر اور ہیئت مادہ پر۔
*
تطابق کائنات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اعلیٰ کا وجود اسفل کے وجود کو ناگزیر کردیتا ہے۔ بلندی بغیر پستی کے وجود میں نہیں آسکتی۔ کسی اعلیٰ ذات یا شئے نے اپنی خامیوں اور نقص کو خود سے علیحدہ کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ اعلیٰ ہوکر اپنی شناخت بناتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خود اس کی شناخت ناممکن ہوجاتی۔
**


انید
ہر عمل کے پیچھے ایک جادوئی قوت کار فرما ہوتی ہے۔ ایک باعمل انسان کی پوری زندگی ایسی ہی قوت کے زیر اثر گزرتی ہے۔ ہم ہمیشہ اس شئے کی طرف بھاگتے ہیں جس میں ہمارے لیے کسی نہ کسی درجہ میں کشش موجود ہوتی ہے۔ لیکن وہ شخص جس میں احساسِ خودی موجود ہوتا ہے وہ کسی ایسی قوت سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ ہر شئے کو وحدتِ کل کا ایک حصہ سمجھتا ہے اور اپنے لیے خود راہِ عمل کا تعین کرتا ہے۔ کسی خارجی اثر سے وہ خود کو مسحور نہیں ہونے دیتا۔
لافکریت
یہ بھی ایک اصول کے تحت کام کرتی ہے۔ اس کا رشتہ جذبات کی قوت متخیلہ سے رہتا ہے۔ اسی کے تحت، شادی بیاہ، عشق و محبت کا کاروبار چلتا ہے۔ دیوانگی اپنے مقصود سے غافل نہیں ہوتی۔ اس کے اپنے مفروضات ہوتے ہیں جو اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔
تحفظاتی تمام اعمال کسی نہ کسی طرح کے خوف کے زیر اثر بروئے کار آتے ہیں یہ قدرتی طور پر غیر موجود سہولتوں کی فراہمی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انسانی فطرت ہی اسے ایسے اعمال کی طرف نشاندہی کرتی ہے جو اسے خوف کے خلاف دیواریں اٹھانے پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے انسانی خواہشات نہایت موثر صورتوں کے انتخاب کی جانب اس کی توجہ مبذول کرتی رہتی ہیں۔
یہ بات سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ ناقابل برداشت صورت حال میں ہر عمل جائز ہے۔ ایسا صرف اس لیے کہا جاتا ہے کہ زندگی کا تحفظ سب سے مقدم اور لازمی مفروضہ ہے۔ کیوں کہ زندگی خیر کل کا سب سے اہم وہ حصہ ہے، جس کی بدولت اسماء اور صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک زندگی کا جو مفہوم عام ہے وہ کائناتی نظام کے اندر موجود زندگی کے تصور سے قطعی مختلف ہے۔ ہم پتھر اور لوہے کو زندہ تصور نہیں کرتے لیکن یہ اپنے وجود کے لیے ’زندگی‘ کے محتاج ہیں۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ ان پر ٹھنڈک اور گرمی کا اثر ہوتا ہے۔ ان پر ضرب لگنے سے ان کی صورتیں بدل جاتی ہیں۔ یہی ان کے ’زندہ‘ ہونے کی دلیل ہے۔
اشیاء میں علیحدگی کیوں ہے؟ درجہ بندی کیوں ہے؟
گرمی آگ کی صفت ہے نہ کہ لوہے کی۔ لوہا اسے قبول کرلیتا ہے تو گرم ہو جاتا ہے لیکن ٹھنڈک اس پر غالب آئے تو گرمی اس سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ خود گرمی یا ٹھنڈک لوہے کی صفت نہیں ہے۔
عالم روحانی میں تخلیق کے منصوبے میں اگر اول اور بعد کا سلسلہ تسلیم کرلیں تو پھر ماضی اور مستقبل اپنے آپ سمجھ میں آجاتے ہیں۔ چوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام چیزیں ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ظہور پذیر نہ ہوتی ہیں اور نہ ہوسکتی ہیں۔ سب کچھ بتدریج ہی ہوتا ہے اور اسی طرح تکمیل تک پہنچتے ہوئے ہم اسے دیکھتے ہیں۔ اور خود اپنے ہاتھوں اسی طرح ہر عمل کو پورا ہوتے بھی دیکھتے ہیں لیکن جہاں تک فکر کے اندر اصول کا تعلق ہے وہاں سب کچھ ایک ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً رحم مادر میں بچہ کے جسمانی ارتقا کے عمل میں ہڈی، گوشت، خون ان سب کی ارتقاء ایک ساتھ ہوتی ہے نہ کہ بتدریج اس لیے کہ ہر ایک کے لیے دوسرے کا وجود لازمی ہوچکا ہے۔ اختلاف یا اضداد کے وجود کے لیے علیحدگی، لازمی قرار پاتی ہے۔ اس کے بغیر انھیں بروئے کار نہیں لایا جاسکتا۔ ہر شئے کے عمل کے لیے اس کا دوسری شئے سے علیحدہ ہونا لازمی ہے۔ اس لیے کہ عمل کے لیے آزادی ضروری ہے اور آزادی بغیر علیحدگی ممکن ہی نہیں ہے۔
