New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:31 PM

Books and Documents ( 17 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 11

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

انید (۹ کتابیں)
ایک جزوی مطالعہ
(ENNEAD)
نوٹ: فلاطینوس یونان کا وہ صوفی فلسفی ہے جس نے امونی اس سکس کی شاگردی میں تفہیم و تحلیل انفس و آفاق کا مطالعہ کیا۔ اس کا عہد آج سے ۱۸ سو سال قبل زندہ تھا۔
فلاطینوس کا قول: روح اول سے ہی تمام روحیں وجود میں آتی ہیں، جس طرح ایک آفتاب سے بے شمار شعاعیں نکلتی ہیں اور مختلف سمتوں میں مختلف اشیاء پر اپنا اثر ڈالتی ہیں۔ ان کے قول کے مطابق ایک بیج جو ایک درخت سے نکلتا ہے وہ پھر جب دوسرا درخت بن جاتا ہے تو اس کی شکل بیج والے درخت سے مشابہ تو ہوتی ہے مگر بالکل اسی کی طرح کبھی نہیں ہوتی۔ اس کے پھل اور پھول کی تعداد بھی پہلے والے پیڑ کے برابر نہیں ہوتی۔ اسی طرح انسانوں میں بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ نطفہ ہر بار حمل میں ایک نئی صورت اختیار کرتا ہے اس نطفہ میں موجود روح اپنی انفرادیت محفوظ رکھتی ہے گرچہ اپنے مرکز سے قریبی مشابہت ضرور رکھتی ہے۔ وہ مرکز نسل میں ہی محفوظ ہوتا ہے۔
انید پنجم 
فلاطینوس: وہ کیا ہے جس نے بچہ کے ذہن سے اصل باپ کا رشتہ یعنی خدا سے اپنا رشتہ ختم کرلیا یا اسے پہچاننے کے قابل نہیں رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس دنیا میں کسی بچے کو پیدائش کے فوراً بعد اگر اس کے اصل ماں باپ سے جدا کر دیا جائے اور کوئی دوسرا اس کی پرورش کرے تو وہ اسی کو اپنا باپ یا ماں سمجھے گا۔ اسی طرح عالم بالا سے اس زمین پر آکر روح کا رشتہ اپنے مرکز سے ٹوٹ جاتا ہے یا پھر وہ غیر محسوس ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا اس کی پرورش کرتی ہے تو اس کی ساری توجہ اسی دنیا کے اسباب و علل سے مربوط ہو جاتی ہے۔ لیکن ایک وقت ضرور آتا ہے جب اس دنیا کے ساز و سامان اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو پورا نہیں کر پاتے تو پھر اس کی نظر اپنے مرکز کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح ہم کسی نمبر یا عدد میں ایک قوت اسی وقت تک محسوس کرتے ہیں جب تک وہ اپنے علاوہ کسی دوسری شئے کی نمائندگی صحیح طور پر کرتا رہتا ہے۔ مثلاً میرے پاس دس گھوڑے ہیں تو دس نمبر میں دس گھوڑوں کی طاقت محفوظ سمجھ میں آتی ہے۔ ان کے اندر اگر کمی ہوجاتی ہے تو نمبر کی قوت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اور اگر سارے ہی نہ رہ جائیں تو دس نمبر کی ساری قوت ختم ہوجائے گی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ طاقت رشتوں کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے۔ اپنے علاوہ میرے پاس اگر کسی کا رشتہ نہیں ہے تو میرا اپنا وجود مہمل اور بے قدر ہو جاتا ہے۔ اس دنیا کے تمام رشتے ناپائیدار ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ اپنی ضرورتوں سے جڑے ر ہتے ہیں۔ جب ضرورتیں ختم ہوجاتی ہیں تو رشتے بے مقصد ہوجاتے ہیں۔ روح اعلیٰ اور اول سے روح ادنیٰ کا رشتہ ختم نہیں ہوسکتا اس لیے کہ دونوں کو اس رشتہ کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر جزوی روح کو اپنے مرکز کی طرف لوٹنا ہے اس لیے کہ اسے بغیر وہاں پہنچے قرار نہیں مل سکتا۔
