New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 05:06 AM

Urdu Section ( 6 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mental Fear, State of Oppression and Hatred for Others can Destroy the Muslims on its Own ذہنی خوف' مظلومیت کی کیفیت اور دوسروں سے نفرت مسلمانوں کو خود ہی تباہ کر سکتی ہے

پاکستان کے اردو پریس کا مندرجہ ذیل مضمون ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کے درمیان دیگر مذہبی طبقوں کے ساتھ نفرت اور  ان سے  ذہنی خوف اور اپنی  مظلومیت کی کیفیت کو پاکستان میں  فروغ دیا جا رہا ہے۔  افسوس کی بات ہے کہ اسی طرح کی صورتحال ہندوستان کے اردو پریس میں بھی غالب ہے۔  اسے دیگر طبقات کے  فعل یا فعل بد سے  قطع نظر کوئی ہندوستانی مسلم اردو مضمون نگار بھی لکھ سکتا تھا، اور ہمیں معلوم ہونا  چاہیئے کے ذہنی خوف اور اپنی مظلومیت کی کیفیت خود بخود مکمل ہونے  والی  پیشن گوئی ثابت ہو سکتی ہے۔ نفرت کی گہرائی کا اس مضمون سے اندازہ لگتا ہے، مثال کے طور پر یہودیوں کے تئیں مسلمانوں کے درمیان ایک بہت ہی عام رجحان ہے۔ صیہونیوں کی غلطیوں اور اسرائیلی ریاست کے عمل کےلئے ان کو مورد الزام ٹھہرانا ایسا ہے جیسے اسلامی انتہا پسندوں کے فعل بد کے لئے  پورے مسلم طبقے کی ملامت کرنا ہے۔ ویسے ان سے نفرت کرنا، یا کسی اور سے،  اور ان کو  خبیث یا  غلیظ کہنا اور ان پر  اس نفرت کے لئے مذہبی جواز پیدا کرنا ان کے تئیں نا انصافی ہے  اور اسلام اور اس کی تکثرتیت سے ہماری وابستگی کے ساتھ دھوکہ ہے۔

قرآن کی ان آیات کا حوالہ دینا جو تاریخ میں ایک خاص مدت اور خاص حالات میں رہنمائی کے لئے نازل ہوئی تھیں اور اس زمانے میں  جب  اسلام اپنی طفولیت کے دور میں تھا اور اس کے پیروکاروں کی بقاء کو خطرہ لاحق تھا  اور  ان آیات کو عالمگیری نصیحت والی تصور کرنا اسلام اور  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کے برابر ہوگا۔ مسلمانوں کو اسلامی انتہا پسندوں  کے طرز عمل اور نقطہ نظر کے سبب ہزارہا مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میں سوچتا ہوں  اگر کوئی راستہ ہو  جس سے مرکزی دھارے کے مسلمان ہمارے درمیان نفرت پھیلانے والے اسلامی انتہا پسندوں  سے بات چیت کر سکیں اور  انہیں اپنے مذہب اور عالمی مسلم طبقے کے مفاد میں ان کے شدت پسندانہ طریقوں کو ٹھیک کرنے کے لئے  قائل کر سکیں۔۔۔ ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشمن کی شناخت

سید اظہر حسین کاظمی

18تا 24مئی 2012

استعماری طاقتیں ایک بار پھر تمام تر وسائل کے ساتھ مسلم دنیا کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہیں، عراق، افغانستان ، کویت میں قبضہ جمانے کے بعد اب اس بار ایران پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ پچاس سے زائد اسلامی ممالک میں ایران وہ واحد ملک ہے جہاں استعماری غلامی کے آثار نظر نہیں آتے۔

کامیاب اسلامی انقلاب کے بعد سے لے کر اب تک اسلام دشمن طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ اسلامی قوت ختم ہو جائے۔ تمام تر سازشیں اور دھمکیوں کے باوجود ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے تو اسے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے مجبور کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیں۔ اقتصادی پابندی سے ایران کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا بہترین موقع میسر آیا۔ ایرانی قوم کے جذبہ ایمانی اور جرأت کو دیکھ کرسامراجی قوتیں عجیب کشمکش میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ گزشتہ تیس سالوں میں مغربی طاقتوں نے مختلف منصوبوں کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا گھنائونا کھیل شروع کیا جس کی وجہ سے آج مسلمان ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے ہیں۔ مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو تباہ کرنے کے لئے اپنے ازلی دشمن امریکہ سے مدد طلب کرکے اپنی بقا دشمنوں سے حاصل کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ دشمن آئے روز نت نئے حربے کے ساتھ مسلم دنیا پر حکمرانی کا جال بچھانے میں مصروف ہیں اور مسلم حکمران شباب و کباب، عیش و عشرت اور شکار کھیل میں مگن ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے مسلم ممالک خصوصاً عرب مسلمان حکمرانوں کو خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ کرکے مسلم امہ میں دشمنی اور نفرت کے ایک نئے باب کا اضافہ کردیا ہے۔