روح کا خاصہ ہے کہ وہ حرکت میں رہے۔ لیکن بغیر مادہ کی رفاقت کے وہ ایسا نہیں کرسکتی۔ تعقلی اور تسبیبی اصول نے یہی طے کر رکھا ہے۔
کسی شئے کو حرکت میں رکھنے کے لیے کسی شئے کو جامد رکھنا لازمی کر دیا گیا ہے۔ اصول فکر و تعقل جامد رہتا ہے تو روح کو حرکت نصیب ہوتی ہے۔ کوئی لکڑی، پتھر یا لوہے کا ٹکڑا اگر حرکت میں ہے تو ہم اس پر کوئی نقش نہیں بنا سکتے۔ چلتی ہوئی کار، سائیکل یا یکہ تانگے پر ہم بیٹھ کر کچھ نہیں لکھ پاتے اس لیے کہ لکھنے لیے ایک جامد سطح کی ضرورت لازمی ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مقرر کی ساری تقریر لایعنی ہوتی ہے اگر اس کے سننے والے بھی ان کے ساتھ بولتے رہتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک اصول ثابت ہوا کہ ایک کی بامعنی حرکت کے لیے اس سے منسلک یا اس کی ضد کا جامد ہونا لازمی ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو مقصود عمل کی تحصیل ناممکن ہوجاتی ہے۔
اصولِ ترتیب
یہ اصول تعقلی اصول کے ماتحت ہوتا ہے۔ اشیاء اور ان سے مربوط اور متعلق عمل کے لیے ایک ضابطۂ ترتیب لازمی قرار پایا ہے۔ تقدم اور تاخر ہر عمل کے لیے جو کسی منشاء کی تکمیل کرنے کے لیے ہوتا ہے لازمی ہوتا ہے۔ سب کچھ اگر ایک ساتھ کیا جائے گا تو منشاء یا مقصود کبھی حاصل نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اصول تعلیل و تسبیب کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔
عالم تخلیق میں اجسام کی تشکیل سے پہلے ان کی فطرت کا تعین کیا جانا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن روح کے جسم میں داخل ہونے سے پہلے ان کی حس اور ان کے جذبات کا تعین ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ جسم کو کس ماحول کے لیے پیدا کیا جانا ہے یہ بھی اس کے خلق کیے جانے سے پہلے متعین کرنا ہوتا ہے۔ پھر اس ماحول کے تقاضے کی مناسبت سے اسے جذبات اور احساسات کی صلاحیتیں ودیعت کی جاتی ہیں۔ آرام اور تکلیف کی برداشت کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔ ان کی بھی درجہ بندی کی جاتی ہے تاکہ جسم اپنے اجزا ترکیبی کی خوبیوں کے حدود میں تکلیف اور آرام کا احساس کرسکے۔ انسان جب تک دوسرے کی تکلیف کی اپنے پیمانۂ احساس سے پیمائش نہیں کرتا اس وقت تک وہ اس کے آرام کے لیے کوئی بامعنی اور تسلی بخش عمل نہیں کرسکتا۔ 
ماں اپنے بچے کو کچھ کھلانے یا پلانے سے پہلے اسے اپنی زبان پر رکھ کر آزماتی ہے اور یہ طے کرتی ہے کہ اس کے بچہ کو کتنا گرم کھانا دیا جاسکتا ہے۔ آرام اور تکلیف کا احساس جسم میں موجود روح کو ہوتا ہے۔ اس لیے کہ روح بذاتِ خود احساسات کا ادراک بغیر جسم کے نہیں کرسکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روح جسم کو باعمل کرکے اپنے ارادوں اور خواہشوں کی تکمیل کرتی ہے۔ جسم میں پیدا شدہ ہر خرابی پر وہ احتجاج کرنا شروع کردیتی ہے جسے ہم بیماریوں کی علامت قرار دے کر اس کا علاج تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں تاکہ جسم صحت مند ہوکر روح کے تقاضوں کو پورا کرنے کے عمل میں شرکت کرسکے۔