اس دنیا میں بھی آدمی اپنے لیے ایک گھر بناتا ہے۔ اسے تمام کام کر کے اپنے گھر کی طرف لوٹنا ہی پڑتا ہے اس لیے کہ وہاں پہنچ کر ہی اسے آرام ملنے کی امید رہتی ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں خدا کا بار بار یہ اعلان موجود ہے کہ انسانوں کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ ہماری روح کا مرکز جہاں بھی ہے اسے بالآخر وہاں ہی لوٹ جانا ہے ایک جسم میں رہ کر روح اپنا مشن پورا کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کا قیام اس زمین پر ختم ہو جاتا ہے۔ اب اگر مرکز نے اس کے سپرد کوئی دوسرا مشن نہیں کیا تو وہ خود کو مرکز کے سپرد کردے گی اور اگر دوسرا مشن اسے دے دیا گیا تو وہ پھر اس کی تکمیل کی طرف لوٹ جائے گی۔ بعض مفکرین کے نزدیک روح چوں کہ مر نہیں سکتی اس لیے اسے دوسرے مشن پر روانہ کر دیا جاتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ آواگمن یعنی مرنے کے بعد ایک نئی صورت میں ایک نئے مشن کے لیے روح کو دوسرا جسم قبول کرنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ایک جزوی روح اپنا کام پورا کر کے اپنے مرکز کو لوٹ جاتی ہے اور اپنی انفرادیت کے خواص کے ساتھ عالم ارواح میں باقی رہتی ہے۔ جہاں اسے ایک انفرادی زندگی عطا کردی جاتی ہے۔
روح سے متعلق بہت سے لوگ طرح طرح کے عقائد رکھتے ہیں۔
بقول فلاطینوس روح مادوں میں زندگی پیدا کرتی ہے۔ وہ خود زندگی نہیں ہوتی ہر زندگی کی ایک عمر ہوتی ہے۔ روح کی کوئی عمر نہیں ہوتی اسے دوام حاصل ہے۔ وہ روح اول کا ایک جزو ہے۔ زندگی کا انحصار مادی قوتوں پر ہوتا ہے۔ ہوا پانی اور غذا زندگی کے اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک بھی غائب ہوا تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ روح جب مادہ سے الگ ہو جاتی ہے تو مادہ کی شیرازہ بندی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ بکھر جاتا ہے۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے، انھیں اجزا کا پریشاں ہونا
بقول فلاطینوس یہ کائنات زندہ ہے اس لیے کہ روح اول نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ جو اس کا خدا/ رب/ خالق ہے اس کی نظر سے اس کائنات کا کوئی حصہ غائب نہیں ہے۔ ہمارے جسم میں روح کی بدولت زندگی سے ہر خون کے ذرہ میں زندگی ہے جہاں زندگی ہے وہاں روح ہے جہاں روح ہے وہاں خدا ہے اسی کا نام روح اول و اعلیٰ ہے۔
آدمی جس قدر مادی رشتوں کی طرف متوجہ رہتا ہے اس کی روح اولیٰ پریشان رہتی ہے۔ اس لیے کہ اسی صورت میں وہ اپنے مرکز سے دور ہوتی جاتی ہے وہ ایسا نہیں چاہتی مگر ہماری مادی خواہشات اسے دور کرتی رہتی ہیں۔ ہم جیسے ہی ان مادی خواہشوں کو کم کرنے لگتے ہیں ہمارے دل و دماغ راحت محسوس کرنے لگتے ہیں اور ہم خود اپنے اند رایک غیر معمولی قوت کا احساس کرنے لگتے ہیں۔
ترک دنیا تو ہے دنیا طلبی سے آسماں
چھوڑ کر سہل عبث جاتے ہیں مشکل کی طرف
لیکن ترک دنیا کا احساس ہی اس وقت شروع ہوتا ہے جب ناکامیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ایسے حالات میں ترک دنیا ایک مجبوری ہوتی ہے۔ ایسے حالات جہاں ہمیں کوئی اختیار ہی نہ ہو وہاں ترک کا کوئی مفہوم نہیں رہ جاتا۔آدمی جب خود اپنے اختیارات سے دست بردار ہوجائے تو ترک بامعنی ہوتا ہے۔ لیکن حالات کا جب اس پر جبر نافذ ہوجائے تو پھر کسی اختیار کو ترک کرنا مہمل کہلاتا ہے۔ ہم صرف اسی چیز کو ترک کرسکتے ہیں جس پر ہم کو پورا اختیار حاصل ہو۔