امریکہ نے عرب سنی اسٹیٹ کو ایران کی شیعہ سپر پاور کے مد مقابل کھڑا کرکے ایک ساتھ کئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ نے ایک دہائی قبل سعودی عرب اور چند دوسرے عرب ممالک کو حالات کی سنگینی کا پروپیگنڈہ کرکے کئی ملین ڈالر کے فوجی سازوسامان خریدنے پر راضی کرلیا اور اس طرح انہوں نے ایک طرف اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کے وسیع کاروبار کے لئے منڈی تلاش کرلی تو دوسری طرف ان ممالک کو خیر خواہی کا جھانسہ دے کر تسلط کا نیا راستہ ہموار کرلیا۔ حال ہی میں سعودی عرب ، کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے ایک سو 23ارب ڈالر کے دفاعی ساز و سامان خریدنے کا ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ ایران کو ایٹمی پروگرام سے روک سکیں۔ سعودی عرب مسلم دنیا میں ایک ایسا امریکہ نواز ملک ہے جو ہر صورت میں امریکہ کی غلامی سے آزاد ہونانہیں چاہتا ہے۔

امریکہ نے گیارہ ستمبر کے واقعہ کو بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کرکے لاکھوں انسانوں کو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کر دیا تو کسی عرب ملک کو یہ توفیق حاصل نہیں ہوئی کہ ان مظلوم افغان مسلمانوں کی داد رسی کی جائے بلکہ سعودی شاہ نے امریکی صدر بش کو گیارہ ستمبر کے سانحے میں ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے ایک ارب ڈالر کا ہدیہ پیش کرکے مسلمانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا تاہم تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے اس ہدیے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے سعودی شاہ کو ملاقات کا شرف نہیں بخشا لیکن سعودی شاہ نے صدر بش کے خصوصی مشیروں اور دوستوں کو صدر بش کو اس ہدیے کی رقم قبول کرنے پر راضی کرنے کے لئے مزید ایک ارب سے زائد کی رقم خرچ کی۔ صدام نے امریکہ کی ہی ایما پر کویت پر حملہ کیا تو سعودی عرب نے فوری طور پر امریکہ سے مدد طلب کرکے مقدس سرزمین کو عالمی یہود کے ناپاک قدم سے نجس کردیا۔ مصر، لیبیا، یمن اور شام میں ہونے والے واقعات کو سعودی عرب ایران سے نتھی کرکے اسے تنہا کرنے کی امریکی سازش پر عمل پیرا ہو کر غلامی کا حق ادا کرنے میں مصروف ہے۔

 عالمی سطح پر ہونے والی اسلام دشمن سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلم امہ متحد ہونے کی بجائے آپس میں دست و گریباں ہو کر اپنے وجود کوہی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ موجودہ عالمی حالات کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری مسلم حکمران اپنی بقا و سلامتی کا انحصار امریکہ پر کرتے ہوئے اپنی غیرت و حمیت کا سودا کرچکے ہیں۔ امریکہ نے اپنی سابقہ پالیسیوں سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہونے پر ایک نئی حکمت عملی کے ذریعے مسلمانوں کو روند ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے ذریعے حزب اللہ اور ایران کو بھڑکا کر عرب مسلمانوں سے لڑانے کا حتمی پلان تیار کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے بحرین کے شیعہ مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکا کر دنیا بھر میں مقیم شیعہ قوم کو اہلسنت اور وہابیت کے خلاف قدم اٹھانے پر مجبور کرنے کا شیطانی کھیل انتہائی ہوشیاری سے جاری ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایک طرف سعودی افواج کے ذریعے بحرین میں شیعوں کا خاتمہ کیا جائے تو دوسری طرف ایران اور حزب اللہ مظلوم بحرینی شیعوں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اس گھنا?نی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایران کی شیعہ قیادت اور حکومت کو بحرین میں دخل اندازی کے لئے انتہائی جارحیت اور سفاکانہ طریقہ استعمال کیا جائے گا تاکہ امریکہ نواز سعودی عرب ، کویت، متحدہ عرب امارات وغیرہ سے ایران کی براہ راست لڑائی ہو۔