کوئی فیصلہ کرنے کے لیے ادراک اسباب و علل کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ فیصلہ کرنے والا اگر ادراک خیر و شر کی اچھی صلاحیت سے محروم ہے تو اس کا ہر فیصلہ ناقص ہوتا ہے۔ اگر ہمارے ذہن اور نگاہ میں سیدھی سطر کا تصور پہلے سے موجود نہیں ہے تو ہم کبھی کوئی چیز سیدھی بنا نہیں سکتے۔ اس کے برعکس ذائقہ اور خوشبو کے لیے ہمارے ذہن میں پہلے سے کوئی معیار یا اسکیل موجود نہیں ہوتا۔ یہ صرف تجربات کی دین ہوتا ہے، جو ذائقہ ہمارے کام و دہن کو آرام دیتا ہے وہ ہمیں اچھا لگتا ہے اور جو تکلیف دہ ہوتا ہے وہ ناخوشگوار لگتا ہے اس طرح ہم خود طے کرتے ہیں کہ ہم کو کیا کھانا یا پینا ہے اور کیا قبول نہیں کرنا ہے۔ جس مشروب یا کھانے کا ہم کو کوئی تجربہ نہیں ہوتا ہم پہلے سے ہی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔جن لوگوں نے کافی نہیں پی ہے وہ اس کے اچھے یا برے ہونے کے بارے میں کوئی معتبر خبر نہیں دے سکتے۔
روح جسم سے الگ ہوکر تمام احساسات سے عاری ہوجاتی ہے۔ حالاں کہ لوگ اس بات کو تسلیم کرنے کو راضی نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں کہ ہمارے برے اعمال سے ہمارے مردہ بزرگوں کی روحوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ عقل روح کی خوبی ہے جسم کی نہیں۔ اس لیے جب روح جسم کو چھوڑ دیتی ہے تو عقل روح کے ساتھ ہی جسم سے جدا ہوکر روح کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عقل جسم کا نہ کوئی حصہ ہے اور نہ ہی اسے اس سے کوئی نسبت رہتی ہے اسی لیے جسم کو مٹی کہا جاتا ہے۔
روح کی موجودگی ہی جسم کو باعمل اور باحرکت رکھتی ہے۔ ہمارے اعمال اور حرکتوں کی خبر مرکز شعور کو ہی ہوتی ہے، جسم اس سے قطعی بے خبر ہوتا ہے۔
مجروح ہونے کا احساس ہماری روح کو ہوتا ہے احساس درد نہ مردہ جسم کو ہوسکتا ہے اور نہ کسی مردہ عضو کو۔ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ روح جب کسی جسم کو چھوڑے تو مکمل طور پر پورے جسم کو ترک کردے۔ وہ کسی بھی حصہ سے اپنے آپ کو غیر منسلک کرسکتی ہے۔ جیے فالج کے مریض کا کوئی ایک حصہ احساس سے محروم ہوجاتا ہے۔ علمی اعتبار سے ہم چاہیں تو آکسیجن کو روح کہہ سکتے ہیں اس لیے اس کے بغیر زندگی کے تمام ساز وسامان بے معنی ہوتے ہیں۔
غصہ پیدا کرنے کے لیے برے انجام کا تصور پیدا ہونا لازمی ہے اگر کوئی دماغ ایسا تصور کرنے سے قاصر ہے تو اسے غصہ نہیں آسکتا۔ انسان اور جانور دونوں ہی برے انجام کے تصور کی صلاحیت سے معمور کیے گئے ہیں۔
یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ حسن اور انصاف کے تصور میں ’مقدار‘ کا دخل نہیں ہوتا۔ اسی طرح عمل تعقل میں بھی مقداریت کو دخل نہیں ہوتا۔ روح مادہ پر ہمیشہ حاوی اور حکمراں ہوتی مگر وہ ہمیشہ اس سے الگ رہتی ہے جیسے بادشاہ عوام پر حکمرانی کرتا ہے مگر وہ ہمیشہ اس سے الگ رہتا ہے۔
مقدار اور صفت دو مختلف تصورات ہیں، جسم بلا مقدار وجود میں نہیں آسکتا۔ صفات بعد میں اس کے اندر داخل ہوتی ہیں۔ وقت آنے پر وہ اس سے علیحدہ بھی ہوجاتی ہیں مگر مادہ اپنی اصل صورت میں باقی رہتا ہے۔ بنیادی طور پر مادہ بغیر صفت خلق ہوتا ہے پھر وہ صفات کا حامل بن جاتا ہے۔
فطرت انسانی پوری طرح تجربات کی خواہش مند رہتی ہے اور یہ خواہش ایک طرح کے جبر کی نمائندگی کرتی ہے جس کے تحت سارے تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ ہمارا اپنا معیاری شعور وہی خیر و شر کے درمیان فرق اور رد و قبول سے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔

URL for Part-1: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL for Part-10: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

URL for Part-11: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-11/d/9728

 

URL for Part-12:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ12/d/9771

 

URL for Part-13: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-13/d/9820

 

URL:  https://newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-14/d/9833

 

Loading..

Loading..