اس دنیا میں آتے ہی یہ دنیا ہمارے جسم اور روح دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے ترک کرنا موت کو گلے لگانا ہے۔ بیس سال یہ سمجھنے میں لگ جاتا ہے کہ ہمارے وجود کا مقصد کیا ہے؟ پھر تیس چالیس اس مقصد کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں۔ پھر یہ لگتا ہے کہ وہ کام پورا ہوگیا جس کے لیے ہم بھیجے گئے تھے۔ مقصد کی تکمیل کے بعد یہاں قیام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ پھر تو ترک لذات کا مشورہ خود ہماری عقل ہم کو دینے لگتی ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی زندگی کے مشن سے نابلد رہ جاتے ہیں وہ اگر سو سال بھی زندہ رہتے ہیں تو ان کی ضرورتوں میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ مادوں کی تحصیل میں سرگرداں رہتے ہیں۔ موت کے تصور سے خائف نظر آتے ہیں۔
انھیں اپنی زندگی کا ہر کام ادھورا نظر آتا ہے وہ بالآخر اسی ناآسودگی کے ساتھ مر جاتے ہیں۔ یہی ان کا مقصد سمجھا جاتا ہے۔ روح کے جسم سے الگ ہوجانے کے بعد آدمی ایک مردہ جسم ہوتا ہے۔ اسے آدمی نہیں کہہ سکتے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ روح کا نام آدمی ہے مادہ آدمی نہیں کہلاتا۔ مادہ کے اندر روح کے داخل ہوتے ہی ہم اسے نام دے دیتے ہیں۔ پھر اس کو اسی نام سے پکارتے رہتے ہیں اور وہ اس نام کے حوالہ سے ہم کو جواب دیتا ہے۔یعنی ایک روح دوسری روح کو نام کے واسطے سے سمجھتی اور جانتی ہے نام سے عارضی یا دائمی رشتہ قائم کیا جاتا ہے۔ یعنی کسی شئے کا اگر کوئی نام نہیں ہے تو ہم اس کو اپنانا چاہیں تو یہ ممکن نظر نہیں آتا۔
خدا کا کوئی نام نہیں ہے۔ کہتے ہیں اس کو ہم جس نام سے چاہیں پکار سکتے ہیں۔ سارے ہی اچھے نام اس کے نام ہوسکتے ہیں۔ چوں کہ وہ خیر کل ہے اس لیے ہم اس کو کسی برے نام سے نہیں یاد کرسکتے۔ حالاں کہ ہم جس کو برا یا اچھا کہتے اور سمجھتے ہیں اس میں ہماری اپنی پسند اور ناپسند کو دخل ہوتا ہے۔ در حقیقت خدا کے نزدیک ہم ہر شئے کو اس کی مخلوق مانتے ہیں تمام تکلیف دہ چیزیں ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہم کو تکلیف دہ محسوس ہوتی ہیں۔ ایک شخص جو نہایت تلخ مشروب پینے کا عادی ہوچکا ہے اسے سگریٹ، بیڑی، الکوحل جن کا ذائقہ بہت تلخ اور عام آدمی کے نزدیک برا ہوتا ہے وہی جو اس کا عادی ہے اسے وہ بہت اچھا لگتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بغیر زندگی کو بے معنی سمجھنے لگتا ہے۔ درحقیقت کائنات کا جو ایجاد کرنے والا ہے اس کے نزدیک یعنی عقل سلیم کے نزدیک ہر شئے اپنی خوبی کی وجہ سے ہی وجود میں آتی ہے اور باقی رہتی ہے۔ جب یہ خوبی ختم ہوجاتی ہے تو اس کا وجود بھی ختم ہو جاتا ہے۔
روح مادہ میں ایک خصوصی خوبی کے ساتھ داخل ہوتی ہے اس خوبی کے ساتھ مادہ کو روح اپنا ایجنٹ بناتی ہے اور اسے صاحب عمل کردیتی ہے۔ یہ روح کے ذریعے دی گئی عمل کی صلاحیت ختم ہوجانے پر روح مادہ کو ترک کردیتی ہے۔ اسی ترک تعلق کو ہم موت کہتے ہیں۔ روح ادنیٰ یا روح ارضی چوں کہ روح اول و اعلیٰ کا ہی جزو ہے اس لیے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ وہ پھر کسی مادہ کی طرف بھیج دی جاتی ہے اور ایک نئے مقصد کے ساتھ اس مادہ کو صاحب عمل کردیتی ہے۔ یہی سلسلہ دوام رکھتا ہے۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL for Part-10: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-11/d/9728



Loading..

Loading..