سعودی عرب نے ایک بٹالین سے زائد افواج کو بکتر بندگاڑیوں اور جدید جنگی اسلحے کے ساتھ بحرین کے نہتے مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے بحرین میں اتاردیا ہے۔ استعماری قوتیں اس خوش فہمی میں ہیں کہ بحرین میں شیعہ نسل کشی کو دیکھ کر ایران کے مذہبی جذبات ایک دم بھڑک اٹھیں گے اور وہ سعودی افواج اور بحرینی حکومت کے خلاف لشکر کشی کرے گا۔ ایران کی طرف سے کوئی جذباتی فیصلہ کئے بغیر بحرین حکومت کیخلاف فوجی و عسکری اقدام سے گریز کرنے کے حقیقت پسندانہ رویے سے اسلام دشمن حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔ عرب ممالک کے کٹھ پتلی مسلم حکمران شروع ہی سے اسلامی انقلاب کے سخت مخالف رہے ہیں انہوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر اسلامی انقلاب کے خاتمے کے لئے جدوجہد کی ہے لیکن ناکامی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا تو اپنے آقا امریکہ کی مدد سے جارحیت پر اتر آئے ہیں۔

 امریکہ تمام مسلم ممالک میں ایران کے خلاف مذہبی منافرت پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے کوشاں ہے۔ ایران نے انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ اس شیطانی کھیل کا مقابلہ کرتے ہوئے دور اندیشی اور حالات کے تناظر میں صحیح سمت میں فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایران بحرین کے مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا تو دشمن کے منصوبے کے عین مطابق ہوتا۔ امریکہ براہ راست ایران پر حملہ کرنے کی غلطی کبھی نہیں کرے گا وہ قریبی اسلامی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کے مسلمانوں کو باہم لڑانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے سعودی عرب یا کویت کے ذریعے اپنے اہداف پر پہنچنے کی جستجو کرے گا۔ شام کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے ذرخریدغلام شام میں کسی بھی صورت امن اور ترقی کو برداشت نہیں کریں گے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب اور ترک نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کی ہے۔شام میں بشارالاسد کی حکومت کو گرا کر سعودی عرب اور امریکہ مشترکہ مفادات کے لئے کام کرنے والے ایک کٹھ پتلی حکمران کو مسلط کرنے کے منصوبے کو تکمیل کے مراحل میں لے آئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت باغیوں کو سعودی عرب کے ذریعے اسلحے کی نئی کھیپ پہنچا کر خانہ جنگی کو مزید بڑھا کر بشارالاسد حکومت کو مجبور کیا جائے گا۔ شام کو اس جرم میں سزا دی جارہی ہے کہ وہ غاصب اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کا ساتھ نہیں دیتا۔ اور ایران سے بہتر تعلقات کاخواہاں ہے۔ایک سو23ارب ڈالر کے دفاعی سامان کی خریداری کا جو معاہدہ کیا گیا ہے مستقبل میں اس کا کتنا بھیانک نتیجہ نکلے گا یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا تاہم مسلمان حکمرانوں کی امریکہ نوازی اور اسلام دشمنی پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ اسی مکار امریکہ نے صدام کو ایران اور کویت پر حملہ کرکے اپنی بادشاہت قائم کرنے کا سنہری خواب دکھا کر آمادہ کیا۔ صدام نے ایران کے بعد اچانک کویت پر حملہ کرکے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا۔ صدام ایک دہائی تک نا سمجھ جاہل اور متعصب مسلمانوں کا اسلامی ہیرو بن کے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگین کرتا رہا۔

 منصوبے کے تحت عراق کے حملے کے وقت فوری طور پر امریکہ نے اپنی فوج کو کویت کی سرزمین پر اتار دیا تاکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو بیوقوف بنا کر ایک اور اسلامی ملک میں پنجے گاڑ سکیں۔ امریکہ اور اس کے حواری ایران کو کسی بھی سازش کے تحت مرعوب نہیں کر سکے تو انہوں نے اپنی شیطانی چال کو دوسری طرف کرکے ایک نئی حکمت عملی تیار کر ڈالی ہے۔ تازہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں شام کی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے اگلے ہدف پاکستان میں مختلف طریقوں سے علاقائی اور لسانی تصادم کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھی بھڑکائی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے بلوچستان میں شیعوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم کو پاکستان کے خلاف اکسا کر ان کی تمام تر توجہ اندرونی مسائل میں الجھائی جائے تاکہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں شیعہ اور بلوچ قوم ایران کی حمایت میں اٹھ کھڑے نہ ہوسکیں۔ امریکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں کے دونوں اطراف کثیر تعداد میں بلوچوں کی موجودگی سے خطرہ محسوس کررہا ہے کہ کہیں پاکستانی بلوچ قوم اپنے ایرانی بلوچوں کی حفاظت کے لئے کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ اسی خطرے کے باعث پاکستان میں ایک طرف شیعہ قوم کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف بلوچ اور پٹھان کو آپس میں لڑانے کا کھیل عنقریب شروع کیا جائے گا۔ ایک تیر سے دو شکار کرنے والا امریکہ اب ایک ہی تیر سے چار شکار کرکے پاکستان کو ٹکڑوں میں بانٹ کر کھانے کے لئے بیتاب ہے۔ عالمی حالات کے تناظر میں اس وقت پوری مسلم دنیا امریکہ کی زرخرید غلام کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ کسی بھی ملک میں امریکہ کی اجازت کے بغیر کوئی قدم اٹھایا نہیں جاسکتا۔

مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ فروعی مسائل کو انا کا مسئلہ بنا کر اپنا مکتب فکر دوسروں پر جبری مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عقیدے اور نظریے کے مسئلے کو دشمن ایک ہتھیار کے طور پر مسلمانوں کو پراگندہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کو اس خطرناک اور نازک مسئلے کا احساس ہی نہیں ہے۔ دشمن ایک مسلک کو دوسرے مسلک کے خلاف قتل و غارت کے لئے ابھار کر اپنے عزائم حاصل کررہے ہیں۔ مسلمان نظریاتی اختلاف کو اسلام اور کفر کا معیار قرار دے کر مخالف فرقہ کو قتل کرنا فرض عین تصور کرتے ہیں۔ مسلمانان عالم نے اب تک اس نکتے کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہمارے مشترکہ دشمن ہم سے کیسے مقاصد حاصل کررہے ہیں اور نہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اصل دشمن کون ہیں۔ جب تک ہمیں اپنے دشمن کی شناخت معلوم نہ ہو ہم اسی طرح باہم دست و گریباں رہیں گے۔ حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے تمام مسلمان متحدہو کر اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے غیرت و حمیت سے کام لیتے مگر تمام مسلم حکمران نے اقتدار کو بچانے کے لئے اسلام دشمن طاقتوں سے مدد حاصل کرتے رہے اس کے نتیجے میں کم و بیش تمام اسلامی ممالک میں مغربی طاقتوں کا اثر و رسوخ کافی بڑھ چکا ہے۔ مسلمانوں کے اندر کرنل قذافی، صدام، حسنی مبارک، ضیاءالحق، اسامہ بن لادن اور رضا شاہ پہلوی جیسے نام نہاد لیڈر اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کے لئے مسلمانوں کی قسمت سے کھیلتے رہے۔

 اسلامی ممالک کے سیاستدان ہوں یا علماء مزدور ہوں یا کسان ، بزنس مین ہوں یا بیوروکریٹ ہر کوئی فرقہ پرستی کی لعنت میں گرفتار ہے۔ ان تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد اور یکجہتی وقت کا تقاضہ ہے تاہم جہاں کہیں مسلم ریاست میں کوئی واقعہ رونما ہو تو اس کے اثرات پاکستان پر بہت زیادہ پڑ تے ہیں کیونکہ باقی مسلم مالک کی نسبت پاکستان کے مسلمان زیادہ جذباتی جلد باز اور درد مند اور باخبر ہیں اسی وجہ سے پاکستان ہمیشہ ہنگامہ خیز حالات میں رہتا ہے انہی عوامل کے پیش نظر استعماری طاقتیں پاکستان کو مشق گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہمارے درمیان نفرت، رنجش اور تعصب کے بیج بورہی ہیں۔ امریکہ ایران کے خلاف پاکستان کو اڈا بنانے کے لئے سرکاری طور پر کوششیں تو ازل سے ہی کرتا چلا آیا ہے۔ لیکن عوامی رد عمل کے سامنے بند باندھنے کے لئے کئی ناکام کو ششیں کرنے کے بعد بھی خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر سیخ پا ہوکر دراندازی کے لئے پرتول رہا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیں وگرنہ افغانستان اور عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

18تا 24مئی بشکریہ : ہفت روزہ نوائے اسلام ، پاکستان

URL for English article: https://www.newageislam.com/islam-west/muslim-paranoia-perpetual-victimhood-hatred/d/7549

URL for Hindi article: https://www.newageislam.com/hindi-section/muslim-paranoia-perpetual-victimhood-hatred/d/7561

URL: https://newageislam.com/urdu-section/mental-fear,-state-oppression-hatred/d/7550

Loading..

Loading..